تعلیم و تربیتخصوصی

اسلام میں علم کی اہمیت

ایک متمدن اور صالح معاشرہ کو ہر علم و فن کے حامل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

یوں تو علم کے بغیر کسی بھی دین و مذہب کا تصور نہیں کیا جاسکتا لیکن دین اگر اسلام ہو تو یہ تصور اور بھی مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ وہ مذہب نہیں جو صرف چند عقائد اور رسومات کا مجموعہ ہو اور جس کی بنیاد اساطیر اولین اور دیومالائی قصے ہوں بلکہ یہ وہ نظام زندگی و دستور حیات ہے جس کی بنیاد کتاب الٰہی اور سنت نبویؐ پر قائم ہے اور جو اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ بشمول عقائد و عبادات زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکام اور اسوۂ رسول اکرم ﷺ کا پابند ہو۔ لفظ ’مسلم‘ کا لغوی معنی بھی اطاعت گزار اور فرمانبردار کے ہی ہیں۔ چنانچہ کامل مسلمان کہے جانے کا مستحق صرف وہ شخص ہے جس نے عقائد، عبادات، اخلاق و معاملات، معاشرت، معیشت، سیاست اور نظام عدل و انصاف جیسے شعبوں میں اللہ کے احکام اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں کے سامنے اپنا سر جھکا دیا ہو اور اپنے نفس کی خواہشات اور پسندیدگی و ناپسندیدگی سے دست بردار ہوگیا ہو۔ ظاہر ہے یہ تبھی ممکن ہے جب ایک انسان ان مختلف شعبوں سے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی مکرم ﷺ کے طریقہ کا علم رکھتا ہوبصورت دیگر دین پر عمل پیرا ہونے اور اس پر قائم رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ علم کا نہ ہونا لازمی طور پر اللہ کے احکامات کے ٹوٹنے یا چھوٹنے کا سبب بنتا ہے۔ نیز دین کا صحیح اور جامع تصور بھی علم کے ذریعہ ہی قائم ہوتا ہے۔ علم نہیں ہونے کی وجہ سے ہی بعض لوگ آباء و اجداد سے چلی آرہی چند رسومات کو ہی دین سمجھتے ہیں اور بعض چند عبادات یا دین کی جزئیات کو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان عبادات کی ادائیگی میں تو وہ بڑے مستعد نظر آتے ہیں لیکن ان کی زندگی کا اخلاقی اور معاملاتی پہلو نہایت ہی تاریک اور لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے والا ہوتا ہے۔

علم کی اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے جب اپنے آخری نبیؐ پر اپنی ہدایات کونازل کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کی ابتدا ’’اِقْرَاْ ‘‘سے فرمائی جس کا مطلب ہے ’پڑھو‘، پھر ان پر علم و حکمت کا فیضان کیا جس کا مقصد امت کی تعلیم و تربیت ہی تھا اور اسی لئے ان کا تعارف بھی امت سے بحیثیت معلم کرایا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: (کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُولًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَاوَ یُزَکِّیْکُمْ وَ یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم میں سے بھیجا، وہ تم پر ہماری آیات پڑھتے ہیں اور تمھیں پاک کرتے ہیں اور وہ تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور تمھیں ایسی باتیں سکھاتے ہیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے)۔ (البقرۃ: ۱۵۱)۔ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنا تعارف بحیثیت معلم کرایا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا‘‘ یعنی ’’میں تو صرف معلم بناکر بھیجا گیا ہوں ‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، بروایت عبداللہ بن عمروؓ)۔ آپؐ نے امت کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کو اپنی آخری سانس تک نبھایا اور معلم ہونے کا حق ادا کردیا۔ علم اور دین کے گہرے تعلق کی وجہ سے ہی اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کے لئے یہ حکم جاری فرمایا: (فَسْءَلُوْ ٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ):’’ پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو ‘‘۔ (النحل: ۴۳)۔ اور نبی کریمؐ نے علم دین کی طلب کو فرض قرار دیا ہے، آپؐ نے فرمایا:’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ‘‘ یعنی ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، بروایت انس بن مالکؓ)۔

