خصوصی

الوداع 2017 : لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی

ڈاکٹر سلیم خان

آج 2017 کی آخری تاریخ ہے  اس لیے پیچھے مڑ کر دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ ہم جب  اپنے آس پاس نگاہ دوڑاتے ہیں تو سب سے پہلے ہندوستان نظر آتا ہے۔ اس کے بعد جنوب ایشیا، اس کے آگے مشرقِ وسطیٰ  ہے اور سب سے پرے یوروپ وامریکہ  ہے۔ اس سال کی شروعات اتر پردیش کے انتخابی تیاری سے ہوئی۔ بی جےپی کو خوف تھا کہ کہیں بہار کی طرح مایاوتی اور اکھلیش یادو ساتھ نہ ہوجائیں اس لیے کانگریس نے توسماجوادی سے ہاتھ ملا ہی لیاتھا۔ یوپی میں مایا تو دور ملائم اور اکھلیش کےبیچ مہابھارت چھڑ گئی۔ مودی جی نے خوب محنت کی اپنے آپ کو گدھا تک تسلیم کرلیا اور قبرستان سے شمشان تک پہنچ گئے لیکن بالآخر زبردست کامیابی درج کرائی۔ 2012 میں جو بی جے پی ۵۱ سے گھٹ کر ۴۷ پر پہنچ گئی تھی اس کو ۳۲۵ پر لے آئے۔ اس غیر معمولی کارکردگی پر انہوں نے ادیتیہ ناتھ جیسے نااہل  یوگی کو وزیراعلیٰ بنا کر پانی پھیر دیا۔یوگی  راج میں بچے گورکھ پور کے  اسپتال میں مرتے رہے۔ سڑکوں پر انکاونٹر ہوتے رہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی میں طالبات  کے ساتھ بدسلوکی کا شکار ہوئی  مگر وزیراعلیٰ  کبھی کیرالہ اورکبھی گجرات کے الیکشن میں مصروف رہے اور واپس آکر خود کو  الہ باد ہائی کورٹ کے مقدمہ سے بچانے کی فکرمیں لگ گئے۔

بی جے پی کادوسرا بڑا کارنامہ نتیش کمار کی گھر واپسی تھا۔ ان کو بلیک  میل کرنے کے لیے پہلے منریگا جیسی فلاحی مہمات میں بدعنوانی کا معاملہ اچھالا  گیااور پھر سری جن گھوٹالے میں گھیر کر جیل بھیجنے کی دھمکی دے دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنتادل کی نشانی تیرکا رخ  کمل  سے ہٹ کر لالٹین کی جانب ہوگیا۔ بہار میں اب لالٹین بجھ چکی ہے لالو یادو جیل بھیج دیئے گئے ہیں اور نتیش بی جے پی کی گنگا میں اپنے پاپ دھل  کر پوتر ہوچکے ہیں۔ اس  سال نوٹ بندی کی دوسری قسط جی ایس ٹی نافذ کی گئی۔ تاجروں اور صنعتکاروں  کو اس سے طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر خزانہ ہر زخم پر مرہم رکھتے ہوئے ایک نئی ترمیم کردیتے تھے یہاں تک لوگ اس کے عادی ہوگئے۔ فی الحال بی جے پی  چچا  غالب کے مشورے پر عمل کررہی ہے  ؎

