عالم اسلام

قدس کو مرکز ٹھہرایا فطرت کے بیماروں نے!

یاد رکھیں اقصی یہ صرف اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے ہرکلمہ گو مسلمان پر ضروری ہے کہ اقصیٰ کی حفاظت کیلئے سعی کرے، خصوصاً اہل عرب جو مکمل طور پر اسلامی ممالک کہلاتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ بحیثیت مسلم قائد ہونے کہ اہل فلسطین کو ظالموں کے شکنجہ سے بچائے اور اقصی کی حفاظت کی خاطر ایوبی کا عزم پیدا کر کے دنیائے ظلم و ستم پر حملہ آور ہو، بصورت دیگر وہ دن دور نہیں جب ہم اقصیٰ کا نام تو سنیں گے لیکن اقصیٰ کا نام ونشان ختم ہو چکا ہوگا اور اسکی جگہ ہیکل سلیمانی ہوگا اور اقصیٰ کے آنسوؤں کے سیلاب میں ہم تمام غرق ہو جائیں گے، اور گناہ گارہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

آجائو! جی بھر کر رولیں

سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ کیالکھوں،کیسے لکھوں، کیوں لکھوں اورکس کے لیے لکھوں۔ذہن پربس ایک ہی خبرحاوی ہے کہ یروشلم اب ظالم وغاصب اسرائیل کی راجدھانی بن جائے گا۔امریکہ کے جنونی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی راجدھانی کوتل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کااعلان کرکے فلسطین کے سینے پر۱۹۴۸کے بعددوسراخنجربھونک دیاہے۔ یہ وہی یروشلم ہے جو دنیا کے سارے مسلمانوں کی عقیدتوں کامرجع ہے اورقیامت تک رہے گا۔اس میں اللہ کا ایک مقدس گھرہے جس کا ذکرقرآن مجیدمیں موجودہے۔ یہ انبیاکی بستی ہے۔

مزید پڑھیں >>

یہودیوں کا گریٹ گیم اور مسلم حکم راں

آج مسلم حکمران ’’اب یا کبھی نہیں ‘‘کے دوراہے پر کھڑے ہیں ۔ کوئی یہودی عزائم کے آگے’ شیطانِ اخرس ‘بنے یابھیگی بلی، یا لوہے کا چنا ثابت ہو، یہود کی نظر میں وہ دشمن ہی ہے۔ یہ ہر ایک کے اپنے نصیب کی بات ہے کہ وہ شریف حسین مکہ کی صف میں جگہ پانا چاہتا ہے، یاحضرت عمرؓ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ونورالدین زنگی کے ساتھ اپنا حشر چاہتا ہے۔ جہاں تک یہودی عزائم کا تعلق ہے، تو یہ اَن مٹ لکیر ہے کہ انھیں دنیا میں خودمختار ریاست کبھی نصیب نہیں ہوگی، یہ خلاق عالم کا فیصلہ ہے، جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

‘القدس’ صرف ہمارا ہے!

اگر یہودی آج بھی اپنی اسلام دشمنی، اور مسلم دشمنی سے باز آجائیں ، اور فلسطین کے معزز شہریوں کی حیثیت سے فلسطین میں رہنا چاہیں ، تو مسلم قوم کووہ دوسروں سے زیادہ عالی ظرف اور فراخ دل پائیں گے۔ لیکن اگروہ مسلم امت کی غیرت وحمیت، اور اس کے وقار کو چیلنج کرتے ہیں ، اور ظلم وبربریت سے اس کے کسی خطۂ زمین پر قبضہ کرکے اسے یہودی ریاست بنانا چاہتے ہیں ، تو مسلم امت کسی بھی حال میں یہ ذلت برداشت نہیں کرسکتی، وہ آخر دم تک اس کے لیے لڑتی رہے گی۔