اس حدیث مبارکہ کی تشریح علماء نے یہی کی ہے کہ اتنا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے جس سے اس کے عقائد درست ہوجائیں اور اللہ اورا س کے رسول ﷺ کے عائد کردہ فرائض کو وہ احسن طریقہ پر ادا کرسکے اور منہیات سے بچ سکے۔ طہارت سے متعلق احکام و مسائل اور عبادات میں سے نماز اور روزہ کے مسائل کو جاننا ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر فرض ہے کیوں کہ یہ عبادتیں عموی طور پر فرض ہیں لیکن زکوٰۃ اور حج سے متعلق مسائل کا جاننا صرف ان افراد پر لازم ہے جن پر مال و دولت کی موجودگی کی وجہ سے یہ عبادتیں فرض ہوگئی ہوں۔ ان کے علاوہ اخلاقیات، معاشرت، معاملات اور اسباب معیشت کے بنیادی احکام و مسائل کو جاننا ہر ایک مسلمان پر فرض ہے کیوں کہ ان سے کسی کو مفر نہیں۔ نیز حصول رزق کے جس شعبہ کو جو اختیار کرے اس کے لئے اس شعبہ سے متعلق مسائل کی تفصیلات کا جاننا ضروری ہے ورنہ وہ حرام اور سود میں مبتلا ہوگا اور اسے خبر بھی نہ ہوگی البتہ دوسرے شعبوں سے متعلق احکام کا جاننا اس کے لئے ضروری نہیں۔ شریعت کے تمام مسائل کا جاننا ہر ایک کے لئے ضروری نہیں بلکہ یہ امت کے اوپر فرض کفایہ ہے یعنی کسی شہر یا بستی میں اگر کچھ افراد بھی جملہ علوم کے عالم ہوں توسب کے ذمہ سے یہ فرض ساقط ہوجائے گا ورنہ سب کے سب گنہگارٹھہریں گے۔

دین کا علم نہیں ہونے کے نقصانات کئی طرح سے سامنے آتے ہیں۔ انسان جب شریعت کے علم سے محروم ہوتا ہے تو اسے کسی نہ کسی کی اندھی تقلید کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہ اندھی تقلید کسی عالم کی بھی ہوسکتی ہے، اپنے آبا و اجداد کی بھی اور بعض مرتبہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا پیٹ پالنے والے فاسق و فاجر کی بھی۔ علم نہیں ہونے کا فائدہ دنیا پرست علماء اور جعلی قسم کے صوفیاخوب اٹھاتے ہیں اوردین کے نام پر بھولی بھالی عوام کا خوب استحصال کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ان کی جیب کے ساتھ ساتھ ایمان و عقائد پر بھی ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ جاننا چاہیے کہ تقلید صرف اس شخص کی معتبر ہے جن کے عقائد و اعمال قرآن و سنت کے میعار پر پورے اترتے ہوں اور جن کے علم اور تقوی کے اہل نظر قائل ہوں اور خود انسان کا دل بھی اس پر مطمئن ہو۔ آباء و اجداد کی محبت اپنی جگہ لیکن ان کے بھی صرف ان ہی اعمال اور وصیتوں کی پیروی کی جائے گی جو قرآن و سنت کے عین مطابق ہوں بصورت دیگر انھیں بھی رد کیا جائے گا کیوں کہ قرآن میں اس بات کی سخت مذمت کی گئی ہے کہ آباء و اجداد کی پیروی ناحق طریقے میں کی جائے۔ ارشاد خداوندی ہے: (وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَیْْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ)۔ (ترجمہ): ’’ اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) اللہ نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ (نہیں ) بلکہ ہم تو اُسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ اُن کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہی سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے؟)۔ ‘‘۔ (البقرۃ: ۱۷۰)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ کسی کے عقائد و اعمال کو قرآن و سنت کے میعار پر پرکھنے کے لئے بھی بنیادی علم کی ضرورت ہے۔

