امار سونار بنگلہ (قسط چہارم)

صفدر امام قادری

 انگریزوں کے زمانے میں ہندستان کے جن شہروں کی بڑی دھاک تھی، ان میں کلکتہ کے ساتھ ڈھاکہ کی اہمیت بھی کم نہیں تھی۔ بھیڑ بھری آبادی، پرانے دور کی یادیں محفوظ رکھتی ہوئی عمارتیں ، کچھ کچھ جاگیردارانہ تہذیب کی جھلکیاں ، بنگالی مسلمانوں کی اکثریت اور قدم قدم مسجدوں کی موجودگی کے باوجودملے جلے معاشرتی نمونے، امارت اور غربت کی یکجائی، ترقی یافتگی اور مفلوک الحالی کی زندہ مثالوں کے ساتھ ڈھاکہ ہر سیلانی کو اپنی طرف عجیب و غریب کشش کے ساتھ آواز دیتا ہے۔ جب ہندستان میں نئے تعلیمی نظام کا سلسلہ شرو ع ہوا اور یونی ورسٹیوں کا ڈھانچہ کھڑا کیا جانے لگا، ابھی ایک درجن یونی ورسٹیاں بھی قائم نہیں ہوئی تھیں ، اس وقت ڈھاکہ یونی ورسٹی کے بارے میں انگریزوں نے غورو خوض شروع کیا۔ ۱۹۱۲ء میں یونی ورسٹی بنانے کے سلسلے سے ہائی لیول کمیٹی بنی اور اس کی سفارش کے نتیجے میں ۱۹۲۱ء میں ڈھاکہ یونی ورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔

 لارڈ کرزن نے اپنے دور میں ڈھاکہ میں ایک مہتم بالشان عمارت کی تعمیر شروع کی تھی جس کی تکمیل ان کے انگلینڈ واپس ہوجانے کے بعد ممکن ہوسکی۔ ۱۹۱۱ء میں ڈھاکہ کا سب سے پراناڈھاکہ کالج اس عمارت میں منتقل ہوا۔ ڈھاکہ کالج ۱۸۴۱ء میں قائم ہوا تھا اور ہندستان کے چند سب سے قدیم تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ جب ڈھاکہ یونی ورسٹی بنانے کی تجویز حقیقت میں بدلنے کو آئی، اس وقت وہی احاطہ نئی یونی ورسٹی کے لیے منتخب کیا گیا جسے اب کرزن ہال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ملک کی آزادی اور دوسری بار حصولِ آزادی کے باوجود لوگوں نے اس احاطے کو کرزن کے نام سے ہی محفوظ رکھا ہے ورنہ ہندستان اور پاکستان میں انگریزی حکومت کی ہزاروں نشانیاں نام کی تختیوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی بچائی جاسکی ہیں ۔ آج ڈھاکہ یونی ورسٹی کے سائنس شعبوں کے لیے کرزن ہال وقف ہے اور اس سے ایک میل کے فاصلے پر آرٹس اور سماجی علوم کے شعبوں کے لیے نیا کیمپس قائم کیا گیا۔ سو برس سے زیادہ پرانی عمارت کو اندر سے جدید بنانے کی کوششیں نظر آتی ہیں مگر باہر سے نوآبادیاتی اہتمام آج بھی صد فی صد قائم ہے۔ انھیں کھڑکیوں میں ایئرکنڈیشننگ کی مشینیں بھی کچھ اس انداز سے آراستہ کی گئی ہیں جس سے یہ الزام عائد نہیں ہوسکتا کہ ان عمارتوں کی عظمت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ اس کیمپس میں نئی عمارتوں کو موجودہ عہد کی ضرورتوں کے پیش نظر داخلے کی طرف سے جوڑ جاڑ کرنے کی مہم نہیں چھیڑی گئی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی آپ احاطے میں داخل ہوتے ہیں ، ایک صدی پہلے سے قوم کی تعلیمی مہم اور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسلاف کی مستقبل شناسی کے سامنے سر جھک جاتا ہے۔ اس کیمپس کے باہر سڑک کے پار یونی ورسٹی کے کچھ دوسرے دفاتر موجود ہیں ۔ لڑکیوں کا بارہ منزلہ ہاسٹل بنایا گیا ہے مگر پرانی عمارت کے جاہ و جلال اور اہتمام کا اس انداز سے خیال رکھا گیا ہے کہ نیا ہاسٹل بھی اسی پرانے انداز اور رنگ و روغن کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے روایت اور جدت کے امتزاج کی شکل میں ہمارا سر فخر سے اونچا کرے۔

