تاریخ اسلامخصوصی

اسلامى تہذيب کيوں کر زوال پذير ہوئى؟

 آصف علی

ايک تجزياتى مطالعہ

دراصل تمدن ايک ايسا انسانى عمل ہے جو کبهى ترقى کےمنازل طے  کرتا ہے تو کبهى جمود وتعطل کا شکار ہوتا ہے. تہذيبوں کا تجزيہ کرنے والا کوئى بهى انصاف پسند تجزيہ نگار کسى نتيجہ پراس وقت تک نہيں پہنچ سکتا جب تک کہ زير نظر تہذيب کےعروج وزوال کےاسباب کا مطالعہ نہ کرے.

اسلامى تہذیب کے زوال کا تجزيہ تاريخ کے ان پیچیدہ موضوعات ميں سے ايک ايسا موضوع ہے جس کا مطالعہ کرتے وقت تجزيہ نگار دو طرح کى اصولى غلطيوں کا شکار ہوتا ہے (1) بعض تجزيہ نگار ان اسباب وعوامل کى تلاش وجستجو ميں اپنى توانائى صرف کرتے ہيں جو دنيا کى دوسرى تہذيبوں کے زوال کا سبب بنے اور يہ باور کرانے کى کوشش کرتے ہيں کہ جن اسباب کى بنا پر يونانى ورومى تہذيب زوال پذير ہوئى ہو بہو وہى عوامل اسلامى تہذيب کےانحطاط کا سبب بنے، جبکہ انہيں تہذيبوں کے ما بين پائى جانے والى امتيازى خوصيات کو مد نظر رکهنا چاہيے (2)اکثر تجزيہ نگارپہلےسے ہى کچھ نظريات اور مفروضےاپنے ذہن ميں متعين کرليتے ہيں اور پهر انہى خطوط پر عمل پيرا ہوتے ہوئےاپنے مطالعہ کا آغاز کرتے ہيں ، اور اپنے نظريات کى تائيد ميں تاريخى حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پيش کرتے ہيں ، جب کہ کوئى بهى نظريہ تجربہ کى بنياد پر قائم کيا جانا چاہئے. آج  ہم بعض ان داخلى اور خارجى اسباب پر ايک طائرانہ نظرڈاليں گے جنکى وجہ سے اسلامى تہذيب رو بہ زوال ہوئى.

دنيا کى ہر تہذيب تين مراحل سے ہوکر گذرتى ہے (1) تشکيل (2) عروج (3) زوال، اسلامى تہذيب بهى اس کليہ سے مستثنى نہيں ، شروع کى دو صديوں تک (يعنى پہلى اور دوسرى صدى ہجرى) اسلامى تہذيب نشو نما کے مرحلہ ميں تهى، اس اولين مرحلہ ميں جن عوامل نے اسلامى تہذيب کى تشکيل ميں بنيادى کردار ادا کيا وہ تهيں اسلام کى اعلى اخلاقى قدريں ، عربوں کى مثبت سوچ، اور يونانى وہندوستانى وچينى تہذيبى ورثہ سے بہر پور استفادہ. اس کے بعد عروج کا دور شروع ہوتا ہے جو تين صديوں پر (تيسرى صدى ہجرى سے پانچويں صدى ہجرى) محيط ہے، اس دورميں مسلمانون نے علوم وفون کے ہر ميدان ميں گران قدر خدمات انجام ديں اور اہل مغرب علم ومعرفت کے تمام شعبون ميں مسلمانون کے خوشہ چيں رہے. چهٹى صدى ہجرى (بارہويں صدى عيسوى) کے بعد سے اسلامى تہذيب کے زوال کى ابتدا ہوتى ہے جو تا ہنوز جارى ہے. بعض وہ اندرونى اور بيرونى اسباب جو اسلامى تہذيب کے زوال کا سبب بنے حسب ذيل ہيں :

سياسى اسباب:

عالم اسلامى کے نکبت وزوال کا سب سے اہم سبب اسکا سياسى انتشار ہے، وہ امت اسلاميہ جس کے اتحاد کا چہار دانگ عالم ميں طوطى بولتا تها مختلف چهوٹے چهوٹے ملکوں ميں تقسيم ہوتى گئى، اموى خلافت جس کا دائرہ مغرب ميں اندلس سے ليکر مشرق ميں سمرقند تک پهيلا ہوا تها عباسى خلافت کے آخرى دور يعنى تيرہويں صدى عيسوى کے آتے آتے بغداد اور اسکے اطراف تک سمٹ کر رہ گيا. اسى سياسى انتشار کے سبب مسلمانوں کا مذہبى اتحاد بهى اختلاف کا شکار ہوگيا بايں طور کہ دسويں صدى عيسوى کى ابتدا کے ساتھ اسلامى خلافت تين حصوں ميں تقسيم ہوگئى، بغداد ميں عباسى، قرطبہ ميں اموى اور قاہرہ ميں فاطمى خلافتوں کا جدا جدا پرچم لہرانا شروع ہوگيا تها، جس کے نتيجہ ميں مسلمان قوتيں باہم دست وگريباں ہوئيں ، اور عام مسلمانوں کو جانى ومالى وفکرى نقصانات سے دوچار ہونا پڑا. اگر ہم سلجوقيوں ، فاطميوں اور عباسيوں کے ما بين لڑى جانے والى جنگوں پر ايک طائرانہ نظر ڈالتے ہيں تو اس بات کا بخوبى اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح امت مسلمہ کى مادى وفکرى توانائى ضائع ہوئى اور کس طرح صليبيوں نے گيارہويں صدى عيسوى ميں اس کمزورى کا بهر پور فائدہ اٹهايا. اسى طرح ہميں ان جنگوں کو بهى ذہن ميں رکهنا چاہئے جو اندلس ميں قبائلى گروہوں کے ما بين واقع ہوئيں اور مسلمانوں اور انکى تہذيب پر انکے کيا اثرات مرتب ہوئے.

در اصل عالم اسلامى ميں پهيلى ہوئى سياسى انارکى نے اس دور کے اسلامى معاشرہ کوہر پہلو سے تباہى وبربادى کے دہانے پر لاکهڑا کيا، حکمرانواں نے اسلام کے شورائى نظام، عدل ومساوات، عفو درگذر کو بالائے طاق رکھ کر اپنى سياسى بالا دستى کو قائم رکهنے کے لئے ہر طرح کے جبر وظلم کو روا رکہا. نوويں صدى عيسوى کے وسط ميں جب ترکوں کو خلافت عباسيہ پر غلبہ حاصل ہوا تو بے شمار عباسى خلفاء کو قتل کيا گيا، اور ظلم وبربريت کے سارے ريکارڈ کو توڑ ديا گيا، يہاں تک کہ خليفہ کى آنکهوں کو دريائے دجلہ ميں ڈال ديا گيا. اسکے بعد اگيارہويں صدى عيسوى کے وسط ميں بويہين کے جبر کى تاريخ شروع ہوتى ہے جو عہد غلاماں (1250 – 1517) تک چلى جس ميں جسکى لاٹهى اسى کى بھینس کے نظريہ کا بول بالا رہا. سلطان عز الدين ايبک وملکہ شجر الدر اور سلطان قطز وغيرہ جس سياسى حريفانہ کشمکش کا شکار ہوئے وہ تاريخ کا ايک الم انگيز واقعہ ہے . ظلم وجبر کا کوئى ايسا حربہ نہ تها جس کا استعمال سياسى حريفوں کو زير کرنے کے لئے استعمال نہ کيا گيا ہو. جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے تو سياسى امور ميں ان کا کوئى عمل دخل نہيں ہوتا تها بلکہ بہائم کى طرح دو وقت کى روٹى کا انتظام ہى انکا منتہائے عمل تها.