علم کی اہمیت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے بغیراسلامی شریعت کے اندر اللہ اور اس کے رسولؐ نے جو بنیادی سہولیات اور آسانیاں رکھی ہیں ان سے واقف نہیں ہوا جاسکتا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین پر عمل کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین کو بالکل آسان بنایا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد بھی ہے: ’’إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ، وَ لَنْ یُشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہُ‘‘ یعنی ’’ بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آجائے گا‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، بابٌ الدِّیْنَ یُسْرٌ، بروایت ابوہریرہؓ)۔ آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے: ’’إِنَّ اللّٰہ لَمْ یَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَ لَا مُتَعَنِّتًا وَ لٰکِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُیَسِّرًا‘‘ یعنی ’’ بیشک اللہ نے مجھے (لوگوں کو) رنج و مصیبت میں مبتلا کرنے کے لئے نہیں بھیجا بلکہ اس نے مجھے آسانی پیدا کرنے والا معلم بناکر بھیجا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم،کتاب الطلاق، باب بَیَانِ أَنَّ تَخْیِیْرَ امْرَأَتِہِ لَا یَکُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالْنِّیَّۃِ، بروایت جابرؓ)۔

لیکن علم نہ ہونے کی وجہ سے بعض مرتبہ انسان واقعتا سخت مشکلات میں پڑجاتا ہے۔ اس کی ایک نہیں متعدد مثالیں راقم کے سامنے آچکی ہیں۔ صرف ایک پر اکتفا کرتا ہوں۔ میرے ایک رفیق نے حج میں پیش آنے والی مشکلات کا مجھ سے تذکرہ کیا جس میں ا نہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعی کے دوران جب وہ تیسرا یا چوتھا شوط (چکر) پورا کررہے تھے تو ان کا وضو ٹوٹ گیا، چنانچہ انہوں نے وضو کرکے پھر سے سعی کی۔ تو میں نے ان کو بتایا کہ شوط کے اعادہ کی ضرورت ہی نہیں تھی کیوں کہ سعی میں وضو شرط نہیں بلکہ مستحب ہے اور بغیر وضو کے بھی سعی درست ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ بات مجھے معلوم نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ مشقت اٹھانی پڑی۔ جان لیجئے کہ صفا اور مروہ کی دوری لگ بھگ ۴۵۰ ؍میٹر (۱۴۸۰؍فٹ) ہے اور سات چکر لگ بھگ ۱۵ء۳ ؍کلومیٹر (۹۶ء۱؍میل) ہوجاتا۔ اب اندازہ کیجئے کہ ایک معمر شخص کے لئے دونوں کے درمیان چار چکروں کے بعد پھر سے سات چکر لگانا کتنی پریشانی کا باعث ہوا ہوگا۔ اور یہ کیوں ہوا، صرف علم کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ اسی طرح پاکی ناپاکی، تیمم، سفر کے دوران نمازوں میں قصر، جمع بین الصلوٰتین، سنن و نوافل میں اختیارات وغیرہ نہ جانے کتنے مسائل ایسے ہیں جن سے واقف نہ ہونے یا غلط معلومات ہونے کی وجہ سے لوگ مشکلات میں پڑتے ہیں۔

ان کے علاوہ ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ نے جو دعوتی ذمہ داری عائد کی اس کو ادا کرنے کے لئے بھی علم کی ضرورت ہے۔ افسوس یہ ہے ہمیں اس دعوتی ذمہ داری کا احساس ہی نہیں جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو یہ حکم دیا کہ اپنی اتباع کرنے والوں سے کہو کہ ان کا بھی وہی کام ہے جو ان کے نبیؐ کا کام ہے یعنی اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلانا۔ ارشاد ہے: (قُلْ ہٰذِہِ سَبِیْلِیْٓ أَدْعُوْْ إِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ)۔ (ترجمہ): ’’ آپ کہہ دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ، میں (بھی) اور وہ (بھی) جس نے میری مطابعت کی۔ ‘‘۔ (یوسف: ۱۰۸)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے: (اُدْعُ إِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنْ)۔ (ترجمہ): ’’ اپنے رب کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے ‘‘۔ (النحل: ۱۲۵)۔

اس طرح دعوت کی یہ ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے جسے حکمت اور بصیرت کے ساتھ احسن طریقہ پر ادا کرنا ہے جو علم کے بغیر ادا نہیں ہوسکتی۔ خصوصاً ہمارے ملک میں اس کے مواقع بہت ہی زیادہ ہیں کہ ہر شعبہ میں ہمارا واسطہ غیروں سے پڑتا ہے جو اسلام کو ہم سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہماری اکثریت کا یہ حال ہے کہ انہیں نہ ہی دین کا علم ہے اور نہ ہی ان کی زندگی میں اسلامی صفات ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم غیروں کو متاثر کرنے کے بجائے اسلام سے متنفر ہی کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر نقصان یہ ہورہا ہے کہ ہماری نئی نسل غیروں کی تہذیب سے متاثر اور مرعوب ہوتی جارہی ہے اور اسلامی تہذیب سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اب تو ہمارے بچے بچیاں غیروں سے شادیاں بھی رچا رہے ہیں، ان کے اندر کفر و شرک کی پلیدی کا احساس بھی ختم ہوگیا۔ افسوس کہ جس قوم کو داعی بنایا گیا تھا وہ مدعو ہوگئی۔ یہ سب صحیح تعلیم و تربیت کے فقدان کا ہی نتیجہ ہے۔

