خصوصیمذہبی مضامین

اسلام میں مزدوروں کے حقوق

محنت و مزدوری کی فضیلت اور عظمت کو اس حقیقت کی روشنی میں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انبیاء کرام علیم السلام نے بھی محنت و مزدوری کی ہے اور مختلف پیشوں کو اختیار کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مذہب اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ اس نے جہاں عالم انسانیت کو اس کے خالق حقیقی سے متعارف کرایا، اس کے حقوق بتائے اور اس سے تعلق استوار رکھنے کے طریقے بتائے وہیں ایک صالح، پرامن اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لئے اسے آپس کے حقوق و فرائض کی بھی تعلیم دی۔ ان ہی حقوق،جنھیں حقوق العباد سے موسوم کیا جاتا ہے کے زمرے میں مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق بھی آتے ہیں ۔ اسلام نے سماج کے معاشی طور پرکمزور اس طبقہ کے حقوق کو اس وقت تسلیم کیا جب دنیا میں ان کے حقوق کے لئے لڑنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ جدید دنیا کو یہ تصور یورپ کے صنعتی انقلاب (Industrial Revolution 1760-1830) کے بعد ہی ملا کیونکہ اس کے نتیجہ میں ہی انیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں عالمی سطح پر مزدوروں کی تحریکیں (Labour Movements) چلیں اور ٹریڈ یونینوں (Trade Unions ) کا قیام عمل میں آیا جبکہ اسلام نے دنیا والوں کو یہ تصور ساتویں صدی عیسوی کے اوائل (610 – 632 AD) میں ہی دیا کیونکہ یہی نزول قرآن کا زمانہ ہے۔ لیکن یہ اہل مغرب کی بددیانتی ہے کہ انہوں نے اسلام کے اس قرض کو تسلیم (Acknowledge)کئے بغیر دنیا والوں کو یہ تأثر دیا کہ یہ ان ہی کی دین ہے۔ راقم نے آئندہ سطور میں مزدوروں کے ان حقوق کو ہی منظرعام پر لانے کی کوشش کی ہے جو اسلام نے انھیں عطا کئے ہیں اور جن کا ذکر قرآن و حدیث میں صراحتاً یا اشارۃً موجود ہے۔ آئیے دیکھیں کہ وہ حقوق کیا ہیں؟

۱. محنت و مزدوری کی آبرومندی (According dignity to labour):

