اقامت دین ہندوستان میں: معنویت اور تقاضے!

ڈاکٹر محمد رفعت

ہندوستان کے احوال میں اقامت دین کی معنویت کی تفہیم سے قبل ، اقامت دین سے متعلق اصولی مباحث کی یاد دہانی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ اس اصطلاح کا ماخذ یہ آیات ہیں :

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِن شَیْْئٍ فَحُکْمُہُ اِلَی اللّٰہِ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْْہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیْْہِ اُنِیْبُ۔ فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَعَلَ لَکُم مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجاً وَ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجاً یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ لَیْْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْْئٌ وَ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ۔ لَـہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یَقْدِرُ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْمٌ۔ شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحاً وَّ الَّذِیْ اَوْحَیْْنَآ اِلَیْْکَ وَ مَا وَصَّیْْنَا بِہٖ اِبْرَاہِیْمَ وَ مُوْسٰی وَعِیْسیٰ اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ اِلَیْْہِ اَللّٰہُ یَجْتَبِیْ اِلَیْْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَہْدِیْ اِلَیْْہِ مَنْ یُّنِیْبُ(الشوریٰ:10-13)

’’تمہارے درمیان جس معاملے میں بھی اختلاف ہو، اُس کافیصلہ کرنااللہ کا کام ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ۔ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، اور اسی طرح جانوروں میں بھی (انہی کے ہم جنس) جوڑے بنائے، اور اِس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اُس کے مشابہ نہیں ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں ۔ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا دیتا ہے، اُسے ہر چیز کا علم ہے۔ اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدﷺ ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں ، اِس تاکید کے ساتھ کہ ’’قائم کرو اِس دین کو اور اِس میں متفرق نہ ہوجاؤ‘‘۔یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کرلیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے، جو اُس کی طرف رجوع کرے۔‘‘

اِن آیات میں بہت سے اہم حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے:

(الف)     دین قائم کرنے کی ہدایت صرف محمدﷺ کو نہیں دی گئی بلکہ آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام کو بھی دی گئی تھی۔ اُن میں نمایاں ترین انبیاء حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہیں ۔

(ب)    انسانوں کے درمیان جس معاملے میں بھی اختلاف ہو اُس کا فیصلہ کرنااللہ کاکام ہے۔ چناں چہ اُس کانازل کردہ دین جن ہدایات پر مشتمل ہے اُن کا تعلق حیاتِ انسانی کے محض کسی ایک پہلو سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ اس لیے کہ انسانوں کے درمیان اختلافات زندگی کے کسی ایک پہلو تک محدود نہیں ہیں ، بلکہ ہر معاملے میں ہوتے رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔

(ج)    دین کو قائم کرنے کی ہدایت مشرکین کو ناگوار گزرتی ہے۔ یہ ناگواری اس بنا پر ہے کہ مشرکین اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنے آباء واجداد کی غلط روایات کی پیروی کرنا چاہتے ہیں ۔

(د)    دین کو قائم کرنے کی اس ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق انہی انسانوں کو ملتی ہے جو صدق دل سے طالبِ ہدایت ہوں اور اللہ کی طرف رجوع کریں ۔

اقامتِ دین کا مفہوم

قرآنِ مجید کا یہ ارشاد کہ ’’تمہارے درمیان جس معاملے میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔‘‘ اس امر میں کوئی شبہ نہیں چھوڑتا کہ دین کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ چناں چہ دین کو قائم کرنے کے بدیہی معنی یہ ہیں کہ پوری زندگی کو اور اس کی تمام سرگرمیوں کو ہدایتِ الٰہی کے مطابق منظم کیا جائے۔ دستورِ جماعت اسلامی ہند میں ’اقامتِ دین‘ کی اصطلاح کی یہی تشریح بیان کی گئی ہے۔ دستورِ جماعت کے الفاظ یہ ہیں:

اقامتِ دین میں لفظ دین سے مراد وہ دینِ حق ہے جسے اللہ رب العالمین اپنے تمام انبیاء کے ذریعے مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں بھیجتا رہا ہے اور جسے آخری اور مکمل صورت میں تمام انسانوں کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے ذریعے نازل فرمایا، اور جو اَب دنیا میں ایک ہی مستند، محفوظ اور عنداللہ مقبول دین ہے اور جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔

یہ دین انسان کے ظاہر و باطن اور اُس کی زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق سے لے کر معیشت، معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے، جو اس دائرے سے خارج ہو۔یہ دین جس طرح رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا ضامن ہے اسی طرح دنیوی مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظامِ زندگی بھی ہے، اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی صالح اور ترقی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔ اس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یکسو ہوکر کی جائے۔ اور انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا اِرتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو۔(دستورِ جماعت اسلامی ہند، دفعہ:4)

مندرجہ بالا جامع تشریح، کارِ اقامتِ دین کے متنّوع تقاضوں کو واضح کرتی ہے۔ ان تقاضوں میں نمایاں ترین تقاضے فرد کے ارتقاء، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سے متعلق ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی ہدایت پر انسانی زندگی کے ہر گوشے میں اُسی وقت مکمل طور پر عمل کیا جاسکتا ہے جب ایک ایسی ریاست وجود میں آجائے جو احکامِ الٰہی کی مخلصانہ پیروی اور اُن کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہو۔ چناں چہ اسلامی ریاست کا قیام اقامتِ دین کے نصب العین کا لازمی جز ہے۔

اسلامی ریاست کے قیام سے قبل

ہندوستان میں اسلامی ریاست موجود نہیں ہے۔ ’اسلامی ریاست موجود نہ ہوتو مسلمان کیاکریں ۔‘ اس سلسلے میں سورہ الشوریٰ میں رہنمائی ملتی ہے۔ سورہ شوریٰ مکّی سورت ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں کہ اس کا زمانہ نزول سورہ حٰم سجدہ سے متصل معلوم ہوتا ہے اور سورہ حٰم سجدہ کے نزول کا زمانہ حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بعد اور حضرت عمر کے ایمان لانے سے پہلے ہے۔ سورہ شوریٰ میں مکّہ کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی تصویر پیش کی گئی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اسلامی ریاست کی غیر موجودگی میں بھی مسلمانوں کو منظم اجتماعی زندگی گزارنی چاہیے اور اُن کے نظم وضبط کا معیار ایسا ہونا چاہیے جو ایک ریاست کا ہوا کرتا ہے:

فَمَا أُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْْرٌ وَ اَبْقَی لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰـئِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ¡ وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَ اَقَامُوْا الصَّلَاۃَ وَ أَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْْنَہُمْ وَمِمَّا رَزَقْنٰـہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔  وَالَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنْتَصِرُوْنَ۔ وَجَزَائُ  سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ۔  وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَأُوْلٰئِکَ مَا عَلَیْْہِم مِّنْ سَبِیْلٍ۔ إِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ بِغَیْْرِ الْحَقِّ أُوْلٰئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ¡ وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ۔(الشوریٰ: 36-34)

’’جو کچھ تم کو ملا ہے وہ دنیا کی (چند روزہ) زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پا س ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ (آخرت کا یہ انجام) اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے تو معاف کردیتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رَب کی پکار پر لبیک کہا جو نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ اِن لوگوں کی صفت یہ ہے کہ جب اِن پر زیادتی کی جائے تو اُس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ برائی کابدلہ ایسی ہی برائی ہے البتہ جو معاف کردے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذِمّہ ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ جو کوئی ظلم کیے جانے کے بعد بدلہ لے تو اُس پر کچھ الزام نہیں ۔ الزام تو اُن لوگوں پر ہے جو انسانوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ۔ اُن کے لیے دردناک عذاب ہے، البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو یہ بلاشبہ اوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔‘‘

مندرجہ بالا آیات میں چند اہم امور بیان ہوئے ہیں:

(الف) مسلمان معاشرے کا اللہ سے تعلق

(ب)  مطلوبہ اخلاقی صفات

(ج)  شورائیت

(د)  دفاع

اِن امور کے سیاق میں ایک ایسے مسلمان معاشرے کی شبیہ ہمارے سامنے آتی ہے جو منظم ہے اور اپنی مستقل اجتماعی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اپنی فکر اور تصورات کے لحاظ سے بھی آس پاس کے جاہلی معاشرے سے جدا ہے اور اپنی اجتماعی ہیئت و خصوصیات کے اعتبار سے بھی ممتاز ہے۔ ایسا منظم معاشرہ اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ جب حالات ساز گار ہوں تو بالکل فطری انداز میں وہ ایک ریاست کی شکل اختیار کرلے۔ اس کے مقابلے میں شعور اور اجتماعیت سے محروم کوئی سماج محض ایک بھیڑ کی مانند ہوتا ہے اور خواہ اُسے کتنے ہی سازگار حالات میسر آئیں ، وہ اقتدار اور فرماں روائی کے مقام پر نہیں پہنچ سکتا۔ مکّی زندگی کی یہ تصویر آج دنیا کے اُن تمام خطوں کے مسلمانوں کو دعوتِ غور وفکر دیتی ہے جہاں وہ غیر اسلامی ریاستوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں ۔

 تعلق با اللہ

مسلمان معاشرے کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اُس کے افراد اللہ سے زندہ اور گہرا تعلق رکھتے ہیں ۔ اِس تعلق کی بنیاد ایمان ہے اور ایمان کا پہلا مظہر اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ہے۔ اہلِ ایمان کی اِس خوبی کا ذکر سورہ آلِ عمران میں کیا گیا ہے:

 رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیْاً یُنَادِیْ لِلإِیْمَانِ أَنْ آمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الأبْرَارِ¡ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَاد۔(آل عمران: 193،191)

’’(اہلِ خرد کہتے ہیں ) اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار سنی جو کہتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے، ہماری برائیاں ہم سے دور کردے اور ہمارا انجام نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب! ہم کو وہ کچھ عطا کر جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں سے کیا ہے اور ہم کو قیامت کے دن رُسوا نہ کر۔ بے شک تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘

ایمان کا ایک اور مظہر اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔ اسی توکل کی ہدایت بنی اسرائیل کو گئی تھی:

وَ آتَیْْنَا مُوسٰی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنَاہُ ہُدًی لِّبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ أَلاَّ تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلاً۔ (بنی اسرائیل:2)

’’اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا، اِس تلقین کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو وکیل اور کارساز نہ بنانا۔‘‘

توکل کے معنیٰ یہ ہیں کہ تدابیر اختیار کرتے وقت ناجائز امور سے بچا جائے اور صرف جائز تدابیر اختیار کی جائیں ، اور یہ کہ بھروسہ خدا پر کیا جائے نہ کہ اپنی تدابیر پر۔

ایمان کا ایک مظہر یہ ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ أَمْوَالَہُمُ ابْتِغَاء  مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتاً مِّنْ أَنْفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ أَصَابَہَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُکُلَہَا ضِعْفَیْْنِ فَاِن لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(البقرۃ: 265)

’’وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اپنے دلوں کو ثابت رکھ کر، اُن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ بلند زمین پر ہو اور اُس پر زور کی بارش ہو، چنانچہ وہ دوگنا پھل لائے اور اگر (زور کی بارش نہ ہو بلکہ) محض پھوار ہی ہو تووہ بھی اُس باغ (کی شادابی) کے لیے کافی ہے۔ اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے۔‘‘

لَّیْْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَ لٰـکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیِّیْنَ وَآتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ وَ أَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَآتَی الزَّکٰوۃَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُوْا وَالصّٰبِرِیْنَ فِیْ الْبَأْسَآئِ  وَالضَّرَّآئِ  وَحِیْنَ الْبَأْسِ أُولٰـئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَأُولًـئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ۔(البقرۃ: 771)

’’نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق کی طرف کرلو یا مغرب کی طرف بلکہ (فی الحقیقت) نیکی یہ ہے کہ ایک شخص اللہ اور یومِ آخر پر، ملائکہ، کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے اور اللہ کی محبت میں مال کو خرچ کرے رشتہ داروں ، یتیموں ، محتاجوں ، مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کو چھڑانے کے لیے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کریں تو اُسے پورا کریں ۔ تنگی اور مرض میں اور حق و باطل کی جنگ کے موقع پر صبر کریں ۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی ہیں ۔‘‘

