خصوصیسیاست

الیکشن کے بعد

 ہماری رہنما تنظیمیں اگر انتخابات کے موقع پر ہی اپنے وجود کا مظاہر ہ کرنے لگیں اور بعد میں خاموشی اختیار کریں تو ان میں اور دلالوں میں کوئی فرق نہیں آئیگا۔

 مدثر احمد

پچھلے دنوں کرناٹک حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کیا، اس بجٹ میں اقلیتوں کے علاوہ کم و بیش تما م طبقات جات کے لئے منصوبے رائج کئے گئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے پورے بجٹ میں اقلیتوں کے لئے کسی بھی طرح کے بجٹ کا اعلان نہیں کیا جس سے سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا واقعی میں کرناٹک کے اقلیتوں کو کسی بھی فنڈ یا بجٹ کی ضرورت نہیں ہے؟یا پھر کرناٹک میں کوئی اقلیتی طبقے میں شمار ہوتاہے ہی نہیں ہے ؟

 ان سوالات کے جوا بات شاید ہی وزیر اعلیٰ کمار سوامی دینا پسند کرینگے کیونکہ کرناٹک کے 80؍ فی صد اقلیتوں نے اس دفعہ کانگریس کا ہی ہاتھ تھاما تھا اور کمارسوامی یہ سمجھ رہے ہونگے کہ جو اقلیتی اور مسلمان کانگریس کو ووٹ دئیے ہوئے ہوں وہ کانگریس سے ہی اپنا حق مانگیں، ہمارا ان سے کیا لینا دینا ہے۔ بجٹ کے کئی دنوں بعد اقلیتی امور کے وزیر ضمیر احمد نے یہ بیان دیا کہ کمار سوامی نے اقلیتوں کے لئے بجٹ کا اعلان اس لئے نہیں کیا کہ سابقہ حکومت کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اقلیتوں کے لئے بجٹ کا جو اعلان کیا تھا اسے ہی جاری رکھا جائے۔ اس لئے الگ سے بجٹ نہیں ہوگا۔ اگر یہ بات ہے تو وزیر اعلیٰ خود اس بات کا اعلان کرتے کہ جو بجٹ اقلیتوں کے لئے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پیش کیا ہے اسے ہی بحال رکھا جائیگا، لیکن  انہوںنے ایسا نہیں کیا کیونکہ  کمار سوامی نہیں چاہتے کہ وہ اقلیتوں کے لئے بجٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے اکثریتوں کی تنقید کا نشانہ بنیں۔ بات جو بھی ہو، وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے اپنے متعصبانہ رویہ کا مظاہر ہ کیاہے۔

ایک طرف وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے اقلیتوں کے بجٹ کو نظر انداز کیا تو دوسری جانب جے ڈی یس سے اشتراک کرنے والی کانگریس پارٹی نے بھی اس سمت میں تو جہ نہیں دی، حالانکہ کانگریس پارٹی کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ مسلمان ہوں یا دوسری اقلیتیں انکے پاس کانگریس کی اطاعت کرنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اس بات کااعتراف خود نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پر میشور نے کیا ہے کہ مسلمان کانگریس کو چھوڑ کر اور کسے ووٹ دینگے ؟۔ایسے میں مسلمانوں کو سوچنا چاہئے تھاکہ آخر کب تک ہم ذہنی غلامی کاثبوت دیتے رہیں گے۔ دوسری جانب وہ تنظیمیں جنہوںنے انتخابات کے دوران اس بات کاواویلا مچایا تھا کہ مسلمانوں کے تحفظ و سماجی انصاف کے لئے کانگریس ہی واحد پارٹی ہے اس لئے اسی پارٹی کو ووٹ دیا جائے، مسلمانوں کو کانگریس اور بعض مقامات پر جے ڈی یس کو ووٹ دینے کے لئے باقاعدہ فتوئوں کی طرح احکامات بھی جاری کئے گئے تھے۔

 انکے احکامات پر اس دفعہ عام نے مکمل طورپر اعتبار کرلیا، جب ان تنظیموںنے ان سیاسی جماعتوں کے ایجنٹوں کے طورپر کام کیا تھا اورانکی ہی پسند کے مطابق عوام نے انکی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دیا تھا تو اب ان تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے حقوق کے لئے سیاسی جماعتوں پر دبائوڈالیں۔ قوم میں اتحاد لانے، قوم کے مسائل کا حل نکالنے کے لئے جو تنظیمیں انتخابات کے دوران جوش میں اٹھ بیٹھ جاتی ہیں انہیں دوسرے موقعوں پر بھی اس سمت میں اپنی کوششوں کو جاری رکھنا ہوگاورنہ عام لوگوں کے ذہین میں یہ بات آئیگی کہ الیکشن کے موقع پر تنظیموں کے سم کارڈ میں کرنسی ڈالی گئی تھی اس لئے وہ آئوٹ گوئنگ پر آئوٹ گوئنگ کام کررہے تھے اب الیکشن کی کرنسی ختم ہوچکی ہے تو خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

 ہماری رہنما تنظیمیں اگر انتخابات کے موقع پر ہی اپنے وجود کا مظاہر ہ کرنے لگیں اور بعد میں خاموشی اختیار کریں تو ان میں اور دلالوں میں کوئی فرق نہیں آئیگا۔ آج مسلمانوں کی قیادت کے نام پر یوں تو کئی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں اگر ان میں ایک بھی تنظیم سرگرم ہوکر مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرتی ہے تو یقینا مسلمانوں کو انکے حقوق حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، بھلے اس میں وقت لگے لیکن کوئی بھی مثبت کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close