خصوصی

اترپردیش کا انتخابی دنگل

حفیظ نعمانی

سنا ہے اترپردیش کے الیکشن میں 30ریلی امت شاہ کریں گے اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی اتنی ہی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔ اپنی پہلی ریلی امت شاہ نے اٹاوہ میں کی اور وہاں کے رہنے والوں کو وہ دن یاد دلائے جب صوبہ میں بی جے پی کی حکومت تھی اور کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ تھے جن پر سپریم کورٹ میں جھوٹا حلف نامہ دینے کا الزام ہے اور جن کی حکومت 6دسمبر 1992کی شام کو صدر نے برخاست کردی تھی۔

بی جے پی کے صدر صوبہ کو 25سال پرانی باتیں یاد دلا رہے ہیں جبکہ چوتھائی صدی میں کروڑوں ووٹر وہ ہوگئے جو پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اوروہ کروڑوں اپنے پیدا کرنے والے کے پاس چلے گئے جنھوں نے دسمبر 1992کا وہ کالا دن دیکھا تھا جسے یاد کرکے ایل کے ایڈوانی جیسے پتھر دل والے بھی کانپ جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ امت شاہ کو صرف کلیان سنگھ یاد رہے جنھیں ان کے سابق صدر شری راج ناتھ سنگھ بھی کبھی حلق سے نہ اتار سکے۔

2014ء میں امت شاہ اترپردیش میں الیکشن کے انچارج تھے۔ جس الیکشن میں اترپردیش کی 80سیٹوں میں 73 بی جے کو ملی تھیں اور صرف2 سیٹیں ان کی مقابل کانگریس کو۔ اس بے مثال کامیابی پر مودی جی نے کم از کم اب تک امت شاہ کی پیٹھ پر دس کلو گڑ اور5کلو کڑوا تیل تو ضرور مل دیا ہوگا اوراسی کا انعام تھا کہ صدارت کا تاج راج ناتھ سنگھ کے سر سے اتار کر ان کے سر پر رکھ دیا۔ جس کا نتیجہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہی حربے آزماتے جن کے بل پر انھوں نے 90فیصدی سے زیادہ کامیابی حاصل کی تھی لیکن ہو یہ رہا ہے کہ وہ کلیان سنگھ کی دم پکڑ کر اترپردیش فتح کرنا چاہ رہے ہیں۔

امت شاہ کے بارے میں معلوم ہواکہ ان کا پروگرام اٹاوہ سے لکھنؤ آنے کا تھا جہاں ان کے استقبال اور کھانے پینے کے سارے انتظامات ہوچکے تھے لیکن وہ لکھنؤ آنے کے بجائے دہلی چلے گئے۔ شاید انھیں کسی نے بتادیا کہ اترپردیش سماج وادی پارٹی کے صدر شیو پال یادو جاٹ لیڈر اجیت سنگھ سے ملے ہیں اور انہیں دعوت دی ہے کہ 5؍ نومبر کو وہ لکھنؤ آجائیں جہاں ملائم سنگھ، ڈاکٹر لوہیا، جے پرکاش نارائن اور چودھری چرن سنگھ کے ماننے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کررہے ہیں تاکہ بی جے پی اترپردیش میں گھسنے نہ پائے۔

گھسنے نہ پائے کا جملہ ایسا ہی جیسے دن میں کئی بار یا توہمارے منہ سے نکلتا ہے یا ہمارے کانوں میں پڑتا ہے کہ پھاٹک بند کرو تاکہ کوئی جانور نہ گھس پائے ،کتا، بلی نہ گھس پائے۔ اور گھس پائے یا نہ گھس پائے کسی سید نے، پٹھان نے، صدیقی نے، فاروقی نے یا انصاری نے نہیں کہا بلکہ ایک یادو، ایک جاٹ، ایک کرمی اور ایک تیاگی نے کہا ہے۔ وہ یہ تو برداشت کرنے پر تیار ہیں کہ دلت مایاوتی گھس آئیں لیکن اس پر تیار نہیں ہیں کہ بی جے پی گھس آئے ۔اور اسی دلت خاتون نے تو امت شاہ سے کہا ہے کہ وہ کلیان سنگھ کا نام لینے کے لیے معافی مانگیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ملائم سنگھ نے کلیان سنگھ سے چند روزہ دوستی کرنے پر قوم سے معافی مانگی تھی۔

وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے شہرت کی حد تک ایک کروڑ چھوٹے غریب بچوں کو ایک تھالی اور ایک گلاس دینے کا اعلان کیا ہے اوراس کی ابتداء کربھی دی ہے۔ جس پر اکھلیش کی بواجی مس مایاوتی نے ناراض ہو کر کہا ہے کہ میری حکومت آئی تو میں اس خرچ کا حساب لوں گی جس کے جواب میں بھتیجے نے یاد دلایا کہ پہلے ان سیکڑوں ہاتھیوں کی تو خبر لیجئے جو 9 سال سے ایک ہی حالت میں ہیں کہ جو کھڑے تھے وہ اب تک کھڑے ہیں اور جو بیٹھے تھے وہ ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیاست کی دنیا میں اس طرح کے تفریحی جملوں کے تبادلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو جہاں ہے اسے اطمینان ہے کہ وہ وہیں رہے گا۔ مودی جی، راج ناتھ سنگھ جی اور امت شاہ کوشش کریں گے کہ اترپردیش میں کسی طرح گھس جائیں  اور جن طاقتوں نے ان کے اوپر دروازے بند کر رکھے ہیں انھیں اطمینان ہے کہ وہ کچھ بھی کریںگھس نہیں سکتے۔

اترپردیش کی اکھلیش حکومت برابر شکایت کررہی ہے کہ مرکز اس کے ساتھ سوتیلا برتائو کررہا ہے اور اس کے حصہ کی رقم اسے نہیں دے رہا ۔ دوسری طرف امت شاہ نے الزام لگایا ہے کہ اترپردیش کو دوسری ریاستوں سے زیادہ روپیہ دیا گیا لیکن انھوں نے کام کرنے کے بجائے وہ کھالیا۔ یہ اختلاف کوئی نیا نہیں ہے۔ صوبوں میں اور مرکز میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہوا کرتی تھی تو اس کے حساب سے نقشہ بنا تھا۔1969ء کے بعد سے مختصر وقت کے لیے 1977ء میں اور اس کے بعد 1980ء میں بہت حد تک دونوں جگہ ایک ہی پارٹی رہی اس کے بعد سے تو فرق بڑھتا ہی جارہا ہے۔

2016ء میں جس انداز سے مودی لہر چلی تھی اس کے بعد اچھے اچھے سیاست دانوں کو یقین ہوگیا تھا کہ اب ایک لمبے عرصہ تک ملک میں بی جے پی کی حکومت رہے گی۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ جتنے گھوٹالے1952ء کے بعد سے2014ء تک پورے ملک میں ملا کر ہوئے ہیں ان سب سے زیادہ بڑا گھوٹالا ایک الیکشن میں ہی نریندر بھائی مودی کردیں گے کہ بے ایمانی کرنے والے ٹھیکے دار تو ایک مٹھی سیمنٹ میں آٹھ مٹی بالوملاتے ہیں تب عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ لیکن مودی جی نے تو الیکشن کی پوری عمارت بالو سے ہی بنادی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند مہینے کے بعد جب مہاراشٹر لڑنے کے لیے گئے تو عمارت لرز رہی تھی اور صرف ایک سال کے بعد وہ دہلی میں اوندھے منہ گرگئی اور جو نتیجہ لوک سبھا کے الیکشن میں اترپردیش میںدنیا کو دکھایا تھا ویسا ہی نتیجہ صرف ایک سال کے بعد خود دہلی میں پھر بہار میں دیکھ لیا کہ 70 میں 30۔ اب پھر الزام پر ا لزام چل پڑا۔ اس کے لیے اب ضرورت نقشہ بدلنے کی ہے کیونکہ اب پورے ملک میں ایک پارٹی کا دور کبھی نہیںآئے گا اور بات بگڑی تو بغاوت ہو کر ملک صوبوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ خدا اس دن سے بچائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close