ایمان کا سب سے نمایاں مظہر اقامتِ صلوٰۃ ہے۔ جو سوسائٹی اقامتِ صلوٰۃ کا اہتمام نہ کرے وہ اسلامی سوسائٹی نہیں کہلاسکتی اور جس سماج کے اندر محضکچھ افراد نماز کا اہتمام کرتے ہوں اور باقی اُس سے غافل ہوں وہ یقینا باشعور اسلامی سماج نہیں ہے۔ چناں چہ بنی اسرائیل کے زوال کو عروج سے بدلنے کے لیے اور اُن کے اند ر دینی زندگی پیدا کرنے کے لیے اُن کو اقامتِ صلوٰۃ کی ہدایت کی گئی تھی:

وَ قَالَ مُوسٰی یَا قَوْمِ إِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللّٰہِ فَعَلَیْْہِ تَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ¡ فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔ وَ اَوْحَیْْنَآ اِلٰی مُوسٰی وَأَخِیْہِ أَنْ تَبَوَّئَ ا لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتاً وَاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً وَأَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔(یونس:84- 87)

’’اور موسیٰ نے (بنی اسرائیل کو) ہدایت کی کہ اے میری قوم کے لوگو! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اُسی پر بھروسہ کرو اگر تم اُس کے فرماں بردار ہو۔ تب انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب! ہم کو ظالموں کے گروہ کے لیے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم کے غلبے سے نجات دے۔‘‘ پھر ہم نے موسیٰ اور اُس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر مقرر کرلو اور اپنے گھروں کو قبلہ رو بناؤ اور نماز قائم کرو اور اہلِ ایمان کو خوش خبری دے دو۔‘‘

اسی اقامتِ صلوٰۃ کی ہدایت نبی ﷺ کو کی گئی:

 اُتْلُ مَا أُوْحِیَ إِلَیْْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ إِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ  وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ أَکْبَرُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ۔(العنکبوت: 54)

’’تمہارے رب کی جانب سے جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اُس کو پڑھو اور نماز قائم کرو۔ بے شک نماز بے حیائی کے کاموں سے اور منکر سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘

مسلمان معاشرے کی تربیت

اللہ سے زندہ، شعوری اور گہرے تعلق کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان معاشرے میں بلند اخلاقی صفات پروان چڑھیں ۔ اہلِ ایمان کے کردار کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں ۔ بڑے گناہوں سے پرہیز کا تذکرہ سورہ فرقان میں کیا گیا ہے:

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ إِلَہاً آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَاماً۔ یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَاناً۔ إِلّاَ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً فَأُوْلٰئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّئٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْراً رَّحِیْماً۔ وَمَن تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحاً فَإِنَّہُ یَتُوْبُ إِلَی اللّٰہِ مَتَاباً۔ وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ وَإِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَاماً۔(الفرقان: 62- 67)

’’اور (رحمان کے بندوں کی صفت یہ ہے کہ) وہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور نہ زِنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ جو کوئی یہ کام کرے وہ بڑے گناہ میں پڑگیا۔ قیامت کے روز اُس کو دوگنا عذاب دیا جائے گا اور وہ پڑا رہے گا اُس میں خوار ہوکر۔ البتہ جو توبہ کرلے ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کے برے کاموں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ جو کوئی توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ اللہ کی طرف پھِر آتا ہے پورے طور پر۔ اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور جب اُن کا گزر لغو کاموں پر ہوتا ہے تو شریف انسانوں کی طرح گزرجاتے ہیں ۔‘‘

سورہ اعراف میں نمایاں اخلاقی خرابیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کو حرام ٹھرایا گیا ہے:

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَاناً وَأَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ¡ (الاعراف: 33)

’’(لوگوں کو) بتادو کہ اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں : بے حیائی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے، گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسے معبود کو شریک کرو جس کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے اور تم اللہ کی طرف منسوب کرکے ایسی بات کہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔‘‘

اہلِ ایمان کی نمایاں صفت یہ ہے کہ غصہ آئے تو وہ اُس کو پی جاتے ہیں اور انسانوں کو معاف کردیتے ہیں ۔ اُن کا معاشرہ ایسا نہیں ہوتا جہاں افراد اور گروہ بہ ہر صورت ایک دوسرے سے انتقام لینے پر تُلے ہوں ، بلکہ وہاں عفو و درگزر کا عام رواج ہوتا ہے۔ اس معاشرے کے لوگ اپنے جذبات پر کنٹرول کرتے ہیں اور بے قابو نہیں ہوتے۔ اُن کے اقدامات سنجیدہ غوروفکر کے بعد ہوتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اُن کے سینوں میں دھڑکتے ہوئے دل نہ ہوں یا دلوں میں جذبات نہ ہوں ، لیکن وہ جذبات کو عقل کے تابع رکھتے ہیں اور عقل کو شریعتِ الٰہی کے تابع رکھتے ہیں ۔ اُن کے غیظ و غضب کا اظہار اگر ہوتا ہے تو رضائے الٰہی کے لیے ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ اظہار حدودِ الٰہی کا تابع ہوتا ہے، حدود نا آشنا نہیں ہوتا۔

شورائیت کا اہتمام

مسلمان معاشرے کے سیاق میں شورائیت کی صفت کا ذکر یہ معنیٰ رکھتا ہے کہ مسلمان معاشرہ ایک منظم معاشرہ ہے جس میں نظامِ سمع و طاعت موجود ہونا چاہیے۔ اس معاشرے میں اجتماعی امور کو طے کرنے کے لیے جو طریقِ کار بتایا گیا، وہ شورائیت کا طریقِ کار ہے۔ شورائیت کی اسپرٹ اور اُس کے عملی نظام کا قیام مسلمان معاشرے کو اسلامی ریاست کی خصوصیات سے عملاً آشنا کراتا ہے اور افرادِ معاشرہ کی تربیت کرتا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی  ؒاپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’مشورے سے کام کرنا اللہ کو پسند ہے (خواہ) دین کا (کام) ہو یا دنیا کا۔ نبی کریم ﷺ  مہماتِ امور میں برابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرماتے تھے۔ اور صحابہ آپس میں مشورہ کرتے تھے۔ حروب وغیرہ کے متعلق بھی اور بعض مسائل و احکام کی نسبت بھی۔ بلکہ خلافتِ راشدہ کی بنیاد ہی شوریٰ پر قائم تھی۔‘‘

