خصوصی

آر ایس ایس کی سادگی اور بی جے پی کی شان وشوکت

دیوداس آپٹے جی 24 سال کے رہے ہوں گے جب 1963 میں نا نا دیشمکھ انہیں اودھ- ترہت میل سے گوہاٹی لے گئے. 50 گھنٹے کا سفر طے کر گوہاٹی پہنچنے والے آپٹے جی کے پاس آسام میں کوئی تعلق نہیں تھا. جس سے بھی ملے پہلی بار ملے اور جہاں بھی گئے خود آپ کی کوشش سے پہلی بار گئے. 19 مئی کو جب آسام میں بی جے پی کی تاریخی جیت کا جشن منايا جا رہا تھا تب میں نے اسی سال کے آپٹے جی کو فون کیا. پہلی بار بات کرتے ہوئے ہچکچا رہا تھا لیکن عام تعارف کے بنیاد پر ہی بات چیت ہونے لگی. آپٹے جی آر ایس ایس کے ان پرچارکوں میں سے ایک ہیں جو آسام گئے.

بی جے پی کی جیت کا جشن ان کے جذبات میں نہیں اترا تھا. آپٹے جی اٹپٹے طریقے سے بتانے لگے. کہا بھی کہ کبھی آئیے بات کرتے ہیں. پرانی نسل کی سنگھ کے لوگوں کے طرز عمل سے شکایت نہیں ملے گی. 2014 کے سال کے بعد جس طرح سے بی جے پی کے رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر نازیبا اور غیر جمہوری زبان کو نوجوان کی بے چینی کہہ کر تسلیم کیا ہے اس سے بالکل مختلف لگتے ہیں یہ لوگ. حال ہی میں راجیہ سبھا رکن سوپن داس گپتا نے ٹائمز آف انڈیا کے اپنے  اتوار کے  کالم میں troll یعنی گالی گلوج کی زبان کو جائز ٹھہرایا. اپنی جوانی میں ایمرجنسی کے خلاف جیل گئے وزیر خزانہ جیٹلی نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ troll  کو نظر انداز کیجئے یا ہضم کر لیجئے. آپ سوشل میڈیا پر گالی دینے والوں کی پروفائل دیکھئے. کھل کر آر ایس ایس کا کارکن بتاتے ہیں، تنظیم کی علامتوں کا استعمال کرتے ہیں اور ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں. کسی کے خلاف اناپ شناپ افواہیں پھیلاتے ہیں. آج اسے ہضم اور قبول کرنے کی نصیحت کی جا رہی ہے.

آر ایس ایس ثقافت کی بات کرتا ہے لیکن اس نظریہ میں پلے بڑھے یہ لیڈر کس طرح بد تہذیبی کو تسلیم کرتے ہیں. سنگھ کس طرح چپ رہ سکتا ہے. یہاں تک کہ لسانی جارحیت بی جے پی کے ترجمانوں میں بھی نظر آتی ہے. جو ترجمان 2014 سے پہلے مجھے بے خوف اور آزاد صحافی کہا کرتے تھے وہ بھی ٹھیک سے بات نہیں کرتے. جب مجھے دلال سے لے کر میری ماں تک کو گالیاں دی گئیں تب بھی یہ لوگ خاموش رہے. 2005 میں بہار انتخابات کی رپورٹنگ پر ارون جیٹلی نے میری تعریف کی تھی اور سشیل مودی پٹنہ دفتر ملنے آئے تھے. اس انتخاب میں میں سشیل مودی تک نہیں مل سکا جبکہ پوری دنیا ان کا انٹرویو کر کے چلی گئی. کرن بیدی کے انٹرویو سے خوفزدہ تھے یا سشیل جی بھی کسی ترشی کے شکار ہو گئے، مجھے پتہ نہیں. نہ ہی مجھے اب جاننا ہے. ایک وقت تھا جب پرکاش جاوڈیکر جیسے بڑے لیڈر اپنی تمام مصروفیات کے درمیان میرے پروگرام کے لئے وقت نکالتے تھے. تعریف کرتے تھے اور مکمل سنجيدگي سے سخت سوالات کا جواب دیتے تھے. جاوڈیکر صاحب پیار سے راوش بلاتے تھے. تب یو پی اے کی حکومت ہوا کرتی تھی. تب دہلی میں شیلا دیکشت کی حکومت ہوا کرتی تھی، جس کے دعووں کو میں نے رويش کی رپورٹ میں کھوکھلی ثابت کر دیا تھا. تب میرے شو میں آنے کے لئے آج کے کئی ترجمان میسج کرتے تھے کہ، بہت دنوں سے آپ نے بلایا نہیں ہے. میں نے یہ بات بلانے یا آنے کے لئے نہیں لکھ رہا. ویسے آ بھی نہیں رہے ہیں. مجھے لٹين دہلی کے طاقتور لوگوں کے درمیان گھومنے کی چاہت ہی نہیں ہے. کبھی نہیں رہی.