اقتصادى اسباب:

کوئى بهى تجزيہ نگار خواہ وہ کسى بهى مکتب فکر سے تعلق رکهتا ہو تہذيبوں کے عروج ميں اقتصادى اثرات (Economic Impact) کو نظر انداز نہيں کر سکتا، اگيارہويں صدى عيسوى ميں مشرق عربى ميں زراعت ايک نئے طرز کے نظام افزائش سے روشناس ہوئى جسے عرف عام ميں اقطاعى (جاگيردانہ) نظام سے جانا جاتا ہے ، مذکورہ نظام کے تحت حاکم وقت ہر فوجى سربراہ کو تنخواہ کے بجائے کچھ زرعى اراضى بطور عطيہ پيش کرتا جس کے عوض عطا کردہ اراضى سے مستفيد ہونے والا فوجى سربراہ براہ راست حاکم وقت کے زير اثر ہوتا اور اسے کهلى چہوٹ ہوتى کہ وہ ان اراضى کو جس طرح چاہے استعمال ميں لائے، اس سلسلہ ميں حاکم وقت کے علاوہ کوئى اس سے باز پرس نہيں کرسکتا تها، يہ نظام مصر وشام ميں عہد غلاماں ميں مکمل طور پر نافذ ہوا. اس نظام کے تحت کسانوں سے نوع بنوع ظالمانہ قانونى وغير قانونى ٹيکس وصول کيا جاتا، بالآخر جاگير داروں کے مظالم سے تنگ آکر کسان زرعى اراضى کو چهوڑ کر شہروں کى طرف کوچ کرنے لگے جس کے سبب ايک طرف زمينيں بنجر ہوتى گئيں تو دوسرى طرف شہروں ميں اقتصادى واجتماعى مسائل ميں بهى اضافہ ہوتا گيا.

علاوہ ازيں جابرانہ ٹيکسون کا نفاذ، تاجرون کے ساتھ غير منصفانہ سلوک، اسلامى ممالک ميں پائى جانے والى خانہ جنگياں ، سياسى انتشار، امن وامان کى بگڑتى ہوئى صورت حال، راستوں کا محفوظ نہ ہونا، مرکزى شاہراہوں پر بحرى وبرى قزاقوں کا اثر ونفوذ، نظام ترسيل کى ابترى، باہم ديگر پيکار اسلامى ممالک ميں تاجروں کى نقل وحرکت ميں دشوارى جيسے عوامل نے عالم اسلام ميں تجارتى سرگرميوں کو نا قابل تلافى نقصنانات سے دوچار کيا. مزيد برآں شام کے ساحل پر تقريبا دو صديوں تک (1098 – 1291) صليبيوں کے قبضہ نے عرب تاجروں کو بحر متوسط اور اور اس سے متعلقہ بندرگاہوں اور منڈيوں تک رسائى سے محروم کرديا، وہ عرب تاجر جو کبهى مشرق ومغرب کے درميان وسيط (Broker) کا کردار ادا کرتے تهے انکى جگہ اہل يورپ وخاص طور سے اٹلى نے لے لى. اگر ايک طرف صليبيوں اور عربوں کے ما بين پائى جانى والى کشمکش اور صليبيوں کى جانب سے عربوں کے ان تجارتى قافلوں پر حملے نے مصر وشام اور جزيرة العرب ميں تجارتى اشياء کى نقل کو حرکت کو متاثر کيا تو دوسرى جانب پے در پے منگولوں کى اسلامى ممالک پر فوجى چڑهائى نے عربوں کى تجارت کو شديد بحران سے دوچار کيا. منگولوں نے عالم اسلام کے سمر قند وبخارا وبغداد جيسے عظيم تجارتى مراکز کو تباہ وبرباد کرديا. بعد ازاں 1498ء ميں جب پرتگاليوں نے يورپ وہندوستان کے درميان نئے بحرى راستہ کا پتہ لگايا جس کے سبب مسلمانوں نے عالمى تجارتى منڈى ميں اپنا مقام کهوديا، اور اسى کے ساتھ ساتھ بحرہ احمر کى بهى اہميت جاتى رہى جو کبهى مشرق بعيد اور يورپ کے ما بين اہم بحرى گذر گاہ تھی، نتيجتا حکومت غلامان مصر کو شام ميں بہت بڑے اقتصادى وسائل سے ہاتھ دھونا پڑا.

ان سياسى اور جغرافيائى تبدیليوں سے اگر ايک طرف زراعت کا پيشہ متاثر ہوا تو دوسرى طرف صنعت وحرفت اور تجارت بهى گونا گوں مسائل سے دوچار ہوئى، نتيجتا عالم اسلام سے عقول کى ہجرت کا سلسلہ شروع ہوگيا، چنگيز خان نے سيکڑوں ماہرين تجارت وصنعت کو اپنے مقبوضہ اسلامى ممالک سے منگوليا منتقل کرنے ميں کاميابى حاصل کى.

علوم وفنون اور علمى مراکز کى ابترى:

اسلامى تہذيب کے زوال ميں علمى ميدان ميں مسلمانوں کى دگر گوں صورتحال نے نماياں کردار اداکيا، چنانچہ تخليقی سوچ عنقا ہوتى گئى اور اسکى جگہ خرافات اور غيبيات نے لے لى، عہد ايوبى سے عہد عثمانى تک ادب نے گويا ايک بے جان لاشے کى صورت اختيار کرلى، نفس مضمون کے بجائے ظاہرى مشجع ومقفع عبارتوں کى آرائش ہى مثالى ادب تصور کيا جانے لگا، مقريزى اور ابن خلدون کے علاوہ تمام مؤرخين کى توجہ خلفاء وسلاطين کى تاريخ نويسى اور انکے کارنامون کو مبالغہ آرائى کے ساتھ پيش کئےجانے کى حد تک محدود ہوکر رہ گئى.اس فکرى انحطاط کےمنجملہ اسباب ميں سے خلفاء وسلاطين کى علوم وفنون کى سرپرستى ميں عدم دلچسپی کا مظاہرہ ايک اہم سبب ہے ، خلافت عباسيہ کے اولين دور ميں حکومت کے ايوانوں سے علماء ومفکرين کو دل کهول کر داد دى جاتى تهى، علمى اداروں کى ترويج وترقى ميں حکومت بڑھ چڑھ کر حصہ ليتى تهى، مخطوطات کى نشر واشاعت اور ترجمے کے کاموں ميں خلفاء وامراء ذاتى دلچسپی ليتے تهے ، جس کے نتيجہ ميں مسلمانوں نے ہر علمى ميدان ميں اپنى بالا دستى کا لوہا منوايا، ليکن بعد کے عباسى خلفاء کى علوم وفنون کى سرپرستى ميں عدم دلچسبى نے اسلامى تہذيب کو ناقابل تلافى نقصان پہونچايا.

اس حقيقت سے بهى انکار نہيں کيا جاستا کہ عباسى دور کے بعد حکومت کى سرپرستى ميں قائم ہونے والے مدارس ودانش گاہوں کا اصل مقصد حکومت کےمفادات کا تحفظ ہوتا تها، چنانچہ سلجوقى اور ايوبى حکمرانوں نے مصر وشام ميں بڑى تعداد ميں مدارس قائم کئے اس کے باوجود کوئى علمى بيدارى ديکهنے کو نہ ملى، اس کى وجہ يہ تهى کہ حکومت کى سرپرستى ميں چلنے والے ان مدارس کى اصل توجہ حکمرانوں کے سياسى عزام کو فروغ دينے پر مرکوز ہوتى تهى.

بعض تجزيہ نگاروں کا خيال ہے کہ حکمران طبقہ کى اسلام کى اعلى اخلاقى قدروں سے روگردانى بهى اسلامى تہذيب کے زوال کا ايک اہم سبب ہے، چنانچہ مسلم حکمرانوں نے اپنى سياسى بالادستى کو قائم ودائم رکهنے کے لئے مذہب اور سياست کے درميان دورى پيدا کيا،جس کے نتيجہ ميں عالم اسلام سنگین قسم کے اخلاقى انحراف اور اجتماعى امراض کا شکار ہوا اور آج تک کراہ رہا ہے .

بيرونى اسباب:

اگر ہم يہ تسلم بهى کرليں ، جيسا کہ بعض تجزيہ نگاروں کا خيال ہے، کہ بيرونى عوامل کسى تہذيب کے انحطاط کا سبب نہيں بنتے جب تک بذات خود وہ تہذيب نکتب وزال کے دہانے پر نہ کهڑى ہو، پهر بهى ہميں ان بعض بيرونى عوامل پر غور کرنا چاہئے جو اسلامى تہذيب کے انحطاط کا سبب بنے وہ حسب ذيل ہيں :

1)  صيقليہ کا سقوط: يہ تاريخى حقيقت ہے کہ نورمان نے صيقليہ پر حکمرانى کرنے والے عرب امراء کى باہمى رسہ کشى سے بهر پور فائدہ اٹهايا اور بالآخر1091ء ميں مسلم حکمرانوں کى نا اہلى کے سبب مسلمانوں کو صيقليہ جيسے جنوبى يورب ميں واقع اہم وترقى يافتہ مرکز سے ہاتھ دهونا پڑا. يہ امر قابل ذکر ہے کہ صيقليہ کا محل وقوع بحر متوسط ميں بڑى اہميت کا حامل تها.

