خصوصیسیاست

انتخابی عمل اور جمہوریت کے قول و عمل کا تضاد

ڈاکٹر سلیم خان

جمہوری نظام میں ہر پانچ سال بعد حکمراں کو عوام کی تائید حاصل کرکے اپنے پروانہ  ٔ اقتدار کی تجدید کروانی پڑتی ہے۔ بظاہر یہ شئے حکمرانوں کے خلاف اور عوام کے حق میں ہے لیکن حزب اقتدار اپنی سرکار بچانے کے لیے اور حزب اختلاف اپنی حکومت بنانے کے لیے جو تماشے کرتے ہیں اس کی قیمت عوام کو چکانی پڑتی ہے۔کرودوں کا سرمایہ عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے تشہیر میں جھونک دیا جاتا ہے۔ جھوٹ  اور نفرت و عناد کا ایسا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں  صدیوں سے ساتھ رہنے والے ہمسایوں کے درمیان شکوک و شبہات بلکہ عداوت پیدا ہوجاتی ہے۔ عوام کے جذبات کو اس قدر بھڑکایا جاتا ہے کہ وہ تشدد پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد سیاسی مفاد کے پیش نظر ظالموں کو سزا دینے کے بجائے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ خیالی اندیشے نہیں ہیں بلکہ عملی صورتحال۔ مغربی بنگال میں خاک و خون کی ہولی الیکشن کے بعد کھیلی جارہی ہے اور ترنمول و بی جے پی اس پر اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں۔ عوام کے خون سے انتخابی فصل کی آبیاری ہو رہی ہے۔ اس کھیت سے خوشحالی اُگے گی یا بدحالی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

  انتخاب کےموقع پر یہ ہونا چاہیے کہ جو جماعت اقتدار میں ہو وہ اپنی کارکردگی کا ریکارڈ پیش کرکے عوام کو بتائے کہ اس نے فلاں فلاں وعدے کیا تھے۔ ان میں سے کون کون سے پورے کرنے میں وہ کامیاب ہوئی اور جن محاذوں پر اس کے ہاتھ ناکامی آئی اس کی وجوہات کیا تھیں ؟ اس کے برعکس حزب اختلاف یہ بتائے حکومت کہا ں اور کیوں ناکام ہوئی اور وہ آگے چل کر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اس کے پاس  اصلاحات کا کیا منصوبہ ہے؟ لیکن بدقسمتی سے ۲۰۱۹ میں  ایسا نہیں ہوا۔ ویسے  ۲۰۱۴ کے انتخابات بڑی حدتک  ان خطوط پر لڑے گئے تھے۔ کانگریس منموہن سنگھ سرکار کے کارنامے بیان کرتی رہی لیکن عوام اس سے اوب چکے تھے اس لیے اس نے تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ نریندر مودی اپنے آپ کو چائے والا کہہ کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹتے رہے۔ کانگریس پر بدعنوانی اور نااہلی کا الزام لگاتے ہوئے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نام پر اچھے دنوں کے خواب بیچتے رہے۔ وعدوں کے لامتناہی سلسلہ میں ۲ کروڈ نوکریاں اور ۱۵ لاکھ شامل تھا۔عوام کا ایک بڑا طبقہ مودی جی کے جھانسے  میں آگیا  اور انہیں اقتدارسونپ دیا۔