یہاں تک راقم نے شریعت کے علوم کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور اب باری ہے عصری علوم کی۔ اسلام نے علوم کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی بلکہ صرف اس کے نفع کے پہلو کو ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ رسول پاک ﷺ سے نفع بخش علم کی دعا منقول ہے: ’’اَللّٰہُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ، وَ عَلِّمْنِيْ مَا یَنْفَعُنِيْ، وَذِدْنِيْ عِلْمًا‘‘۔ ( ترجمہ): ’’ اے اللہ ! نفع بخش بنادیجئے میرے لئے اس چیزکو جو آپ نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے (مزید) وہ چیز سکھادیجئے جو کہ نفع دے مجھ کو اور میرے علم میں اضافہ فرمادیجئے ‘‘۔ ( سنن ابن ماجہ، کتابُ الدُّعَاءِ، بابُ دُعَاءِ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ، بروایت ابوہریرہؓ)۔ اور اللہ رب العزت نے ہم سب کو یہ دعا سکھائی ہے: (رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً)۔ ( ترجمہ): ’’ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما ‘‘۔ (البقرۃ: ۲۰۱)۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی صرف اخروی زندگی نہیں بلکہ دنیوی زندگی کی بہتری بھی اللہ کو مقصود ہے۔ اس لئے ہر وہ علم جو عالم انسانیت کے لئے نفع بخش ہو اور جس سے دنیوی زندگی کی بہتری کی امید ہو اس کو حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ پہلے انسان اور ہم سب کے جدامجد آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے اشیاء کا ہی علم دیا گیا جس کا تذکرہ آیت(وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا) میں ہے یعنی: ’’اور سکھادئے اس (اللہ) نے آدم ؑ کو تمام اشیاء کے نام‘‘۔ (البقرۃ: ۳۱)۔ شریعت کا علم تو ان کو بعد میں دیا گیا جب وہ زمین پر اتارے گئے۔ اس آیت کی تفسیر مفسرین نے یہی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو کائنات کی تمام اشیاء کے نام مع ان کے آثار و خواص کے عطافرمائے تھے اور یہی بحیثیت انسان اور بحیثیت خلیفۃ اللہ فرشتوں پر ان کی فضیلت کا باعث ہوا۔ ظاہر ہے اس کا مقصد یہی تھا کہ وہ اورا ن کی اولاد دنیوی زندگی میں ان اشیاء سے حسب علم نفع حاصل کرسکیں۔ اگر غور کیجئے تو سائنس کے جتنے شعبے ہیں مثلاً علم ہیئت (Astronomy)، علم طبیعیات (Physics)، علم الارض (Geology)، علم کیمیا (Chemistry)، علم حیاتیاتی کیمیا (Biochemistry)، علم حیوانات (Zoology)، علم حیوانات پروری (Animal Husbandry)، نحل پروری (Bee Keeping)، علم نباتات (Botany)، زرعی تعلیم(Agriculture Education)، میڈیکل سائنس (Medical Science) کے تمام شعبے وغیرہ اشیاء کے علم سے ہی متعلق ہیں۔ اسی طرح تمام اطلاقی سائنس (Applied Sciences) اور علم صنعت و حرفت (Technology) جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہیں، کے حصول کا جواز بھی ثابت شدہ ہے۔ نوحؑ کو کشتی بنانے اور داؤدؑ کو زرہ بنانے کا علم عطا کیا جانا قرآن میں علی الترتیب سورۃ ہود: ۳۷ اور سورۃ الانبیاء: ۸۰ میں مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالقرنین کا لوہے اور تانبے کے استعمال سے واقف ہونا اور ان کے ذریعہ دیوار بناکر ایک قوم کی یاجوج ماجوج سے حفاظت کرنا سورۃ الکھف: ۹۶ میں مذکور ہے۔ قرآن میں ان باتوں کا ذکر یونہی نہیں کیا گیا بلکہ اس سے نفع بخش صنعت و حرفت کے علم کے حصول کی طرف ایک طرح کی رہنمائی مقصودہے جس کی نوعیت وقت کے ساتھ تبدیل ہوگی۔ اس لئے اپنی اور عالم انسانیت کی زندگی کو بہتر بنانے اور عام انسانوں کو نفع پہنچانے کے ارادے سے ایسے جدید علوم کو حاصل کرنا بھی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اور کار ثواب ہوگا۔

اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ ایک متمدن اور صالح معاشرہ کو ہر علم و فن کے حامل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی سماج میں کوئی ڈاکٹر یا طب کا ماہر نہ ہو تو اس کے افراد کی پریشانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی حکومت کو اپنا نظام چلانے کے لئے ہر سیکٹر میں ماہرین علم و فن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام حکومت کو بھی ان ضرورتوں سے مفر نہیں۔ اگر ایسے افراد ملت کے اندر نہیں ہوں گے تو غیروں پر انحصار کرنا پڑے گا جو بعض اوقات مصلحت کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔ سیرت نبوی ؐ میں بھی اس سلسلہ میں رہنمائی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا قبائل یہود سے خط و کتابت ہوتا تھا اور صحابہ میں سے کوئی بھی ان کی زبان سریانی کے جانکارنہیں تھے جس کی وجہ سے آپؐ کو کسی یہودی کی مدد لینی پڑتی تھی۔ آپؐ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے فرمایا کہ اللہ کی قسم مجھے یہودیوں پر بالکل اعتماد نہیں کہ وہ میرے لئے صحیح لکھتے ہیں اس لئے وہ سریانی زبان سیکھ لیں۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابتؓ نے پندرہ دنوں کے اندر وہ زبان سیکھ لی اور ان کے سیکھنے کے بعد یہودیوں کی طرف سے کوئی خط آتا تو رسول اللہ ﷺ کو وہ ہی پڑھ کر سناتے اور آپؐ کے حسب ارشاد اس کا جواب بھی لکھتے۔ ( جامع ترمذی، أَبْوَابُ الْاِسْتِءْذَانِ وَ الْآدَابِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، بابُ مَاجَاءَ فِي تَعْلِیْمِ السُّرْیَانِیَّۃِ، بروایت زید بن ثابتؓ)۔ سیرت نبوی ؐ کے اس واقعہ سے یہ اخذ کرنا دشوار نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر زبان کے ماہرین کا ہونا انتظامی اور دعوتی دونوں نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ اسی طرح دیگر علوم و فنون کے متعلق بھی قیاس کرلیجئے۔ قرآن پاک میں اس بات کا بھی واضح اشارہ موجود ہے کہ بادشاہت، امارت اور حکمرانی کے اہل، اہل علم ہی ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے سورۃ البقرہ کی آیت ۲۴۷ میں طالوت کو بنی اسرائیل پر بادشاہ مقرر کئے جانے کی جو علت بیان کی گئی ہے اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔ گو اکابر علماء نے یہاں علم سے شریعت کا علم مراد لیا ہے لیکن احقر کی رائے میں اگر اس کے ساتھ ساتھ حکمر انی اور سیاست کاعلم بھی مراد لیا جائے تو اس کی گنجائش یہاں موجود ہے کیوں کہ حکمرانی کے لئے دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام، جغرافیائی حالات اور انتظام عامہ کا بھی ماہر ہو نا لابدی ہے۔