محنت و مزدوری کرنے کو سماج میں عموماً گھٹیا عمل تصور کیا جاتا ہے اور محنت کشوں کو عزت کا مقام نہیں دیا جاتا، عزت صرف سفید پوش پیشہ وروں (White Collor Workers) کو ہی دی جاتی ہے۔ اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نہ صرف حلال روزی کمانے کو فرض قرار دیا بلکہ اپنے ہاتھ کے محنت کی روزی کو سب سے بہتر قرار دے کر مزدوروں اور محنت کشوں کو عزت کا مقام عطا کیا۔ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’طَلَبُ کَسَبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ‘‘ یعنی ’’حلال روزی کمانا فرض کے بعد ایک فرض ہے ‘‘۔ ( شعب الایمان للبیہقیؒ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۲۰۰۰ء ؁، حدیث نمبر ۸۷۴۱، بروایت عبداللہ بن مسعودؓ)۔ اور فرمایا: ’’مَا أَکَلَ اَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَیْرًا مِنْ أَنْ یَّاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ‘‘ یعنی ’’کسی انسان نے اس شخص سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا، جو اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے کھاتا ہے ‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع،بابُ کَسْبِ الرَّجُلِ وَ عَمَلِہِ بِیَدِہِ، بروایت مقدام بن معدی کربؓ)۔ نیز یہ بھی فرمایا : ’’خَیْرُ الْکَسْبِ کَسْبُ یَدِ الْعَامِلِ إِذَا نَصَحَ‘‘یعنی ’’بہترین کمائی مزدور (کاریگر) کے ہاتھوں کی کمائی ہے جب کہ وہ خیرخواہی کے جذبہ سے کام کرے‘‘۔ (مسند احمد، دارالحدیث، قاہرہ،۱۹۹۵ء ؁، حدیث نمبر۸۳۹۳، بروایت ابوہریرہؓ)۔ آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے: ’’لَأَنْ یَأْخُذَ أَحَدُکُمْ أَحْبُلًا، فَیَأْخُذَ حُزْمَۃً مِنْ حَطَبِ، فَیَبِیْعَ، فَیَکُفَّ اللّٰہُ بِہِ وَجْھَہُ، خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَّسْأَلَ النَّاسَ، أُعْطِيَ أَمْ مُنِعَ‘‘ یعنی ’’ تم میں سے کوئی شخص اگر رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھ لائے، پھر اسے فروخت کرے، (اور) اس کے باعث اللہ اس کی خودداری کو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے (پھر) اسے دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ (صحیح بخاری، کتاب المساقاۃ، باب بَیْعِ الحَطَبِ وَالکَلَِأ، بروایت زبیر بن عوامؓ)۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’لَأَنْ یَّحْتَطِبَ أَحَدُکُمْ حُزْمَۃً عَلیٰ ظَھْرِہِ، خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَّسْأَلَ أَحَدًا فَیُعْطِیَہُ أَوْ یَمْنَعَہُ‘‘ یعنی ’’اگر کوئی شخص لکڑیوں کا گٹھ اپنی پیٹھ پر (بیچنے کے لئے) لیے پھرے (اور اس کی کمائی سے گزر بسر کرے ) تویہ بہتر ہے اس سے کہ کسی سے سوال کرے کہ وہ اسے دے یا نہ دے‘‘۔ (حوالہ بالا، بروایت ابوہریرہؓ)۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا : ’’إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ‘‘ یعنی ’’بیشک اللہ تعالیٰ پیشہ ور (محنت و مزدوری کرنے والے) مسلمان کو محبوب رکھتا ہے‘‘ (معجم الأوسط للطبرانی، دارالحرمین، قاہرہ، ۱۹۹۵ء ؁، حدیث نمبر ۸۹۳۴، بروایت عبداللہ بن عمرؓ) اور فرمایا: ’’مَنْ أَمْسَی کالًّا مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ أَمْسَی مَغْفُوْرًا لَہُ‘‘یعنی ’’جس نے ایسی حالت میں شام کیا کہ ( دن بھر) اپنے ہاتھ کی محنت کے باعث تھک گیا ہو، ( توگویا) اس نے شام بخشی ہوئی حالت میں کیا‘‘۔ (معجم الأوسط للطبرانی، دارالحرمین، قاہرہ، ۱۹۹۵ء ؁، حدیث نمبر ۷۵۲۰، بروایت ابن عباسؓ)۔مطلب یہ ہے کہ دن بھر کا تھکا ہوا مزدورشام ہوتے ہی اپنے گناہوں سے بخشش پاجاتا ہے۔

محنت و مزدوری کی فضیلت اور عظمت کو اس حقیقت کی روشنی میں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انبیاء کرام علیم السلام نے بھی محنت و مزدوری کی ہے اور مختلف پیشوں کو اختیار کیا ہے۔ تمام انبیاء کا بکریاں چَرانا، خود رسول پاکؐ کااجرت پر بکریاں چرانا، موسٰیؑ کا مزدوری کرنا، داؤدؑ کاذرہ بنانا یعنی پیشۂ آہن گری سے منسلک ہونا، زکریاؑ کا نجار ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ محنت و مزدوری کرنا کوئی عار کی بات نہیں اور نہ ہی کوئی پیشہ حقیر ہے۔ جب اللہ کے ان برگزیدہ بندوں نے اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے اپنی روزی حاصل کی ہے تو اور کسی کی کیا حقیقت ہے کہ مزدوری کرنے کو ننگ و عار سمجھے۔

۲. انسانی سلوک پانے کا حق(Right to get human treatment):