رنج سے خُوگر ہُوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج 

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

اس سال  بی جے پی کے گروبابا رام رحیم کا معاملہ سامنے آیا۔ اس  کے بھکتوں نے ہندوستان کو دنیا کے نقشے سے مٹادینے کی دھمکی دے ڈالی ۔ ڈھونگی بابا کے غار کی شرمناک داستان ناقابل بیان ہے۔ دہلی کے  روہنی علاقہ میں بھی  ادھیاتمک آشرم سے ۱۶۸ خواتین اور نابالغ لڑکیاں برآمد کی گئیں جن سے پیشہ کروایا جاتا تھا لیکن حکومت ان سے آنکھیں  موند کر طلاق کا قانون بنا نے اورایوانِ پارلیمان میں منظور کرانے میں لگی رہی۔ کشمیر میں  اینٹ کا جواب گولی سے دینے والوں کو ناک رگڑ کر عام معافی کا اعلان کرنا پڑا۔امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ اور اجیت دوول کے بیٹے  شوریہ کے گھپلے منظر عام پر آئے۔ گجرات کا انتخاب بظاہر یکطرفہ جنگ  تھی کیونکہ  ؁۲۰۱۴کے پارلیمانی  انتخاب میں  بی جے پی کو ۱۶۵ نشستوں پر برتری حاصل تھی۔ امیت شاہ نے ۱۵۰ سے زائد نشستوں کا ہدف رکھا لیکن   وقت کے ساتھ منظر نامہ بدل گیا۔ راہل نے مودی اور شاہ کو ناکوں چنے چبوادیئے۔ اپنے تمام ہتھکنڈوں  کے باوجود بی جے پی ۱۱۵ سے اتر کر ۹۹ پر آگئی۔ سبرامنیم سوامی کو کہنا پڑا کہ میں تو ۱۰۵ کی توقع کررہا تھا  لیکن جو ۱۵۰ کی باتیں کررہے تھے ان سے پوچھو تو کہیں گے وہ سیاسی جملے بازی تھی۔ بہر حال گجرات انتخاب نے مودی کا کو متبادل نہیں (TINA) والی دلیل  کو خارج  کردیا۔

ملک  سے باہر نکلیں تو جنوب ایشیامیں   2017 کا سب سے بڑا جھٹکااجیت دوول کی  ڈوکلامہم تھی۔ اس معاملے میں بھوٹان  کے اندرگھس کر چین سے مقابلہ کرنے کی کوشش ناکام ہوئی اور فوج  بے نیل و مرام واپس آئی۔ اس تنازع میں  بھوٹان نے بھی بھارت کا ساتھ چھوڑ دیا۔ پڑوسی ملک نیپال سیاسی بحران کا شکار رہا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں اشتراکیت کی صدسالہ برسی  ماسکو میں نہیں منائی گئی  وہیں نیپال کے اشتراکی دوبارہ  اقتدار میں آگئے۔ ہندوستان کی مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنے دستور کو سیکولر  بناکر نافذ کیا۔ اس طرح دنیا کا واحد ہندو راشٹر صفحۂ  ہستی سےمٹ  گیا۔ ہماری بیجا مداخلت نیپال کو چین کی گود میں لے گئی  اور اب تو دونوں ممالک کے درمیان ریل گاڑی چلنے والی ہے۔ خارجی محاذ پریہ  سرکار کی   بہت بڑی ناکامی ہے۔

روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو اقوام متحدہ نے اس صدی کی سب سے بڑی نسل کشی قرار دیا لیکن ہمارے سیاستداں تذبذب کا شکار رہے۔ پناہ گزینوں کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قراردے کر نکال باہر کرنے کی دھمکی دی گئی۔ مودی جی نے رنگون کا دورہ کرکے اسے میامنار کی  داخلی سلامتی  مسئلہ کہہ کربرما حکومت کی بلاواسطہ  تائید کردی۔ اس کے بعد حکومتِ ہند نے پناہ گزینوں کی دیکھ ریکھ کے لیے  بنگلا دیش  حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے رفاہی مدد بھی روانہ کردی۔ یہ متضاد رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امور خارجہ میں پختگی کا فقدان ہے۔ ہندوستان کا بار بار حافظ سعید کی واپسی کے لیے اصرار اور چین کے ذریعہ ویٹو  کسی عزت افزائی کا سبب نہیں بنا۔ حکومت اگر صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے یہ کھیل کھیلتی ہے تب تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ واپس لانےکے اپنے مقصد میں سنجیدہ ہے تو پہلے چین کو راضی کرنا ضروری ہے۔ کلبھوشن جادھو کا معاملہ تلخی کا سبب بن گیا۔

پاکستان کو دنیا کو سب سے بدعنوان ملک سمجھا جاتاہے لیکن  ماہِ ستمبر میں  امریکی جریدے فوربز کے مطابق۶۹   فیصد رشوت کی شرح کے ساتھ ہندوستان ایشیائی ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں یہ شرح ۴۰ فیصد ہونے سبب ویتنام اور تھائی لینڈ نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور میامنار اس کی برابری میں آ گیاہے۔ رشوت ستانی کے معاملے میں اس وکاس اور وناش کی وجوہات ملاحظہ فرمائیں۔ اس سال وکی لیکس کے ذریعہ  دنیا بھر کے سرمایہ داروں اور سیاستدانوں  کی بدعنوانی منظر عام پر آئی۔ اس سے  ہمارے یہاں کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ کسی نے تفتیش کابھی پرزور مطالبہ نہیں کیا۔ اس لیے کہ میں حزب اقتدار کے ساتھ حزب اختلاف کے رہنماوں کا بھی نام تھا اس لیے سیاستدانوں نے چپی سادھ لی لیکن سیول سوسائٹی، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس کو نظر انداز کیا۔ میڈیا بلاوجہ کے غیر اہم سوالات میں الجھا رہا۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایک مقبول وزیراعظم اور مودی جی کے گہرے دوست نواز شریف کو عدالت نے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ ان کی بیٹی  پر تاعمر سیاسی پابندی لگا دی۔ ایسا نہیں ہوا کہ جئے شاہ کا پردہ فاش کرنے والے دی وائر کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو۔ مودی جی بدعنوانی کے خاتمہ کی بات تو کرتے ہیں  لیکن بے خوف عدلیہ کی  برتری کے بغیر کرپشن پر لگام نہیں لگ سکتی۔ بعید نہیں کہ مودی جی ک آشیرواد سے مستقبل میں  ہندوستان ایشیا  تو دور  عالمی بدعنوانی میں اول آجائے  بقول شاعر؎

ہو رہا ہے جس قدر بھی شوقؔ صاحب انسداد   

اتنی ہی کٹتی ہے رشوت مولی گاجر کی طرح

جزیرۃ العرب  میں جاری یمن کی جنگ میں کئی اتار چڑھاو آئے۔ اس پڑوسی  ملک کے ساتھ سعودی عرب نے وہی سلوک  کیا جو ہندوستان نے نیپال کے ساتھ روارکھا۔ ایک زمانے میں یمن کے حکمراں علی عبداللہ صالح  سعودی عرب کے حلیف تھے۔ وہ   حوثی باغیوں کی سرکوبی کررہے تھے اور ایک بڑے حوثی رہنما کو ہلاک کرچکے تھے۔ جب تک حوثی اور صالح ایک دوسرے سے برسرِ جنگ تھے اس سیاسی کشمکش میں مسلکی رنگ نہیں آیا تھا اس لیے دونوں اہل تشیع  ہیں لیکن جب یمن میں عبدالرحمٰن الہادی کی حکومت قائم ہوئی تو علی عبداللہ صالح نے بغاوت کردی۔ اس طرح الہادی اور سعودی ایک طرف اور صالح، حوثی اور ایران دوسری طرف ہوگئے۔ پھر کیا تھا یمن کی جنگ  کو ایک مسلکی رنگ  دے کر شیعہ سنی مسئلہ بنادیا  گیا۔ دسمبر کے اوائل میں  جس دن علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب کی سربراہی میں امن مذاکرات کا خیرمقدم کیا   دوسرے ہی دن حوثیوں نے اسے بغاوت قرار دے کر صالح کو ہلاک کردیا۔ یہ خبر بھی دب گئی اس لیے قاتل و مقتول دونوں ہم مسلک تھے۔ صالح اگر سنی ہوتے یا ان کے قاتل سنی ہوتے تو پھر ایک بارسے مسلک کی بنیاد پردشنام طرازی اور ملی انتشار کا بازاار گرم ہوجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ فی الحال یمن کی راجدھانی صنعاء ایران نواز حوثیوں کے قبضے میں ہے اور عدن   سے سعودی کے حامی  الہادی  حکومت کررہے ہیں۔ یمن   ایک بہت  بڑے خلفشار کے دہانے پر کھڑاہے۔

