خصوصیسیاست

انتخاب میں پارٹیوں اور امیدواروں کی کثرت؟

سلمان عبدالصمد

جمہوری نظام کی خوبیاں اور خامیاں اپنی جگہ، تاہم آج انتخابات میں تبدیلیوں کا ایک الگ ہی منظرنامہ ہے۔اس لیے جمہوری قدروں کی مضبوطی کے لیے متعدد سوالات سامنے آتے ہیں۔انتخابی میدان میں پارٹیوں اور امیدواروں کی کثرت جہاں جمہوری آزاد ی کی مثال ہوسکتی ہے، وہیں کئی سوالات بھی کھڑے ہوتے ہیں۔کیوں کہ آزادی کے نام پر درجنوں امیدوار میدان میں اتر تو جاتے ہیں لیکن گہرائی سے غور کریں تواندازہ ہو گا کہ کسی نہ کسی سطح پر انتخاب کی روح مجروح ہوتی ہے۔

مرکزی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق کل رجسٹرڈ پارٹیوں کی تعداد 2ہزار293ہیں۔2014میں رجسٹرد پارٹیوں کی تعداد 1687تھی۔دل چسپ بات یہ ہے کہ2019 میں ہی 149 پارٹیوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔2004میں764پارٹیوں میں سے 215پارٹیوں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔2009کی1060رجسٹرڈ پارٹیوں میں سے363پارٹیاں میدان میں اتری تھیں۔ 2014 میں1687پارٹیوں میں سے 464پارٹیوں نے انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی تھیں۔

عام انتخابات کے چند اعداد وشمار کے بعد ریاست یوپی کی بھی ایک مثال پیش ہے۔ ایک رپورٹ میں اُس وقت کے ریاستی چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ 2012میں 178رجسٹر ڈ جماعتیں الیکشن کے لئے تیار ہیں۔ 1969کے اسمبلی انتخابات میں کل 17رجسٹرڈ جماعتیں تھیں۔ 1974میں 16،1977اور 1980میں سات سات،1989میں26،991میں 23،1993میں 25، 1996میں23، 2002میں 75،اور2007میں112پارٹیوں نے سیاسی گلیاروں میں جلوے بکھیری تھیں۔

ان اعداد وشمار سے دو بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں۔ اول،یہ کہ ریاستی اور مرکزی دونوں انتخابات میں پارٹیاں کثرت سے بڑھ رہی ہیں۔ دوم، ان میں سے اکثر پارٹیاں فرنٹ پر نہیں ہوتی ہیں اور چند بڑی پارٹیوں کے لیے بطورِ آلۂ کار کام کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت سی پارٹیاں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کرتیں، بلکہ سیاسی جغرافیہ کے مدنظر کسی نہ کسی پارٹی یا امیدوار سے خفیہ راہ ورسم قائم کرلیتی ہیں۔ اس روشِ عام سے اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ انتخاب کی روح کس طرح مجروح ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ اس ماحول میں انتخاب،انتخاب نہیں رہ کر کوئی سیاسی دھماچوکڑی ہو جاتی ہے ۔ گویا عوام کے سامنے آنے سے پہلے ہی سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک اعلی سیاسی گیم ہوجاتا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعتوں کا اضافہ ووٹوں کے انتشار کا سبب ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹیوں کی کثرت جہاں بہت سی جماعتوں کے لیے باعثِ تشویش ہے،وہیں بے شمار پارٹیوں اور چند مذہبی لیڈروں کے لیے نیک شگون بھی۔بسااوقات اس ’کثرتی کھیل‘ میں قدآور اور بصیرت مند لیڈر بھی ناکام ہوجاتے ہیں، یعنی ’گردش میں کتے بھی گھیر لیتے ہیں شیرکو‘۔یہ تمام حقائق اپنی جگہ مسلّم مگر پارٹیوں کی کثرت مسلمانوں کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔ہرپارٹی کی نگاہ مسلم ووٹ بینک پر ہوتی ہے یا پھر مسلم ووٹوں کے انتشا پر۔ چناں چہ یہ پارٹیاں مسلم ووٹرس کو لبھانے کے لیے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارتی ہیں۔ اس طرح ایک ہی حلقے میں متعدد مسلم امیدوار ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس صورت میں مسلم کثیر آبادی والے حلقوں میں بھی مسلم امید واروں کی کامیابی غیر یقینی ہوجاتی ہے اور مسلمان اپنوں میں ہی سیاسی رنجش کی بنیاد پر الجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ امیدواروں کی کثرت سے چند خود ساختہ مسلم مذہبی لیڈروں کی جے جے کار ہونے لگتی ہے ۔ کیوں کہ ان کے یہاں بہت سے امیدواروں کی آمد ورفت کا جواز پیدا ہوجاتا ہے۔مذہبی لیڈروں سے سیاسی سانٹھ گانٹھ کی بنیاد پر کبھی کبھی’ قوم ‘ کو ناقابل تلافی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

جمہوری نظام کی آزادی ہمیں مبارک کہ ہم بہ آسانی امید وار کی حیثیت سے میدان میں آجاتے ہیں لیکن امیدواروں کی کثرت کی بنیاد پر حلقوں میں انتخاب کم ہوتا ہے، بلکہ علاقائیت،ذات پات یہاں تک کہ سارا معاملہ’’خاندانی‘‘ ہوکر رہ جاتا ہے۔2014کے عام الیکشن میں کئی حلقوں میں40 سے زائد امیدواروں نے قسمت آزمائی کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق1998 کے ہر حلقے میں امیدواروں کافیصد 7یا8تھا، مگر 2014کے الیکشن میں امیدواروں کا فیصد 15.2ہوگیا۔ کیوں کہ8ہزار 251امیدواروں نے 2014کے الیکشن میں حصہ لیا۔ گویا سولہ برس کے عرصے میں ہی امیدواروں کا فیصد ڈبل ہوگیا۔

ہر حلقے سے درجنوں کی تعداد میں قسمت آزمانے والوں کا مقصد انتخاب میں کامیابی نہیں ہوتا۔ مشاہدے کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن لڑنے والوں کی کئی قسمیں ہیں۔اول،جیت حاصل کرنے کی غرض سے میدان میں آنا۔دوم، کسی ایک کو فائدہ پہنچانا اور کسی دوسرے کو نقصان۔ سوم ،(اخلاقی گراوٹ یہاں تک کہ)کچھ ایسے امیدوار ہوتے ہیں جو کھلم کھلا ووٹ منتشر کرکے ایک کو ناکام بنانے کے لیے میدان میں آتے ہیں۔چہارم،ایک الیکشن میں دَم دکھاکردوسرے کسی الیکشن میں کسی بڑی پارٹی سے ٹکٹ کا خواہش مند ہونا۔ پنجم،غیر شہرت یافتہ دولت مند فقط اپنی پہنچان بنانے لیے امیدوار بن جاتے ہیں ۔

قانونی سطح پر مذکورہ پانچ اقسام کے امیدوار برابر ہیں۔ کیوں کہ جمہوریت انھیں اجازت دیتی ہے کہ وہ انتخابی میدان میں اترسکیں اور بہ ظاہر کوئی پیمانہ بھی نظر نہیں آتا کہ کون امیدوار کیسا ہے؟ کون واقعی انتخاب لڑنا چاہتا ہے اور کون فقط ووٹ منتشر کرنے کا خواہشمند ؟قانونی اور جمہوری آزادی کے بعداگر حلقے سے امیدواروں کی قربت کا مسئلہ سامنے رکھیں تو شاید آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کون حلقے اور عوام سے زیادہ قریب ہے۔ ٹکٹ ملنے سے پہلے کو ن کتنا عوامی سطح پر کام کررہا ہے۔اس سطح پر اگر الیکشن کمیشن غور وفکر کرتے ہوئے کوئی لائحہ عمل تیار کرے تو شاید ووٹوں کا انتشار رک جائے۔ ذات برادری کی سیاست پر روک لگ سکے۔ ساتھ ہی ساتھ انتخاب کی روح مجروح ہونے سے بچ جائے۔

ایک پارلیمانی/اسمبلی حلقے سے دس امید واروں کی تعداد آئیڈیل ہوسکتی ہے، تاہم اس پر کئی سوالات ابھرسکتے ہیں۔آخر کس بنیاد پر ہر حلقے میں فقط دس امیدواروں کو انتخابی میدان میں آنے کی اجازت دی جائے؟ (اس جیسے اور بھی سوالات ہوسکتے ہیں)تاہم یہاں امیدواروں کی تعداد کم کر نے کے لیے چند باتوں کی طرف اشارہ کیا جانا معیوب نہیں ہوگا۔اول، بہت سے پنچایت الیکشن کی طرح اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں بھی تعلیمی لیاقت ضروری قراردے دی جائے۔(الیکشن کمیشن اور ملک کے باضمیر افراد بات چیت کرسکتے ہیں کہ کتنی تعلیمی لیاقت ضروری ہو)۔دوم،سرکاری اداروں میں ریٹائرمنٹ کی عمر متعین ہے تو انتخاب لڑنے میں کیوں نہیں؟ اگر دوسرے شعبہ جات کے کام کرنے والوں کی ذہنی صلاحیتیوں اور جسمانی قوتوں میں کمی آتی ہے تو سیاسی میدان میں کام کرنے والوں میں بھی۔ اگر ان کا تجربہ بڑھتا ہے تو سیاسی اور غیر سیاسی شعبوں میں کام کرنے والے اس معاملے میں تقریباً برابر ہیں۔اس لیے سیاست میں ریٹائر منٹ کا معاملہ ہوتو خود امیدواروں کی تعداد میں کمی آئے گی۔سوم کرائم اور جرائم میں ملوث افراد قطعا قطعا ٹکٹ سے محروم رہیں.

 امیدواروں کی کمی کی وجہ سے انتخاب کی روح برقرار رہے گی۔ افسوس یہ ہے کہ کثرتِ امیدوار کی بنیاد پر ایک حلقے سے 20-30فیصد ووٹ پاکر کچھ لوگ کامیاب ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن پر اضافی بوجھ ہوتا ہے۔ نظم ونسق کی بحالی کا معاملہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ امیدواروں کی کثرت کی وجہ سے ٹولیاں اور جماعتیں زیادہ بن جاتی ہیں اور باہمی تصادم کا اندیشہ بھی زیادہ رہتا ہے۔ اکثر سیاسی پنڈت تسلیم کریں گے کہ انتخابی میدانوں میں امیدواروں کو کم کرنے سے جمہوری دائرہ محدود نہیں ہوگا،بلکہ جمہوریت دل کش ہوگی۔باغبانی کے اصول کے مطابق باغیچوں میں دل کشی لانے کے لیے غیر ضروری ٹہنیوں اور پتوں کو کاٹنا ضروری ہے،اسی طرح جمہوری نظام کے استحکام اور اس کی دل کشی کے لیے سخت سے سخت ضروری اقدامات شاید جمہوریت کے منافی نہ ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close