افلاس محبت یا اخلاقی بحران!

محمد اسعد فلاحی

 انسانی تعلقات کی بنیاد جذبات پر قائم ہے۔ محبت ،نفرت ،حسد،رشک،تعصب اور رواداری ،یہی چیزیں انسانی تعلقات کی راہ کے تعین کا سبب بنتی ہیں ۔نیکی اور بدی کے درمیان بھی یہی حد فاصل ہیں ۔کسی عزیز یا دوست کے متعلق رائے قائم کرتے وقت اگر ہم اس کے حسنِ سلوک سے متأثر ہوتے ہیں تو اس کی تعریف کرتے ہیں ۔ اس کے بر عکس اس کی بد سلوکی کا تجربہ ہو تو اسے برا سمجھتے ہیں ۔

  کسی بھی اچھائی یا برائی کا تعین کرنے کے لیے باہمی سلوک سے زیادہ انسان کا اپنا نظریہ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔نیک انسان کو ساری انسانی برادری نیک دکھائی دیتی ہے اور جس انسان کے دل میں برائی ہو ،اسے دوسرے لوگوں میں بھی برائی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔یہ دیکھنے والے انسان کی آنکھ ہوتی ہے جو اسے دوسرے فریق میں بھی تصویر کا وہی عکس دکھاتی ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔

اسی طرح جب ہم کسی عزیز یا دوست سے ناراض ہوتے ہیں تو اس میں برائیاں ڈھونڈنے لگتے ہیں اور اگر اس سے خوش ہوتے ہیں تو صرف اس کی نیکیوں پر ہی نظر جاتی ہے اور اس کی برائیاں بالکل نظر انداز کردیتے ہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ ہماری آنکھوں پرس جس رنگ کا شیشہ چڑھا ہوگا ہمیں اسی رنگ کی دنیا نظرآئے گی۔ اگر ہم تعصب کی عینک اتار دیں تو ہماری بیش تر غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

 آج ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر خاندانوں میں معمولی باتوں پر آپس میں جھگڑا طول پکڑ لیتا ہے اور برسوں چلتا رہتا ہے۔یہ رشتے ہمیں بغیر محنت کے ملتے ہیں شاید اسی لیے ہم ان کی ناقدری کرتے ہیں ۔ان رشتوں کی مثال حقیقت میں ہرے بھرے پودے کے مانند ہوتی ہے ،جس کو سینچنے کے لیے بڑی محنت ،وقت اور قربانی درکار ہوتی ہے۔اور اس کی نگہ داشت اور آبیاری خاندان کے ہر فرد کا فرض ہے۔

حقیقت میں ہماری ذات سے وابستہ ہر رشتہ اور ہر تعلق اس وقت تک مضبوط و مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک اس میں ’محبت کا امرت ‘ اچھی طرح رچ بس نہیں جاتا۔مگر افسوس کہ آج محبت کے فقدان نے خاندانوں ،رشتے داروں ،معاشرتی تعلقات حتی کہ ازدواجی تعلقات میں بھی دوریاں پیدا کر دی ہیں ۔اب ،جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے  دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے بجائے عداوت اور ہم دردی  کے بہ جائے بدلہ لینے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ نتیجتاہمیں ہر رشتہ ،ناتا ،ربط و تعلق نا پائیدار،کمزور ومشکوک دکھائی دیتا ہے۔اب ہمارے رویوں ، باتوں اور چال چلن میں خلوص اور محبت باقی نہیں رہی اور اس کی کمی نے خونی رشتوں اور عزیزوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے حائل کر دیے ہیں اور ان کے درمیان چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں ،رنجشوں اور شکایتوں کو عام کر دیا ہے۔دل کی بد گمانی ،لہجے کا طنز ،حاسدانہ رویہ اور محبت کی عدم موجودگی نے خاندانوں کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔

 بسا وقات لوگ جذبات میں آکر اپنی عقل سے سوچنے کے بجائے دوسروں کی باتوں میں آکر بلا تحقیق اپنے عزیزوں کو اپنے سے دور کر دیتے ہیں ۔غلط فہمیوں کی کثرت نے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔افرا تفری کے اس دور میں کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ کسی کے بارے میں مخلص ہو کر سوچے اور کسی کے لیے اپنے دل میں سچے جذبات رکھے ۔لوگوں کے دلوں میں مصلحت چھپی ہوتی ہیں ۔اور اچھائی کے حقیقی معنی ناپید ہوچکے ہیں ۔ان کی مصلحت پسندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اچھے اخلاق اور خلوص کا اظہار بھی اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کے بدلے انہیں بھی کچھ حاصل ہو جائے۔محبت ،خلوص،سچے جذبات اور نیک اخلاق جیسے معتبر الفاظ بھی اب حقیقی معنی کھو چکے ہیں اور ان کے پیچھے اپنی کسی نہ کسی مصلحت کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے جو کبھی نہ کبھی دوسروں کے سامنے عیاں ہو جاتے ہیں ۔

حاصل کلام یہ کہ محبت اور خلوص کے رشتے بہت نازک ہوتے ہیں ذرا سی بے توجہی سے ٹوٹ جاتے ہیں ۔اور اگر یہ ٹوٹ جائیں تو انسان اندر سے پوری طرح ٹوٹ جاتا ہے اور بکھر کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ان رشتوں کومضبوط کر نے کے لیے انسان کو اپنا دل صاف رکھنا چاہیے۔کیوں کہ اگر دل میں ایک بار کینہ یا بغض آجائے تو دل کی صفائی میں برسوں لگ جاتے ہیں اور بسا اوقات دل کبھی صاف نہیں ہوتا۔



⋆ محمد اسعد فلاحی

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ملت اسلامیہ کو ایسے کسی ’برج کورس‘ کی ضرورت نہیں!

برج کورس کے قائم کرنے کا مقصد یہ بتایاگیا تھا کہ ’’ فارغین مدارس کو علوم عصریہ سے اس حد تک واقفیت کرادی جائے کہ وہ یونی ورسٹیوں کے کسی بھی شعبے میں بہ آسانی داخلہ لے سکیں ‘‘۔(ص۸)  لیکن کتاب کا مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے  اس شعبے کے ذریعے طلبہ کو مدارس، اہل مدارس اور ملت اسلامیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور برج کورس کے قیام کے مقصد کے حصول کی تدابیر اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