آجر (Employer) اور اجیر (Labourer) کے مابین جو تعلق ہے اس کو سمجھنے میں قرآن کریم کی یہ آیت بہترین رہنمائی کرتی ہے: (اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ ط نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضَاً سُخْرِیًّا ط وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرُٗ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ ہ) (ترجمہ):’’کیا یہ آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں ؟ ہم نے ہی دنیوی زندگی میں ان کی روزی تقسیم کررکھی ہے اور ہم نے ہی ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے اور آپ کے رب کی رحمت بدرجہا اس سے بہتر ہے جس کو یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں ‘‘۔(الزّخرف:۳۲)۔ اس آیت میں دو اہم نکات ہیں ؛ اول یہ کہ دنیا میں روزی کی تقسیم اور اس میں ایک کو دوسرے پر رفعت دینا اللہ ہی کا کام ہے یعنی کسی کا غریب یا امیر ہونا، آجر یا اجیر ہونا، حاکم یا محکوم ہونا اللہ ہی کی طرف سے ہے، اس میں کسی کی ذاتی کاوشوں اور کمالات کا کوئی دخل نہیں پھر نہ آجر کو اپنے اوپر فخر و غرور کا حق حاصل ہے اور نہ مزدور کو احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت۔ دوئم یہ کہ قرآن نے روزی کی اس تقسیم کی حکمت یہ بیان کی کہ ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا محض عالم کے نظام کو چلانے کے لئے ہے تاکہ ایک دوسرے کے کام آسکے کیونکہ اگر سارے لو گ معاشی طور پر ایک ہی سطح پر آجائیں جیسا کہ اشتراکی ذہن رکھنے والوں کا تصور ہے تو پھر کوئی کسی کا کام کیوں کرے گا؟ چنانچہ مشاہدہ ہے کہ امراء اپنی بہت سی ضروریات کی تکمیل کے لئے غرباء پر انحصار کرتے ہیں اور غرباء کی بہت سی ضرورتیں امراء سے وابستہ ہیں ۔ اسی طرح آجر کا انحصار مزدوروں پر ہے اور مزدوروں کا آجر پر۔ کل کارخانے اورفیکٹریاں کروڑوں کا سرمایہ ہوتے ہوئے بھی مزدوروں کے بغیر ایک کباڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ۔ مزدور اور کارکن کی حیثیت کسی بھی ادارہ، فیکٹری یا کارخانے کے لئے ایسے ہی ہے جیسے بدن کے لئے روح کی ہوتی ہے۔ اس طرح آجر اور مزدور کے درمیان رشتہ کی بنیاد فطری اور انسانی ہے اس لئے نہ ہی آجر کے لئے مزدوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا ہے اور نہ ہی مزدوروں کو آجر کے استحصال کی اجازت۔ رسول پاکؐ نے بھی اپنے مملوک کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَيِّءُ الْمَلَکَۃِ‘‘ یعنی ’’اپنے مملوک(باندی وغلام) کے ساتھ برائی وبدسلوکی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔ (ترمذی، ابواب البر و الصلۃ، باب مَا جَاءَ فِی الْاِحْسَانِ اِلَی الْخَادِمِ، بروایت ابوبکرؓ )۔ اور فرمایا: ’’حُسْنُ الْمَلَکَۃِ یُمْنٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ‘‘ یعنی ’’اپنے مملوک کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک خیر و برکت (کا باعث) ہے اور اپنے مملوک کے ساتھ بدسلوکی نحوست (بے برکتی کاباعث) ہے‘‘۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الأَدَب، فِي حَقِّ الْمَمْلُوکِ، بروایت رافع بن مکیثؓ)۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب مملوک (غلام و باندی) کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے تو ایک آزاد مزدور حسن سلوک کابدرجہ اولیٰ حقدار ہوگا۔

۳. کسب کے اختیار کی آزادی :(Freedom to choose occupation)