حکومت کی باگ ڈور  سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نےسارے وعدوں کو یکسر بھلا دیا اور اپنا زیادہ تر وقت غیر ملکی دوروں پر عیش و عشرت میں یا صوبائی انتخابات میں اپنی جماعت کو کامیاب کرنے میں صرف کیا۔ یہ ان کے حق اور عوام کے حق  میں بہتر  ہی تھا اس لیے کہ  اگر وہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے دوچار فیصلے اور کردیتے تب تو لوگوں کا جینا دشوار ہوجاتا۔ وقت کے ساتھ مودی سرکار کی قلعی کھلتی گئی اوربی جے پی  کو یکے بعد دیگرے مختلف ضمنی انتخابات اور صوبائی الیکشن میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ لوک سبھا کی کم از کم دس نشستیں سے اسے ہاتھ دھونا پڑا جس میں یوگی کی گورکھپور اور موریہ کی پھولپور بھی شامل تھیں۔ لاکھ زور لگانے کے باوجود کیرانہ کی سیٹ بی جے پی نکال نہیں پائی۔ دہلی، بہار،پنجاب، کرناٹک، مغربی بنگال،   راجستھان، مدھیہ پردیش،  چھتیس گڑھ  اور تلنگانہ کے صوبائی انتخابات میں وہ بری طرح ناکام رہی۔ گجرات میں بھی کامیابی کے لیے اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ رافیل بدعنوانی  کے معاملے مودی جی پوری طرح گھر گئے۔ ڈالر ۷۰ پار ہوگیا اور بیروزگاری نے ۴۵ سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔

اس طرح پانچ سال ہوا ہوگئے اور مودی جی کے پاس کارکردگی کے نام دکھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ وہ چونکہ اپنا کوئی وعدہ وفا نہیں کرسکے تھے اس لیے نئے وعدوں پر یقین کرنے کا سوال ہی نہیں تھا ایسے میں قوم پرستی کا آخری حربہ استعمال کیا گیا۔ پلوامہ میں حکومت کی نااہلی کا بڑا حصہ تھا مگر اس کی  پردہ پوشی  کے لیے بالاکوٹ کی ائیر اسٹرائیک کا تماشہ کیا گیا اور عوام کو ‘گھر میں گھس کرمارا’ کی شراب پلاکر مدہوش کردیا گیا۔ یہ حربہ کامیاب رہا اور دیش بھکتی کے نشے میں دھت عوام الناس نے اپنے سارے غم اور سرکار کی ساری نااہلی بھلا کر مودی جی کو پھر سے کامیاب کردیا۔ اسی کے ساتھ بہار اور مہاراشٹر میں  اپنے حلیفوں کو ساتھ رکھنے کے لیے دی جانے والی قربانی بھی رنگ لائی  نیز سب سے بڑا کام ذرائع ابلاغ نے کیا۔ میڈیا کو دولت کے زور سے خرید کر اپنی ساری ناکامیوں کی جانب سے توجہ ہٹانے میں بی جے پی کامیاب ہوگئی ۔ بنیادی مسائل اور ان کا حل  کے بجائے  جذباتیت کا سہارا لیا گیا۔

مغربی جمہوریت کا یہ پرانا حربہ ہے۔امریکہ میں ہر صدر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے  انتخاب سے قبل  کسی نہ کسی ملک پر فوج کشی کرکے عوام کا جذباتی استحصال کرتا ہے اور اکثر اس کو کامیابی ملتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی ہی بار مسلمانوں سے نفرت،  میکسیکو کے خلاف دیوار اور لیبیا پر حملے کی بات کردی اس لیے کہ  ہیلری کلنٹن کے سامنے سارے مباحثوں میں وہ  ناکام ہوچکے تھے۔ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی نے پاکستان میں  بالاکوٹ،  شاہ نے غیر ملکی در اندازاور یوگی نے علی اور بجرنگ بلی کے سہارے نفرت و عناد کے شعلے بھڑکائے۔ ہندوستان کے اندر بھی اس طرح کا حربہ اندراگاندھی استعمال کرچکی ہیں۔ انہوں   نے پہلے غریبی ہٹاو  کا نعرہ لگایا تھا، نوٹ بندی کی تھی ،  بنکوں کو سرکاری تحویل میں لیاتھا۔  بنگلادیش اور سکھوں کی  خالصتانی  تحریک سے اسی طرح فائدہ اٹھایا  جس طرح مودی نے کشمیر اور بالاکوٹ کا استعمال کیا۔ یہی سب   اٹل بہاری واجپائی   نے کیا۔  پہلی مرتبہ  وہ جنتادل میں  جاری  سرپھٹول  کے سہارے وزیراعظم بنے۔ اس کے بعد کارگل کی مدد سے اقتدار حاصل کیا  اور تیسری بار ہارگئے۔ مودی جی اپنے دوکارڈ کھیل چکے ہیں دیکھنا  یہ ہے کہ تیسری بار وہ کیا  گل کھلاتے  ہیں؟

