عالم اسلام

 بھائی اب تو ایک ہو جاؤ

ظلم و طغیان کا سیلاب بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا کہ اب کھلے عام شریعت میں مداخلت شر وع ہوگئی ہے ،طلاق ثلاثہ کا معاملہ جو کہ خالص مذہبی شق سے تعلق رکھتا ہے جس کی آئین ہند میں اجازت دی گئی ہے اس کے باوجود مسلمانوں کو اتنا کمزور و بے وقعت سمجھ لیا گیا ہے کہ حکومت نے اتنی بھی ضرورت نہیں محسوس کی کہ اس تعلق سے مسلم علماء اور دانشوروں سےہی صلاح ومشورہ کرلیا جائے۔ دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ گذشتہ ۲۸؍دسمبر کو پارلیمنٹ میں جب بل پیش کیا گیا تو اس کی مخالفت اسدالدین اویسی نے تنہا کی اور ۲۲؍مسلم ممبران پارلیمنٹ کوجیسے سانپ سونگھ گیا وہ خاموش رہے یا حاضر ہی نہیں ہوئے۔ جس کا مطلب صاف ہے انہیں پارٹی عزیز ہے مذہب نہیں،کچھ سمجھے آپ ، اگر ہم اب بھی نہ جاگے توآنے والاکل کتنا سنگین ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آپ سن رہے ہیں نا۔ ۔۔۔!

مزید پڑھیں >>

اسلام کا سیاسی کردار

اسلام اوریہودیت کے سوا کسی اور مذہب کے پاس زندگی کے تمام شعبوں کے لیے کوئی سکیم ہے ہی نہیں۔ یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے اندر اپنی زبان سے لے کر مذہبی روایات و اقدار کے ایک بڑے حصے کو نئی زندگی بخش دی ہے۔ کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ اسلام اگرزندگی کے تمام دیگر دائروں سمیت ریاست و سیاست پر اپنا رنگ قائم کرنا چاہتا ہے تومذکورہ عناصر کو جدید تہذیب اور آزادیاں خطرے میں نظر آنے لگتی ہے۔حالانکہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسلام زندگی کے نفاذ سے جدید نقوش کو مٹاڈالے گا۔ اسلام ترقی و تعمیر کاوہ دِین ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص گاڑنے کے لیے کھجور کا ایک پودا لے کر نکلا ہو اور اس دوران میں قیامت برپا ہو جائے تو پھر بھی وہ کھجور کا وہ پودا گاڑ کر چھوڑے۔

مزید پڑھیں >>

ایران میں کیا ہو رہا ہےِ؟

انٹرنیشنل میڈیا خصوصا امریکی، برطانوی، اسرائیلی اور عرب جرائد کی گزشتہ چند دنوں سرخیوں، تبصروں اور کالموں پر نظر ڈالیں (refer to" newsnow iran) تو محسوس ہو گا جیسے ایران میں حکومت اور نظام مخالف کوئ بہت بڑی تحریک چل رہی ہے اور انقلاب کے خلاف کوئ انقلاب ہے جو کہ بپا ہوا ہی چاہتا ہے، ان تبصروں کو دقت سے پڑھیں تو محسوس ہوگا کہ ان جرائد اور ان کے مالک افراد، اداروں اور ریاستوں کی کتنی بڑی اور دلی خواہش ہے کہ عوام بس اپنی حکومت کے خلاف اٹھیں اور اس کا دھڑن تختہ کرکے کسی بھی طرح ایسی حکومت لے آئیں جو مثل شاہ ان کی تابع فرمان ہو جو خطے میں ان کے مذموم ارادوں پہ نا صرف خاموش رہے بلکہ مددگار بھی ثابت ہو۔

مزید پڑھیں >>

اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے!

خیال کیجئے کہ سوڈان کہاں واقع ہے؟ انگلستان کا ساحل اس علاقے سے جس پر تاتاریوں کی تاخت ہوئی تھی، جغرافی طور پر کتنی دور تھا، سویڈن کے ماہی گیر جن کا پیشہ ہی ماہی گیری تھا، کچھ عرصہ انگلستان کے ساحل پر شکار کھیلنے خوف و دہشت کے مارے نہیں آئے، کیمبرج کی ’’تاریخ عہد وسطیٰ‘‘ کے لکھنے والے کو اس واقعہ کی ہولناکی کی تصویر کھینچنے کیلئے اس سے بہتر الفاظ نہیں ملے کہ ’’آسمان نے زمین پر گر کر سب چیزوں کو مٹا دیا‘

مزید پڑھیں >>

پھر ایک بڑے محاذ کی ضرورت ہے!

