خصوصی

آج ہم کل تمہاری باری ہے

حفیظ نعمانی
پاک پروردگار کا ایک کرم یہ بھی ہے کہ ہمارے خاندان میں سرکاری ملازمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف ایک تایا سرکاری اسکول میں ماسٹر رہے۔ ایک بھتیجا ریڈیو کے عربی سیکشن میں رہا اور ایک بیٹا جامعہ ملیہ میں اپنے شعبہ کاصدر ہے۔ کل دوپہر ایک رپورٹر ایک بینک کے سامنے ضرورت مندوں کی لائن کے پاس کھڑا تھا اور بتارہا تھا کہ بینک نے صبح ٹوکن دئے تھے اور اب ٹوکن والوں سے زیادہ بغیر ٹوکن والے کھڑے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اگر بینک میں Cashہوگا تو لے لیں گے۔ اس کے بعد رپورٹر نے کہا کہ کل کے بعد کیا ہوگا جب سرکاری ملازموں کی تنخواہیں آجائیں گی اور سیکڑوں ملازم ہر بینک میں چیک لے کر روپے نکالنے آئیں گے اور بینک پر No Cashکا بورڈ لگا ہوگا؟
ہم نے شام کو اپنے بیٹے مامون سے معلوم کیا کہ تم لوگوں کی تنخواہ جامعہ ملیہ سے کیا نوٹوں کے بنڈلوں میں بینک جاتی ہے یا صرف تفصیل چلی جاتی ہے؟ (قارئین کرام اسے جہالت نہ سمجھیں یہ ناواقفیت ہے) مامون میاں نے بتایا کہ جامعہ کے اسٹاف کی تنخواہ دو کروڑ کے قریب ہے۔ وہ ٹرک پر نہیں جاتی بس تفصیل چلی جاتی ہے اور ہم پرسوں بینک یہ سوچ کر گئے تھے کہ 15؍ ہزار لکال لیں۔ پھر یکم کو بھیڑ ہوجائے گی تو کیشئر نے کہا کہ اگر10 ہزار لینا ہوں تو لائن میں آجائیے اور 15 لینا ہوں تو گھر جائیے۔ اور ہم صرف 10 ہزار لے کر آگئے۔
ہم تو کئی دن پہلے لکھ چکے تھے کہ جب سرکاری ملازموں کا ریلا چلے گا تو پھر لمبی لمبی لائنیں لگیں گی اور ان میں لا ئن میں لگنے والے کام کریں گے یا پڑھا ئیں گے یا دن بھر بینک میں لگے رہیں گے؟ اور یہ لائنیں ختم نہ ہونے پائیں گی کہ 7؍ تاریخ آجائے گی جس تاریخ کولوکو، سرکاری کارخانے، فیکٹریاں اور پیرائیویٹ صنعتیں اپنے ورکروں کو تنخواہ دیں گی اور ان کی لائنیں لگیں گی۔ لیکن مودی جی اور ان کی فوج یہی کہتی رہے گی کہ پورا ملک مودی جی کے ساتھ کھڑا ہے۔ تجارت کرنے والے ہمارے بچے بتا رہے ہیں کہ صرف اتر پردیش میں75 ہزار فیکٹریوں سے زیادہ ہیں ۔ اوردہلی میں 50 ہزار سے زیادہ ہوں گی۔ ان میں کام کرنے والے کروڑوں مزدور گھر بیٹھے ہیں ایک روٹی کا سہارا نہیں ہے۔ یہ دہلی میں جو دو ہزار روپے اور 14 سو کے لیے میاں بیوی دونوں نس بندی کرارہے ہیں اور مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ سب مودی کے ساتھ ہیں۔
مودی جی پر پھر پاکدامنی ثابت کرنے کا بھوت سوار ہوا۔ وہ الزام ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا کہ مودی جی نے اپنے آدمیوں سے کہلایا تھا کہ بڑے نوٹ بند کرنے والا ہوں اپنا انتظام کرلو اور ان کے ساتھیوں نے نوٹ بدل لیے۔ اس لیے 100،50، 20 اور 10 کے نوٹ بینکوں میں نہیں رہے۔ یہ جس نے کہا وہ جانے۔ ہم نے تو یہ کہا تھا کہ مودی جی سچ نہیں بولتے اور 2014ء کے ان کے سچ اور جھوٹ کی تفصیل بتائی تھی۔ اور کہا تھا کہ جب سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اور ان کو ہی اگلے سال الیکشن لڑنا اور پھر دو سال کے بعد لوک سبھا لڑنا ہے تو وہ اپنے جیتنے کا انتظام کیوں نہیں کریں گے؟ انھوں نے اپنے جیتنے کا انتظام کرلیا ہوگا۔ وہ کیسے کیا ہوگا یہ وہ جانیں یا الیکشن کے ماہرجانیں؟ اب اپنے MPاور MLAسے یہ کہنا کہ8؍ نومبر کے بعد کا حساب بتاؤ یہ قوم اور ملک کا معاملہ نہیں ان کا اپنا معاملہ ہے۔ اس کے باوجود ایک پارٹی کہہ رہی ہے کہ اکتوبرکا بھی حساب دیں، دوسری کہہ رہی ہے کہ تین مہینے کا حساب دیں۔اور جب سب ہی بول رہے ہیں تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ 10 مہینے کا حساب دیں، کیوں کہ مودی جی کہہ رہے ہیں کہ یہ10 مہینے کی منصوبہ بندی کے بعد کیا ہے۔
مودی جی ریزروبینک کے لیے جو گورنر لائے ہیں وہ پٹیل ہیں۔ پٹیل یا گجرات میں ہوتے ہیں یا مہاراشٹر میں۔ معلوم نہیں وہ خود تھوڑی عقل لائے ہیں یا ملک کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ 29 نومبر کے بعد جن لوگوں نے بینک میں روپے جمع کیے ہیں ان کے نکالنے پر کوئی پابندی نہیں وہ جتنا چاہیں نکال سکتے ہیں۔ ہم تلاش کررہے ہیں ان بے وقوفوں کو جنھیں خدا خدا کرکے نئے نوٹ ملے ہیں اور ابھی ان کی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوئی ہیں اور پٹیل صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر نوٹ دیکھ لئے ہوں تو لاؤ بینکوں میں جمع کردو اور نو کیش کے بورڈ دیکھ کر واپس جاتے رہو۔
بی جے پی کے مودی نواز اب دوسری پارٹیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی 8؍ نومبر کے بعد اپنے ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے کہیں کہ وہ بھی حساب دیں کہ انھوں نے ۸؍ نومبر کے بعد ایک ہزار اور ۵سو کے کتنے نوٹ بینکوں میں جمع کیے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان کے نیتا اور آقا مودی جی تو کہیں کہ سرکار نے یعنی میں نے سیاسی پارٹیوں کو اگر 72 گھنٹے بھی دے دئے ہوتے تو وہ سب اپنا کالا سفید کرلیتے اور چونکہ میں نے موقع ہی نہیں دیا اس لیے وہ نوٹ بندی بلکہ نوٹ بدلی کی مخالفت کررہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعد ہر پارٹی نے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے موقع نہیں دیا تو اب وہی بتائیں کہ ہر پارٹی کے پاس جو لاکھوں کروڑ کے نوٹ تھے وہ کیا ہوئے؟ اور ان میں سے نہ کوئی لائن میں نظر آیا اور نہ کوئی ٹرک میں نوٹوں کے بورے لے جاتا ہوا پکڑا گیا۔ تو پھر وہ کالا دھن جس کی مالا جپی جارہی ہے اور جس کی وجہ سے ملک کا ہر کارخانہ بند ہے اور جس کی وجہ سے آئندہ سال قحط پڑنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے وہ کہاں گیا؟؟؟
دہشت گردی ختم کرنا تھی، بھرشٹاچار مٹانا تھا اور کالے دھن سے ملک کو پاک کرنا تھا۔ کیا کوئی بتائے گا کہ ان میں سے کوئی ختم ہوا اور نہیں ہوا تو پھر اس ممتاز بنرجی کی ہی بات من لی جائے جو بنگال چھوڑے سارے ملک میں کہتی پھر رہی ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے کو واپس لو اس لیے کہ اس سے ملک پوری طرح برباد ہوگیا۔ جس کا اندازہ یکم جنوری کے بعد ہر کسی کو ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close