2)  صليبى جنگيں :اس ميں کوئى شک نہيں کہ 1098ء – 1291ء كے درميان لڑى جانے والى صليبى جنگوں نے مشرق عربى کے اقتصادى وسائل کو تہس نہس کرديا. دو صديوں تک لڑى جانے والى ان جنگوں نے مسلمانوں کى توجہ علوم وفنون کى ترويج واشاعت سے ہٹاکر جنگى ساز وسامان کى تيارى کى طرف مبذول کرديا، جس کے نتيجہ ميں مسلمان ممالک کى اقتصادى صورت حال بد سے بد تر ہوتى گئى، جب کہ يہ حقيقت ہے کوئى بهى رياست علوم وفنون اور اقتصادى ترقى کى راہ پر چلے بغير زيادہ دنوں تک دنيا کے نقشہ پر باقى نہيں رہ سکتى.

3)  منگولوں کے حملے:اسلامى دنيا کو تاريخ  ميں اگر چہ اغيار کے حملوں کے تجربات  بارہا ہوئے ليکن ان ميں سے کوئي تجربہ بھى منگولوں کے حملہ کى مانند شديد اور سخت نہ تھا. دوسو سال پر محيط منگولوں کى حکومت کا دور اسلامى ممالک کى تاريخ ميں ايک انتہائی تکليف دہ دور شمار ہوتا ہے . اس دور ميں منگولوں کى وحشيانہ حرکات کى بناء پر اسلامى تہذيب و تمدن کو ناقابل تلافى نقصانات پہنچے. منگولوں کى وحشيانہ تباہى سے پہنچنے والا ايک ناقابل تلافى نقصان بغداد پر قبضہ کے وقت کتب خانوں کو تباہ کرنا تھا. ابن خلدون کے بقول منگولوں نے اس قدر زيادہ  کتابوں کو دريائے دجلہ ميں پھينکا کہ ان کتابوں سے دريا ميں گويا ايک پل بن گيا. بغداد کى تباہى کے ساتھ اسلامى خلافت کا مرکز اور دنيائے اسلامى کا سياسى اقتدار بھى ختم ہو گيا اور اسلامى مقدس مقامات مثلا مساجد ، مدارس اور علمى مراکز ويران ہو گئے يا يہ کہ علمى تحقيقات اور ترقى سے محروم ہو گئے.

4)  سقوط اندلس: بلاشبہ اسلامى تہذيب و تمدن کے تاريخى سفر ميں سقوط اندلس اور دنيا کے اس خطہ ميں مسلمانوں کى حکومت کا زوال ايک تلخ ترين واقعہ ہے. اندلس کا وہ اسلامى معاشرہ جو آٹھويں صدى سے پندرہويں صدى تک مسلسل علمى، معمارى، ثقافتى اور فنى شاہکار کو وجود ميں لاتا رہا ضعف اور پسماندگى کا شکار ہو کر تاريخ کا حصہ بن گيا اور دنيا کے سياسى نقشہ سے اس اسلامى تمدن کا وجود مٹ گيا.

عالم اسلام کى اندرونى تبديليوں کا تجزيہ کريں تو معلوم ہوگا مادى اور غير مادى وسائل کے حوالے سے مسلمانوں کا زوال صديوں پہلے شروع ہوچکا تھا. نظام خلافت ميں ضعف، منگولوں کے حملے اور ان کے کبھى نہ بھرنے والے زخم مسلمانوں کے زوال کى سرعت کا باعث بنے، اسى زمانے ميں اہل يورپ عالم اسلام سے تجارت اور صليبى جنگوں کے ذريعے پيدا ہونے والے نزديکى تعلقات کى بدولت اپنى ثقافتى اور علمى تحريک و بيدارى کا آغاز کرچکے تھے.