بہرحال گجرات کے الیکشن سے بی جے پی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے جو سیکولر جماعتوں کیلئے ایک خوشگوار مستقبل کا  اعلانیہ ہے جس کا فائدہ سیکولر لیڈران اپنی حکمت عملی کے مثبت استعمال اور ایک عظیم اتحاد کے ذریعے پوری طرح اٹھا سکتے ہیں، ایک ایسا اتحاد جو ایمر جنسی کے بعد جے پرکاش نرائن کی قیادت میں طوفان بن کر اٹھا تھا جس نےکانگریس کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا تھا۔ آج ایک بار پھر اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

آدھا اسلام

اسلام کے اولین مقاصد میں معاشرے کو پرامن رکھنا ہے۔ اسی لئے اسلام میں فقط مسلمانوں کے حقوق نہیں بلکہ تمام انسانوں کے حقوق بیان کئے گئے ہیں۔ جہاں بھی معاشرے کا ذکر آتا ہے اسلام صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کی بات کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: و لقد کرمنا بنی آدم۔ اور ہم نے بنی آدم کو تکریم بخشی۔ قارئین! اللہ کریم نے اس آیت کریمہ میں یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے مسلمانوں کو تکریم دی۔

مزید پڑھیں >>

ہمیں چاہئیے کہ…!

اسرائل سے ہندستان تک اور ٹرمپوں سے مودیوں تک ہمارا کام بس اتنا ہے کہ ظلم کو ظلم کو کہیں اور بلا تفریق پوری دنیائے انسانیت  اور تمام مستضعفین فی ا لارض کے لیے حصول انصاف کی جدوجہد کو ہر ممکن قوت و استقامت  کے ساتھ جاری  رکھیں۔ رہی تبدیلی تو ہم صرف انفرادی تبدیلیوں اور صرف اپنے اہل و عیال کو نار ِجہنم سے بچانے کی کوششوں کے مُکَلَّف ہیں۔ اجتماعی تبدیلی تو صرف مالک حقیقی کے اختیار میں ہے اور وہ عادل بھی ہے اور ہر شے پر قادر بھی !

مزید پڑھیں >>

امریکی زوال اور مسلم ممالک

   صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ امریکہ پر یہودی گرفت کا کیا عالم ہے۔ یہ انتخاب صاحب بصیرت نہیں عام بصارت رکھنے والوں کو بھی یہ بتاتا ہے کہ اب صیہونی مقتدرہ نے امریکی سورج کو غروب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے دنیا کے سارے میڈیا، الکٹرونک یا پرنٹ میڈیا، سارے سروے یہ بتارہے تھے کہ محترمہ ہلیری کلنٹن جیت رہی ہیں مگر جیتے ڈونالڈ ٹرمپ۔

مزید پڑھیں >>

امریکہ و یورپ کس طرح کا اسلام چاہتے ہیں؟ 

امریکی تھنک ٹینک نے اپنے مقررہ اہداف کے حصول کیلئے امریکہ و یورپ کو لائحہ عمل دیا کہ وہ جدت پسندوں ، روشن خیال، سیکولر و لبرل طبقہ کی حمایت کریں اور اس طبقہ کے کام کی اشاعت اور ڈسٹربیوشن میں مالی مدد کریں ، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اس طبقہ کے لکھاریوں اور ادیبوں کو عوام الناس اور نوجوانوں کیلئے لکھنے کی ترغیب دیں ۔ جدت پسند نصاب کو اسلامی تعلیمی نظام میں شامل کروائیں اور بنیاد پرستی اور اسلامی عقیدہ جہاد کا تصور ان کے تعلیمی نصاب سے یکسر نکلوائیں ۔

مزید پڑھیں >>

سالِ نو کی آمد: خوشی ومسرت کی نہیں احتساب کی ضرورت

ضرورت ہے اس بات کی کہ سال ِ نو کا آغاز غیر شرعی طریقہ پر کرنے سے گریز کیا  جائے،اور اس موقع پر جو خلاف ِ شریعت کا م انجام دئے جا تے ہیں،اور فضول و لا یعنی امور اختیا ر کئے جا تے، جو نا شا ئستگی اور بد اخلاقی کے مظاہرے ہو تے ہیں، عیسائیوں کے طریقہ کے مطابق جو نیو ائیر کا استقبال کیا جا تا ہے،کیک کاٹ کر اور مبارک بادیا ں دے کر جو اپنی تہذیب کا مذاق اڑایا جا تا ہے اسی طرح شور و شغب اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والی جو حرکتیں کی جا تی ہیں،ان تمام چیزوں سے مکمل اجتناب، اور اپنے نو نہانوں کو ان تمام سے روکا جا ئے، اسلامی تعلیمات سے اپنی اولادکو آگاہ کریں،اور اسلامی سالِ نو کا تعارف،اور ماہ وسال کی یہ انقلاب انگیز تبدیلی سے حاصل ہو نے پیغامات سے واقف کر ائیں،ورنہ ہماری آنے والی نسلیں دین کی تعلیمات سے بے بہرہ ہو کر، عیسائی تہذیب و کلچر کی دلدادہ بن کر، اور مغربی طریقہ ٔ زندگی ہی میں کامیابی تصور کر کے پروان چڑھے گی۔

مزید پڑھیں >>