اسلام نے انسانوں کو عام آزادی دی ہے کہ وہ جو چاہے کسب اختیار کریں صرف اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ کسب جائز ہو اور اخلاقی اعتبار سے گرا ہوا نہ ہو۔ اللہ کا ارشاد ہے:(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّ�آ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًاہ ) (ترجمہ): ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ مگر یہ کہ تمھاری باہمی رضامندی سے کوئی خرید و فروخت ہو اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، یقیناًاللہ تم پر نہایت مہربان ہے‘‘۔ (النسآء:۲۹)۔ اس آیت میں لفظ ’باطل‘ کااستعمال کر کے اللہ نے حصول رزق کے تمام ناجائز اسباب کو ممنوع قرار دے دیااور ان کے اختیار کرنے کو انسانی معاشرے کا قتل بتایاہے۔ رسول پاکؐ کا بھی ارشاد ہے: ’’أَیُّھَا النَّاسُ! اتَّقُوا اللّٰہَ وَأَجْمِلُوْافِی الطَّلَبِ فَاِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتیّٰ تَسْتَوْفِیَ رِزْقَھَا وَ اِنْ اَبْطَأَ عَنْھَا، فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ خُذُوْا مَا حَلَّ وَ دَعُوْا مَاحَرُمَ‘‘ یعنی ’’اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں راہ اعتدال اختیار کرو اس لئے کہ کسی شخص کو موت نہیں آتی جب تک کہ وہ اپنا پورا رزق حاصل نہ کرلے اگرچہ وہ اس کو کچھ تاخیر سے ملے، تو اللہ سے ڈرو اور احسن طریقہ سے روزی طلب کرو، جو حلال ہے اس کو لے لو اور حرام کو چھوڑدو ‘‘۔(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، بابُ الِاقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِیْشَۃِ، بروایت جابرؓ بن عبداللہ )۔ ابن حبانؒ نے اسی مضمون کی روایت جابرؓ بن عبداللہ سے دوسرے طرق سے الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل کی ہے جس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لَا تَسْتَبْطِءُوا الرِّزْقَ، فَاِنَّہٗ لَنْ یَّمُوْتَ الْعَبْدُ حَتیّٰ یَبْلُغَہُ آخِرُ رِزْقٍ ھُوَ لَہٗ، فَأَجْمِلُوْا فِي الطَّلَبِ: أَخَذِ الْحَلَالِ، وَ تَرَکِ الْحَرَامِ‘‘ (ترجمہ): ’’رزق کی طرف جلدبازی نہ کیا کرو کیوں کہ بندہ اس وقت تک نہیں مرتاجب تک اس کے نصیب کا آخری رزق اس تک نہیں پہنچ جاتا اور اس کی طلب میں اعتدال (خودداری اور شریعت کے حق) کا خیال رکھوکہ حلال کو حاصل کیا کرو اور حرام کو چھوڑ دیا کرو‘‘۔ (صحیح ابن حبان، کتاب الزَّکوٰۃ، باب ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنِ اسْتِبْطَاءِ الْمَرْءِ رِزْقَہُ مَعَ تَرْکِ الاِجْمَالِ فِي طَلَبِہِ)۔

قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک اور اہم اصول دیا ہے: (وَتَعَاوَنُْوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَاتَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ہ) (ترجمہ): ’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی اعانت کرو اور ظلم وزیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت نہ کرو‘‘۔(المآئدہ:۲)۔ یعنی اگر کسی شخص کی مزدوری نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں بلاواسطہ یابالواسطہ مددگار ہو تو ایسی مزدوری مستحسن ہے اور اگر کسی شخص کی مزدوری سے بلاواسطہ یابالواسطہ گناہ کے کاموں میں اعانت ہورہی ہو تو ایسی مزدوری ناجائز اور اللہ کی پکڑ کا موجب ہے۔ مثلاًشراب کی فیکٹری میں مزدوری کرناایک حرام شے کے فروغ میں مدد کرنا ہے، فلموں اورسنیما ہالوں میں کام کرنابے حیائی کی اشاعت میں مدد گاربننے کے مترادف ہے اور اسی طرح نقلی دواؤں اور منشیات کی فیکٹریوں میں کام کرنا ظلم و زیادتی کے فروغ میں مدد گار بننے کے مترادف ہے۔ اسی اصول پرمزدوری کی مختلف شکلوں کے بارے میں قیاس کیا جاسکتا ہے۔

۴. منتقلی کی آزادی(Freedom of mobility):

اسلام نے مزدوروں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں چاہیں جائیں اور اپنی روزی تلاش کریں ، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انھیں کسی خاص خطہ میں محصور کرکے رکھے یا کسی خطہ سے نکل جانے پر مجبور کرے الّا یہ کہ کسی دوسری معقول وجہ سے ایساکرنا جائز ہو۔ اللہ کا ارشاد ہے:(ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَمْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَ کُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ط وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُھ) (ترجمہ):’’وہ (اللہ) ایسا (منعم)ہے کہ جس نے تمھارے لئے زمین کو مسخر کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلو پھرو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ (پیو) اور کھا پی کر اس کو بھی یاد رکھنا کہ اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے‘‘۔ (الملک:۱۵)۔ اور دوسری جگہ فرمایا: (فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ فَنْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوااللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ) ( ترجمہ): ’’پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو ‘‘۔ (الجمعۃ:۱۰)۔ ان آیات میں روزی کی تلاش میں زمین میں پھیل جانے کا عام حکم موجود ہے لہٰذا اصولی طور ہر محنت کش کو یہ حق حاصل ہو گیا۔

۵. کام سے پہلے مزدوری جان لینے کا حق(Right to know wages before work):

