خصوصی

امت کا انتشار: کچھ اندیشے،کچھ حقائق

 محمد شاہ نواز عالم ندوی

ایک عجیب رشتہ:۔ ایک وقت تھا جب کوئی پڑوسی ملک کسی پڑوسی ملک کو نہیں جانتاتھا اگر جانتا بھی تھا تو دونوں کے درمیان عناد، دشمنی ہی وجہ تعارف ہواکرتی تھی، قبیلہ قبیلہ سے نبرد آزما تھا۔ مختصر یہ کہ پوری انسانیت بکھری پڑی تھی ، انسانیت نام کو بھی باقی نہیں تھا۔ لیکن محمد عربی کی بعثت اور آپ کے ہمہ گیر پیغام نے پوری کائنات کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک متحدہ کڑی میں جوڑ کر ایک ایسی امت بنایا جس کی دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ او رحضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ نے مانگی تھی اور امت کہتے ہی ہیں جس واحد اور متحدہ قوت کو۔ پھر ایک عجیب وغریب لیکن انتہائی مستحکم ومضبوط رشتہ قائم ہوا جس کی بنیاد کسی خون، کسی قبیلہ، کسی رنگ، کسی نسل، کسی خاندان پر نہیں رکھی گئی کیوں کہ ان تمام میں کہیں نہ کہیں اپنا مفاد اپنی خودغرضی شامل ہوتی ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد ایمان ، اعمال، اخلاق جیسی بے لوث، بے غرض امور پر رکھی گئی اور یہ واضح کردیا گیا کہ یہاں رنگ ونسل، زبان وکلچر، ملک ووطن، کی کوئی قید نہیں ہے، بلکہ کائنات کی بے پناہ وسعتوں کی طرح یہ رشتہ وسیع تر ہے۔ یہاں ہر فرد خواہ وہ حبش کالاکلوٹا ہو یا ایران کا گندمی مائل، برطانیہ کا سفید فام ہو یا ہندوستان کا کالا اور سنولا سب آپس میں بھائی ہیں اور سب ایک دوسرے کے خوشی ومسرت، رنج وغم سب میں برابر کے شریک ہیں۔ فرمان رسالت ہے “باہمی یگانگت، محبت اورلطف وکرم میں اہل ایمان کی مثال ایک جسم کی سی ہے اگر ایک عضو میں کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم ہی شب بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہوجاتاہے۔“ (بخاری ومسلم)
امت مسلمہ کی خصوصیات:۔ امت کے امتیازی خصوصیات واوصاف میں سے نمایاں وصف امت کی وحدت ہے، ”بلاشبہ یہ تمہاری امت ایک متحد اور واحد امت ہےاور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔“ (القرآن) جس طرح اللہ کی وحدت ایک حقیقت ہے اسی طرح امت مسلمہ کی وحدت ایک حقیقت ہے۔ کیوں کہ اللہ ایک، رسول ایک، کتاب ایک، منزل مقصود ایک، نظام ایک تو پھر اس امت کو بھی متحدہ امت ہوناچاہئے۔ یہ امت وحدت افکار، وحدت کردار کا مظہر ہے۔ کیوں کہ ان کا انحصار کتاب وسنت میں بیان کردہ اصول وضوابط پر ہے اور اس پر پوری امت متفق ہے امت کے تمام افراد میں ہدف اور منزل مقصود کے بارے میں اطمینان بھی اس میں شامل ہے۔ جزئیات اور فروعات میں اختلاف کا وجود وحدت افکار کے منافی نہیں ہے۔
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خداداد
اس امت کی بہت ساری خصوصیات میں ایک بڑی خصوصیت عالم گیرت ہے۔ یہ عالم گیر امت ہے اس کا تعلق کسی علاقہ، رنگ ونسل یا زبان سے نہیں ہے۔ یہ کوئی بکواس اور بے حقیقت بات نہیں ہے۔ اول یوم سے ہی اس امت کے قافلہ میں اگر صدیقؓ وعمرؓ وعلیؓ ہیں تو حضرت بلال حبشیؓ، صہیب رومیؓ ایران، سلمان فارسیؓ صف اول میں شامل ہیں اور اس امت کی عالم گیرت کی وجہ عقیدہ وایمان کی بنیاد ہے جو لامحدود اور کسی زمان ومکان کا پابند نہیں ۔ یہی وہ عجیب رشتہ ہے جو کسی دوسری قوم وملت میں دور دور تک نہیں نظر نہیں آتا۔
اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک ونسب پر انحصار قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیر
اس امت کے فرائض منصبی تو بہت ہیں جس میں سے منجملہ اہم فریضہ دعوت ربانی اور پیغام نبوی کا ارسال ہے کیوں کہ اس کے پاس جو پیغام ہدایت ہے وہ ایک امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن اس سے پوچھ ہوگی۔ لیکن افسوس کہ اس فرض منصبی کو جس دن سے امت نے پس پشت ڈال دیا ہے اسی دن سے یہ امت قعر مذلت میں گرتی چلی گئی۔ خیر میں اس تحریر میں اس طرف نہیں جانا چاہتا۔ یہاں مجھے آپ سے اس امت کی جمعیت ، اتحاد اور ماضی میں اختلاف سے ہوئے نقصان پر ایک مختصر سی گفتگو کرنی ہے۔ میں نے ازیں قبل اپنے مضمون ”موجودہ ملکی حالات اور ہماری ذمہ داریاں“ میں سقوط اندلس کے حوالہ سے اپنے احساسات کو آپ تک پہنچانے کی کوشش کی تھی اور اب میں اسی سلسلہ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سقوط بغداد کا تھوڑا سا خاکہ پیش کرکے اختلافات کے نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش کررہاہوں۔
تیرہویں صدی عیسوی ایشیا کے بڑے حصہ کے لئے عموماً اور مسلمانوں کے لئے خصوصاً بڑی ہی مصیبتوں اور آزمائشوں کا زمانہ قراردیا جاتاہے۔ اسی صدی میں تارتاریوں کا سیل رواں منگولیاں کے سنسان صحرائی علاقہ سے نکلا دیکھتے ہی دیکھتے پوری مسلم دنیا پر چھاگیا۔ ابن اثیرؒ ”تاریخ کامل“ میں لکھتے ہیں کہ تارتاریوں کا فتنہ ایک عظیم حادثہ اور مصیبت عظمیٰ تھا۔ علامہ جلال الدین سیوطیؒ کہتے ہیں تارتاری ایک بپھرا ہوا بادل تھا جو ہوا کے رخ پر ادھر ادھر منڈلاتا پھر رہاتھا۔ لیکن اس نے وہ تباہی مچائی کہ تاریخ انسانی میں ایک ظالم حکمراں بخت نصر کے مظالم بھی کانٹ اٹھے۔ شیخ سعدی شیرازیؒ کہتے ہیں کہ اس واقعہ پر خون کی بارش ہوتی تو یہ ٹھیک بات تھی۔ تاریخ وصاف کے مصنف نے سیاق وسباق کے ساتھ حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ”مکمل 50دن تک ہلاکوخان نے بغداد کا محاصرہ کیا، علم وفن، اسلامی وراثت کا مرکز، خلافت عباسیہ کا دارالسلطنت بغداد اس وقت دنیائے اسلام کا سب سے شاندار اور آباد شہر تھا قلعہ بندیاں مضبوط تھیں۔ لیکن نہ دل اور نہ ایمان مستحکم تھے۔
آخرکار ۴صفرالمظفر ۵۵۶ھ بروز کو بغداد تاخت وتاراج کردیا گیا۔ ہلاکو نے لشکر کو حکم دیاکہ بغداد کے اندر اور باہر جوکچھ ہے سب کچھ ملیا میٹ کردیا جائے۔ سب سے پہلے انہوں نے خندق کو مسلمان مقتولین کی لاشوں سے پاٹ کر سڑک کی زمین کے برابر کرڈالا، اس کے بعد بھوکے بھیڑیوں کی طرح شہریوں پر پل پڑے۔ شہر کی بدرو ¿ں (نالوں) سے گندے پانی کی جگہ خون بہنے لگا جو دریائے دجلہ میں شامل ہوگیا۔ مسلمان مو ¿رخین نے لکھا ہے کہ 20لاکھ مسلمان فوجی، مردوزن، بچے، بوڑھے قتل کئے گئے۔ مغربی مصنفین کے مطابق ایک لاکھ یا کم وبیش افراد قتل ہوئے، شاہی خزانوں اور محلات کو لوٹ کر جھاڑوپھیردی گئی، محلات کے کنگرے تباہ کردیئے گئے۔ وہ مکانات اور شبستان کہ بہشت بریں کے ایوانوں کا تصور پیش کرتے تھے اور عظیم الشان قلعے گلیوں کی خاک کے برابر کردیئے گئے۔
اسباب ووجوہات:۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخیر ایسا ہوا کیوں اور کیسے یہ ممکن ہوسکا کہ ایک باہری طاقت وقوت نے جس کو شہر کے اندر کے حالات کا کوئی علم نہیں اور ایک ایسی فوج جس کی پوری زندگی صحرا میں گزری کبھی اس نے شہر کا رخ نہیں کیا، شہری تمدن کی اس کو ہوا تک نہیں لگی اس نے اتنی جرا ¿ت کا مظاہرہ کیسے کیا؟ کیا شہر میں وہی انسان نہیں بستے تھے، کیا بغداد میں اسی امت کی سلطنت قائم نہیں جس کا سلسلہ ¿ نسب عمرفارقؓ، علی ابن ابی طالبؓ ، خالد بن ولیدؒ اور طارق بن زیادؒجیسے مجاہدین سے نہیں ملتاتھا۔ تاریخ وصاف کے مصنف لکھتے ہیں کہ ایک تاتاری 100مسلمانوں کو بندی بنا لیتا اور ایک جگہ جمع کرکے کہتا کہ یہیں بیٹھو میں ابھی تلوار لے کر آتا ہوں پھر وہ تلوار لے کر آتا اور سبھوں کو قتل کردیتا۔ آخریہ بزدلی کیوں کر پیدا ہوئی؟ آگے چل کر مو ¿رخ مذکور لکھتے ہیں کہ تاتاریوں کے ٹڈی دل کے مقابلہ میں شہر بغداد اتنی بڑی آبادی تھی کہ صرف بچے اور خواتین اپنے ہاتھوں میں ایک ایک پتھر اٹھالیتے تو تاتاریوں کا وہی حشر ہوتا جو کعبة اللہ کو ڈھانے آئے ابرہہ اشرم کی فوجیوں کا ہوا تھا۔