ظاہر ہے ترجمان سوشل میڈیا کے بھگتوں کی پرواہ کر رہے ہوتے ہیں جو ایک فوج کی شکل میں دن رات کچھ صحافیوں کو گالیاں دیتے ہیں. برکھا دت کو رنڈی کہا گیا ہے اور مجھے 100 فیصد رنڈی کی اولاد. شکر ہے ان دنوں میں کسی سیاسی ترجمان کے ساتھ پرائم ٹائم نہیں کر رہا، ورنہ روز ایسے طرز عمل کے ردعمل میں مشتعل ہوکر یا مجروح ہو کر گھر لوٹتا تھا. اس طرح کی جارحانہ سیاسی اسٹائل کے درمیان سنگھ کے پرانے پرچارک کس طرح آرام سے رہتے ہوں گے، یہ کہنا مشکل ہے جب تک ان کی اس بد تہذیبی کو لے کر کوئی عوامی تنقید نہیں آ جاتی. ان سوالات کو لے کر ایک دن سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سے براہ راست سوال کرنے کا ارادہ ضرور ہے. اگر انہوں نے بھی نہیں بلایا تو کوئی بات نہیں. مجھے رجیکٹ ہونے کی پرانی عادت ہے. موہن بھاگوت جی کو ایک دن عوامی خط لکھوں گا. مجھے یقین ہے اس بد تہذیبی کے خلاف وہ کارروائی کریں گے اور ایسے هڑدنگيوں کو اپنے سے الگ کرنے کی ہمت دکھائیں گے. میں تو آپ کی سطح پر ایسا ہونے کی کوشش کروں گا ہی! ضدی آدمی ہوں، ہار جاؤں گا مگر لڑ جاؤں گا، وہ بھی اکیلے.

میں آپٹے جی کے بارے میں لکھتے لکھتے یہ بات کیوں لکھ گیا. اس لئے کہ اس دور میں بہت دنوں بعد شسٹھاچار سے ملاقات ہوئی. مشٹھاچار بھی کہیے. میٹھی میٹھی بول رہے تھے. پہلی بار فون کرنے پر بھی بغیر کوئی سوال کئے میرے سوال کا جواب دینے لگے. انہوں نے ٹھیک سے سنا یا نہیں لیکن میں نے کہا کہ میں سنگھ کا ناقد ہوں. پھر بھی وہ بات کیے جا رہے تھے. ‘آسام میں اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا، نوجوان تھا. ایک ایک کر لوگوں سے بات کی. پرجاسوشلسٹ پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی ہوئے تھے مدھوسودن داس. وہ دیہی اور کسان لیڈر تھے. ان سے بات کرتے کرتے سیاسی رابطہ بڑھایا. پھر آسام میں دراندازی کے سوالات پر بات ہونے لگی. اس کے لئے میں شیلانگ گیا، تب آسام کے دارالحکومت شیلانگ ہوا کرتی تھی. ‘ شیلانگ کے دارالحکومت سے وہ مردم شماری کی رپورٹ لے کر آئے. مدھوسودن جی کو سمجھایا اور پہلی بار آسام میں دراندازی کے خلاف ایک کمیٹی بنی. کمال کا قصہ سنایا. نہ کوٹ کرنے والی باتیں بھی بتائیں!

میں کسی غیر مرئی تصور میں کھو گیا. آج آسام کی کامیابی کا کریڈٹ لینے والوں کی ھوڑ لیکن جو شخص 24 سال کی عمر میں ناگپور سے آسام گیا ہو اسے کیسا لگ رہا ہوگا. فون پر ان کی آواز سے لگا بھی نہیں کہ اس جیت پر ان کا دعوی ہے. کوئی سیٹھی تھے جو میڈیا میں کریڈٹ لے رہے تھے سوشل میڈیا مینجمنٹ اور حکمت عملی کا. ہنسی آگئی مجھے.