جمہوری انتخابات دو طرح سے ہوتے ہیں۔ ایک تو برطانوی انداز جس میں عوام اپنے حلقہ کا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور وہ اپنے رہنما کو وزیراعظم بناتے ہیں۔ وزیراعظم اپنی جماعت کے رہنماوں کی مدد سے  وزارت سازی کرتا ہےاور حکومت چلاتا ہے۔ دوسرا امریکی طریقۂ کار ہے جس میں عوام  براہِ راست کسی ایک امیدوار کو اپنا صدر منتخب کرتے ہیں اور پارلیمان یعنی کانگریس کا انتخاب الگ سے ہوتاہے لیکن صدر مملکت کو اس پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ترکی میں پہلے برطانوی طرزکا  نظام تھا جسے دستوری ترمیم کے ذریعہ صدارتی نظام میں تبدیل کردیا گیا۔ اس سے  صدر کے اختیارات میں بے شمار اضافہ ہوگیا۔ ہندوستان میں یہ تبدیلی بغیر دستوری ترمیم کے آگئی۔ پانچ سالوں تک سارا کام وزیر اعظم کا دفتر  سے ہوتا رہا۔باقی وزراء عیش عشرت میں مبتلا  رہے کیونکہ تما م اہم فیصلوں کا نفاذ پی ایم او سے ہوتاتھا۔ اس طرح انتخاب میں مقامی رہنماوں کی اہمیت ختم  ہوکر رہ گئی اور ایک فرد پارٹی سے بڑا ہوگیا۔ جس طرح ایک زمانے میں‘ انڈیا از اندرا  ’ کا نعرہ بلند ہوا تھا اسی طرح اب ‘ہرہر مودی گھر گھر مودی’ والی بات ہونے لگی۔ اس طرح گویا اصول و نظریات یا منشور کو بالاے طاق رکھ کر مودی کے نام پرووٹ مانگا گیااور عوام نے مودی کی آمریت پر مہر ثبت کردی۔

 حزب اختلاف اس تبدیلی کا اندازہ نہیں کرسکا۔ وہ اگر مودی کے مقابلے کسی ایک رہنما پر متفق ہوجاتا تو مقابلہ کانٹے کا ہوسکتا تھا  لیکن اس میں کئی لوگ  وزیراعظم  بننےکا خواب دیکھنے لگے۔ مودی کے مقابلے اکثر رہنماوں کا حلقۂ اثر اپنے اپنے صوبے تک محدود تھا اس لیے قومی سطح پر وہ مودی سے ٹکر نہیں لے سکے۔  ایسے میں   عوام کی اکثریت نے مودی کو ان پر ترجیح دے دی۔ اب دیکھنا یہ ہے حزب اختلاف اس سے کوئی عبرت پکڑتا ہے یا اپنے محدود مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ مایاوتی نے اترپردیش میں ایس پی کے ساتھ اتحاد ختم کرکے پھر سے اپنی ابن الوقتی کا ڈنکا بجا دیا ہے۔ حزب اختلاف کی اس موقع پرستی سے عوام کا اس پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے جس کا فائدہ بی جے پی کو ملتا ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے  کہ ان پانچ سالوں میں مودی جی سنجیدگی سے حکومت چلائیں گے  یا پچھلی بار کی طرح کھیل تماشوں میں اس مدت کار کو بھی گنوا دیں گے۔ وزیراعظم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ہی طرح سے عوام کو بار بار بیوقوف بنانا مشکل ہے۔پانچ سال بعد اگر اپنی  ناکامی کو چھپانے کے لیے انہوں نے پھر  سے جذباتی استحصال کی سعی کی تو تو اس میں کامیابی کا امکان بہت کم ہوجائے گا۔ بار بار مودی ہے تو ممکن ہے والا گھسا پٹا نعرہ  کام نہیں آئے گا۔