آجر کے لئے اسلامی اصول یہ ہے کہ وہ کام کی نوعیت بتاکرمزدور سے اس کی مزدوری پہلے طے کرلے پھر کام پر لگائے۔ اس میں آجر اور اجیرکے مابین بعدمیں پیدا ہونے والے تنازعات سے حفاظت ہے۔ قرآن کریم میں اس کا اشارہ ان آیات میں ملتا ہے جس میں موسیٰؑ اور شعیبؑ کے درمیان خدمت کے معاملات کے طے ہونے کا ذکر ہے۔ آیات یہ ہیں :(قَالَتْ اِحْدٰ ھُمَا یٰٓاَبَتِاسْتَاْجِرْہُ ز اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ھ قَالَ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ھٰتَیْنِ عَلیٰٓ اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَٰمٰنِیَ حِجَجٍ ج فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ ج وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ ط سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ھ قَالَ ذَالِکَ بَیَنِیْ وَ بَیْنَکَ ط اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ ط وَاللّٰہُ عَلیٰ مَا نَقُوْلُ وَکِیْلُٗ ھ) (ترجمہ): ’’ان دونوں (لڑکیوں ) میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں (موسیٰؑ کو)مزدوری پر رکھ لیجیے کیونکہ جنھیں آپ مزدوری پر رکھیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو۔ اس بزرگ نے کہا میں اپنی دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کردیں ۔ ہاں اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہوگا، میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں ، ان شاء اللہ آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ موسیٰؑ نے کہا، خیر تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہوگئی، میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے پورا کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو، ہم یہ جو کچھ کررہے ہیں اس پر اللہ (گواہ اور ) کارساز ہے‘‘۔ ان آیات کے اندر موسیٰؑ کی مزدوری کا جو ذکر ہے اس کو اکثر علماء نے مہر سے تعبیر کیا ہے لیکن ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ کا یہ فرمانا: ’’إِنَّ مُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامُ آجَرَ نَفْسَہُ ثَمَانِیَ سِنِیْنَ اَوْ عَشْرًا عَلیٰ عِفَّۃِ فَرْجِہِ وَ طَعَامِ بَطْنِہِ‘‘ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے اپنی شرمگاہ بچانے اور پیٹ بھرنے کے لئے اپنے آپ کو آٹھ سال یا دس سال مزدوری میں دے رکھا تھا (سنن ابن ماجہ، کتابُ الرُّھُوْن، بابُ اِجَارَۃِ الأَجِیْرِ عَلٰی طَعَمِ بَطْنِہِ، بروایت عتبہ بن منذرؓ، ۲۴۴۴) ا ور لفظ’آجَرَ‘ کا استعمال کرنا یہ بتاتا ہے کہ یہ بہرحال مزدوری تھی اور اس کے معاملات پہلے طے کرلئے گئے تھے اور یہی اس امت کے آجروں کے لئے رہنما اصولوں میں سے ہے۔

پھر رسول پاکﷺ سے اس سلسلہ میں صراحت کے ساتھ اقوال بھی منقول ہیں ۔ مثلًا روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’ إذا استأجر أحدکم أجیرا فلیعلمہ لہ أجرہ‘‘ یعنی ’’تم میں سے جب کوئی کسی کو اجرت اور مزدوری پر رکھنا چاہے تو اسے اس کی مزدوری بتادے‘‘۔ (کنز العمال فی سنن الاقوال و افعال، بیت الافکا الدولیۃ، اردن، ۲۰۰۵ء ؁، حدیث نمبر ۹۱۲۴، قط فی الافراد عن ابن مسعودؓ)۔ ایک روایت ابوسعید الخدریؓ سے اس طرح ہے : ’’أن النبي ﷺ نھی عن استئجار الأجیر حتٰی یبین لہ أجرہ‘‘ یعنی ’’ نبی کریم ﷺ نے مزدور کو کام پر لگانے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی مزدوری واضح نہ ہوجائے (یعنی اس کا تعین نہ ہو جائے)‘‘۔ (مسند احمد، دارالحدیث، قاہرہ،۱۹۹۵ء ؁، حدیث نمبر ۱۱۵۰۳)۔

