خصوصیصحت

اس زہرِ ہلاہل سے سماج کو بچائیے!

بعض فقہاء کرام نے تو تمباکو نوشی کو حرام اور بعض نے مکروہ تحریمی کہاہے۔

رفیع الدین حنیف قاسمی

(۳۱؍مئی یوم انسداد تمباکوشی نوشی کے عالمی دن کے حوالے سے)

 آج اس وقت ۳۱؍مئی کو تمباکوشی امتناع کا عالمی دن منایا جاتا ہے،۷؍ نومبر ۲۰۱۴ء کو یہ نہایت خوش آئند خبر دیکھنے کو ملی تھی کہ کرناٹک حکومت جس نے اس سے قبل سالِ گذشتہ تمباکوشی پر جزوی امتناع عائد کیا تھا،، یہ نہایت خوش آئند اقدامات سامنے میں آرہے ہیں ابھی کچھ روز قبل منشیات کی لعنت سے نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے خاطر کیرل حکومت نے شراب پر امتناع عائد کیااور بہار کے چیف منسٹر نے بھی شراب کو مضر صحت اور قابلِ امتناع قرار دیا اور تلنگانہ کے چیف منسٹر نے بھی شراب کے نقصاندہ اثرات سے ریاست کو پاک کرنے کی بات کہی، اگر ملک میں اصلاحات کو لانا ہے تو صرف اپنا ذاتی مالی مفاد ملحوظ نہ رکھائے ؛بلکہ منشیات کی بلا سے نوجوان نسل کو محفوظ رکھ کر ان کی توانائیوں اور قوت کو ٹھوس او رتعمیری امور پر لگانے کی کوشش جائے تو نہ صرف سماج اور معاشرے سے یہ منشیات کا یہ ناسور ختم ہوجائے گا، جو نہ صرف شرعی اعتبار سے قابل امتناع ہے بلکہ جانی، مالی اور سماجی اعتبار سے یہ زہر ہلال لوگوں کی تباہی وبربادی کا باعث بن رہاہے، نہ صرف اس میں انسان کے مال کو خطرہ ہے ؛بلکہ جان کو بھی خطرہ ہے اور منشیات کے عادی افراد معاشرے کے لئے مختلف مہلک امراض سے دوچار ہوکر معاشرے اور سماج کے لئے ناسور بن جاتے ہیں ؛ بلکہ ملک کے لئے بھی یہ بوجھ ثابت ہوتے ہیں ؛اس لئے منشیات کی اس بلا پر روک لگانے کی سخت ضرورت ہے، حکومت کرناٹک نے تمباکو کے تعلق سے جو سروے کیا ہے جس کی بنیاد پر اس پر مکمل امتناع کی بات کہی جارہی ہے، محکمہ صحت کے اعلی عہدہ داروں نے بتایا کہ انسانی صحت کے لئے گٹکھاانتہائی مضر ہے، اس کی وجہ سے ریاستی سطح پر سینکڑوں لوگ منہ کے کینسر کے شکار ہورہے اور محکمہ صحت نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتلایا کہ سگریٹ نوشی کی بہ نسبت گٹکھا اور پان مسالے زیادہ نقصان دہ ہیں اور حلق کے کینسر کی اہم وجہ تمباکو اور اس سے تیار کی جانے والی اشیاء ہیں۔

اگر واقعی حکومتیں اس تعلق سے سنجیدہ ہیں اور وہ عوام کے مفاد کو ملحوظ رکھنا چاہتی ہیں تو بجائے اپنے خزانے پر نظر کئے عوام کی صحت کو پیش نظر رکھا جائے، جان صحیح تو جہاں صحیح کے مصداق ملک کی عوام کو صحت مند رکھاجاسکتا ہے۔

اگر ان نقصانات کے پیش نظر تمباکو نوشی پر مکمل امتناع عائد کیا جاتا ہے تو یہ نہایت خوش آئند اقدام ہوگا،اگر ملکی سطح پر اور عالمی سطح پر تمباکو نوشی پر امتناع عائد کیا جاتا ہے تو قابل تحسین قدم ہوگا، اس تمباکوشی پر امتناع کی اس مہم کو خصوصا ملکی سطح پر عام کرنے کی ضرورت ہے؛ تاکہ نوجوان نسل اس مضر صحت اور نقصاندہ مادہ سے دور رہ کر اپنے مستقبل کی تعمیر اور ملک کی ترقی میں جٹ جائے، تمبا کوشی نوشی کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ۳۱؍ مئی کو’’عالمی یوم انسداد تمباکو‘‘ وطن عزیز میں ہی نہیں ؛ بلکہ پوری دنیا میں بھی منایا جاتا ہے، اس تعلق سے اس دن مختلف جلسے جلوسوں، تحریکوں، پروگراموں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی شکل میں اس کے مضر صحت ہونے کو خوب زور وشور سے بتایا جاتا ہے ؛ لیکن سیاسی سطح پر اس کے امتناع کے تعلق عزم وحوصلے کی ضرورت ہے ؛ کیوں کہ منشیات کی آمدنی سے حکومت کوایک خاطر خواہ شکل میں آمدنی حاصل ہوتی ہے، اگر وقتی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر ملک کی عوام اور ملک کے مستقبل کو پیش نظر رکھ کر تمباکو پر امتناع کے تعلق سے عزم وحوصلہ کیا جائے تو ملک اس حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہوجائے گا، اب اس وقت معاشرے میں تمباکو کا استعمال روز افزوں ہے،تمام تر بیداری مہم کے باوجود تمباکو وسگریٹ نوشی کے تئیں کشش بڑھتی جارہی ہے، بالخصوص نوجوانوں میں 1990ء میں جہاں 5000بلین سگریٹس کی پیداوار ہورہی تھی، وہاں 2009تک بڑھ کر یہ 5900 بلین ہوگئی، در اصل پوری دنیا میں سگریٹ وتمباکو کے استعمال سے مرنے والوں کی جملہ تعداد شراب، ایڈس، حادثات، قتل وخود کشی سے مرنے والوں سے زیادہ ہے، 2010 ء میں چار بڑی تمباکو کمپنیوں نے تقریبا 27 ارب ڈالر کا منافع کمایا، اس لئے صرف محض، سگریٹ، گٹکھا اور تمباکو سے بنی چیزوں پر یہ لکھ دینا کہ ’’تمباکونوشی کا انجام کینسر ہوتا ہے‘‘ کانفی نہیں، بلکہ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ترک کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور سیاسی سطح پر اس کی پیداوار پر امتناع عائد کرنے کی کوشش کی جائے، ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں 52؍کروڑ کیلو گرام تمباکو پیدا کیاجاتا ہے، اس میں نصف مقدار برآمد کی جاتی ہے اور باقی ہندوستان میں مختلف صورتوں میں استعمال ہوتی ہے، 15؍ لاکھ انسان تمباکو اگاتے ہیں، 10؍ لاکھ تمباکو فارم ہیں، جس میں 50؍ لاکھ افراد کام کرتے ہیں، چین اور امریکہ کے کے بعد تمباکو کی سب سے زیادہ کاشت ہمارے ملک ہندوستان میں ہوتی ہے، حکومت کو تمباکو کے ٹیکس سے سالانہ ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر ملتے ہیں، ہندوستان میں ہرسال آٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جب کہ ہندوستان میں تیس کروڑ لوگ تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔

ان اعداد وشمار کی روشنی میں تمباکو کے نقصانات اور اس کے مضر پہلوؤں سے معاشرے سماج اور ملک کو بچانے کی ضرورت ہے، ملکی خزانے پر نظر کر کے عوام کو موت کے منہ کے حوالے کرنا یہ دانشمندانہ اقدام نہیں ؛ یہ عوام کااستحصال ہے اور ملک کی عوام کو خفیہ طریقہ موت کی کھائی میں ڈھکیلناہے، اس کے علاوہ تمباکو نوشی کو کسی مذہب میں اچھا باور نہیں کیاگیا، دنیا کے تمام مذہبی پیشوا تمباکونوشی کومضر صحت بتاتے ہیں، اور اپنے متبعین کو اس کے استعمال سے منع کرتے ہیں، ہندو مذہبی کتابوں میں بھی اسکی ممانعت کی گئی ہے، سکھوں کے دسویں گرو بن سنگھ نے تو اپنے متبعین کو تمباکو کے استعمال سے سخت منع کیا ہے، جس سکھ برادری کا عمل ہے۔ اور اسلامی نقطہ نظر بھی اس حوالے سے یہ ہے کہ اسلام نے حلال اور پاک وطیب چیزوں کے استعمال کی اجازت دی ہے، جو خبیث چیزیں ہیں وہ حرام ہیں، اس کے علاوہ تمباکو کے استعمال کو شریف اور مہذب معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتاہے، یہ اسکے علاوہ مہلک بیماریوں کی وجہ بنتا ہے جس میں کینسر سرفہرست ہے، اور باعث ہلاکت چیزوں کے استعمال سے شریعت نے منع کیا ہے، اس کے علاوہ یہ تمباکو کا استعمال انسان کے لئے کسی طرح مفید نہیں، نہ اس سے بھوک مٹتی ہے نہ پیاس، نہ دل ودماغ کو تقویت ملتی ہے، بلکہ یہ خود ہزارہا بیماریوں کی وجہ بنتا ہے، اس کے علاوہ انسان کی خون پسینہ سے کمائی ہوئی دولت کو بے فائدہ صرف کرنا جو اسراف کے قبیل ہے، اسراف اور فضول خرچی کو اسلام سمیت کسی بھی مذہب میں اچھا باور نہیں کیاگیا؛ بلکہ اسلام نے تو فضول خرچی کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے، اس کے علاوہ سگریٹ نوشی جہاں خود استعمال کرنے والے کے لئے نقصان دہ ہے وہیں اس کا دھواں دوسروں کے لئے باعث مضرت ہے اور فضائی آلودگی کا باعث ہے، اس لئے بعض فقہاء کرام نے تو تمباکو نوشی کو حرام اور بعض نے مکروہ تحریمی کہاہے۔

بہرحال کرناٹک حکومت اگر تمباکو نوشی پر امتناع کے لئے اقدام کرتی ہے تو یہ نہایت خوش آئند اقدام اور لائق تقلید کارنامہ ہوگا جس کو نہ صرف ملکی سطح پر عالمی سطح پر عام کرنے کی ضرورت ہوگی اور سماج ومعاشرے کو اس کے نقصانات سے بچانے کے لئے ممد ومعاون ہوگا، ویسے بھی اوپر کے اعداد وشمار کے نتیجے میں اس کا مضر صحت ہونا بخوبی سمجھ میں آگیا، مذہبی تعلیمات بھی اس حوالہ سے نہایت دوٹوک اور واضح راستے کی نشاندہی کرتے ہیں، اگر عزم وحوصلہ کے انسداد تمباکو نوشی کی مہم کو حکومت اور سیاسی سطح پر آگے بڑھایا جائے تو یہ ملک کا اپنی رعایا اور پرجا کے حق میں احسان عظیم ہوگااور اس کی وجہ سے ملک کی ترقی اور عروج کی راہی کھلیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close