عالم اسلام

مسئلۂ بیت المقدس کاعملی حل اورہمارے مطالبہ بازاحتجاجی

ممکن ہے ہمارے اتنے زبردست احتجاجات کے نتیجے میں امریکہ اوراسرائیل ایسی کچھ شرائط پرراضی ہوجائیں جوہمارے فلسطینی بھائیوں کے حق میں ہوں اورکچھ شمع امید نظرآئے۔ویسے ہٹ دھرم یہودیوں سے کسی بھی چیزکی توقع فضول ہے مگرکوشش کرنے میں کیاجاتاہے۔ یہاں ایک بات یہ بھی یادرکھیے کہ فلسطینیوں کے لیے اگرکوئی ملک کچھ کرسکتاہے توہ سعودی عرب ہے مگر کیا سعودی عرب اپنی ذمے داری ادا کرے گا؟جواب میں ہاں یاناں کہنے کااختیارآپ کے پاس ہےکیوں کہ اتنی توسمجھ آپ کے پاس بھی ہے۔  

مزید پڑھیں >>

فلسطینی تنازعہ

ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ امریکا کے اس اقدام کی پرزور مذمت کریں۔ فلسطینی بھائیوں کہ ہر ممکن اخلاقی، سفارتی و مالی مدد کریں۔ سوشل میڈیا، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر فلسطینی بہن بھائیوں کی آواز بنیں۔ پرامن احتجاج اور منسٹری آف فارن افیئرز کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ برطانیہ میں لابنگ کرکے باالفور معاہدے سے دست برداری کا رستہ ہموار کرائیں۔ عیسائی کمیونٹی کو بھی بیدارکریں۔ او آئی سی، 57 اسلامی ممالک اور اسلامی فوجی اتحاد کے محاذوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے قبلہ اول کی حفاظت کریں اور ٹرمپ انتظامیہ پر پریشر بڑھائیں۔

مزید پڑھیں >>

اصلی اور نسلی مسلمان

مسلمان تو دونوں ہیں وہ بھی جنہوں نے اسلام کو پڑھا ہے اور صحیح مان کر اس پر عمل کررہے ہیں اور وہ بھی جو اس لئے مسلمان ہیں کہ ان کے باپ دادا بھی مسلمان تھے اور انہوں نے صرف مسلمان ہونے کو ہی جنت کا حقدار سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ بہت بڑی بھول ہے نسلی اور اصلی مسلمانوں کے دو الگ الگ مذہب ہیں اصلی مسلمان لڑکی ہوتے ہوئے بھی ہر حملہ کا جواب دے رہی ہے اور نسلی مسلمان وزیر ہوتے ہوئے بھی ا سلام کے دشمن کو اور مسلمان کی شہادت کو عام قسم کا جرم ماننے پر اَڑے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

شہر القدس کے خلاف صلیبی اور صیہونی فیصلہ

تمنا تو یہ کی جا رہی تھی کہ اسرائیل کے زیرِ تسلط146مقبوضہ فلسطین 145 میں160شہر القدس جلد ہی نہ صرف صہیونی شکنجے سے آزاد اور اسرائیل کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے انہدام اور اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کا خواب پارہ پارہ ہو جائے گا، اس لیے کہ بیت المقدس سے مسلمانوں کا ماضی اور مستقبل جڑا ہوا ہے، نیز مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور نبی کی پیشین گوئیوں کے مطابق اس مقام سے مستقبل اور قربِ قیامت میں بہت سی نشانیاں ظاہر ہونی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

بیت المقدس

سلام ہو فلسطینیوں پر جن کی تیسری نسل بیت المقدس کی حفاظت کے لیے قربانیوں کی تاریخ رقم کررہی ہے۔ پتھروں سے ٹینکوں کامقابلہ صرف قوت ایمانی ہی سے ممکن ہے۔ حماس کی فلسطینی تحریک نے جہاد فلسطین میں چابک کاکام کیااور فلسطینیوں کو اپنی اصل یعنی قرآن و سنت کی طرف پلٹاکر لے آئے۔ 1948ء میں برطانیہ نے جب اسرائیل کے قیام کااعلان کیاتو بیت المقدس اس ناجائز ریاست کاحصہ نہیں تھا۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کاجو منصوبہ منظورکیاتھااس میں بیت المقدس کو بین الاقوامی تصرف میں رہنے کی سفارش کی گئی تھی۔ فلسطینی عوام نے ان سارے منصوبوں کوپاؤں کی ٹھوکرپررکھااور مجاہدین اسلام نے صہیونیت کے خلاف عسکری وجمہوری جدوجہدجاری رکھی۔

مزید پڑھیں >>

بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے!