بد قسمتى سے ہمارے  يہاں علوم کے معاملے میں وہ رویہ پیدا ہی نہیں ہوا جو مغرب میں پیدا ہوا۔ اور اس وقت بھی ہمارے يہاں کوئی تنقیدی مزاج نہیں ہے۔ ہم تاریخی معاملات میں ، اپنی شخصیات اور افکار سے متعلق بھی تنقیدی رویہ اپنے اندر پیدا کر ہی نہیں پاتے۔ اس طرح کی چیزوں کو بھی ہم جذبات سے دیکھتے ہیں ۔ اس لیے ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔

ترقی کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ بے رحمانہ تنقید کا ذوق اپنے اندر پیدا کیا جائے یعنی جو چیز بھی آپ کے ہاں موجود ہے، آپ اس کو ادھیڑ کر دکھا سکیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس سے چیزیں اپنی جگہ سے ہل جائیں گی۔ لیکن اس سے چیزیں اپنی جگہ سے ہلیں گی نہیں ، بلکہ وہ اپنی صحیح جگہ پر آ جائیں گی۔ اسی سے اصل میں انسان آگے بڑھتا ہے، ترقی کی راہ یہی ہے۔ ہمارے ہاں یہ چیز کسی علم میں بھی جائز یا روا نہیں رکھی جاتی۔ علمی و فکری زوال کی وجہ تو یہ رویے ہیں ۔ لیکن ہمارے اخلاقی وجود کی حفاظت قرآن کو کرنا تھی۔ جس مقصد کے لیے وہ آیا تھا اس میں بھی ہم پستی میں جا چکے ہیں ۔ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ہم طبعی علوم میں پیچھے چلے گئے ہیں ، بلکہ ہمارے ہاں دیانت، امانت، لوگوں کے حقوق کا تحفظ، ہم سائے کا خیال یہ سب چیزیں بالکل بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ ہماری بنی ہوئی دوا کے بارے میں بھی اعتماد نہیں ہوتا کہ یہ مریض کو دی جا سکتی ھیں یا نہیں ۔ جب یہ صورت حال کسی قوم کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد وہ دنیا میں کیسے باوقارطریقےسےکھڑی ہو سکتی ہے؟

دنیا میں آپ یا علم کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں یا اخلاق کی بنیاد پر۔ علم و اخلاق دونوں میں آپ امتیاز کی جگہ پر چلے جائیں تو دنیا کے اندر آپ کے لیے راستے کھل جاتے ہیں ۔ ان دونوں لحاظ سے ہم پست ہو گئے ، یعنی قرآن مجید کو ہمارے اخلاقی وجود کو جس طریقے سے کنٹرول کرنا تھا، وہ چیز بھی ختم ہو گئی اور علوم میں ترقی کر کے جہاں ہمیں جانا تھا ، اس کو بھی ہم نے قابل توجہ نہیں سمجھا۔

اخير ميں ہم يہ عرض کرنا چاہيں گے کہ قوموں کی ترقی اور عروج میں تعلیمی ادارے ہمیشہ اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں ، انہی اداروں کی آغوش میں مستقبل کے معمار پرورش پاتے ہیں ، انہی اداروں کی فضاؤں میں شاہین صفت بچے پروان چڑھتے ہیں ، اور انہی دانش کدوں میں علم کی دولت اور سیرت کی نعمت حاصل کر کے وہ دنیا کی قیادت کے اہل بنتے ہیں ۔ مگر افسوس صد افسوس وہ ملت اسلامیہ جس نے دنيا کو ماضی میں مدینہ منورہ کی صفہ یونیورسٹی، بغداد کی جامعہ نظامیہ، قاہرہ کی جامعہ الازہر اور قرطبہ و غرناطہ کی عظیم دانش گاہوں سے روشناس کرايا آج  اپنى علمى کم مائگى کا رونا رو رہى ہے. ضروت اس بات کى ہے کہ ہم ایسے معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کى طرف توجہ ديں جو جدید و قدیم علوم کے ساتھ ساتھ سیرت و کردار کی دولت سے بھی طالب علموں کو مالا مال کریں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close