ایک اور بات جس کا انکار ممکن نہیں کہ علم ہی آج کے دور کی قوت ہے۔ علم انسان کو ذہنی غلامی اور دوسروں پر انحصار سے آزاد کردیتا ہے اور اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ علم اگر نہیں ہو تو انسان کو روزمرہ کی بہت سی ضروریات پورا کرنے کے لئے دوسروں پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ ایک جمہوری ملک میں اپنے حقوق و فرائض سے آگہی بھی علم کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ ان پڑھ اور غیر تعلیم یافتہ لوگ کمزور تصور کئے جاتے ہیں، سماج میں ان کا کوئی مقام نہیں ہوتا اور وہ قوی اور شاطر لوگوں کے ہاتھوں مختلف قسم کے استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لئے بھی ضروری ہے کہ انسان علم حاصل کرے اور سماج میں خود کو عزت دار اور قوی بنائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوی مومن بنسبت کمزور مومن کے زیادہ پسندیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَیْرٌ وَ أَحَبُّ إِلیَ اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ، وَ فِي کُلٍّ خَیْرٌ، احْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ، وَ لَا تَعْجَزْ‘‘۔ (ترجمہ): ’’قوی مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک (مومن ) میں خیر ہے۔ جس چیز سے تمھیں (حقیقی) نفع پہنچے، اس میں حرص ( محنت و کوشش) کرو اور اللہ سے مدد طلب کرو اور عاجزی و سستی نہ کرو ‘‘۔ (صحیح مسلم، کتابُ الْقَدَرِ، باب فِي الْأَمْرِ بِالْقُوَّۃِ وَ تَرَکِ الْعَجْزِ وَالْاِسْتِعَانَۃِ بِاللّٰہِ وَتَفْوِیْضِ الْمَقَادِیْرِ لِلّٰہِ، بروایت ابوہریرہؓ)۔

اس حدیث سے جہاں ایمانی اور جسمانی قوت کا پسندیدہ ہونا مراد لیا جاتا ہے وہاں علمی قوت و صلاحیت کا مراد لیا جانا بھی اس دور کے تناظر میں عقل سے بعید نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس حدیث سے اس فکر کی بھی تائید ہوگئی کہ جس چیز سے حقیقی نفع پہنچنے کی امید ہو اس کو حاصل کرنے کی محنت و سعی کرنا ایک مستحسن عمل ہے اور نبوی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اس لئے وہ تمام جدید علوم جو کسی بھی دور کی طاقت بن سکتے ہیں اور مسلم معاشرے کو بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں، ان کو حاصل کرنے میں مسلم نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے خواہ وہ علوم غیروں سے حاصل کرنے پڑیں جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کا استعمال مسلم بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے لئے کیا۔ بس ایک شرط ہے کہ ان تمام علوم کے حصول کا مقصد دنیا طلبی اور نام و نمود نہ ہو بلکہ انسانیت کی نفع رسانی اور اللہ کی رضا مقصود ہو۔ یہ بھی نیت رکھے کہ ان علوم کی وجہ سے جس شعبہ میں جائے گا اور جہاں کہیں بھی رسائی ممکن ہوگی وہاں عملی طور پر اللہ کے دین سے لوگوں کو متعارف بھی کرائے گا۔ ایسا کرنے سے اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی اور ان علوم کو حاصل کرنے کی تمام تر سعی، مشقت اور اخراجات اللہ کے راہ میں شمار ہوں گے اور ان کا بدلہ آخرت میں نیکی کی شکل میں ملے گا اور دنیوی فوائد بھی ہاتھ سے نہیں جائیں گے۔ وہ اس حدیث میں دی گئی بشارت کا مستحق گردانا جائے جس کے الفاظ ہیں : ’’مَنْ جَاءَہُ الْمَوْتُ وَ ہُوَ یَطْلُبُ الْعِلْمَ لِیُحْیِيَ بِہِ الْاِسْلَامَ فَبَیْنَہٗ وَ بَیْنَ النَّبِیِّیْنَ دَرَجَۃٌ وَاحِدَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ‘‘ یعنی ’’جس شخص کی موت ایسی حالت میں آئے کہ وہ علم اس لئے حاصل کررہا تھا کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو زندہ کرے تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق رہے گا‘‘۔ (سنن الدارمی، کتاب العلم، باب فِي فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعَالِمِ، بروایت حسن بصریؒ )۔ اس کے برعکس ان علوم سے اگر صرف دنیا طلبی مقصود رہی تو نہ صرف یہ کہ اللہ کی مدد اٹھ جائے گی بلکہ ان تمام نیکیوں سے جو متوقع ہیں محروم ہوجائے گا۔

یہ ہے اسلام میں علم کی اہمیت و افادیت کی مختصر سی جھلک۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے علم کے تصور کو جامعیت بخشے اور نئی نسل کو محض اپنے رب کی رضا کی خاطر تمام نفع بخش علم کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے کا جذبہ عطا کرے۔ آمین!

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Close