تعلیم و تربیتخصوصی

’اقراء‘ سے جو رشتہ ٹوٹ گیا…

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

ہم تاریخ کے سبھی ادوار کھنگال کراس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑ غالب رہا اور اصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملے؛اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیر ہوئیں اور اپنے انجام کو پہنچیں۔

ہرذی شعور وصاحب ادراک اس بات سے ضرور اتفاق کرے گاکہ  قوموں کی صلاح و فسادمیں تعلیم و خواندگی کا بڑا دخل ہے، تعلیم ہی انسان کو انسان بناتی ہے اور زیورِ تہذیب و تمدن سےآراستہ کرتی ہے، جو قومیں تعلیم میں پیچھے رہ جاتی ہیں وہ اقوام عالم میں اپنا مقام نہیں بنا پاتیں۔ ایک زمانہ تھا کہ مسلم اور عرب علماء نے سائنس اور طب کے میدانوں میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے جسےآج بھی مغربی دنیا اپنی ارتقائی کوششوں کے باوجود فراموش نہیں کرسکی اور نہ آئندہ کرسکتی ہے۔

ابن سینا کی طبی تصنیف ‘‘قانون ’’ جسے انگریزی میں کینن لکھا جاتا ہے،آج بھی میڈیکل لائبریریوں کی ریفرنس سیکشن میں شامل ہوتی ہے اسی طرح بیسیوں مثالیں ہیں کہ ہمارے اجداد نے علم وحکمت سے سرخروئی پائی اور ہماری نئی نسل تن آسانی کا شکار،سوشل میڈیا اور دیگر ذرایع ابلاغ کوعلم کے حصول کا ذریعے سمجھنے لگی،گوگل کو بطور حوالہ بیان کیا جانے لگا، کتابوں سے دوری نے نسل کو زیور تعلیم سے دور اور نظریاتی طور پر برہنہ کردیا۔ یہ بھی تعلیم کے فقدان کا نتیجہ ہے جب ہمارے جوان فکری سرمایہ سے خالی ہوں گے تو گمراہ کن افکار کی یلغار ان کے قلوب و اذہان کو تباہ و برباد کردےگی، اس کے نتیجے میں جو کچھ ہو رہا ہے چشم عالم سے پوشیدہ نہیں۔

آج مغرب کی (نام نہاد) ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔ اسی تعلیم کے بل پر انہوں نے پوری دنیا کو فتح کیا ہے، مغرب کی کامیابی اور مشرق کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ان کا  دفاعی بجٹ تو اربوں روپے کا ہے، مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، یہی ان کی تباہی کا باعث ہے۔

عالمی یوم خواندگی :

8 ستمبرکا دن ہرسال یوم خواندگی کے طورپرمنایاجاتاہے، یوم خواندگی ((International Literacy Day17۔نومبر 1965ء کو یو نیسکو میں ایک قراردادکے تحت منظورکیاگیا،سب سے پہلے اقوام متحدہ (UNO)کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 1965 ء میں اس کو منانے کا فیصلہ کیاتھا؛لیکن کسی سبب سے پہلا یوم خواندگی یونیسکو کی زیر نگرانی 1966 میں منایا گیا۔ اس کے بعد ہر سال یہ دن عالمی سطح پر منایا جانے لگا۔ وطن عزیز میں بھی یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد افراد، برادریوں اور سماجوں میں خواندگی کی اہمیت پر زور دینا اور جہالت کی تاریکیوں کا قلع قمع کرناہے۔ بین الاقوامی یوم خواندگی پر ہر سال یونیسکو، بین الاقوامی سماج کو خواندگی کے موقف اور تعلیم بالغان کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔ یہ تقاریب دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے منائی جاتی ہیں۔  یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ تعلیم ہی سے تعمیر سیرت، تعمیر ملت اورماہرین کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے بھی تعلیم و تربیت کی اہمیت اور افادیت کو جانا اور اپنی نسل نو کو علم کی شمع سے روشن اور منور کیا وہ قومیں ترقی کے زینے طے کرتی ہوئی عروج تک پہنچ گئیں ؛ جن میں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، جاپان، جرمنی، اور دوسرے ممالک شامل ہیں اور جن قوموں نے تعلیم پر توجہ نہیں دی وہ قومیں تاریکی کی راہ پر چلتے ہوئے انتشار کا شکار ہو گئیں۔ جیسے صومالیہ، نائیجیریا اور ایتھوپیا، وغیرہ۔ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں ناخواندہ افراد کی ایک بڑی تعداد ہے اور اسی ناخواندگی نے ہمارے جمہوری نظام کو درہم برہم اور سماجی سطح کو کمزور کررکھا ہے۔

دورِ حاضر میں دیگر شعبوں کی طرح مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کا گراف بھی تشویش ناک حد تک قابل فکر ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بہ حیثیتِ مجموعی مسلمان ہندوستان میں نہایت پسماندہ ہیں، نہ تو معاشی طور پر مضبوط ہیں اور نہ ہی سماجی طور پر دیگر قوموں کے مقابلہ میں بلند معیار ہیں، رہا مسئلہ تعلیم کا تو تعلیم کے علمبردار ہونے کے باوجود مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی نہایت درجہ تشویش ناک ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں عموماً یہ تصور عام رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کوزیادہ تر مذہبی تعلیم ہی دلواتے ہیں ؛لیکن سچر کمیٹی نے اس حقیقت کو بھی واشگاف کیا کہ مسلمانوں کے صرف چار فی صد بچے ہی دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ اعدادو شمار صرف عام لوگوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں کے لیے بھی کسی المیہ سے کم نہیں کہ ہندوستان میں صرف چار فی صد مسلم بچے دینی تعلیم کے حصول میں کوشاں ہیں جب کہ آبادی کے تناسب سے یہ اعداد و شمار کم از کم ۵۰؍ فی صد تو ہونے چاہئیں۔ لیکن مسلمان عصری تعلیم تو کجا، دینی تعلیم میں بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے اجزا کا جب ہم تحلیلی جائزہ لیتے ہیں تو ہم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہندوستان کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے عصری درسگاہوں، اسکولس، کالجز اور یونی ورسٹیز میں ہماری تعداد انگلیوں پر گنے جانے کے لائق ہے۔ ہندوستان کی مجموعی شرح خواندگی حالیہ مردم شماری کے مطابق ۶۵؍ فی صد ہے۔ مسلمانوں میں یہ شرح ۵۹؍ فی صد ہے جب کہ ہندو ۶۵؍ فی صد، عیسائی ۸۰؍ فی صد، سکھ ۶۹؍ فی صد، بدھ ۷۲؍ فی صد اور جین ۹۴؍ فی صد کے ساتھ تعلیمی میدان میں سب سے آگے ہیں۔ مسلمانوں میں مردوں کی شرح خواندگی ۶۸؍ فی صد اور عورتوں کی شرح خواندگی ۵۰؍ فی صد ہے، جو کہ متذکرہ بالا شمارکرائے گئے دیگر مذاہب کی شرح خواندگی سے بہت ہی کم ہے۔

مستند ذرائع کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلم طلبہ کے اندراج کی شرح، قومی شرح 23.6 فیصد، سے بہت کم ہے 2000 سے 2010 کے ختم تک اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلم طلبہ کے ناموں کے اندراج کا فیصد 5.2 سے بڑھ کر 13.8 فیصد ہوا۔ اس کے برعکس دیگر پسماندہ طبقات کا تناسب 22.1 فیصد درج فہرست ذاتوں کا 18.5 فیصد رہا۔ اعلیٰ تعلیم کے کورسیس سے متعلق کل ہند سطح پر کئے گئے سروے 2014-15 کے مطابق ہندوستان کی آبادی میں مسلمان 14 فیصد ہیں ؛لیکن اس قدر کثیر آبادی کے حامل ہونے کے باوجود اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صرف 4.4 فیصد مسلم طلبہ نے اپنے نام درج کروائے ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی حالت پچھلے 50 برسوں میں مزید ابتر ہوئی ہے۔

یہ غور و فکر کا مقام ہےکہ  جس مقدس دین کی بنیاد ہی تعلیم و تعلم پر ہے  اور جس کے مقدس پیغمبر معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اور اُن پر نازل شدہ قرآن کریم کی بے شمار آیات تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرے، آخر کیوں اُسی مذہب کے ماننے والے تعلیم کے میدان میں افسوسناک حد تک دیگر مذاہب سے اس قدَرپیچھے ہیں ؟؟؟

جو پہلا سبق تھا کتابِ ہدی کا:

مفکر اسلام علی میاں ندوی لکھتے ہیں : عرب کے ایک خشک علاقہ میں ایک پہاڑ پر جو نہ بلند تھا اور نہ سرسبز، تقریباً چودہ سوسال پہلےایک واقعہ  پیش آیاتھا اور جس نے تاریخ انسانی ہی نہیں بلکہ تقدیر انسانی پر ایسا گہرااور لازوال اثر ڈالا ہے جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی، اور جس کا اس’’لوح و قلم‘‘ سے خاص تعلق ہے جس پر علم و تہذیب اور تحقیق و تصنیف کی اساس ہے اور جس کے بغیر نہ یہ عظیم دانش گاہیں وجود میں آتیں اور نہ یہ وسیع کتب خانے جس سے دنیا کی زینت اور زندگی کی قدروقیمت ہے، میری مراد پہلی وحی کے واقعہ سے ہے،جو ۶اگست ۶۱۰ء کے لگ بھگ نبی عربی محمدﷺ پر مکہ کے قریب غار حرا میں نازل ہوئی، اس کے الفاظ یہ تھے:اقرأباسم ربک الذی خلق،خلق الانسان من علق اقرأوربک الاکرم،الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم.

(اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیاجس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھو اور تمہارا پروردگارکریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔

خالق کائنات نے اپنی وحی کی اس پہلی قسط اور بارانِ رحمت کے اس پہلے چھینٹے میں بھی اس حقیقت کے اعلان کو مؤخر اور ملتوی نہیں فرمایا کہ علم کی قسمت قلم سے وابستہ ہے، غار حرا کی اس تنہائی میں جہاں ایک نبی اُمّی اللہ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے پیغام لینے گیا تھا اور جس کا یہ حال تھا کہ اس نے قلم کو حرکت دینا خود بھی نہیں سیکھا تھا جو قلم کے فن سے یکسر واقف نہ تھا، کیادنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر کہیں مل سکتی ہے؟ اور اس بلندی کا تصور بھی ہوسکتاہے کہ اس نبی اُمّی پر ایک اُمت اُمّی اور ایک ناخواند ہ ملک کے درمیان ( جہاں جامعات اور دانش گاہیں تو بڑی چیز ہیں، حرف شناسی بھی عام نہ تھی) پہلی بار وحی نازل ہوتی ہے اور آسمان و زمین کا رابطہ صدیوں کے بعد قائم ہوتا ہے، تو اس کی ابتداء ہوتی ہے’’ اقرأ ‘‘ سے، اس کی ابتدا’’اُعبد‘‘ سے نہیں، اس کی ابتداء ’’صَلِّ‘‘ سے نہیں بلکہ اس کی ابتداء ہوتی ہے ’’اقرأ‘‘ سے۔

جو خود پڑھا ہوا نہیں تھا، اس پر وحی نازل ہوتی ہے، اس میں اس کو خطاب کیا جاتا ہے کہ’’پڑھو‘‘ یہ اشارہ تھا اس طرف کہ آپ کو جو اُمت دی جانے والی ہے وہ اُمت صرف طالب علم ہی نہ ہوگی بلکہ معلّمِ عالم اور علم آموز ہوگی، وہ علم کی اس دنیا میں اشاعت کرنے والی ہوگی، جو دور آپ کے حصہ میں آیا ہے وہ دور ’’ اُمّیت‘‘ کا دور نہیں ہوگا، وہ دور وحشت کا دور نہیں ہوگا، وہ دور جہالت کا دور نہیں ہوگا، وہ دور علم دشمنی کا دور نہیں ہوگا، وہ دور علم کا دور ہوگا، عقل کا دور ہوگا، حکمت کا دور ہوگا، تعمیر کا دور ہوگا، انسان دوستی کا دور ہوگا، وہ دور ترقی کا دور ہوگا۔

مولانا علی میاں ؒ کے یہ معنی خیز اور فکر و درد سے لبریز الفاظ ہمیں میدان علم و عمل کے میدان میں آگے بڑھنے اور حالیہ ابتر صورت حال پر نظر ثانی کرنے کی دعوت دے رہےہیں۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا

آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا

زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا​

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close