خصوصیملی مسائلہندوستان

امارت شرعیہ، دارالقضاء اور قومی میڈیا

اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں 32 ملین مقدمات زیر سماعت ہیں۔

مرزاعبدالقیوم ندوی

بچے ایک کھیل کھیلتے ہے، چیل اڑی، کوااڑا، توااڑا، گائے اڑی، بھینس اڑی۔ قومی میڈیاکا رویہ بھی مسلمانوں کے مسائل کے سلسلہ میں کچھ اسی طرح کا ہوتاہے۔ شرعی عدالتوں کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے رولنگ کے بعد میڈیا نے جو بے پر کی اڑانا شروع کی ہے اس پر ہنسی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔جسٹس سی کے پرساد اور جسٹس پنا کی چندرگھوش کی بینچ نے اپنے رولنگ میں کہا تھاکہ ’’شرعی عدالتوں کے فیصلو ں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ آگے یہ بھی کہا گیا کہ فریق ثالث کے حقوق پر اثرانداز ہونے والے فتاوٰی جاری نہیں کئے جاسکتے اور یہ کہ ایسے فتویٰ کی پابندی کسی پربھی قانونی اعتبارسے لازمی نہیں ہے۔ ‘‘

مسلم پرسنل لاء بورڈنے واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ’’ہم ایسا کوئی کام نہیں کررہے ہیں جونظام عدلیہ کے متوازی ہواور ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ کسی قاضی کا صادر کردہ کوئی حکم سب کے لیے لازماََقابل تعمیل ہے۔

اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں ۳۲میلین مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سال گزشتہ وزیر قانون وانصاف کپل سبل نے لوک سبھامیں کہا تھا کہ 3,292,785مقدمات کو 1,192فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعہ مارچ 2011ء تک فیصل کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے آگے یہ بھی کہا کہ اس کے باوجو د پورے ملک میں 32millionکیسس ہائی کورٹ اور اس کے ذیلی عدالتوں میں التواء میں ہے۔دسمبر 2012تک 27.6,million cases panding ذیلی عدالتوں میں۔ اسی طرح 4.4,millionکیسس مختلف ہائی کورٹ میں زیرالتوا ء ہیں۔ دہلی ایک ریٹائرڈ جج کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کے فوری حل کے لیے نئے ججوں کی تقرری ضروری ہے۔کئی سالوں سے ججوں کی تقرری عمل میں نہیں آئی ہے۔جس کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے۔ انصاف میں تاخیربھی ہورہی ہے۔

مہاراشٹر میں 32لاکھ سے زائد مقدمات زیرسماعت ہیں

مہاراشٹرمیں ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ وشیشن کورٹ، دیوانی و فوجداری عدالتوں میں ججوں کی آسمایاں خالی ہونے کی وجہ سے 2013-14میں ریاست میں 32لاکھ 34ہزار235مقدمات زیرسماعت ہے۔ اسی طرح کی معلومات مرکزی قانونی و انصاف ومعلومات عامہ کے وزیر روی شنکر نے لوک سبھا میں بحث کے دوران دی۔ ممبئی ہائی کورٹ میں اس وقت 11آسامیاں خالی ہیں، اسی طرح پورے  ملک کے مختلف ہائی کروٹوں میں 270جگہیں خالی ہیں۔ ممبئی ہائی کورٹ میں 2011میں 03لاکھ 62ہزار 885مقدمات زیرالتوا تھے، اسی طرح 2012میں یہ تعداد 03لاکھ 41ہزار 969تھی، 2013میں 28لاکھ 84ہزار398ہیں، جبکہ ملک بھر کے ضلعی عدالتوں جملہ مقدمات کی تعداد 08کروڑ 07لاکھ 14ہزار 371ہیں۔

یہ بات روزروشن کی طرح عیا ں ہے کہ آج تک کسی بھی شرعی عدالت یادارالقضا ء نے اسلامی حدود کانفاذ بھارت میں کیا ہے۔؟یا جبراََ اپنے کسی فتوی پر عمل کرایا ہو۔؟جس طرح کہ ملک میں جاری بے شمار کھاپ پنچایتیں کراتی ہیں۔ گزشتہ دنوں کھاپ پنچایتوں کے فیصلو ں اور اس پرعمل نہ کرنے والے افراد پرظلم وزیادتی کے جوواقعات اخبارات والیکٹرانک میڈیا میں دیکھنے میں آئے ہیں ان کو دیکھ اور سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ برادری یا گاؤں کی پنچایت کا فیصلہ نہ ماننے پر عورتوں کے ساتھ سرعام اجتماعی آبروریزی کی گئی، یا اس کوبرہنہ گاؤں میں گھمایاگیا، لڑکی اور لڑکے والوں کو گاؤں اور برادری سے باہر کردیاگیا۔ان پر بھاری جرمانہ عائد کیاگیا۔اس طرح کے معاملات و واقعات یا فیصلے کس بھی دارالقضا کے ذریعہ نہیں کیے گئے ہیں۔ بھارت کا جو سماجی ڈھانچہ ہے وہ ذات پات پر مشتمل ہے، آج بھی یہاں، ذات پات، برادری واد کا بول بالا ہے۔ تمام تر قوانین کے باوجود مختلف مذاہب کی برادریوں کی پکڑ اپنی اپنی برادریوں پر مضبوط ہے۔آج بھی برادری کے فیصلہ کے خلاف کوئی اگرجاتاہے تو اس کا سوشل بائیکاٹ کیاجاتاہے۔ شادی بیاں، موت مٹی، روٹی بیٹی کامعاملہ ان سے نہیں کیاجاتا ہے۔اسی طرح کی کچھ صورتحال مسلمانوں میں بھی ہے۔ ان کے پاس بھی برادری واد پایا جاتاہے۔ غیر برادری میں شادی نہیں کی جاتی۔ برادری کے چودھری کافیصلہ حتمی ہوتاہے۔

حکومت مہاراشٹرنے گاؤں میں بڑھتے ہوئے جھگڑے فساد کے مد نظر ’’مہاتماگاندھی تنٹا مکتی ابھیان ‘‘چلارکھاہے۔ یہ کیا ہے ؟آپس کے گاؤں کے جھگڑے گاؤں ہی میں حل ہوجائیں لوگ کورٹ کچریوں کے چکر سے نجات پاسکیں۔ کیونکہ قانون اتناسستانہیں ہے کہ غریب آدمی وکیلوں کی بھاری اور طویل مدت چلنے والے قانونی کاروائی کے اخراجات برداشت کرسکیں۔ اسی لیے حکومت مہاراشٹرنے’’ مہاتماگاندھی تنٹا مکتی  ابھیان‘‘ گاؤں گاؤں میں چلارکھا ہے۔

مہاراشٹرکی صو رتحال:

مہاراشٹرمیں ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ  وشیشن کورٹ، دیوانی و فوجداری عدالتوں میں ججوں کی آسمایاں خالی ہونے کی وجہ سے 2013-14میں ریاست میں 32لاکھ 34ہزار235مقدمات زیرسماعت ہے۔ اسی طرح کی معلومات مرکزی قانونی و انصاف ومعلومات عامہ کے وزیر روی شنکر نے لوک سبھا میں بحث کے دوران دی۔ ممبئی ہائی کورٹ میں اس وقت 11آسامیاں خالی ہیں، اسی طرح پورے  ملک کے مختلف ہائی کروٹوں میں 270جگہیں خالی ہیں۔ ممبئی ہائی کورٹ میں 2011میں 03لاکھ 62ہزار 885مقدمات زیرالتوا تھے، اسی طرح 2012میں یہ تعداد 03لاکھ 41ہزار 969تھی، 2013میں 28لاکھ 84ہزار398ہیں، جبکہ ملک بھر کے ضلعی عدالتوں جملہ مقدمات کی تعداد 08کروڑ 07لاکھ 14ہزار 371ہیں۔

 ملک کی مختلف عدالتوں میں خواتین سے متعلق 26لاکھ، 82ہزار سے زائدمقدمات التواء میں ہے۔ملک بھر ضلعی عدالتوں میں 5984ججس کے آسامیاں خالی ہے۔ ہائی کورٹ میں 395اور سپریم کورٹ6ججس کے عہدے خالی ہیں۔

   دارالقضاء کیا ہے:

سب سے بڑی غلط فہمی یہ پیداکی جارہی ہے کہ دارالقضاء یا امارت شرعیہ کے ذریعہ ملک میں متوازی عدلیہ نظام چلایا جارہاہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر اسلامی اداروں نے صاف و واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’اس ملک میں ہم کوئی متوازی نظام یا کورٹ قائم نہیں کرناچاہتے ہیں، دارالافتاء یا دارا لقضا ء لوگوں کے سہولتوں کے لیے قائم ہے۔لوگ یہاں پراپنے مسائل لے کرآتے ہیں، فتوی ٰ طلب کرتے ہیں، اور چلے جاتے ہیں، مفتی کا کام صرف اتنا ہے کہ جوکچھ پوچھا گیا ہے، شریعت کے دائرے میں اس کاجواب وہ سائل کودیں، اس پرعمل کرانایا فتوی ٰکو مانننے پرزبردستی کرانا یہ مفتی کا کام نہیں ہے۔ اس نے شریعت کی روشنی میں اپنی رائے دے دی ہے۔ہمیں کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ ملک کے کسی دارالقضاء نے فتوی ٰ نہ ماننے پر کسی شخص کو اسلام سے یا گاؤ ں، باہر کیا ہو، یا اس کے ساتھ کوئی غیر شرعی وغیر قانونی عمل کیا ہو۔ اس ترقی یافتہ دور میں ہر انسان کسی بھی معاملہ میں یکسرپٹ  سے رائے طلب کرتا ہے کہ فلاں معاملہ میں آپ کے رائے کیا ہے، اگر کوئی بیمار ہوتاہے تو وہ اس بیماری کا علاج کرنے والے کسی ماہر کے پاس جاتاہے، قانونی معاملات میں بھی لوگ وکیلوں سے رائے طلب کرتے ہیں۔ ملک میں اس وقت کئی consult /expertکام کرتے ہیں، جو حیثیت ان لوگوں کی ہے وہیں حیثیت دارالقضاء و دارالافتاء کی بھی ہے۔

اس وقت پورے ملک میں 150کے قریب دارالقضا چلتے ہیں، ان میں سب سے بڑا دارا لقضاء امارت شرعیہ بہار اڑیسہ ہے، دوسرا کرناٹک ہے۔ اس کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بھی اپنے دارالقضاء ہیں جن کی تعداد 40یا 42ہیں۔ مہاراشٹرکے شہر اورنگ آبادکو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں پر مراہٹواڑہ سطح پر گزشتہ چاردہاہیوں سے امارت شرعیہ کا نظام قائم ہے۔اس کے تحت مہاراشٹرکے دیگر اضلاع جیسے پربھنی، بیڑمیں دارالقضاء کانظام قائم ہے۔ان کے علاوہ مسلم آبادی والے کئی شہروں میں دارالافتاء مسجدوں اور مدرسو ں میں قائم ہیں جہاں رات دن لوگوں کے مسائل کو حل کیا جاتاہے۔ پولیس اسٹیشنوں اور عدالتوں میں جانے سے لوگوں کو منع کیا جاتاہے، کیونکہ ان اداروں میں پہلے ہی سے بہت کام ہوتاہے۔بہت جگہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ خود مقامی پولیس اسٹیشن والے مسلم میاں بیوی کے جھگڑے کے معاملہ میں دونوں کو دارالقضاء یا دار ا لافتاء یا مسجد کمیٹی  کے پاس بھیجتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند شاخ اورنگ آباد کی جانب سے شہر میں کونسلنگ سینٹر قائم ہے، سینٹر کے انچارچ مولانا عبدالماجد ندوی کے اطلاع کے مطابق جس میں 2013سے2018تک طلاق، خلع کے 235مقدمات کا اندراج ہوا تھا، جس میں سے 06طلاق اور 04عمل میں آئے ہیں اور 85مقدمات باہمی افہام وتفہیم کے ذریعہ حل ہوئے ہیں۔

دارالقضاء شولاپور: میں جاری دارالقضاء میں گزشتہ پانچ سال میں 182مقدمات کا اندراج ہوا 40صلح نامہ، 62خلع، طلاق 12، تقسیم میراث 4، اور 45مقدمات خارج (فیصل) کیے گئے۔

دارالقضاء ناسک : میں اشرف فاؤنڈیشن نے بہت ہی عمدہ کام کیا ہے ان کے پاس ایک سال میں 267طلاق کے لیے مقدمات درج ہوئے تھے جس میں سے انہوں نے افہام و تفہیم کے ذریعہ 250مقدمات کوفیصل کرتے ہوئے طلاق لینے سے فریقین کو روک دیا۔