سعودی  وزیر دفاع اور کماندار محمد بن سلمان یمن کی جنگ  میں تو کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکے مگر اندرونِ ملک اپنے سارے حریفوں کو ٹھکانے لگانے میں  کامیاب ہوگئے۔ سعودی عرب کے اندریکے بعد دیگرے ولیعہد بدلتے رہے۔ یہاں تک کہ  محمد بن سلمان اپنے والد کے جانشین بن گئے۔ اس کے لیے راستہ ہموار کرنے کا کام مغربی ذرائع ابلاغ اور ٹرمپ تک نے کیا لیکن درمیان میں کچھ ایسے ای میل لیک ہوگئے جن سے مصر اور ترکی میں تختہ پلٹ  کے حوالے سے  سعودی اور امارات کے حکمرانوں کی اسرائیل کے ساتھ ساز باز کو بے نقاب ہو گئی۔ عربی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر چونکہ قطر کے الجزیرہ نے شائع کی تھی اس لیے ایک جعلی ہنگامہ کھڑا کرکے قطر پر پابندیاں لگا دی گئیں۔ اس سے وہ خبر تو دب گئی لیکن قطر کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب نے دوسری بڑی غلطی یہ کی کہ اپنے ایک قریبی حلیف سعد الحریری کوریاض  بلا کر ان سے  زبردستی استعفیٰ دلوادیا ۔ اس اعلان میں سعد الحریری نے استعفیٰ  کے لیے ایران اور حزب اللہ کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ یہ ایک ایسی حماقت تھی کہ جس نے سعد کے ساتھ ساتھ لبنان کی عوام کو بھی سعودی عرب  سے دور اور ایران سے قریب کردیا۔

شام کا تنازع گزشتہ سال کے اواخر میں ایک نئے موڑ پر جاپہنچا جب ترکی نے روس کا دامن تھام لیا۔ اس سے بشارالاسد کا خطرہ ٹل گیا۔ شام کے تنازع میں ظالم  اور اسلام دشمن بشارالاسد کی حمایت نے ایران کو ایک اصولی نہیں  بلکہ   قومی مفادات کی خاطر کام  کرنے والے ملک میں تبدیل کردیا۔ حزب اللہ کی سفاکی نے اس کو داعش کا ہم پلہّ بنا دیا۔ اس سال داعش کی مصیبت سے مشرق وسطیٰ کو نجات ملی۔ اس گروہ نے خلافت کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ فلسطینی مسلمان بھی اس سال مختلف آزمائشوں سے سینہ سپر رہے۔ اسرائیل کی جانب سے تحفظ کے نام پر مسجد اقصیٰ پرلگائی جانے والی تنصیبات کو  فلسطینی جانبازوں نے اپنے ایمان اور جہاد  کی مدد سے ہٹوادیا۔ اس سال حماس اور الفتح کے درمیان اتحاد کی کوششوں میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی اور فلسطینی عوام کےفلاح بہبود کی خاطر حماس کی  ایثاروقربانی تاریخ کی کتب میں طلائی حروف  سے نصب ہوگئی۔

اسرائیل کوناجائز طور پر مشرق وسطیٰ میں قائم کیا گیا ہے  لیکن حقیقت میں  وہ ایک امریکی نوآبادیات ہے اس لیے تمدنی اعتبار سے  اس کا شمار یوروپ کے ساتھ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم  نیتن یاہو کی اس سال  بدعنوانی کے مختلف الزامات میں  ۶ مرتبہ پوچھ گچھ سامنا کرنا پڑا۔ یہ اور بات ہے اس ڈھیٹ رہنما نے نہ تو خود استعفیٰ  دیااور نہ اسرائیل کی عدالت یا پارلیمان نے  اس کو معطل یا برخواست کیا۔ پاکستان کے اندر جمہوریت کی دہائی دینے والے اور اسرائیل کو مشرقی وسطیٰ کی واحد جمہوریت قرار دینے والوں کو نواز اور یاہوکے انجام کا موازنہ کرنا چاہیے۔ عام طور پر  بدعنوانی کو تیسری دنیا کی بیماری سمجھا جاتا ہے لیکن یوروپ کا دل فرانس کے سابق صدر نیکولس سرکوزی پربدعنوانی  کاالزام ثابت ہو گیا۔ سرکوزی پر1993 میں پاکستان کوآبدوزوں کی فروخت پررشوت لے کر الیکشن مہم پرخرچ کرنے اور 2014 میں  انتخابی مہم کے لیے غیرقانونی چندہ  کرکے ایک بڑے جج سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے کوشش کے سلسلے میں بدعنوانی اور اپنے اثرو رسوخ کے ناجائز استعمال کا الزام بھی عائد ہے۔

یوروپ کے اندر اس سال  شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے بڑا ہنگامہ رہا۔ اسی کے ساتھ یوروپی  کشادہ دلی اور انسانی ہمدردی کی قلعی کھل گئی۔ جرمنی کے علاوہ بیشتر ممالک کے اندر حکومتوں اور عوام نے شام سے آنے والے بیکس مہاجروں کے تئیں معاندانہ رویہ اختیار کیا۔ برطانیہ  کےیوروپی یونین سے الگ ہونے کے  بعد وزیراعظم بننے والی تھریسا مےنے اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے قبل از وقت  انتخابات کا اعلان کردیا مگر اس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ کسی طرح جوڑ توڑ کرکے تھریسا مے نے اپنی کرسی تو بچالی مگر لیبر پارٹی نے بہتر کارکردگی مظاہرہ کیا۔  اس سال ٹرمپ نے مسلم دشمنی اور مہاجرین کے خلاف  مقامی گوروں کےجذبات بھڑکا  کر انتخاب جیتا اور پہلے دن سے تنازعات میں گھر گئے۔ کبھی حزب اختلاف تو کبھی صحافیوں کے ساتھ بدزبانی کی۔ کئی ممالک  کے باشندوں کے خلاف جن میں زیادہ تر مسلم ممالک تھے  پابندیاں نافذ کیں۔ امریکہ میں بسنے والے  غیرملکیوں کا جینا دوبھر کردیا۔ موحولیات کے متعلق عالمی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ اقوام متحدہ کے فلاح  و بہبود کا شعبہ یونیسکو کے بقایا جات ادا کرنے سے بچنے کے لیے اسرائیل کا بہانہ بناکر الگ ہوگئے اور اقرباء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے داماد اور بیٹی کو قصر ابیض میں دفاتر عطا کردیئے۔

گزشتہ دنوں جب ٹرمپ  پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات  لگ رہے تھے اور روس سے ساز باز کا بازار گرم تھا  تو امریکی صدر نے اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم  منتقل کرنے متنازع فیصلہ کردیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ اس فیصلے کے سبب عالمی برادری سے الگ تھلگ پڑگئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تو انہوں نے اپنے خلاف آنے والی تجویز کو ویٹو کردیا مگر جنرل اسمبلی میں امریکہ کو رسوائی سے نہیں بچا سکے۔ امریکہ کی تاریخ میں ڈونالڈ ٹرمپ کا شمار سب سے زیادہ اوباش اور بددماغ  صد ر کی حیثیت سے ہوگا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب نے مغرب کے جمہوری نظام کے چہرے  سے وہ خوبصورت نقاب نوچ کر پھینک دی جس کی آڑ میں  ملحدین دنیا بھر کے لوگوں کو دین سے برگشتہ کرتے تھے۔ اب عوام  کی یہ  خوش فہمی دور ہوگئی انتخابات کے سبب کوئی نیم پاگل آدمی اقتدار پر قابض نہیں ہوسکتا۔  انتخابات قوم  کی باگ ڈور سماج کے بہترین صلاحیت اور سیرت و کردار  کے حاملین کو سونپنے کا بہترین وسیلہ ہیں۔  ڈونالڈ ٹرمپ  نے ثابت کردیا کہ ایک بار اقتدار پر قبضہ کرلینے کے بعدجمہوری  حکمراں نظام  کی اطاعت  نہیں کرتا بلکہ اس کو اپنا تابع بنا لیتا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ شتر بے مہار کی طرح  انسانی اقدار کوپامال  کررہا ہے اور ہر کوئی اس کے آگے بے دست و پاہے۔ یہ تھا  2017 کا رنگ برنگا  سیاسی منظر نامہ۔ آنے اور جانے والے سال  کی بابت حفیظ میرٹھی  نےکیا خوب کہا ہے۔ ؎

اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ 

لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close