آپٹے جی نے بتایا کہ آر ایس ایس کے کئی پرچارکوں کو عسکریت پسندوں نے قتل کر دیا پھر بھی ٹکے رہے. اگر ایسا ہے تو سنگھ کی اس شراکت کو منظوری ملنی چاہئے. سنگھ کے پرچارکوں میں وفاداری کہاں سے آتی ہے، وہ سنگھ سے بی جے پی میں جاکر اس وفاداری کو کیسے جیتے ہیں، کیا بی جے پی ان کا سیاسی گھر ہے؟ کچھ تو جواب جانتا ہوں، مگر سوال پوچھنا چاہئے، اس سے نیا جواب ملتا ہے. آپٹے جی جیسے پرچارکوں کے ساٹھ ستر سال کی محنت کا نتیجہ آیا ہے تو یہ لوگ جشن میں کیوں نہیں شامل ہیں. اپنے اتحادی ہمانشو سے کہا کہ گوہاٹی میں سنگھ کے دفتر جاکر دیکھئے. ویڈیو میں دیکھ رہا تھا شنکر داس جی بات کر رہے تھے. دفتر میں کوئی رنگ گلال نہیں، کوئی تماشا نہیں. ایسا لگا جیسے اس کے لئے نہ تو محنت کی اور نہ ہی یہ جو اقتدار آئی ہے ان کی ہے. قریب جانے پر سنگھ کے پرانے لوگ طریقے سے بات کرتے ہیں. مجھ سے بھی بات کرتے ہیں اور گالی نہیں دیتے ہیں. تبھی تو ایک بڑے پرچارک نے فون نہیں کاٹا. تعارف کراتے ہی یہ نہیں کہا کہ آپ میرے مخالف ہیں. سوشل میڈیا پر سنگھی ہونے کا دعوی کرنے والوں کی طرح ماں بہن کی گالی نہیں دی. مجھے تو اب یہ گالی ایسی حقیقت لگتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کہیں موہن بھاگوت جی سے کسی دن ملنے جاؤں اور وہ دیکھتے ہی گالی نہ بک دیں یا ان کے ساتھ کا کوئی ہاتھ نہ اٹھا دے.

جمعہ جمعہ دو سال بھی نہیں ہوئے تھے صحافت کے. دو دن تک دہلی کے سنگھ کے صدر دفتر میں جا کر دن رات پرچارکوں  کے دن رات کا معمول شوٹ کر لیا تھا. آرام سے اس کے بعد کے سنگھ کے سربراہ سدرشن جی سے مل لیتا تھا. یہ بتا کر کہ میں سنگھ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہوں. مجھے لگا شاید اب وہ سنگھ نہیں رہا مگر آپٹے جی سے بات کرکے لگا کہ اب بھی ہے. اس دور کے ایک ترجمان ان دنوں پہچانتے تک نہیں. کتاب میلے میں ملاقات ہوئی تو ہاتھ ملانے پر بھی ایسے چلے گئے جیسے کبھی دیکھا نہ ہو. تب وہ اپنی گاڑی میں لسی پلانے لے جاتے تھے.

ویسے اس بڑے پرچارک نے سنگھ کے کاموں کا حساب کتاب کھل کر بتایا. میں اکثر لوگوں سے کہتا ہوں سنگھ کے ناقدین کو پتہ ہی نہیں ہے کہ سنگھ کے کام کیا ہیں. ساری تنقید پرانی معلومات کی بنیاد پر ہیں. صرف نفرت کرنا اسی طرح کی غیر جمہوریت ہے جیسی یہ گالی دینے والے کرتے ہیں اور گالی دینے والوں کو مناسب ٹھہرانے والے کرتے ہیں. سنگھ کے کتنی تنظیمیں چلتی ہیں. ڈاکٹر سے لے کر وکیل تک میں اور حکام کے درمیان، کیا سنگھ کے ناقدین کو معلوم ہے؟

سنگھ کے لوگوں کی ایک بات متاثر کرتی ہے، وہ سست نہیں ہوتے. ورنہ آسام میں 590 سرسوتی ششو مندر ایک دن میں اور خواب دیکھنے سے نہیں بن جاتے. ایک استاد والے ساڑھے چار ہزار اسکول نہیں کھل جاتے. چاہے جیسے بھی ہو سنگھ نے یہ کام تو کیا ہے. اب ان اسکولوں میں کیا پڑھایا جاتا ہے اور کس طرح پڑھایا جاتا ہے اسے جاننے پر ہی تنقید کروں گا. ان اساتذہ کے پانچ ہزار کے اعزازیہ کا انتظام کرنا آسان نہیں ہے. صرف آسام میں سیوا بھارتی کے سات ہزار ہیلتھ ورکر کام کرتے ہیں. کانگریس کا سیوا دل  ہیڈ کوارٹر میں پرچم لہرانے کا کام کرتا ہے. ٹھیک ہے کہ اس طرح کے کام تمام دیگر تنظیمیں اور این جی اوز کرتے ہیں مگر کیا کس سیاسی پارٹی کے پاس سنگھ ہے اور سنگھ جیسی کثیر جہتی طاقتور تنظیم؟ کیا سیوا دل کے لوگ اس خشک سالی کے دور میں گاؤں گاؤں جا کر خدمت نہیں کر سکتے تھے. ملک بھر میں سنگھ کی جتنی تنظیمیں اور شاخیں ہیں اس کا ایک ہیڈ کوارٹر نہیں ہو سکتا. ناگپور کے  اندر کتنے لوگ ہوں گے جو اتنے کاموں پر نظر رکھتے ہوں گے یا بحث کرتے ہوں گے. مجھے یہ سوال ایک متجسس صحافی کے نظریے سے حیرت میں ڈالتے ہیں. سنگھ لاکھ اپنے آپ کو سماجی تنظیم کہہ لے، لیکن اس کے وسائل اور پرچارکوں کی محنت کا پسینہ کسی ایک سیاسی پارٹی کے کیوں کام آتا ہے؟ سنگھ کے لوگ ماضی میں کئی جماعتوں کی حمایت کی مثالیں دینے لگیں گے لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے ان کا فائدہ صرف اور صرف بی جے پی کو مل رہا ہے. تبھی تو وزیر اعظم اور ان کی کابینہ سنگھ کو رپورٹ دینے پہنچتے ہیں.

ہندوتو کی سیاست اور سیاست کا هندوكرن ان باتوں کو ہم کسی پارٹی کی فتح کے جوش میں نظر انداز کر دیتے ہیں مگر یہ ہماری سیاست کے اندر کی جمہوریت کو ایک دن کمزور کر دے گا. جس طرح کھلے عام مذہبی اداروں اور آشرموں کا سیاسی استعمال ہو رہا ہے اس سے ایک دن ہر مہنت کی ایک پارٹی ہو جائے گی یا ہر آشرم کا کوئی راجیہ سبھا میں ہوگا. لوک سبھا میں آدتیہ ناتھ تو ہیں ہی، ایک دو اور سادھوی- سادھو ہیں. گایتری خاندان کے پانڈیا جی نے راجیہ سبھا کی تجویز ٹھکرا دیا مگر تجویز ملی تو تھی. بھارتیہ جنتا پارٹی نے کیرالہ میں اڑاوا کمیونٹی کی پارٹی بنا كر اچھا قدم نہیں اٹھایا. یہ ایک طرح سے سیاست میں آؤٹ سورسنگ کی نئی مثال ہے. خود ووٹ نہیں ملے گا تو اس کمیونٹی کے لوگوں کی الگ سے پارٹی بنوا دو اور مہنت کے ذریعے سادھ لو. سیاسی پارٹی کو ہمیشہ اپنے پروگراموں کے بل بوتے آگے بڑھنا چاہیے.

سنگھ کے ایک رہنما نے بتایا کہ آسام میں خانقاہ کی طرح سیشن ہوتے ہیں. ڈھائی سو سیشن ہیں جن کے پاس اپنی زمینیں ہیں اور جن کے کچھ حصوں پر بنگلہ دیشی مسلمانوں نے قبضہ کر لیا ہے. ان سیشن کے سربراہان کو سترادھكار کہتے ہیں. اس بار ان تمام سترادھكاروں کو اپنے پالے میں لایا گیا تاکہ ان کے اندر عقیدت، موسیقی اور ثقافت کی تربیت لینے آنے والے ہندو شناخت کی سیاست کا ساتھ دے سکیں. سنگھ سے آزاد ہندوستان کا نعرہ لگانے سے وہ دلبرداشتہ بھی ہیں. مگر ہندوستان کی سیاست میں پنجاب سے شروع ہوا پارٹی اور آشرموں کا كامپلیكس بنانے کا یہ کھیل اب کہیں زیادہ ٹھوس ہو چکا ہے. ہریانہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کے بہت سے امیدواروں کو لے کر ‘ڈیرہ سچا سودا’ کے  اندر چلی گئی، جہاں ان کی حکومت کی پولیس آج بھی نہیں جا سکتی ہے. پہلے آشیرواد مانگا جاتا تھا اب یہ گرو، مہنت یا سترادھكار کسی سیاسی پارٹی کے جنرل سکریٹری کی طرح ووٹ مانگنے اور جمع کرنے کا کام کرنے لگے ہیں. یہ کام بی جے پی بھی کر رہی ہے، کہیں کانگریس بھی کرتی رہی ہے اور ممتا بنرجی جیسی علاقائی نے رہنما بھی. اس مذہبی سیاسی كامپلكس کے خطرے پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے.

میں اکثر پرچارکوں کی سادگی اور موجودہ سیاست کی خوشحالی کے فرق سے پریشان ہوتا ہوں. سنگھ کی محنت سے بی جے پی کو کامیابی ملی ہے لیکن بی جے پی کی جیت یا اس کی سیاسی ثقافت میں سنگھ کی سادگی کیوں نہیں ہے. سنگھ اسے کس طرح ہضم لیتا ہے، کیا وہ بھی ویسے ہی ہضم لیتا ہے جیسے جیٹلی جی ہمیں troll کی ثقافت ہضم لینے کا مشورہ دے رہے ہیں. کیا یہ سوال سنگھ سے نہیں پوچھا جائے کہ آپ پرچارکوں کی سادگی سے کانگریسی ثقافت کے سام دام، معنی، جرمانے اور امتیاز کے طور بی جے پی میں کیسے ہیں؟ اتراکھنڈ میں کیا ہوا؟ کہیں آپ بھی اس خوشحالی سے فیض یافتہ تو نہیں ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سنگھ کی سادگی تبھی کام کی جب بی جے پی نے اس میں شاه خرچي والے انتخابی انتظام کا چھونك ڈالا؟ کیا بی جے پی کے بے شمار وسائل کے بغیر سنگھ کی وفاداری سیاسی جیت دلا سکتی ہے؟ اگر پرچارک بی جے پی کو اقتدار تک پہنچانے میں کامیاب رہے تو سیاسی ثقافت کو شان وشوکت سے بچانے میں کس طرح ناکام رہ گئے. کئی وزیر لیڈر سنگھ کی قسم کھاتے ہیں مگر ان کے سلک کا کرتا اور شال کی قیمت ایک پرچارک کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہوتا ہے. گاڑی کی قیمت اس میں شامل نہیں ہے. سنگھ کی طرح بی جے پی نہیں ہو سکی تو کیا کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کی طرح سنگھ ہو گیا ہے؟

اس خوفناک فرق کو آپٹے جی جیسے پرچارک کس طرح ہضم لیتے ہوں گے؟ انتخابی سیاست کے لئے اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، اتنے هیلی كاپٹر کہاں سے آ رہے ہیں. جب سنگھ کے پرچارک ان باتوں سے آنکھیں موند لیتے ہوں گے تو انہیں کیا دکھتا  ہوگا. ان کے ہی کتنے پرچارک بی جے پی میں ترجمان اور جنرل سکریٹری بنتے ہی کتنی تیزی سے سادگی چھوڑ دیتے ہیں. کیا ان کے لئے یہ سادگی خوشحالی تک پہنچنے کا راستہ ہے، ایک بہانا ہے؟ یہ سنگھ کی جیت ہے یا اس کی شکست ہے.

بلا شبہ آسام کی جیت سنگھ کے ان گنت پرچارکوں کی محنت کا نتیجہ ہے. یہ محنت اس لئے بھی قابل ستائش ہے کہ اس ایک جیت سے پہلے وہ ہزار شکست سے گزرے ہیں. اتنی ہاروں کے درمیان اپنے یقین پر ٹکے رہے. صرف یہ کہہ دینا کہ سنگھ سے آزاد ہندوستان بنائیں گے، کافی نہیں ہے. کہنے والوں کو پہلے یہ تو پتہ ہو کہ ہندوستان میں کہاں کہاں کس سطح پر سنگھ موجود ہے. سنگھ مودی حکومت کا محتاج نہیں ہے. وہ مودی حکومت سے پہلے سے ہے اور اس کے بعد بھی رہے گا. سنگھ نے یہ ثابت کیا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close