خصوصیہندوستان

انجام گلستاں کیا ہوگا؟

ہمارے ملک میں آرایس ایس برانڈ سیاسی پارٹی (BJP) جب سے اقتدار میں آئی ہے، اس کے وِکاس کے نعرے میں ہندتو کے قیام کی پالیسی متوازی طور پر چل رہی ہے۔

محمد عارف اقبال

ہندوستان میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ ہندوؤں کا عقیدہ رام چندر جی پر بڑا پختہ ہے۔ فیض آباد جسے اب ایودھیا سے موسوم کیا گیا ہے، وہاں بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر کی تعمیر کے لیے ان کے پُرجوش ارادے تاریخی شواہد کے علی الرغم ان کے عقیدے کے عین مطابق محسوس ہوتے ہیں۔ رام چندر جی کے قصے میں ان کی دھرم پتنی سیتاجی کا کردار اس لحاظ سے بڑا اہم اور غیر معمولی ہے کہ راون نے ان کو اغوا کیا تھا اور جب ان کو آزادی ملی تھی تو رام چندر جی کے حکم کے مطابق سیتاجی کو اگنی پریکشا سے گزرنا پڑا تھا۔ یہ ایسا سچ ہے جس سے ہر ہندو بخوبی واقف ہے۔

ہمارے ملک میں آرایس ایس برانڈ سیاسی پارٹی (BJP) جب سے اقتدار میں آئی ہے، اس کے وِکاس کے نعرے میں ہندتو کے قیام کی پالیسی متوازی طور پر چل رہی ہے۔ مخالف سیاسی جماعتیں کچھ بھی کہتی رہیں، برسر اقتدار جماعت وہی کرے گی جو کچھ اس کے منشور میں ہے۔ اس کے چار رسالہ دورِ اقتدار میں اس کے آثار بڑی حد تک نمایاں ہوچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں ستمبر میں ملک کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے کہا جاتا ہے کہ کئی تاریخی فیصلے صادر فرمائے۔ یہ فیصلے عورتوں کے حقوق سے متعلق تھے۔ بنیادی مقصد ہندوستانی عورتوں کو جنسی طور پر بیلگام آزادی مہیا کرنا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ فیصلے سے قبل سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان جب باہمی طور پر مشورہ کر رہے تھے تو ان کا ذہن اور ان کے قلوب ملک میں نہیں بلکہ نیدرلینڈ اور آسٹریلیا کے معاشرے میں ہچکولے کھا رہے تھے۔ ایک فیصلہ میں جج صاحبان نے 125 کروڑ کی آبادی والے ملک میں 25 لاکھ جنسی طور پر ذہنی مرض (Mental Disorder) میں مبتلا عورتوں اور مَردوں کو پورے ملک میں بدکاری کی کھلی اجازت دے دی۔ جس کام کو انجام دیتے ہوئے لبرل انگریز حکمراں کو بھی شرم محسوس ہورہی تھی، اسے دیدہ دلیری سے معزز ججوں نے انجام دیے۔ حالانکہ یہ وہی انگریز حکمراں تھے جس نے ہندوستان کی ایک قبیح اور ظالمانہ رسم ستی کا خاتمہ کیا تھا کیونکہ یقینی طور پر یہ رسم عورت ذات پر ظلم عظیم کے مترادف تھی۔ اس کے بعد انہوں نے بھارت کی تہذیب و ثقافت کی ہمیشہ رعایت کی اور غیر منقسم ہندوستان میں لااینڈ آرڈر کا ہمیشہ خیال رکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی حکمرانی کو ہندوستانیوں نے بہ وجوہ غلامی سے تعبیر کیا جس کے نتیجے میں تمام ہندوستانیوں کی غیر معمولی قربانی کے بعد یہ ملک ان کے تسلط سے آزاد ہوا۔ لیکن اس آزادی کے بعد غلامی کا ایک دوسرا دَور شروع ہوتا ہے جب ہندوستان ہی کے اعلیٰ طبقے نے ذہنی غلامی کا نیا سفر شروع کیا۔ یوروپ اور امریکہ کی تہذیب و ثقافت نے ان کو اپنا بے دام غلام بنالیا کیونکہ اس طبقے نے بیرون ملک کی چمک دمک سے خوب استفادہ کیا۔ یہ طبقہ انگریزی زبان کا اسیر تھا۔ درمیانی اور نچلے طبقے میں اس غلامی کا آغاز ٹیلی ویژن اور موبائل کے انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ اس طبقے کے لیے تو آزادی کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں میں انگریزیزبان بھی پانچویں کے بعد داخلِ نصاب کی گئی۔

دنیا جب عالمی (Global) ہوگئی تو سائنس و ٹکنالاجی نے دنیا کے ہر گوشے میں کثیف جال بچھادیے۔ یہ عالم گیریت (Globalisation) درحقیقت خبروں کا انفجار (Explosion of Information) تھی۔ اسی مفہوم میں دنیا گلوبل ہوگئی۔ اس کے گہرے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جانے لگے۔ اس کے باوجود دنیا کے مختلف براعظموں میں آج بھی اپنی روایت اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ زندہ رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے ان میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ اس کا مشاہدہ قبائلی علاقوں میں بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے ہمارے معزز جج صاحبان نے معاشرے کے لیے محافظ قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کو یک قلم کالعدم قرار دیا۔ حالانکہ 2013 میں اسی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ معروف ماہر قانون پروفیسر طاہر محمود نے لکھا ہے کہ سماج کے دقیانوسی سمجھنے والے عناصر نے اس فیصلے کو ناپسند کیا تھا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس نے اس دقیانوسی فکر کی حمایت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ خارج کردیا تھا۔ نظرثانی کی باربار درخواست گزاری گئی اور کہا گیا کہ دفعہ 377 کا اب تک قانون میں برقرار رہنا شرمناک ہے اور سپریم کورٹ پر لازم ہے کہ وہ انسانی وقار کو جھوٹی اخلاقیات پر ترجیح دے کر اسے منسوخ کردے۔ اس کے بعد ہم جنس پرستی کی مکمل آزادی کو آئینی اور قانونی جواز مل گیا۔ اس نئے فیصلے میں مذکورہ قانونی دفعہ کو ظالمانہ، غیر منطقی، ناقابل دفاع اور کھلے طور پر آمرانہ بتایا گیا ہے۔ حالانکہ انگریز حکمراں جسے ہم جابر اور ظالم کہتے ہیں اس نے ملک کے سماجی، تہذیبی، ثقافتی ڈھانچے اور شرافت اور انسانی مقدس رشتے کو تار تار کرنے والے قانون نہیں بنائے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے شوہر اور بیوی کے حقوق کے معاملے میں IPC کی دفعہ 497 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سی آرسی کی دفعہ 198 کے ایک حصہ کو بھی منسوخ کردیا۔ فیصلے میں اس بات پر اتفاق تھا کہ بیوی شوہر کی ملکیت نہیں ہے، اسے دوسرے سے بھی جنسی تعلق قائم کرنے کا اختیار ہے، البتہ اگر شوہر کو اعتراض ہو تو وہ طلاق کے لیے عدالت کے دروازہ پر دستک دے سکتا ہے۔ ایک جج صاحب کا خیال تھا کہ شوہر اپنی بیوی کو کچھ کرنے اور کچھ نہیں کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔ دوسرے جج صاحب کے نزدیک یہ دفعہ عورت کو اس کی خواہش اور پسند کے مطابق جنسی تعلقات قائم کرنے سے روکتی ہے۔ اس لیے غیر آئینی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ عورت کے جسم پر صرف اس کا حق ہے، وہ شوہر کی جاگیر نہیں ہے۔ شادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیوی اپنی جنسی خواہش شوہر کو سونپ دے۔ عورت کے حقوق کے غم میں بیحال ہوکر جج صاحب نے یہ رائے بھی دی کہ زنا کی وجہ سے شادی خراب نہیں ہوتی بلکہ خراب شادی کی وجہ سے عورت غیر مرد کی طرف راغب ہوتی ہے، ایسے میں اسے جرم مان کر سزا دینے کا مطلب ہے کہ دکھی لوگوں کے دکھ میں مزید اضافہ کیا جائے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے فیصلے کے بعد برسراقتدار حکومت ہی نہیں بلکہ عوام کے نمائندے بھی پارلیمنٹ میں گونگے اور بہرے بن گئے۔ البتہ میڈیا نے عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان کی بیباکی اور دلیری کے قصیدے پڑھے۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی سننے والا نہیں تھا۔ سماج کو تباہ و برباد کرنے والے ان غیر انسانی و غیر فطری فیصلوں کے خلاف ہندتو کے مذہبی پیشواؤں کی زبانیں بھی گنگ ہوگئیں۔ اس کے برعکس کیرلا کے سبری مالا کے قدیم مندر میں عورتوں کے داخلہ کا فیصلہ ہندو اکثریت کے گلے میں اٹک گیا ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ آستھا کا ہے۔ ان کو سماج کے تباہ و برباد ہونے اور مقدس رشتوں کے تار تار ہونے کی شاید اب کوئی پروا نہیں کہ سماج کا ہر طبقہ اب عالمگیریت کا پیرو ہوچکا ہے۔ اگر اس کلجگ میں دفعتاً رام چندرجی اور سیتاجی پھر ایک بار پرکٹ ہوجائیں تو شاید رام مندر کے پجاری بھی ان کو پہچاننے سے انکار کردیں کیونکہ رام جی کا سیتا کو اگنی پریکشا دینے کا حکم خود رام جی کے لیے بھاری پڑسکتا ہے۔

ہمارے ملک میں تعمیری اور شفاف سوچ رکھنے والوں سے دریافت کیجیے کہ کل تک ہمارا سماج جنسی زیادتی کے سبب طوائفوں اور رنڈیوں کی آبادی میں اضافے سے پریشان تھا۔ ان کو سدھارنے اور مہذب سماج میں ضم کرنے کی کوششوں کو ترک کرکے جب ان کو پیشہ ور بنانے کے لیے لائسنس دیے گئے تو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ گاؤں اور مضافات کے شرفا کے گھروں سے کمسن لڑکیوں اور بچوں کو اغوا کیا جانے لگا۔ جس سے سماج مزید آلودہ ہونے لگا۔ ایسی صورت میں جنسی ذہنی مریضوں (LGBTs) کو قانونی جواز فراہم کرنے سے چند برسوں میں ہمارے ملک کے گلستاں کی باوقار مخلوط ثقافت (Composite Culture)آنے والے چند برسوں میں کس تباہی سے دوچار ہوگی اس کے تصور ہی سے روح کانپ جاتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اب ہمارے ملک میں شرم و حیا، فحاشی، بدکاری کا مفہوم بھی تبدیل ہوجائے گا۔ تصور کیجیے کہ انجام گلستاں کیا ہوگا؟ اس کا علم صرف ربّ کائنات کو ہے جس نے ہدایت دی ہے اور باخبر کیا ہے کہ پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عارف اقبال

ایڈیٹر، اردو بک ریویو، نئی دہلی

متعلقہ

Close