لیکن پھر وہی کچھ ہوا جس کی تاریخ گواہ ہے۔ قرآن مجید میں قوموں پر پڑنے والے عذابوں کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں ایک شکل تفرقہ بازی اور خانہ جنگی بھی ہے، بدنصیبی سے ہمارا ملک اس عذاب میں مبتلا ہے۔ کیا آج سے 750 سال پہلے امت مسلمہ کو تاتاریوں کے ہاتھوں جس سانحہ سے دوچار ہوناپڑا جس کی وجہ یہی فرقہ پرستی تھ؟ جی ہاں اس حادثہ کی ایک بہت بڑی وجہ باہمی آویزش ہی تھی۔ اس سلسلہ میں تاریخ کے اوراق میں ناقابل تردید شہادتیں موجود ہیں۔ شہر بغداد ہی نہیں اس وقت پوری امت اسلامیہ کی حالت کچھ اسی طرح کی تھی کہ انہوں نے ہدایات ربانی، پیغامات نبوی، تعلیمات اسلامی کو پس پشت ڈال دیا تھا اور خودغرضی اور نااتفاقی کے بے کراں سمندر میں غرق ہوچکے تھے۔ تاریخ اسلام کے مصنف اکبرشاہ نجیب آبادیؒ بڑے دردناک لب ولہجہ میں اس کی عکاسی کی ہے جس کا یہاں موقع نہیں ہے۔ لیکن مختصر یہ کہ مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور آویزش کی کئی شکلیں تھیں جس میں علماءکی گروہ بندی اور مسلکی اختلافات ، مباحثوں، مناظروں کا اہم رول تھا، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر بحیثیت مجموعی روحانیت جاتی رہی، اخلاق فاضلہ ضعیف ہوگئے، دینی جذبہ سرد پڑگیا جو تلواریں راہ خدا میں بے نیام ہوتی تھیں اب نفسانی اغراض وخواہشات کے پوراکرنے میں چمکنے لگیں۔ ہرایک گروہ کی تفریق نمایاں تر ہوتی گئی۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر اوپر ہوچکاہے کہ امت مسلمہ کا خون ارزاں ہوگیا، بزدلی نے دل میں جگہ بنالی اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ زبان رسالت مآب نے پہلے ہی پیشین گوئی کردی تھی کہ قومیں تمہارے خلاف اس طرح ایک دوسرے بلائے گی جیسے بھوکے کھانے کے پیالوں پر بلاتے ہیں ، تم بڑی تعداد میں ہوگے ، لیکن تم میں جبن پیدا ہوجائے گی اور جبن (بزدلی) کے مطلب کی وضاحت اس طرح کی گئی کہ وہ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ہے۔ (خلاصہ ¿ حدیث)
اب ذرا ایک نظر اس وقت پوری دنیا پر عمومی طورپر اور اپنے ملک ہندوستان پر خصوصی طورپر ایک نظر ڈالیں۔ یہاں کیا کچھ ہورہاہے اور غور کریں کہ امت مسلمہ ہندیہ کی اس تنزلی کے کیا اسباب ہیں اس میں صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی عمومی اور اہل علم ودانش کی خصوصی تفرقہ بازی کی وجہ سے آج امت ایک عذاب میں مبتلا ہے اور اس کا کوئی وقار نہیں ہے، ہر خیر کے دروازے اس پر بند کردیئے گئے اور دنیا کی قومیں اس کے خلاف اس کو مٹانے کے لئے کمربستہ ہوچکی ہے۔ جبکہ قرآن نے صاف اعلان کیاہے کہ ”اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ، آپس میںمت جھگڑو ورنہتمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی“ (سورة الانفال) اس کا ترجمہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسین مدنیؒ نے یوں کیا ہے ”اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں نہ جھگڑوپس تم نامرد ہوجاو ¿گے-“اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم کو صحیح سمجھ اور توفیق سے نوازے – آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شاہنواز عالم ندوی

فارغ التحصیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، بی اے (اردو) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، ایم اے (اردو) مولانا مظہرالحق عربک، پرشیئن یونیورسٹی پٹنہ، سابق لکچرر اردو، عربی اور اسلامیات الامین پی یو کالج بنگلور ،سب ایڈیٹر روزنامہ سالار اردو بنگلور

متعلقہ

Back to top button
Close