  آج حکومت بھی آپسی تنازعات، میا ں بیوی کے گھریلو جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے کئی ادارے اور سینٹرچلارہی ہیں۔ جس میں لوک شاہی دن ہے، لوک عدالت، گاؤں پنچایت، مہیلا منڈل، مہیلا تکرار نوارن کیندر اور دیگر کئی ادارے ملک میں چل رہے ہیں جو افہام وتفہیم کام انجام دیتے ہیں، یہ ادارے جو فیصلہ کرتے ہیں اور جو رائے دیتے ہے اس کو ماننا یاناماننا سامنے والے منحصر کرتاہے۔جب ملک میں یہ ادارے حکومت کی سرپرستی میں چل سکتے ہیں تو دارالقضاء اور دارالافتاء کیو ں نہیں ؟۔ بہار کی امارت شرعیہ کے تحت چلنے والے دارالقضاء میں 11یا 12مقدمات میں ایسا ہوا ہے کہ دارالقضاء کے فیصلہ کے بعد فریق ثانی مقامی عدالتوں سے رجوع ہوئے لیکن مقامی عدالتوں نے دارالقضاء کے تحقیقی فیصلوں کودیکھ کرانہی فیصلوں کو برقراررکھااور فریقین کو دارالقضاء کے فیصلوں پرعمل کرنے کے لیے پابند کیا۔اورنگ آباد امارت شرعیہ دارالقضاء کے کارگذارقاضی شریعت  مولانا یونس قاسمی کاکہنا ہے متعددمرتبہ مقامی famaliy courtنے فریقین کو دارالقضاء سے رجوع کرنے کے لیے کہااسی طرح ایک مقدمہ جوپہلے دارالقضاء میں جاری تھافریقین عدالت سے رجوع ہوئے آخر میں high courtنے اپنے فیصلہ میں تحریر کیا کہ ’’آپ لوگ دارالقضاء سے رجوع ہوئے تھے وہیں پراپنامسئلہ حل کیوں نہیں کیااوردیگر وجوہات کوبنیادبناکر مقدمہ خارج کردیاگیا۔

 ملک بھر میں معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دہلی نربھیا اور کٹوا میں عاصفہ، اناؤ  جیسے حادثات نے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ نیشنل کرائم بیور ریکارڈکے2016میں شائع کردہ  اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مختلف عدالتوں میں درندگی کے 36657مقدمات زیر التوا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ملک میں روزانہ 55بچیوں کے زیادتی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ملک میں ہر سال20ہزارسے زیادہ بچیوں سے دست درازی اور زنابالجبر کے نئے معاملہ سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح ملک میں ہرسات سکینڈ میں ایک کم سن بچی کی شادی ہوتی ہے۔10 کروڑ ایسی لڑکیاں ہیں جن کے گلے میں منگل سوترہیں۔ 2011میں ہوئی مردم شماری کے اعداد و شمار کے حساب سے 30.2%کم عمر ی میں شادیاں ہوتی ہیں۔

 دستور کی دفعہ 25 میں ہر بھارتی شہری کو مذہب کی آزادی کا حق، یعنی آزادیِ ضمیراور مذہب قبول کرنے او ر اس کی پیروی اور تبلیغ کی آزادی حاصل ہے۔اسی طرح دفعہ 26میں مذہبی امور کے انتظام کی بات کہی گئی ہے۔دفعہ 29میں اقلیتوں کو اپنی زبان، رسم الخط، ثقافت کومحفوظ رکھنے کا حق دیاگیا ہے۔ دفعہ 30میں اپنے تعلیمی ادارے او رمذہبی ادارے چلانے کا حق حاصل ہے۔ دستور کے عطاکردہ ان کے حقوق کے باوجود شرعی عدالتوں کے خلاف ہوّا کھڑا کرنا اور یہ کہنا کہ مسلمان دستور کو نہیں مانتے، وہ یہاں اسلامی نظام لانا یا چلانا چاہتے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ اور ملک کی امن پسند عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مرزا عبدالقیوم ندوی

قومی ترجمان آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن

2 تبصرے

  1. Janab mera ye kaha h k maldaris m aisi padhai Bhi ho k jisme har fild m Muslim no jawan taryyar ho islami dr. Islami injiniyar islami veggaynic

  2. Jakat ka 50 parsent Paisa jaya ja raha h madaris m padhkar talaba faragat k bad siwaye mayusi k unke chehre par kuch nahi hota who dosre kam kaj m lag jate h10 15 sal madarse m rahkar bhi who dusra kam kar rahe h to hame sochne ki jarurat h…k galti kaha ho rahi h sirf bacche pal rahe to janab yateem khana to h nahi madarse h …

متعلقہ

Close