کرزن ہال کے بیچ سے مختلف شعبوں کی عمارتوں سے جب آگے بڑھتے ہیں تو طلبہ کے ہاسٹل، ڈھابے اور دکانوں کے بیچ میں بڑا سا تالاب؛ ایک خوش نما منظر فراہم کرتا ہے۔ تالاب کے کنارے ہر طرف بچوں کا ہجوم، نئے پرانے پیڑوں کا سایہ، نیچے سڑک کے علاوہ تمام جگہوں پہ ہری گھاس— ڈھاکہ یونی ورسٹی اپنی طرف بڑے لبھاونے انداز میں بلاتی ہوئی نظر آئی۔ شام میں اس روز چاند بھی کچھ اس انداز سے نکلا کہ تالاب میں اس کا عکس اور یونی ورسٹی کی قدیم عمارت پر اس کی روشنی کے پرتو سے سب کچھ معمور ہوگیا تھا۔ طلبہ کی بھیڑ میں تڑک بھڑک کے بجاے ’ڈائون ٹو ارتھ‘ انداز نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ہوٹل کا انداز بھی کفایتی تھا اور ایسا محسوس ہوا کہ بنگلہ دیش کی کمزور مالی حالت کے طالب علم بھی اس یونی ورسٹی میں بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔

ڈھاکہ یونی ورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کا کیمپس نیا ہے اور نئے انداز کی عمارتوں کا سلسلہ در سلسلہ نظر آتا ہے۔ قلب میں جہاں سے مرکزی عمارت میں جانے کا راستہ ہے وہیں اُن تین شہیدوں کے آدم قد مجسمے کو بڑے اہتمام سے پیش کیا گیا ہے۔ جنھوں نے ۱۹۵۲ء کی لسانی تحریک کا بگل پھونکا تھا۔ دو مرد اور ایک عورت نے ڈھاکہ یونی ورسٹی کے طلبا و طالبات کے تعاون سے جو تحریک چھیڑی، آج اسی کا نتیجہ بنگلہ دیش کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ یونی ورسٹی نے اپنے ان تحریک کاروں اور محسنوں کو اس اہتمام سے یاد رکھا، یہ قابلِ توجہ ہے۔ اکثر عمارتیں پانچ منزلہ اور کلاس روم کشادہ اور طلبہ سے بھرے پرے نظرآئے۔ مختلف شعبوں کے صدور کے دفاتر میں جانے کا اتفاق ہوا، سب کشادہ، سلیقہ مند اور رکھ رکھائو کے معاملے میں تازہ دم اور سجے دھجے نظر آئے۔ اردو اور فارسی شعبے بھی اسی سجاوٹ اور خوش سلیقگی کے اہتمام سے روشن معلوم ہوئے۔ اکثر اساتذہ کے انفرادی چیمبرس ہیں ، چند ایسے کمرے ہیں جن میں دو اساتذہ کے رہنے کی جگہ ہے تو ان میں اتنی کشادگی ہے کہ اگر دونوں کے ملاقاتی اور طلبہ ایک وقت میں آجائیں تو بازار کا منظر نہ پیدا ہو۔ راہداری کی کشادگی کا یہ عالم ہے کہ ہر چیمبر یا کلاس روم کے سامنے بیس پچیس اور پچاس بچے آتے جاتے یا محوِ گفتگو ہوں تو کسی کو پریشانی نہیں ہوگی اور نہ ہی بھیڑ کا گمان گزرے گا۔ ہر استاد کا کمرا جدید سہولیات سے لیس ہے، اے۔سی۔ سے تو شاید کوئی کمرا خالی نظر نہیں آیا، جدید طرز کی الماریاں ، صوفے، بُک شیلف اور ٹیبل کرسیاں قرینے سے آراستہ تھیں ۔ کلاس روم میں پنکھے قاعدے سے چلتے ہوئے ملے۔ صفائی کا جو انداز نظر آیا ویسا ہندستان کی شاید ہی کسی یونی ورسٹی میں دیکھنے کو ملے۔ طلبہ دوڑتے بھاگتے نظر آرہے ہیں لیکن راستوں میں ایک تنکا بھی گرا ہوا نظر نہیں آیا، نہ پان کی پیک اور نہ سگریٹ اور ماچس کی تیلیاں ۔ حالاں کہ کیمپس میں چاے پان اور سگریٹ کے بکنے کا انتظام موجود تھا۔ آٹھ بجے رات تک بیش تر ڈیپارٹمنٹ میں اساتذہ بھی مل جاتے ہیں اور طلبہ کو بھی اس وقت دفتری کاموں کے سلسلے سے بھی کاغذات لے کر آتے جاتے دیکھنے کا موقع ملا۔ لڑکے اور لڑکیوں کا تناسب تقریباً مساوی ہوگا، ہندستان کی طرح جگہ جگہ جوڑے کی شکل میں بھی وہ نظر آئے مگر دوسروں کو فقرے کستے یا سیٹی بجاتے کہیں نہیں دیکھا۔ جوڑے بھی اپنی سماجی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے اطوار کو سنبھالے ہوئے ملے۔

  آرٹس کیمپس کا ایک داخلہ عجیب لبھاونا ہے۔ داخلے پر ذرا قدم جمائیں تو قاضی نذر الاسلام کا مقبرہ ہے، اس سے متصل بنگلہ دیش کا نیشنل میوزیم ہے۔ جیسے داخل ہوئیے داہنی طرف مسجد اور بائیں جانب یونی ورسٹی کا مرکزی کتب خانہ ہے۔ کتب خانے میں طلبہ کے لیے پانچ سات بڑے بڑے ریڈنگ ہال ہیں جو سب کے سب ایئر کنڈیشنڈ ہیں ، ریسرچ اسکالرس اور اساتذہ کے لیے بھی الگ سے چھوٹے اور بڑے کمرے متعین ہیں ۔ لائبریری کے اسٹیک دیکھنے سے یہ اندازہ ہوا کہ ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ۔ قدیم کتابیں بھری ہوئی ہیں ۔ اردو فارسی اور عربی حصے میں گئے تو وہاں بھی اردو کی تقریباً اہم کتابیں بڑی تعداد میں موجود تھیں ۔ تازہ کتابیں جو ہندستان میں پچھلے دنوں شائع ہوئیں ، ان میں سے بعض کے نسخے دیکھ کر اس بات کا اطمینان ہوا کہ لائبریری میں نئی چیزوں کے آنے کا سلسلہ قائم ہے۔ ہماری دلچسپی قلمی نسخوں کے دیکھنے کی تھی۔ وقت محدود تھا لیکن ہمیں شعبۂ مخطوطات میں جانے کی پوری خوش دلی کے ساتھ اجازت اس وجہ سے بھی ملی کیوں کہ ہمارے ساتھ رہنما کے طور پر سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر محمود الاسلام موجود تھے اور جن کے اثر و رسوخ سے انتظامی مسائل چٹکی بجا کر حل ہوجاتے تھے۔ فورٹ ولیم کالج کی بعض نایاب مخطوطات نظر آئیں جن میں سے کئی ایسی ہیں جنھیں تدوینِ نو کے بعد اشاعت کی منزلوں سے گزرنا چاہیے۔ فورٹ ولیم کالج کی طبع شدہ کتابیں بھی نظر آئیں ۔ اٹھارویں صدی کے بہت سارے شعرا، ادبا اور قواعد نویسوں کے خطی نسخے بڑے سلیقے سے وہاں محفوظ ہیں ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو، فارسی اور عربی کے ایسی نادر مسودات کو اہتمام کے ساتھ شائع کیا جائے اور ان کے فیضان کو عام کیا جائے۔ میں نے ڈھاکہ یونی ورسٹی کے اساتذہ کو ایسے تحقیقی کاموں کی طرف توجہ کرنے کے لیے رغبت پیدا کرنے کی کوشش کی۔

 یونی ورسٹی کے اندر کی سڑکیں کشادہ ہیں ۔ جگہ جگہ ہری گھاس کا اہتمام، نئے پرانے پیڑ ہر طرف اس ہریالی میں اضافہ کرتے ہیں ۔ کیمپس میں آنے اور جانے کے لیے بہت سارے راستے متعین ہیں ۔ تحفظ کے نام پر ان میں سے کسی کو بھی بند کردینے یا محدود کرنے کا انداز نظر نہیں آتا۔ سیکیورٹی کے معمولی انتظامات تو کہیں کہیں نظر آئے مگر بالعموم ہندستان کی طرح حفاظت کے نام پر تعلیمی اداروں میں بھی دہشت زدگی دیکھنے کو نہیں ملی۔ وائس چانسلر بھی چند اساتذہ کے ساتھ آئے اور اسی طرح رخصت ہوئے۔ کیمپس میں رات میں بھی ہاسٹل یا لائبریری سے لڑکیوں کو تنہا آتے جاتے دیکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عمومی تحفظ کے مسائل فوجداری حدوں تک نہیں پہنچے ہوئے ہیں ۔

  ڈھاکہ یونی ورسٹی طلبہ اور اساتذہ کو جدید انداز کی تعلیم کی ساری سہولیات دیتے ہوئے اپنی اقدار اور قومی تشخص کے معاملے میں غفلت شعار نہیں ہے۔ اپنی مادری زبان کو دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے ہاتھ میں گروی رکھ دینے کا عمل بھی کم سے کم بنگلہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے اعلا تعلیم یافتہ لوگ ہم ہندستانیوں کی طرح شرمندہ نظر نہیں آتے بلکہ اپنے ملک اور اپنی زبان کے لیے جس انداز کی انھوں نے قربانیاں دی ہیں ، اس کا فخر ان کے ہر اقدام سے جھلک رہا تھا۔ (جاری)



⋆ صفدر امام قادری

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

امار سونار بنگلہ (تیسری قسط)

مغربی بنگال اور مشرقی بنگال اب دو ملکوں میں منقسم ہیں اور آج پڑوسی ملکوں کی حیثیت سے سرگرمِ کار ہیں۔ سے می نار میں پڑوسی ملک کے ادب کا جائزہ پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا گیا۔ اس جلسے میں شعبۂ اردو کے استاد حسین البنّٰی نے نہایت کارآمد مقالہ ’’عہدِ حاضر میں اردو کے فروغ میں بنگلہ دیش اور بیرونی ملک کے مدارس کا رول‘‘پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے