عالم اسلام

یہ ہیں ہم!

محمد عرفان ندیم

آپ نے زندگی میں کبھی نہ کبھی قرآن کے کسی حصے کا ترجمہ ضرور پڑھا ہو گا اور اس ترجمے کے دوران آپ کو یہ تجربہ بھی ضرور ہوا ہو گا کہ قرآن کی بعض آیات سیدھا آپ کے دل اور دماغ پر جا کر لگتی ہیں کہ جیسے یہ ہمارے بارے میں ہی نازل ہوئی ہیں۔ صحابہ کرام جہنم کے بارے میں بعض آیات اور احادیث کو پڑھ کر تڑپ اٹھتے تھے کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک انہیں اطمینان نہیں ہو جاتا تھا کہ ہم اس کے مصداق نہیں۔ میں نے رمضان کی مناسبت سے عصر حاضر سے متعلق چند احادیث اکھٹی کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ یہ احادیث پڑھ کر تڑپ اٹھیں گے کہ ہم ہی ان کے مصداق ہیں ۔ آپ یہ احادیث پڑھیں ، اپنی حالت پر غور کریں اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں کہ ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ فرمایا : لوگوں پر بہت سے سال ایسے آئیں گے جن میں دھوکا ہی دھوکا ہو گا، اس وقت جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا، بد دیانت کو امانت دار اور امانت دار کو بددیانت تصور کیا جائے گا اور رویبضہ قوم کی نمائندگی کریں گے، عرض کیا گیا رویبضہ کیا ہے ؟ فرمایا : گرے پڑے، کمتر اور نااہل لوگ جو عوام کے اہم معاملات میں رائے زنی کریں گے۔ حضرت عائشہ ؓ کے اس سوال پر کہ کیا ہم ایسی حالت میں بھی ہلاک ہو سکتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں ، فرمایا : ہاں ، جب گناہوں کی گندگی بہت ذیادہ ہو جائے گی۔ فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں آدمی کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو احمق کہلائے یا بدکاری کو اختیارکرے، جو شخص یہ زمانہ پائے تو اسے چاہیئے کہ بدکاری کو اختیار کرنے کی بجائے احمق کہلانے کو پسند کرے۔ فرمایا: تمہیں اس طرح چھانٹ لیا جائے گا جس طرح اچھی کھجوریں ردی کھجوروں سے چھانٹ لی جاتی ہیں، چناچہ تمہارے اچھے لوگ اٹھتے چلے جائیں گے اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اس وقت شدت غم سے تم سے مرا جا سکتا ہوا تو مر جانا۔ فرمایا : کاش ! میں جان لیتا میرے بعد میری امت کا کیا حال ہوگا، جب ان کے مرد اکڑ کر چلیں گے اورا ن کی عورتیں بازاروں میں اتراتی پھریں گی۔ اور کاش ! میں جان لیتا جب میری امت کی دو قسمیں ہو جائیں گی، ایک قسم وہ ہو گی جو اللہ کی راہ میں سینہ سپر ہو گی اور دوسری قسم وہ ہو گی جو غیر اللہ کے لیے سب کچھ کرے گی۔ فرمایا: قرب قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ چاند پہلے سے دیکھ لیا جائے گا اور پہلی تاریخ کے چاند کو کہا جائے گا یہ تو دوسری کا ہے اور مسجدوں کو گزرگاہ بنا لیا جائے گا اور ناگہانی موت عام ہو گی۔ فرمایا : قیامت کی خاص علامات میں سے یہ ہے کہ بدکاری، بدزبانی اور قطع رحمی عام ہو جائے گی امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار قرار دیا جائے گا۔ فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب سچوں کو جھوٹا اور جھوٹوں کو سچا کہا جائے گا، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار کہا جائے گا، بغیر طلب کیئے لوگ گواہیاں دیں گے اور بغیر حلف اٹھوائے حلف اٹھائیں گے اور کمینے باپ دادا کی اولاد دنیاوی اعتبار سے خوش نصیب بن جائے گی جن کا اللہ پر ایمان ہو گا نہ رسول پر۔ فرمایا : دو جہنمی گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا یعنی وہ میرے بعد پیدا ہوں گے، ایک وہ جن کے ہاتھوں میں بیل کی دم جیسے کوڑے ہوں گے اور وہ ان سے ناحق لوگوں کو ماریں گے، دوسرا گروہ وہ عورتیں ہو ں گی جو کہنے کو تو لباس پہنے ہوں گی لیکن وہ اس قدر باریک ہو گا کہ درحقیقت وہ برہنہ ہوں گی، لوگوں کو اپنے جسم کی نمائش اور لباس کی زیب و زینت سے اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی ان کے سر فیشن کی وجہ سے بختی اونٹ کی کوہان جیسے ہوں گے، یہ عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو ہی ان کو نصیب ہو گی حالانکہ جنت کی خوشبو دور دور سے آ رہی ہوگی۔ فرمایا : آخری زمانے میں بہت سے جھوٹے اور مکار لوگ ایسے ہوں گی جو تمہارے سامنے اسلام کے نام پر نئے نظریات اور نئی باتیں پیش کریں گے جو نہ تم نے کبھی سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے، ان سے بچنا، ان سے بچنا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ فرمایا : عنقریب ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جس میں اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے، ان کی مسجدیں بہت بارونق ہوں گی مگر رشد و ہدایت سے خالی اور ویران، ان کے علماء آسمان کی نیلی چھت تلے بسنی والی تمام مخلوق سے بدتر ہوں گے، فتنہ ان سے ہی نکلے گا اور ان میں ہی لوٹے گا۔ فرمایا : قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کو عار ٹھہرا یا جائے گا، اسلام اجنبی ہو جائے گا، لوگوں کے درمیان کینہ پروری عام ہو جائے گی، علم اٹھا لیا جائے گا، زمانہ بوڑھا ہو جائے گاا، انسان کی عمر کم ہو جائے گی، ماہ و سال اور غلہ و ثمرات میں بے برکتی اور کمی ہو جائے گی، امین کو خائن او ر خائن کو امین تصور کیا جائے گا، فساد اور قتل عام ہوگا، اونچی اونچی عمارتوں پر فخر کیا جائے گا، صاحب اولاد عورتیں غمزدہ اور بے اولاد خوش ہوں گی، ظلم، حسد اور لالچ عام ہو گی، لوگ ہلاک ہوں گے، جھوٹ کی بہتات اور سچائی کم ہو گی، لوگوں کے درمیان بات بات میں جھگڑا او ر اختلاف ہو گا، خواہشات کی پیروی ہو گی، اندازے سے فیصلے کیے جائیں گے، بارش کی کثرت کے باوجود غلہ اور پھل کم ہوں گے، علم کے چشمے خشک ہو جائیں گے اور جہالت کا سیلاب امڈ آئے گا، اولاد غم و غصہ کا باعث ہو گی اور موسم سرما میں بھی گرمی ہوگی، بدکاری علانیہ ہو نے لگے گی، زمین کی طنابیں کھینچ دی جائیں گی، خطیب اور مقرر جھوٹ بکیں گے حتیٰ کہ میرا حق میری امت کے بدترین لوگوں کے لیے تجویز کیا جائے گا، بس جس نے ان کی تصدیق کی اور ان کی تحقیقات پر راضی ہوا اسے جنت کی خوشبو بھی نصیب نہیں ہو گی۔ فرمایا : میری امت جب پانچ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو ان پر تباہی نازل ہو گی، جب ان میں باہمی لعن طعن عام ہو جائے گا، مرد ریشمی لباس پہننے لگیں گے، گانے بجانے اور ناچنے والی عورتیں رکھنے لگیں گے، شرابیں پینے لگیں گے اور مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے جنسی تسکین حاصل کرنے لگیں گے۔ فرمایا : آخری زمانے میں میری امت کے کچھ لوگ بند ر اور خنزیر کی شکلوں میں مسخ کر دیئے جائیں گے، پوچھا گیا کیا وہ توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہوں گے ؟ فرمایا : ہاں !وہ برائے نام نماز روزہ اور حج بھی کریں گے، پوچھا گیا پھر ان کا یہ حال کیوں ہو گا، فرمایا : وہ آلات موسیقی، رقاصہ عورتیں ، طبلہ اور سارنگی کے رسیا ہوں گے اور شرابیں پیا کریں گے۔ وہ رات بھر لہو و لعب میں مصروف رہیں گے اور صبح ہو گی تو بند ر اور خنزیر کی شکلوں میں مسخ ہو چکے ہوں گے۔ فرمایا : جب یہ امت شراب کو مشروب کے نام سے، سود کو منافع کے نام سے اور رشوت کو تحفے کے نام پر حلال کر لے گی، مال زکوۃ سے تجارت کرنے لگے گی تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہو گا گناہوں میں زیادتی اور ترقی کی وجہ سے۔ فرمایا : جب اللہ کسی بندے کی ہلاکت کا فیصلہ فرماتے ہیں تو سب سے پہلے اس سے شرم و حیا چھین لیتے ہیں ، جب اس سے حیا جاتی رہی تو تم ایسے بندے کو شدید مبغوض اور قابل نفرت پاؤں گے، جب اس کی یہ حالت ہو جائے تو اس سے امانت چھین لی جاتی ہے اس کے بعد تم اسے خائن اور دھوکے باز پاؤ گے اوراس حالت میں اس سے رحمت بھی چھین لی جاتی ہے، جب رحمت چھن جائے تو تم اسے مردود و ملعون پاؤ گے اور جب وہ اس مقام پر پہنچ جائے تو اس سے اسلام کا پٹہ نکال لیا جاتا ہے۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تمہیں نیکی کا حکم کرنا ہو گا اور برائی سے روکنا ہو گا ورنہ کوئی بعید نہیں کہ اللہ تم پر کوئی عذاب نازل فرمائیں ، پھر تم اگر اللہ سے اس عذاب کے ٹلنے کی دعائیں بھی کرو گے تو وہ قبول نہیں ہوں گی۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close