خصوصیسائنس و ٹکنالوجیشخصیات

اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (قسط 3)

ہم محض کسی واقعے کے امکان کو بتا سکتے ہیں، اس کے لازمی ظہور کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

پروفیسر محمد رفعت

کوانٹم نظریہ

 بیسویں صدی آئی تومزیدنئے چیلنج ساتھ لائی۔ آپ چاہے ذرّات کا ذکر کریں یا لہروں کا، مگر اب تک کی سائنس کے مطابق دونوں مظاہر فطرت میں ایک مشترک خصوصیت موجود تھی، جس کو لیپ لاس نے بڑی اہمیت دی تھی کہ اصلاً بس قوانینِ فطرت ہیں، جن کی بدولت دنیا میں تبدیلیاں خود بہ خودہوتی جاتی ہیں۔ اگر کسی صاحبِ ارادہ ہستی (مثلا خداوند قدوس) کا تدبیر کائنات میں کوئی رول یا کردار ہے تو محض تخلیق کی ابتدا کرنے کاہے۔ لیکن بیسویں صدی آئی توسائنس ’کوانٹم نظریہ‘ سے آشنا ہوئی۔ اس نظریے نے ایک نیا سوال پیدا کر دیا کہ کیا حقیقت (خارجی دنیا میں فی الواقع) موجود ہے اور ہم محض اس کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا ہمارے مشاہدات سابقہ صورت حال کو بدل سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں رد عمل دو طرح کا ہو سکتا ہے: ایک موقف یہ ہے کہ کائنات تو جیسی کچھ ہے، خارج میں موجود ہے، ہم انسان محض اس کا مشاہدہ کرنے والے ہیں۔ صورت حال ہمارے مشاہدے سے بدلتی نہیں ہے، جب تک ہم مشاہدات کے دائرے میں انسانی دنیا کو شامل نہ کریں۔ بظاہر یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔

 بہر حال مشاہدے اور مشاہد کی دوئی کا یہ دعویٰ ان لوگوں کا نہیں تھا جو انسانی دنیا کی تشریح کر رہے تھے، بلکہ یہ دعویٰ ان محققین کا تھا جو (بظاہر) بے جان دنیا کے مظاہر کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ ان کا ادّعا یہ تھا کہ اس بے جان دنیا میں حقیقت ہمارے مشاہدے سے بے نیاز ہے۔ وہ ہمارے دیکھنے سے نہیں بدلتی۔ مگر کوانٹم نظریے نے اس مقبولِ عام خیال کو رد کر دیا۔ جیسے جیسے کوانٹم نظریہ ترقی کرتا گیا، یہ بات زیادہ نمایاں ہوتی چلی گئی کہ ہمارے مشاہدات واقعات کو بدل سکتے ہیں۔ ہمیشہ یہ ممکن نہیں کہ زیر مشاہدہ چیز اور دیکھنے والے کے درمیان ہم ایسی لکیر کھینچ سکیں جو دونوں میں واضح امتیازکر دے۔غالب نے کوانٹم نظریہ کے ظہورسے پون صدی قبل فلسفۂ وحدت الوجود کے زیر اثر یہ بات کہی تھی؎

اصل شہود وشاہد و مشہود ایک ہے

حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ابتدائی سوال کے جواب میں یہ دوسرا موقف ہے جو کوانٹم نظریہ نے تجویز کیا۔ یہ حقیقت تسلیم کی گئی کہ جب انسان سائنس کے اس شعبے کا (مشاہدے کے ذریعے) مطالعہ کرتے ہیں جو ایٹموں اور ذرّات کی دنیا سے متعلق ہے (جو براہ راست آنکھوں سے نظر نہیں آتی، مگر جس کابالواسطہ مشاہدہ ممکن ہے۔) تو وہاں انسانی مشاہدے سے واقعات بدل سکتے ہیں۔ یہ سائنس کے تصورات میں ایک انقلابی تبدیلی ہے، جس نے مشینی تصور کائنات کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔

کائنات میں ذرّات کی موجودگی کو نیوٹن نے بڑی اہمیت دی تھی۔ دوسرے مفکرین نے نیوٹن کے نظام تصوارت میں لہروں کی تشریح کی گنجائش نکالی۔تاہم انیسویں صدی کے اختتام تک یہ سب شارحین یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم قوانین فطرت کو جانتے ہوں تو تفصیلی پیشین گوئی کر سکتے ہیں اوربتا سکتے ہیں کہ کائنات میں مستقبل میں کیا ہوگا؟ اور اگر اپنی پیشین گوئی کے استدلال کو ماضی کی طرف لے جائیں تو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں کیا ہوا ہوگا؟ لیکن اب کوانٹم نظریہ اس طرز کی پیشین گوئی کی اجازت نہیں دیتا۔اس نظریے کو درست سمجھا جائے تو ہم یہ تو نہیں بتا سکتے کہ مستقبل کیا ہوگا؟ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی خاص مظہر فطرت کے تناظرمیں (بطور مثال) دس مختلف طرح کے امکانات ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے، وہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر ایک نتیجے کا کتنا فی صد امکان ہے، اس کا حساب ریاضی کی مددلگا سکتے ہیں، مگر یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں امکان ہی ظہور پزیر ہوگا۔ مثال کے طور پربہت سارے ایٹم ایسے ہیں جو قدرتی طور پر ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ایٹم کا ایک مرکزی حصہ ہوتا ہے، جسے نیوکلیس کہتے ہیں۔ اس میں سے ذرّات نکلتے رہتے ہیں۔ یور ینیم (Uranium) اس کی مثال ہے۔خود بخود ان ذرات کا نیوکلس سے نکلنا ریڈیو ایکٹیوٹی (تاب کاری)کہلاتا ہے۔ اس کا استعمال بجلی بنانے میں کیا جا سکتا ہے۔اس کے تخریبی استعمال کے امکانات بھی ہیں۔

تاب کاری کی مثال

یورینیم یا اسی طرح کے بعض دوسرے عناصر کے نیوکلیس سے ذرات نکلتے رہتے ہیں، چنانچہ یورینیم بدل کر بتدریج  ایک دوسرا عنصر بن جاتا ہے۔ آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس سو گرام یورینیم آج موجود ہے تو اتنے عرصے بعد سو میں سے اسّی گرام باقی بچے گا۔ باقی بدل کر کچھ اور بن چکا ہوگا۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ بیس گرام  ابتدائی مادہ ایک دوسرا عنصر بن گیا، لیکن سو گرام میں کون سا حصہ کچھ اور بنا یہ ہم نہیں بتا سکتے۔

انسانی دنیا میں اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے کہ ایک گاؤں میں انسانوں کی آبادی ایک ہزار ہے۔ سابق مشاہدات کی بنا پر ہمارا اندازہ یہ ہے کہ اگلے پانچ سال میں اس گاؤں میں دس لوگوں کا انتقال ہو جائے گا، مگر وہ کون سے دس ہوں گے؟ یہ ہم نہیں بتا سکتے۔ یہاں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانتے نہیں، اللہ کی مشیت کسی فرد کی موت کا وقت طے کرتی ہے اور یہ مشیت ہمارے علم میں نہیں۔

اب تاب کار مادے کو لیجیے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم مادی دنیا کے قوانینِ فطرت کو جانتے ہیں، لیکن اس علم کے باوجود یہ نہیں بتا سکتے کہ اس یورینیم مادے کے کس حصے میں تبدیلی واقع ہوگی اور کون سا جُز (یورینیم کے طور پر) باقی رہ جائے گا؟ یہ پیشین گوئی کا نقص ہے۔ Prediction (پیشین گوئی) کی صلاحیت، جو کامل سمجھی گئی تھی، وہ حقیقتاً ناقص ثابت ہوئی۔

یہ ایک ہی طرز فکر کی دو تعبیریں ہیں۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا مشاہدہ حقائق کو متاثر کرتا ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پیشین گوئی مطلق نہیں، یقینی نہیں، Certainاور Absolute نہیں ہو سکتی، بلکہ محض امکانی نوعیت رکھتی ہے۔ ہم محض کسی واقعے کے امکان کو بتا سکتے ہیں، اس کے لازمی ظہور کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ سائنسی تصورات میں یہ ایک انقلابی تبدیلی ہے، جو بیسویں صدی کی دنیا میں سامنے آئی۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close