اس نکتہ کی تائید آثار صحابہ و تابعین سے بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی مزدور سے مزدوری کرانا چاہے تو چاہیے کہ اسے اس کی مزدوری صاف بتادے۔ اسی طرح حضرت حسنؒ بصری سے روایت ہے کہ وہ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مزدور سے اس کی مزدوری معلوم کئے بغیر کام کرائیں ۔ (سنن نسائی،کتابُ الْمُزَارَعَۃِ، الثَّالِثُ مِنَ الشُّروْطِ فِیْہِ الْمُزَارَعَۃُ وَالْوَثَاءِقُ)۔

۶. کام کے مطابق مزدوری پانے کا حق (Right to get wages proportionate to labour):

اللہ پاک کا ارشاد ہے :(وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ھ) (ترجمہ): ’’اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی‘‘۔ (النجم:۳۹)۔ یہ آیت گرچہ آخرت میں نیکیوں کی جزا کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے لیکن دنیاوی محنت ومزدوری کے سلسلہ میں بھی یہ ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتی ہے یعنی مزدور کو مزدوری اس کے کام اور محنت کے مطابق ہی دی جائے۔ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :(اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّواالْاَمَٰنٰتِ اِلیٰٓ اَھْلِھَا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا ھ) (ترجمہ): ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کرو، یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمھیں اللہ کررہا ہے، بے شک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے ‘‘۔ (النسآء:۵۸)۔ یہ آیت بھی مالک اور مزدور دونوں کے لئے راہ نما ہے وہ اس طرح کہ مالک کا دیا ہوا کام مزدور کے لئے امانت ہے اور یہ اس کی ذ مہ داری ہے کہ سپرد کئے ہوئے کام کو پوری توجہ، مستعدی اور ایمانداری کے ساتھ پورا کرے اورمزدور کی محنت و مزدوری مالک کے لئے امانت ہے کہ وہ مزدور کی مزدوری بقدر کفالت، اس کی محنت، زمانہ کے حالات اور ماحول کے اعتبار سے عدل کرتے ہوئے طے کرے اور اگرکام ہوجانے کے بعد بھی آجر کو یہ محسوس ہو کہ اس کام کی مزدوری زیادہ ہونی چاہیے تھی یا مزدور ہی اس کا احساس دلائے تو آجر کو چاہیے کہ اس کا لحاظ کرتے ہوئے اسے مزدوری دے۔

اس سلسلہ میں ایک اور امر کی جانب اشارہ کردینا ضروری ہے کہ مزدوری دینے میں جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ کی جائے۔ اگر ایک عورت اور ایک مرد کے کام کی نوعیت اور مقدار برابر ہو تو دونوں کو برابر مزدوری دی جائے۔ اللہ پاک نے بھی نیکیوں کی جزا میں دونوں جنس کو برابر رکھا ہے۔ ہاں اگر کام کی نوعیت اور مقدار میں فرق ہوتو آجر کو اختیار ہوگا کہ وہ کام کے مطابق عورتوں کی مزدوری طے کرے۔

۷. وسعت سے زیادہ کام نہ لئے جانے کا حق(Right against work beyond capacity):

مزدور سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہیے۔ قرآن میں ہے:(لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ط) ( ترجمہ): ’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘۔ (البقرۃ:۲۸۶)۔ اس آیت میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ جب اللہ نے اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ احکام کا مکلف نہیں بنایا تو اللہ کے بندوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا بوجھ نہ دیں اورمملوک کے سلسلہ میں تورسول پاک ﷺ کا حکم صراحت سے مذکور ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لَا تُکَلِّفُوھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ، فَاِنْ کَلَّفْتُمُوھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ فَأَعِیْنُوھُمْ‘‘ یعنی ’’اس سے کوئی ایسا کا م نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہواور اگر ایسا کوئی کام اس سے لیا جائے جو اس کی طاقت سے باہر ہو تو اس کام میں خود بھی اس کی مدد کرے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتابُ الْعِتْق، باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ ’’الْعَبِیْدُ إِخْوَانُکُمْ فَأَطْعِمُوْھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ‘‘، بروایت ابوذر غفاریؓ)۔ لہٰذا آزاد مزدوروں کے سلسلہ میں اس حکم کااطلاق بدرجہ اولیٰ کیا جانا چاہیے۔

۸. رات میں کام لینا غیر فطری عمل ہے(Night duty is unnatural):

اللہ کا ارشاد ہے: (أَلَمْ یَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا اللَّیْْلَ لِیَسْکُنُوا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِراً، إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ) (ترجمہ): ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایا کہ وہ اس میں آرام حاصل کریں اوردن کو روشن بنایا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے یقیناًبہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں ‘‘۔ (النمل: ۸۶)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے: (وَجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا) (ترجمہ): ’’اور ہم نے دن کو معاش کا وقت بنایا‘‘۔(عَمَّ: ۱۱)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: (وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُْوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن) (ترجمہ): ’’ اسی نے تمھارے لئے اپنی رحمت سے دن رات مقرر کردئے تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی روزی تلاش کرو، یہ اس لئے ہے تاکہ تم شکر ادا کرو‘‘۔ (القصص:۷۳)۔ ان آیات میں واضح اشارہ موجود ہے کہ رات کو اللہ نے آرام کے لئے بنایا ہے اور دن کو روزی کی تلاش کے لئے، لہٰذا راتوں میں مزدوروں کو جگا کر رکھنااور ان سے کام لینایقیناًایک غیر فطری عمل ہوگا۔ آج کی مہذب دنیا میں نائٹ ڈیوٹی معاشی نظام کا ایک ایسا حصّہ بن چکی ہے کہ اس کے خلاف سوچنا بھی اب محال ہوگیا ہے حالانکہ اس کے نقصانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں لیکن مادّی ترقی کی ہوڑ نے انسان کی عقلوں پرایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ اسے یہ سمجھنے کی اب صلاحیت ہی نہیں رہی۔

۹. بلا تاخیر مزدوری پانے کا حق :(Right to get wages without delay)

اس سلسلہ میں رسول پاکؐ کاحکم صراحت سے مذکور ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’أَعْطُوْا الْأَجِیْرَ أَجْرَہُ، قَبْلَ أَنْ یَجِفَّ عَرَقُہُ‘‘ یعنی ’’مزدور کو اس کی مزددوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتابُ الرُّھُوْن، بابُ أَجْرِ الأُجَرَاءِ، بروایت عبداللہ بن عمرؓ)۔ یعنی جب مزدور اپنا کام پورا کرچکے تو اس کی مزدوری اسے فوراً دیدی جائے، اس میں ٹال مٹول اور تاخیر نہ کی جائے۔

۱۰. ہر حال میں مزدوری پانے کا حق :(Right to get wages in every condition)

مزدور نے اگر اپنا کام پورا کردیا ہو تو اسے ہر حال میں اپنی مزدوری پانے کا حق حاصل ہے گو کساد بازاری (Depression) یا کسی وقتی حالات کی بنا پرآجر نتیجہ کے اعتبارسے نقصان میں ہو۔ مزدور کی مزدوری نہ دینا یا کم دینا سراسر ظلم ہے۔ اللہ کا فرمان ہے :(وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَ ھُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ھ وَاتَّقُوا الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَ ھ) (ترجمہ): ’’لوگوں کو ان (کے حق) کی چیزیں کمی سے نہ دو اور بے باکی سے زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ اس اللہ کا خوف رکھوجس نے خود تمھیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا‘‘۔ (الشعرآء:۱۸۳۔۱۸۴)۔ رسول پاکؐ کاارشاد ہے: ’’قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؛ رَجُلٌ أَعْطیٰ بِيْ ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجَلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَکَلَ ثَمَنَہُ، وَرَجَلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِیْرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَ لَمْ یُعْطِہِ اَجْرَہُ‘‘ یعنی ’’ اللہ پاک فرماتا ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں جھگڑونگا، ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام اور میری قسم کے ذریعہ کوئی عہد لیااور پھر اس کو توڑ ڈالا، دوسرا وہ شخص جس نے ایک آزاد شخص کو فروخت کردیا اور اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر لگایا اور اس سے کام لیا لیکن اس کو اس کی مزدوری نہیں دی‘‘۔( صحیح بخاری، کتاب الاِجارۃ، بابُ إِثْمِ مَنْ مَنَعَ أَجْرَ الأَجِیْرِ، بروایت ابو ہریرہؓ)۔

یہ ہے اسلام میں مزدوروں کے حقوق کا اجمالی خاکہ۔ اگر آپ مزدوروں کے حقوق کے عالمی منشور کا مطا لعہ کریں تو پائیں گے کہ اس کی بنیاد ان ہی حقوق کے اوپر ہے جو اسلام نے مزدوروں کو عطا فرمائے ہیں۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Close