شورائیت کی اسپرٹ کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرے کے تمام افراد کی مشورے کے عمل میں بِلاواسطہ یا بالواسطہ شرکت ہو۔ جنگِ اُحد میں جن اصحاب سے کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں ، اُن کی لغزش کے باوجود نبی ﷺ کو اللہ نے ہدایت دی کہ اُن سے بہ دستور مشورہ لیتے رہیے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَ شَاوِرْہُمْ فِیْ الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ۔(آلِ عمران: 951)

’’یہ محض اللہ کی رحمت ہے کہ تم اُن (اہلِ ایمان) کے لیے نرم دل واقع ہوئے ہو۔ اگر کہیں تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے پاس سے چھَٹ جاتے۔ پس ان کو معاف کردو، ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرو اور ان سے امور میں مشورہ لو۔ پھر جب تم (کسی رائے پر) عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

مولانا شبیر احمد عثمانی  ؒاِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’(اللہ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ) حق تعالیٰ نے آپ کو نرم دل اور نرم خو بنایا۔ آپ اصلاح کے ساتھ اُن کی کوتاہیوں سے اغماض کرتے رہتے ہیں ۔ سو یہ کوتاہی بھی (جوجنگ احد میں بعض اصحاب سے ہوئی) معاف کردیجیے اور گو خدا اپنا حق معاف کرچکا ہے۔ تاہم ان (مسلمانوں ) کی مزید دل جوئی اور تطییبِ خاطرکے لیے ہم سے بھی اُن کے لیے معافی طلب کریں ، تاکہ یہ شکستہ دل آپ کی خوشنودی اور انبساط محسوس کرکے بالکل مطمئن و منشرح ہوجائیں ۔ اور یہ صرف معاف کردینا ہی کافی نہیں (بلکہ) آئندہ بہ دستور ان سے معاملات میں مشورہ لیا کریں ۔‘‘

شورائیت کے اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امتِ مسلمہ کی تاریخ میں جو طریقے اپنائے گئے ہیں ، آج کے دور کے مسلمان اُن سے استفادہ کرسکتے ہیں اور دنیا کے دوسرے معاشروں کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ بہ ہر صورت مطلوب یہ ہے کہ اسلامی ریاست کی غیر موجودگی میں بھی مسلمان معاشرہ منظم اجتماعی زندگی گزارے اور اس اجتماعی زندگی کی تنظیم شورائیت کے اصول پر قائم کی جائے۔

مسلمانوں کا دفاع

اہلِ ایمان کے منظم معاشرے کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ جب اہلِ ایمان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ زیادتی کے لیے اصل لفظ جو استعمال ہوا ہے وہ ’بغی‘ ہے۔ یہ اُن مذموم صفات میں سے ہے جن سے اللہ نے انسانوں کو روکا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِیْتَائِ  ذِیْ الْقُرْبٰی وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَآئِ  وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔ (النحل: 90)

’’بے شک اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی سے، منکر سے اور سرکشی (بغی) سے منع کرتا ہے۔ وہ تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘

’بغی‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی  ؒ لکھتے ہیں:

’’(بغی کے معنی ہیں ) سرکشی کرکے حد سے نکل جانا، ظلم و تعدّی پر کمر بستہ ہوکر درندوں کی طرح کھانے پھاڑنے کو دوڑنا اور دوسروں کے جان و مال یا آبرو وغیرہ لینے کے واسطے ناحق دست درازی کرنا۔‘‘

سیاقِ کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سورہ شوریٰ میں ’بغی‘ سے مراد وہ زیادتی ہے جو مسلمان معاشرے کے خلاف، بہ حیثیتِ مجموعی، کی جائے۔ اگر پورے مسلمان معاشرے کو زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہو تو مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بیان کی گئی ہے کہ وہ اُس زیادتی کامقابلہ کریں ۔ اُس کے بعد اگلی آیت میں افراد کے لیے اس بات کو پسند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اوپر (انفرادی حیثیت میں ) ہونے والی زیادتیوں کو معاف کردیں ، بشرطے کہ درگزر کے اِس رویّے کے نتیجے میں اِصلاح کی توقع ہو ۔ یہ عفو و درگزر کا رویہ اُن کو اجرِ الٰہی کا مستحق بنائے گا۔ بہ ہر صورت افراد کے لیے بھی عفو و درگزر کو لازم نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ اُن کو اجازت دی گئی ہے کہ زیادتی ہونے کی صورت میں ، وہ چاہیں تو انتقام لے سکتے ہیں ، لیکن انتقام لینے میں وہ حدِّ استحقاق سے تجاوز نہیں کرسکتے۔

اپنے اوپر ہونے والی زیادتوں کا مقابلہ کرنا اور اپنا دِفاع کرنا ایک فرد کا حق ہے اور دنیا کے ہر نظامِ قانون میں اِس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ اہلِ ایمان معاشرے کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، بلکہ اُس کی یہ ذمّہ داری ہے کہ اُن زیادتیوں کا مقابلہ کرے جو پورے معاشرے پر کی جارہی ہوں ۔ اگر کوئی معاشرہ ایسی زیادتیوں کا مقابلہ نہیں کرتا تو اُسے بے حس کہا جائے گا۔ وہ کوئی باشعور اور زندہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔ البتہ زیادتیوں کا مقابلہ کرنے اور اپنا دفاع کرنے میں مسلمان معاشرہ شرعی حدود کا پابند ہوگا اور قانون شکنی سے مجتنب رہے گا۔

ہندوستان میں اقامت دین

ہندوستان میں فریضۂ اقامت دین کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کے ہندو سماج کی صورتِ حال کا تجزیہ کیا جائے۔ آزادیِ ہند کے بعد یہاں کے ہندو سماج کو دو بنیادی چیلنج در پیش تھے:

 (الف)     نئے حالات میں ذات پات کے نظام کو برقرار رکھنا — اور

(ب)       ہندو سماج کے جذباتی اتحاد کے لیے مذہب کی بجائے کوئی متبادل بنیاد فراہم کرنا۔

 ملک کی تحریکِ آزادی کی قائد ’کانگریسی فکر‘ نے پہلے چیلنج کا جواب اس طرح دیا کہ ذات پات کے نظام میں بعض سطحی اور ضمنی (Cosmetic) اصلاحات کرلیں ۔ دوسرے چیلنج کے جواب میں انہوں نے نیشنلزم کو اتحاد کی نئی بنیاد کے طور پر اختیار کیا۔ دوسری جانب ملک میں ہندتو کی طاقتور تحریک بھی موجود تھی۔

’ہندتو‘ کے حاملین نے بھی ان دونوں چیلنجوں کا جواب دیا۔ پہلے چیلنج کے سلسلے میں ان کا رویہ کانگریسی فکر کے حاملین کے رویہ سے ہم آہنگ تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کانگریسی چھوت چھات کے خاتمہ پر زور دیتے تھے اور ’ہریجن‘ کی نئی اصلاح استعمال کرتے تھے، جب کہ ہندتو کے علم برداروں نے عام طور پر ذات پات کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی۔رہا ذات پات کے نظام کے مکمل خاتمے کا معاملہ تو اس کے قائل نہ کانگریسی تھے نہ ہندتو کے علم بردار، البتہ ضمنی اصلاحات کے روادار دونوں تھے۔

دوسرے چیلنج کے جواب میں ہندتو کے علم برداروں کا یہ خیال تھا اور ہے کہ کانگریس کا مبہم ’نیشنلزم‘ ایک بے جان تصور ہے اور ہندو سماج کے اندر نیا حوصلہ، امنگ اور ولولہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مزید برآں اس میں یہ خرابی بھی ہے کہ تہذیبی اقلیتوں کی انفرادیت باقی رہتی ہے اور وہ کسی وقت بھی مضبوط ہوکر ہندو سماج کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

چناں چہ ہندتو کے حاملین محض نیشنلزم کے سادہ فلسفے کو کافی نہیں سمجھتے، بلکہ ’کلچرل نیشنلزم‘ کا تصور پیش کرتے ہیں ۔ کلچرل نیشنلزم کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کے ایک ایک فرد کے اندر اس ملک کی روایتی تہذیب و تاریخ، بزرگوں اور رسوم و رواج سے گہری جذباتی وابستگی پیدا کی جائے۔ یہ باشندے محض ایک سیاسی وحدت نہ بنیں ، بلکہ ان کے جذبات بھی اس ملک کے روایتی ڈھانچے میں ڈھل جائیں ۔ ’کلچرل نیشنلزم‘ کے اس پروگرام کو بروئے کار لانے کے لیے وہ یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مختلف گروہوں کی تہذیبی انفرادیت ختم ہوجائے۔ ان کے نزدیک باشندگان ملک میں جذباتی تہذیبی ہم آہنگی اور یک رنگی کے بغیر نہ ولولہ اور امنگ پیدا ہوسکتی ہے نہ ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

ہندتو کے علم بردار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کلچرل نیشنلزم کے اس منصوبے کو مسلمان آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ چناں چہ وہ مسلمانوں کو اپنی راہ کا سب سے بڑا روڑا خیال کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں انہیں مسلمانوں سے یہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ ایک مستقل مسلم سماج کی موجودگی (جو ہندو سماج سے ممتاز اور ممیز ہے اور اپنا نمایاں تہذیبی وجود رکھتا ہے) ذات پات کے نظام کے لیے مستقل چیلنج بنی رہے گی اور اسے دیکھ دیکھ کر ہندو سماج کے محروم طبقات کو برابر یہ یاد آتا رہے گا کہ وہ کس عدم مساوات اور نابرابری کے نظام میں بندھے ہوئے ہیں ۔ چناں چہ خود ہندو سماج کی بقا اور ذات پات کے نظام کے تسلسل کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ایک مستقل مسلم سماج باقی نہ رہے۔ ’کلچرل نیشنلزم‘ کا منصوبہ یہی ہے۔

ان دو نمایاں طرز ہائے فکر کے علاوہ ملک میں ایک تیسری تحریک بھی موجود ہے۔ وہ ’امبیدکر وادی فکر‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔

امبیدکر وادی طرز فکر

امبیدکر وادی تمام مظلوم طبقات کو متحد کر کے (جن میں ہندو سماج کے پس ماندہ، اچھوت طبقات اور اقلیتیں شامل ہیں ) جمہوری طریقۂ انتخاب کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر ان کو اقتدار مل جائے تو وہ کس نظریے اور Ideology کو نافذ کریں گے؟ اس سوال کا کوئی واضح جواب امبیدکر وادیوں کے پاس نہیں ہے۔البتہ اس فکر کے نمائندوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملک کے دستور اور رائج سیکولر ڈیموکریٹک نظام کو اُسی طرح قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ کوئی متبادل نظریہ یا نظام وہ تجویز نہیں کرتے، البتہ وہ چاہتے ہیں کہ اب تک جو طبقات محروم رہے ہیں ، اب اقتدار ان کے ہاتھ میں آئے۔ تقریباً تمام امبیدکر وادی انتقامی جذبات رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان عزائم کا اظہار کرتے ہیں کہ موقع ملنے پر وہ ظالم طبقات سے انتقام لیں گے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ذات پات کا نظام محض اس واقعے کا نام نہیں ہے کہ اقتدار پر ’اعلیٰ ذات‘ والوں کا قبضہ ہے، بلکہ یہ نظام اپنی گہری نفسیاتی جڑیں رکھتا ہے۔ ہندو سماج کے ظالم اور مظلوم دونوں طبقات کے عقائد ایک ہی ہیں اور ان عقائد کی بنیاد پر بننے والی نفسیات بھی یکساں ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک طبقہ ظلم کرتا ہے اور دوسرا اس ظلم کو گوارا کرتا ہے۔ امبیدکر وادی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اس بنا پر وہ مظلوم طبقات کے اندر نفسیاتی اور فکری تبدیلی پیدا کیے بغیر ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کو ممکن اور کافی سمجھتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اس چیلنج کو سمجھا ہی نہیں ہے، جو مغربی تہذیب کی آمد کی وجہ سے ذات پات کے نظام کو در پیش ہے۔ نہ انہوں نے خود ذات پات کے نظام کی گہری جڑوں کو سمجھا ہے۔ اس لیے امبیدکر وادی فکربہت کم زور اور مبہم ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ انتقامی جذبات اور ’عملِ پیہم‘ نے امبیدکر وادیوں کو ایک قابل لحاظ سیاسی قوت بنا دیا ہے۔ کانگریسی فکر کے حاملین کی طرح امبیدکر وادی بھی نیشنلزم کے قائل ہیں اور اس سلسلے میں کانگریسی فکر میں جو ابہام ہے، وہ امبیدکر وادیوں کی فکر میں بھی پایا جاتا ہے۔

کانگریسی فکر کے حاملین اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ملک کے سارے طبقات، علاقوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے نمائندے ہیں ، چناں چہ وہ سب کی حمایت کے مستحق ہیں ۔ اس کے برخلاف اکثر امبیدکر وادی صاف کہتے ہیں کہ وہ صرف مظلوم طبقات کو منظم کرنا چاہتے ہیں اور ان کی متحدہ جمہوری طاقت سے کام لے کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ کانگریسیوں اور امبیدکر وادیوں کا یہ اختلاف سب سے اہم اختلاف ہے۔

رجحانات کی کش مکش

آزادی کے بعد طویل عرصے تک ملک کے نظام پر اس رجحان کا غلبہ رہا ہے، جسے اوپر کی سطروں میں ’کانگریسی فکر‘ کہا گیا ہے۔ اب یہ رجحان کم زور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے دو اسباب ہیں :

(الف) اب کانگریس کی قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے، ان میں وہ خصوصیات باقی نہیں رہیں جو تحریکِ آزادی کے دوران پیدا ہوئی تھیں ۔ ہر تحریک، جو قربانی چاہتی ہو، اپنے علم برداروں کے اندر بعض اعلیٰ انسانی صفات پیدا کرتی ہے۔ تحریکِ آزادی نے بھی یہ کام انجام دیا تھا، لیکن اب طویل عرصہ گزر جانے کے بعد وہ اعلیٰ انسانی صفات مفقود ہوتی جا رہی ہیں ۔

(ب) تحریکِ آزادی کے دوران ملک کی آزادی کا نصب العین ایک کشش رکھتا تھا۔ اس کشش نے با صلاحیت افراد کو کانگریس کے گرد جمع کیا۔ اب آزادی کے بعد ایسا کوئی نعرہ موجود نہیں ہے جو افراد کوکانگریس کی طرف کھینچ سکے۔

آزادی کے بعد وقتاً فوقتاً کانگریس کے رہ نماؤں نے ایسے نعرے دیے جو جذباتی اپیل رکھتے تھے۔ مثلاً پنڈت نہرو نے ’ملک کی تعمیر نو‘ کا نعرہ دیا، اندرا گاندھی نے ’غریبی ہٹاؤ‘ کا پرچم بلند کیا اور راجیو گاندھی نے ملک کے ’استحکام‘ (Stability)کی بات کہی۔ یہ سب نعرے وقتی اپیل رکھتے تھے اور ایک مدت تک کانگریس ان سیعوام کو متأثر کرتی رہی۔ اب بہ ظاہر اس کے پاس ایسا کوئی نیا نعرہ نہیں ہے جو عوام کو متوجہ کرسکے اور ان کے اندر ولولہ اور جذبہ پیدا کرسکے۔

دوسری جانب امبیدکر وادی رجحان قوت حاصل کر رہا ہے، لیکن اس کی بنیادی کم زوری، جس کا اوپر ذکر کیا چکا ہے، یہ ہے کہ اس کے پاس موجودہ نظام کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ وہ ذات پات کے نظام کا صحیح عرفان بھی نہیں رکھتا۔ یہ کم زوریاں اس کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت کو کسی مرحلے میں گھٹا بھی سکتی ہیں ۔

امبیدکر وادی اور ہندتو کے علم بردار دونوں ٹکراؤ کے قائل ہیں ۔ ان کے مقابلے میں کانگریسی فکر کی بنیادی خصوصیت سمجھوتہ (Accomodation) ہے، خواہ وہ تہذیبی اقلیتوں کو Accomodate کرنا ہو یا خود ہندو سماج میں مختلف طبقات کو accomodate کرنا ہو۔ مستقبل کا سب سے واضح امکان یہ ہے کہ کانگریسی رجحان کی طاقت کم زور ہونے اور ہندتو و امبیدکر واد کی طاقت بڑھنے کے نتیجے میں ملک میں تصادم کی فضا بڑھتی جائے گی۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ علاقائی و دیگر پارٹیاں کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر آئیں گی اور اس طرح کچھ عرصہ اور تصادم کو ٹالا جاسکے گا۔ اس طرح ممکن ہے کہملک پر کانگریسی فکر کا ہی غلبہ، ایک دوسرے روپ میں باقی رہے۔

دین کی اقامت کے تقاضے

رجحانات کی کش مکش کے اس ماحول میں امت مسلمہ کو دین کی اقامت کا فریضہ انجام دینا ہے۔ اس کے لیے مسلم مزاج کی تربیت ضروری ہے۔مسلمان اس وقت ہندتو کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ یہ تشویش بجا ہے۔ ہندتو کے مقابلے میں کمیونسٹ اور امبیدکر وادی حلقوں کے بارے میں مسلمان خوش گمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان  کے تشخص کی حفاظت اور ان  کے مسائل کے حل کے لیے ان سیاسی طاقتوں سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ چناں چہ مسلمانوں کے درمیان بحث اور گفتگو اس موضوع پر ہوتی ہے کہ ان رجحانات میں کس کا ساتھ دیا جائے؟ مسلمان عوام اور ان کی سیاسی قیادت نے اب تک اس انداز سے سوچنا شروع نہیں کیا ہے کہ ان مختلف قوتوں پر انحصار (Dependence) اور ان سے سودا چکانے (Bargaining) کے بجائے کوئی اور راستہ بھی ہوسکتا ہے، جو مسلمانوں کے شایانِ شان ہو اور جس پر چل کر وہ نہ صرف اپنے تشخص کی حفاطت کرسکیں ، نیز اپنے مسائل حل کرسکیں ، بلکہ اپنے فرضِ منصبی کو بھی انجام دے سکیں ۔

مسلمانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طاقت پر انحصار کرنا چاہتے ہیں اور پھر اس طاقت سے سودے بازی کرکے، دباؤ ڈال کر یا فریاد کر کے اپنے مسائل کے حل کی توقع رکھتے ہیں ۔ اس مزاج کو ’انحصار‘ (Dependence) یا ’غلامانہ مزاج‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو مزاج ایک مسلمان کے شایانِ شان ہے، اس کو خود اعتمادی یا (Self Reliance) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ امت کے مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم یہ ہے کہ مزاج کی تبدیلی عمل میں آئے۔ مسلمان عوام اور خواص میں غلامانہ ذہنیت کے بجائے خود اعتمادی پیدا ہو۔ مزاج کی اس تبدیلی کے بغیر کوئی مسلسل اور طویل مدتی کام نہیں کیا جاسکتا۔ وقتی جوش وجذبہ کچھ وقتی کام کراسکتا ہے اور لوگ کچھ قربانیاں بھی دے سکتے ہیں ، لیکن مزاج کی اس تبدیلی کے بغیر مستقل (Sustained) کام نہیں کرسکتے۔جو تحریک مسلمانوں کو اقامت دین کے لیے متحرک کرنا چاہتی ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے مزاج میں انقلاب لائے۔

خود اعتمادی کا حصول

(الف)  پہلا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ’فکر‘ میں خود کفیل ہونا چاہیے۔ یعنی ان کی ’فکر‘ خصوصاً سیاسی فکر مکمل اسلامی ہو، اسلامی اور مغربی فکر کا ملغوبہ نہ ہو۔ وہ جن اصطلاحات میں سوچیں ، تبصرہ کریں ، جائزہ لیں ، پالیسی بنائیں اور منصوبہ بندی کریں ، وہ خالص اسلامی اصطلاحات ہوں ۔ محض شریعت کے حدود کا لحاظ کافی نہیں ہے، بلکہ سوچ اور فکر کا منبع اسلام ہونا چاہیے اور فکر کا طریقہ ’اسلامی اصطلاحات اور تصورات کے حالات پر انطباق‘ سے عبارت ہونا چاہیے۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سوال پر غور کیجیے: ’’ہندوستان میں رہنے والے مسلمان کیا ہیں ؟‘‘ رائج فکر کے مطابق اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ’’مسلمان ہندوستانی قوم کا ایک حصہ ہیں ، البتہ ان کا ایک ’مذہب‘ ہے۔ ’مذہبی‘ معاملات میں وہ علاحدہ رہ سکتے ہیں ، لیکن باقی معاملات میں ان کو وہی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے، جو دوسرے ہندوستانی اختیار کرتے ہیں ۔‘‘ لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے اس سوال کا جواب دیں تو جواب یہ ہوگا: ’’ہندوستان کے مسلمان عالمی امت مسلمہ کا ایک حصہ ہیں ، جو ہندوستان میں رہتا ہے۔ یہاں کے دوسرے (غیر مسلم) عوام اور یہاں کی حکومت کے ساتھ مسلمانوں کو وہ معاملہ کرنا چاہیے، جو ان کے فرض منصبی کا تقاضا ہے۔‘‘

ایک اور مثال لیجیے۔ یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’’مسلمانوں کو اپنے دین پر ایمان رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی کیوں حاصل رہنی چاہیے؟‘‘ رائج فکر کے مطابق اس کا جواب یہ ہے کہ ’’جس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہوں ، وہاں امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ سب کو مذہبی آزادی حاصل ہو، ورنہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔‘‘ اسلامی فکر کے مطابق اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہ اس کے لیے آزاد ہیں کہ اللہ ہی کی بندگی کریں ۔ جو بھی طاقت اس آزادی کو سلب کرتی ہے وہ ظالم ہے، نیز اللہ ہی نے انسانوں کو یہ آزادی بھی دی ہے کہ اگر وہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیا رکرنا چاہیں تو ان کو اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے۔‘‘

یہ ایک حقیقت ہے کہ صالح کردار اور ’غلط فکر‘ جمع ہوسکتی ہیں ، محض حسنِ نیت ’صالحیتِ فکر‘ کی ضمانت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو شعوری طور پر اس کی کوشش کرنی ہوگی کہ ان کی فکر خالص اسلامی ہو اور جاہلیت کے تمام اثرات سے پاک ہو۔

(ب) فکر کی صالحیت کے بعد دوسری ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر باہمی گفتگو، تبادلۂ خیال اور بحث مباحثے کے لیے مناسب ذرائع موجود ہوں اور اظہارِ رائے اور اظہارِ اختلاف کے اسلامی آداب کا شعور ان کے اندر عام ہو۔ اس وقت مسلمانوں کے اخبارات و رسائل مختلف مکاتبِ فکر کی رائیں تو پیش کرتے ہیں ، لیکن باہم تبادلۂ خیال اور گفتگو کا موقع فراہم نہیں کرتے۔ اختلاف کے آداب کا شعور مفقود ہے۔ عام طور پر مسلمانوں کا خیال یہ ہے کہ کسی بات سے یا تو مکمل اختلاف کیا جاسکتا ہے یا کامل اتفاق۔ ایک دوسرے کے دلائل سے سیکھنے اور اپنے موقف کی اصلاح کرنے نیز بہ تدریج اتفاق رائے (Consensus) تک پہنچنے کا مزاج نہیں پایا جاتا۔ اس مزاج کی اصلاح ناگزیر ہے۔ اسلامی فکر کا حالات پر انطباق محض کسی فرد یا گروہ کا نام نہیں ، بلکہ پوری امت کا کام ہے۔ اس کام کے لیے آپس میں صحت مند اور معیاری تبادلہ خیال (Communication) ضروری ہے۔ اس کے لیے مناسب ذرائع اور مناسب فضا پیدا کی جانی چاہیے۔

(ج) مسلمانوں کو سیاست میں خود کفیل ہونا چاہیے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ اسلام انہیں موجودہ سیاسی پارٹیوں کے رکن یا خادم بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے برعکس اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمانوں کا امیر صرف ایک متقی مسلمان ہی ہوسکتا ہے، کسی اور کی امارت میں سیاسی جدوجہد جائز نہیں ۔

اگر اسلام کی یہ تعلیم ہے تو مسلمانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ وہ رائج الوقت پارٹیوں میں شامل ہوجائیں ، بلکہ ان کو متقی قیادت کی سرکردگی میں شریعت کے حدود کے اندر سیاسی جدوجہد کرنی چاہیے اور اس کے لیے مناسب اجتماعی ہیئتیں تشکیل دینی چاہئیں ۔

(د) البتہ مسلمانوں کی خود اعتمادی کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ وہ غیر مسلموں سے کوئی واسطہ اور تعلق ہی نہ رکھیں ۔ ان کو غیر مسلموں سے ایجابی ربط رکھنا چاہیے۔ عوام سے بھی، سیاسی پارٹیوں سے بھی اور اربابِ اقتدار سے بھی۔ اس ربط کے تین اہم پہلو ہیں:

اول یہ مسلمانوں کو تمام غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت پہنچانی چاہیے۔ یہ ربط کا بنیادی پہلو ہے۔

دوسر اپہلو یہ ہے کہ مسلمان ’شہادتِ حق‘ کی ذمہ داری پر مامور ہیں ، یعنی ہر معاملے میں خلق خدا کے سامنے حق کو واضح کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ چناں چہ ان کو ہر سوال کے سلسلے میں پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ ’حق بہ جانب موقف‘ کیا ہے اور پھر اس کو بیان کرنا چاہیے۔

تیسرا پہلو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ہے۔ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر معاملے میں معروف اور منکر کو واضح کریں ، نیز معروف کی تلقین کریں اور منکر سے روکیں ۔ یہ کام بھی ’الناس‘ یعنی غیر مسلموں اور مسلمانوں دونوں کے درمیان انجام دینے کا ہے۔

یہ آخری پہلو توجہ کا بہت زیادہ محتاج ہے۔ اپنے مسائل کے حل کے لیے اربابِ اقتدار یا سیاسی پارٹیوں سے سودے بازی یا ان کے حضور فریاد و فغاں کی بجائے مسلمانوں کو کرنا یہ چاہیے کہ وہ ’منکر‘ سے روکیں ۔ ظلم  خواہ مسلمانوں پر ہو رہا ہو یا کسی اور پر، ایک منکر ہے اور بہت بڑا منکر ہے۔ اس سے روکنا چاہیے۔ یہی عمل مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کا باعث بنے گا۔

(ہ) خود اعتمادی کے معنی یہ بھی ہیں کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لیے خود تعمیری کوششیں کریں ۔ اپنے وسائل استعمال کریں اور اپنی اجتماعی طاقت صرف کریں ۔ یہ سارا کام اجتماعی انداز میں صالح قیادت کے تحت ہونا چاہیے۔ نیز جو مسائل محض تعمیری کوششوں سے حل نہ ہوں ان کے سلسلے میں ملک کے عوام، اہلِ صحافت، سیاسی پارٹیوں اور اہلِ اقتدار سے گفتگو کریں ۔ لیکن یہ گفتگو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے رنگ میں ہونی چاہیے نہ کہ گداگری، فریاد و فغاں یا سودے بازی کے رنگ میں ۔

مختصراً خود اعتمادی یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاست اسلامی ہو۔ (محض مستقبل میں ’اسلامی ریاست‘ کو مقصود بنانا کافی نہیں ہے، بلکہ فی الحال اور اس وقت ’اسلامی سیاست‘ بھی درکار ہے)۔ مسلمانوں کی سیاست کو اسلامی بنائے بغیر ان کے معاشرے کو اسلامی معاشرہ نہیں بنایا جاسکتا۔

اگر مسلمانوں کی قیادت ان کاموں کو انجام دے، دوسرے لفظوں میں اسلامی فکر پیدا کرے، مسلمانوں کے درمیان باہم گفتگو اور تبادلہ خیال کے لیے سازگار اسلامی ماحول تعمیر کرے اور ان کی سیاست کو اسلام کے مطابق ڈھالے اور غیر اسلامی فکر سے مکمل اجتناب کرے اور غیر اسلامی سیاست سے پوری طرح الگ ہوجائے تو مسلمان موجودہ سیاسی رجحانات سے ممتاز ایک منفرد قوت بن سکتے ہیں ، جو ان سب کے مقابلے میں مضبوط بھی ہوگی اور مؤثر بھی اور ملک و انسانیت کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ خدا کرے کہ اقامت دین کے نام لیوا ،مسلمانوں کو ایسی قیادت فراہم کر سکیں۔



⋆ ڈاکٹر محمد رفعت

ڈاکٹر محمد رفعت
مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. حامد بن خالد قریشی

    آپ کا پورا مضمون ماشاءاللہ بہت بہترین اجزاء پر منحصر ہے. ہر جگہ آپ نے اسلامی سوچ، اسلامی فکر کی اصطلاح استعمال کی ہے. مکمل اسلامی تعلیمات کا بھی حوالہ دیا ہے.
    کونسا اسلام…. سنی یا شیعہ؟ وہابی یا دیوبندی؟ بریلوی یا کچھو چوی ؟ سعودی یا ایرانی؟ مصری یا ترکی؟ حضور اسلام ان چودہ سو سال میں کی خانوں میں بٹ چکا ہے. اور ہر ایک اپنے خانے کو دوسرے سے بہتر بتاتا ہے. اور اس پر مرنے کو تیار ہے. اور یہی حال پوری دنیا کے مسلمانوں کا ہے اور ھندستانی مسلمان بھلا اس میں پیچھے کیسے رھ سکتے ہیں؟ آپ اس حقیقت سے صاف بچ نکلے. اور ہمارے مفکرین کی سب سے بڑی یہی کمزوری ہے. وہ اپنی سوچ میں ان اصطلاحات کو ہی استعمال کرتے ہیں جو انہیں اور ان کے جزبات و نظریات کو سوٹ کرتی ہے. اور اصل حقیقت سے پہلو تہی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ھوتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے