عالم اسلام

یہ وقت نہیں آساں!

وصیل خان

یہ وقت بہت نازک ہے، ایسے حالات میں جب سنگھ پریوار چاروں طرف سے مسلمانوں پر حملہ آورہے اور طرح طرح کے ہتھکنڈوں کا استعمال کررہا ہے، عوامی سطح پر مسلمانوں اور مسلم تنظیموں میں بیداری اور دانش مندی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، لیکن دیکھا یہی جارہا ہے کہ مسلمانوں میں انتشارو نفاق کی لہریں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسا کیوں ہورہا ہے اس کا واحد سبب یہ ہے کہ مسلم تنظیموں میں تال میل کا فقدان ہےذمہ داران کا سامنا زیادہ تر اجلاس اور کانفرنسوں میں ہوتا ہے، اجلاس کی مصروفیات کے سبب آپسی تبادلہ خیال اور غورو خوض کے مواقع کم ہی ملتےہیں، افراتفری کی اسی صورتحال میں وہ ایک دوسرے سے جدا بھی ہوجاتے ہیں ۔مجبوراًانہیں میڈیائی بیانات پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور میڈیا خبروں کی کتنی کتربیونت کرتا ہےیہ سب جانتے ہیں ۔ تال میل کے فقدان کے سبب ایک صورت یہ بھی پیدا ہوتی ہے کہ اصل موقف کے بجائے لوگ ذاتی نظریات کے فروغ میں لگ جاتے ہیں جس سے امت کے اجتماعی مفادات مجروح ہوتے ہیں اور اصل معاملہ وہیں پڑارہ جاتا ہےاس کے برعکس دوسرے فتنے جاگ جاتے ہیں۔

سنگھ پریوار ایک فاشسٹ تنظیم ہے لیکن اس کا نظم و نسق مثالی ہےجو آزادی کے بعد سے ہی ہندتوکے فروغ میں سرگرم ہے اور خاموشی سے اپنے ایجنڈے کی تشکیل و تکمیل میں لگا ہوا ہے، اس کی   بیشمار آنکھیں اور ہاتھ ہیں ،وہ فسطائیت کے فروغ کا کوئی موقع نہیں گنواتا۔پہلے تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ رام مندر ہندوؤں کا اعتقاد ی مسئلہ ہے اور کروڑوں ہندوؤں کے جذبات اس سے وابستہ ہیں اس لئے عدالت کا فیصلہ صرف اس صورت میں قبول کیا جاسکتا ہے کہ وہ رام مندرکے حق میں ہو، ساتھ ہی وہ افہام و تفہیم کی بھی راہ ہموارکررہی ہےجس کیلئے اس نےمختلف لوگوں کو آگے بڑھارکھاہے۔ ۔ شری شری روی شنکر اپنے چہرے کی معصومیت اور نرم گفتگو سے بڑی جلدی لوگو ں کے دلوں میں اتر جاتے ہیں   انہیں آگے بڑھایا وہ ایودھیاگئے لوگوں سے ملے کافی کوششیں کیں لیکن کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہنتوں نے بھی انہیں مسترد کردیا۔

آپسی افہام و تفہیم بہر حال ایک مفید اوربہترعمل ہےاس سے کون انکار کرسکتا ہے لیکن اس کے بھی کچھ قواعد وضوابط ہوتے ہیں جس میں نیک نیتی کے ساتھ  فریقین کا پورا خیال رکھا جاتا ہےایسی صورت میں یقینا ً مسئلہ حل ہوجاتا ہے لیکن جب افہام و تفہیم میں ہٹ دھری شامل ہو جائے تو معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھ جاتا ہے۔ شری شری کی منشایہی تھی کہ فریقین اکٹھا ہوں اور مسلمان ہندوؤں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مسجد ان کے حوالے کردیں تاکہ وہاں ایک عالیشان مندر تعمیر ہوسکے۔ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زورلگایا لیکن ناکام رہے، مسلم نمائندوں نے دوٹوک جواب دے دیا پھر بھی وہ مایوس نہیں ہوئے ان کی کوششیں جاری رہیں ۔ گذشتہ دنوں انہوں نے مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن اور مشہور عالم دین مولانا سلمان ندوی سے ملاقات کی  اور انہیں شیشے میں اتار لیا۔ مولانا سلمان نے بورڈ کو اندھیرے میں رکھ کر ذاتی طور پر اتنا بڑا فیصلہ کرڈالااور شری شری شنکر کے فارمولے کو کچھ موہوم شرائط کے ساتھ تسلیم کرلیا۔ ان کے بیان کا ایک اقتباس ہم یہاں نقل کررہے ہیں ۔