مسٹر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد، فلسطینی عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ احتجاج اور مظاہرے کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں ہے؛ لہذا "حماس" (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) نے تیسرے انتفاضہ کا اعلان کردیا ہے۔ پورا ملک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ صرف ایک چند دنوں میں ہی درجنوں آدمی کے زخمی اور 4/لوگوں کے شہید ہونے کی خبر ہے۔ فلسطینیوں کے اس احتجاجی کاروائی کو بہت سے نام نہاد امن پسند دہشت گردی کا نام دیکر غاصب ریاست اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور قتل عام کا موقع دیکر سیکڑوں بے گناہ جانوں کا قتل کرائیں گے۔ بے شمار عمارتوں کو تباہ وبرباد کراکے زمیں بوس کراکر، اسرائیلی کاروائی کو محافظت اور بچاؤ (Self Defense) سے تعبیر کریں گے۔

مزید پڑھیں >>

مسجدِ اقصٰی امریکہ کی جاگیر نہیں!

افسوس ہے کہ مسجدِ اقصٰی عرصہء دراز سے یہودیوں کے قبضے میں ہے، یہودی مسجدِ اقصٰی کی حرمت کی پامالی کرتے رہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو کبهی اس میں نماز پڑھنے کا موقع میسر آ جاتا ہے تو کبهی ان کے لئے مسجد کے دروازے بند کر دےء جاتے ہیں۔ اسی سال رمضان میں یہودی فوجیوں نے مسجدِ اقصٰی میں گھس کر معتکفین اور نمازیوں کو زخمی کیا۔ مسجد کو نقصان پہونچایا، مگر ان کے ظالمانہ رویے کے خلاف فلسطینی مسلمان بے پناہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں -

مزید پڑھیں >>

سر زمینِ ’القدس‘ کی صدا

جب سے امریکی صدرٹرمپ نے ’’القدس‘‘ یعنی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیا ہے پوری دنیا میں غم وغصہ کی لہر جاری ہے، ٹرمپ کے اس فیصلے سے جہاں بین الاقوامی اصول کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ظالمانہ وجابرانہ اختیار کا استعمال کرکے امن پسند دنیا میں نفرت کی فضاقائم ہوئی، وہیں عالمِ اسلام کے مسلمانوں کے دلوں کے تار کو چھیڑدیاہے اور مسلمانانِ عالم کو بے چین وبے قرارکردیا ہے، بیت المقدس کی محبت کی دبی ہوئی چنگاریوں کو بھڑکادیا ہے۔ٹرمپ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں ویسے تو مشہور ہے، جن کے بہت سے فیصلے خود ان کے لئے ذلت ورسوائی کاذریعہ بنے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

کس درجہ ہوئے شاہان عرب بے توفیق!

یہودیوں کی سرتابی و سرکشی سے تو پوری دنیا آشنا ہے۔ اسکی اسلام و مسلمان دشمنی کسی پر بھی مخفی نہیں؛ لیکن اصل مجرم تو وہ آستین کے سانپ ہیں۔ جنہوں نے انہی اسلام کے دشمن کو اپنا دوست بنا کر اسکو اپنے پاس بلایا۔ بے جا تعریفوں کے پل باندھے و اربوں ڈالڑ اس پر لٹائے، ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کیا۔ مسلمانوں کے سامنے مسیحائی کا لبادہ اوڑھ کر منافقت کی ساری حدیں پار کردی اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ ایک تو بہ تکلف مسلم غمخوار کا، تو دوسرا بالفعل یہودی نواز کا؛ تا اینکہ مسلمان انکے دکھائے ہوئے ظاہری بھول بھلیوں میں سفر کررہے ہیں اور چور گھر میں ہے۔ تلاشی باہر لے رہے ہیں؛ گویا: ”دھول چہرے پر تھی اور آئینہ صاف کرتے رہے“ ـ

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کا عدم اتحاد اور انتفاضۂ القدس

ڈونالڈ ٹرمپ نے عالم اسلام کے خلاف اپنے ارادوں کا اظہار کردیا ہے مگر دنیا ابھی تک عالم اسلام کے باہمی ردعمل کی منتظر ہے۔ ردعمل ضرور سامنے آیاہے مگر اس رد عمل میں اتحاد کی کمی ہے۔ باہمی ردعمل کا فقدان سخت ردعمل اور احتجاجات کے تسلسل کی اہمیت کو بھی ختم کردے گا۔ در حقیقت ٹرمپ کا یہ بیان عالم اسلام کے خلاف نئی جنگ کا اعلان نامہ ہے۔اگر اب بھی مسلمان انکی سازشوں اور منصوبوں کو نہ سمجھنے کی اداکاری کرینگے تو بڑا نقصان اٹھائیں گے۔

مزید پڑھیں >>