مودی آئے یا راہل آئے  فی الحال بنیادی مسئلہ جمہوریت کے قول و عمل میں  تضاد کا ہے۔ عوام سے ووٹ کی شکل میں تائید تو سبھی لینا چاہتے ہیں لیکن ان کے مسائل کو کوئی حل کرنا نہیں چاہتا۔ حزب اقتدار ان کی جانب سے توجہ ہٹا کراپنی کرسی بچانے میں  مصروف عمل رہتا ہے اور حزب اختلاف ان کو اچھال کر اقتدار کے حصول کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس اور بی جے پی یکساں ہیں۔ یہ لوگ عوام کے مسائل کیوں حل کرنا نہیں چاہتے ؟ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اول تو ان کے اندر اس کی صلاحیت نہیں ہے۔ دوم عوام کے مسائل کا حل اور سرمایہ داروں کے مفادات میں ٹکراو  ہے۔یہ لوگ چونکہ سرمایہ دارروں سے چندہ لے کر پارٹی چلاتے ہیں اور انتخاب لڑتے ہیں اس لیے ان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ الیکشن جیسے جیسے مہنگے ہوتے جائیں گے یہ انحصار بڑھتا جائے گا۔ اس طرح حکمراں طبقہ عوام کے استحصال میں سرمایہ داروں کا پارٹنر بن جاتا ہے۔ سیاستدانوں کو اب عوام کی خدمت کرنے کی یا ان کے مسائل کو حل کرنے ضرورت بھی نہیں رہی اس لیے کہ اگر انتخابی مہم  کے دوران جھوٹ پھیلا کر الیکشن جیتا جاسکتا ہے تو پانچ سال محنت و مشقت کیوں کی جائے؟

وقت آگیا ہے کہ ملک کے اصحابِ حل و عقد  اس نظام ِ سیاست کی ناکامی پر سنجیدگی سے غور کریں۔ دستور میں سارے لوگ یکساں ہیں لیکن دیکھتے ایک شخص کیسے دیوتا بنادیا جاتا ہے اور لوگ اس کے بھکت کیسے بن جاتے ہیں ؟ اس پر گفتگو ہو۔ سیاسی رہنما سارے اخلاقی اقدار کو پامال کرکے شتربے مہار بنے پھرتے ہیں۔ اس کے باوجود عوام انہیں کو منتخب کرنے پر کیوں مجبور ہوجاتے ہیں ؟ یہ سوال بھی قابلِ توجہ ہے۔ یہ معاملہ فرد یا سیاسی جماعت  کا نہیں  سیاسی نظام   کا ہے۔ اشتراکیت دم توڑ چکی ہے لیکن  امت مسلمہ کے پاس اس لادینی جمہوری نظام کا متبادل موجود ہے لیکن وہ  عصائے موسیٰ کو بغل میں دبائے ان سنپولوں سے خوفزدہ ہیں۔  امت علماء اور دانشور  اگر اسلام کی سیاسی تعلیمات کو حکمت کے ساتھ مدلل انداز میں اپنے قول و عمل سے پیش کریں  تو بعید نہیں کہ ملک کی عوام اس کی جانب توجہ دیں۔ اس بابت اگرعارضی طور پر دنیوی ناکامی بھی ہاتھ آئے تو  کم ازکم ہم لوگ اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں کامیاب ہوجائیں گے  ویسےرب کائنات  کا وعدۂ برحق  ہے۔ ‘‘جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے’’(عنکبوت ۶۹)۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close