مزید پڑھیں >>

سقوط اسرائیل کے بعد مشرق وسطی کانقشہ

ترکی نے ایک طویل جدوجہد کے بعد سیکولرجرنیلوں سے نجات حاصل کر لی ہے،اسرائیل کے بالکل جوار میں تیزآگ کی بھٹی بھڑک چکی ہے اور مسلمانوں کو شیعہ اور سنی میں تقسیم کرنے والے اسرائیل کی سرحدوں پرشیعہ اور سنی مل کر اس فسطائی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف قتال ہیں۔ مشرق وسطی سے ملحق افریقی علاقوں کا مسلمان بھی جاگ چکاہے، گویا ایک عرصے تک مایوسیوں کی فضاؤں کواب باد صبا کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھوکوں نے معطر کر دیاہے۔

مزید پڑھیں >>

دھمکیوں کو خاطر میں نہ لانا معنی خیز عمل ہے!

فلسطین نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ خودپرامریکہ کی طرف  سےاسرائیل کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے ڈالے جانے والے دباؤ کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس نے امریکی دھمکیوں کا اسی لب ولہجہ میں جواب  دیتے ہوئے عارضی طور پر امریکہ سے  اپنےرابطے  کوختم کرنے کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ عملا ایسا کربھی دیا ہے۔ اسی اثنا میں اس نے اس سمت مزیدایک قدم بڑھا دیا ہے جو  امریکہ ہی کیا اس وقت بین الاقوامی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے لئے خطرہ تصور کرنے والی کسی بھی طاقت کو پسند نہیں ہے۔ وہ ہے  ملت اسلامیہ کا باہمی اتحاد واتفاق جو کسی کو بھی پھوٹی آنکھ نہیں بھارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

استناد کی جنگ !

دنیا میں اگر نبوی تحریک کا تصور نہ ہوتا اور لوگ اللہ اور اس کی وحدانیت سے آشنا نہ ہوتے تو طاقتور انسانوں کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ کا نتیجہ تباہی اور فساد کے سوا اور کیا ہوتا ؟ پچھلی صدی کے سائنسی اور مادی انقلاب کے سبب دو عالمی جنگوں اور سرد جنگ کی شکل میں جو فساد اور قتل عام ہو چکا ہے اس کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ استعماری طاقتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئےتنہا اس پوری دنیا کی مالک و مختار بن جانا چاہتی تھیں۔

مزید پڑھیں >>

مرے اللہ نے ہر عسر میں کچھ یُسر رکھے ہیں!

یہود و مشرکین  اہل ایمان کے  شدید اور دائمی دشمن ہیں،یہ تو خود قرآن میں موجود ہے لیکن اُن کے اَعوان و اَنصار بھی اَز خود ظاہر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کسی اور نے نہیں، خود ایک سعودی تاجر کی نیوز ویب سائٹ ’ایلاف ‘ نے اسرائل کے فوجی سربراہ کا یہ بیان اپنے پورٹل پر شایع کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کی ’’مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کی کوششوں ‘‘کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام: اکیسویں صدی اور ڈاکٹر ذاکر نائک

25 کروڑ ہندوستانی مسلمان اور خاص کر معزز دینی شخصیات ڈاکٹر ذاکر نائک کو جمہوریت، حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے بھروسے میدان میں تنہا و اکیلا نہیں چھوڑ سکتے- اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو نہ تو تنہا چھوڑتا ہے اور نہ ہی کفار کے حوالے کرتا ہے.

مزید پڑھیں >>

محمد بن سلمان کا معتدل اسلام؟

معتدل اسلام کے نام پر جدیدیت اور مغربیت کو بڑھاوا دینے کے نتیجے میں سعودی عرب میں امن و سکون کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور حکومت اور عوام کے درمیان بے چینی سے عالمِ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان نئے نئے مسائل جنم لیں گے، اس لئے محمد بن سلمان کو یہودیوں اور عیسائیوں کے ناپاک عزائم، ان کی سازشوں اور اپنے ملک کے اندرونی اور خاندانی مسائل کو سمجھ کر بہتر حل نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مزید پڑھیں >>