’’بابری مسجد پہلے بھی ویران تھی، مسلم محلے میں ستراسی ایکڑ زمین ہمیں دے دی جائے، مسلمان وہاں ذوق و شوق سے ایک شاندار مسجد تعمیر کرکے اس کا نام مسجد السلام رکھیں گے۔ بابری مسجد کی جگہ پر آپ نے مندر نیاس رکھا ہےچاہیں تو اسے اور بہتر بنالیں وہ مندر کی جگہ ہوگی۔ فقہ حنبلی میں اس بات کی گنجائش ہے کہ ضرورت کے پیش نظر مسجد کی جگہ تبدیل کی جاسکتی ہے۔ رام ایک قابل احترام شخصیت کا نام ہے ان کے نام پر عمارت بنتی ہے تو ہم مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ بابری مسجد کی اراضی رام مندر کو سونپنے کی ہماری جدوجہد ساری دنیا کو پہنچے۔ امریکہ و یوروپ کے لوگ بھی اسے جان لیں ، سپریم کورٹ کو بھی ہماری اس عظیم کوشش کی خبر مل جائے اور پھر ہم آخری ملاقات وزیراعظم نریندر مودی سے کریں گے اور انہیں آگاہ کریں گے کہ جو کام برسوں میں نہ ہوسکا اسے ہم نے انسانیت کے علبردارشری شری کی قیادت میں حل کرلیا ہے۔ لیکن اس سودے کے عوض ہم ایک معاہدہ نامہ بھی بنائیں گے جس میں یہ وضاحت ہوگی کہ اب آئندہ ہماری کسی مسجد درگاہ، قبرستان یا مدرسہ پر قبضہ نہیں کیا جائے گا۔ قصور واروں کو سزا دینے کی بھی بات کی جائے گی اور مسلمانوں کیلئے ایک یونیورسٹی کے قیام کا بھی وعدہ ہوگا کیونکہ ہم مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔ ‘‘

مولانا کے مطالبات میں کتنی معقولیت ہےاس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں ، لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اسے محض ایک خواب ہی کہا جاسکتا ہے جس کی تعبیر فی الحال ممکن نہیں ۔ جو لوگ ایک تاریخی حقیقت کو کھلے عام جھٹلارہے ہوں ، جو ایک مسجد ہی نہیں مسلمانوں کے وجود کو ہی ناپسند کرتے ہوں ، ان سے یہ امید باندھنا کہ وہ تمہارے مطالبا ت تسلیم کرلیں گے ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ،اور اگربالفرض مان بھی لیں تو ملت کے سواد اعظم پر اس سودے کا اختیار بہر حال آپ کو نہیں۔ سنگھ پریوار جو طلاق ثلاثہ اور دیگر مسائل پر قانون سازی کی بات کرتا ہے وہی بابری مسجد مسئلے میں عدلیہ کے فیصلے کوصرف اپنے ہی حق میں ہونے کی بات کرتا ہے کیا یہ قانون، دستور اور عدلیہ کی توہین نہیں ہے اور اس توہین پر سزاتو درکنار بازپرس کا بھی حقدار نہیں سمجھاجاتا جبکہ مسلم تنظیمیں بار بار یہ کہہ چکی ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بہر صورت ہمیں منظور ہے اب آئین و عدلیہ کا کون احترام کرتا ہے سنگھ پریوار یا مسلمان۔

مولانا کی سادہ لوحی دیکھئے کہ وہ اسی سنگھ پریوار سےیہ امیدیں لگابیٹھےہیں۔ مسلم پرسنل لابورڈ مسلمانوں کا ایک نمائندہ ادارہ ہے جو پوری طاقت کے ساتھ تحفظ شریعت کیلئے ڈٹا ہوا ہے اور اس وقت جگہ جگہ اس کے اجلاس ہورہے ہیں اور مسلسل وہ مسلمانوں کے اندر ملی تحفظ کا احساس جگارہا ہے تاکہ وہ بیدار ہوں اور انہیں یہ احساس ہو کہ اس وقت شریعت اسلامیہ کا تحفظ سارے کاموں سے ضروری ہے۔ ایسے میں مولانا سلمان ندوی کا مسلم پرسنل بورڈ کو اعتماد میں لئے بغیر جب کہ وہ خود اس کے رکن ہیں اس طرح کا سمجھوتہ کرنا بہت سارے شبہات و شکوک کو بھی جنم دیتا ہے۔ اب بھی وقت ہے ہمیں سنبھل جانا چاہئے اور بیک زبان ایک رائے پر متفق ہونے کی ضرورت ہے تاکہ سنگھ پریوار کی گھس پیٹھ والی حکمت عملی ناکام ہوسکے۔ یہی وقت کا تقاضا بھی ہے اور اسی میں ہماری نجات و سرخ روئی مضمر ہے۔

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close