خصوصی

انسانیت کی پکار اندھیرا چھاگیا روشنی کہاں سے لاؤں

ابراہیم جمال بٹ
’’جو خدا رات کی تاریکی میں سے دن کی روشنی نکال لاتا ہے اور چمکتے ہوئے دن پر رات کی ظلمت طاری کر دیتا ہے، وہی خدا اس پر بھی قادر ہے کہ آج جن کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہے ان کے زوال و غروب کا منظر بھی دنیا کو جلدی ہی دکھاوے، اور کفر وجہالت کی جو تاریکی اس وقت حق وصداقت کی فجر کا راستہ روک رہی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اُس کے حکم سے چَھٹ جائے اور وہ دن نکل آئے جس میں راستی اور علم ومعرفت کے نور (فضا)سے دنیا روشن ہوجائے۔‘‘
مذکورہ بالا اقتباس جس سے خدا ذو الجلال والاکرام کی بڑائی اور عظمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خدا کی ذات ایسی طاقتور ذات ہے کہ جسے چاہے حکومت وطاقت دے ۔۔۔جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذِلت کا شکار کر دے۔۔۔ کیوں کہ اسی کی قدرت میں خیر کی کنجی ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔
اقتباسِ مذکورہ میں تاریخِ انسانیت کا ایک ایسا کھلا باب ہے جسے پڑھ پر ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جب بھی کبھی کوئی قوم یا گروہ اس عارضی وفانی دنیا میں طاقت بن کر نمودار و غالب ہوا تو اس غلبے کے بعد وہی قوم وگروہ کیسے زوال وغروب کے شکار ہو گیا۔ جو طبقے و اقوام اس دنیائے فانی میں ’’سپر پاور‘‘ جیسے ناموں سے پکارے جاتے تھے انہی قوموں پر زوال وغروب نے ایسے راہ بنائی کہ وہ اقوام ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی دیکھتے ہی رہ گئے۔
اس اقتباس سے اُمید کی ایک کرن بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اُمید اس بات کی کہ کفروجہالت کی تاریکی سے جو آج اندھیرا چھایا ہوا ہے، جس کی وجہ سے دنیائے انسانیت اندھیرے کا شکار ہو چکی ہے۔ ہر طرف بدامنی اور بداخلاقی کا دور دورہ دکھائی دیتا ہے،انسانیت اگر سنبھل جائے، انسان بحیثیت انسان اگر سمجھ جائے کہ اس کی اس عارضی وفانی زندگی جو جہالت وتاریکی کی نظر کر دی گئی ہے، آئندہ آنے والے دور میں اس کی اس موجودہ غلامی سے نجات حاصل ہو جائے گی۔ اسے علم ومعرفت کے نور سے اس قدر جلا ملے گی کہ وہ بدامنی سے نکل کر امن کی شاہراہ کو پا لے گا، اسے حیوان نما ہوس پرست حکمرانوں کی حکمرانی سے نجات مل جائے گا۔
چنانچہ حال ہی میں عالمی تناظر کے حوالے سے ایک ایسی خبر سامنے آئی کہ دنیا اور اس میں رہنے والے لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔ ’’ناپسندیدہ ذات پسندیدہ ذات کے طور پر تسلیم کی گئی‘‘ عالمی ’’پولیس مین‘‘ کا کردار ادا کرنے والے متحدہ امریکہ کا نیا صدر ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں اس کی جیت ناممکن ہے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ’’ٹرمپ‘‘ قصر ابیض کا مکین ہو گیا۔ دنیا کے مالدار ترین شخص ڈونلڈ ٹرمپ ’’رہاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے‘‘۔ برابر اسی طرح جس طرح بھارت میں 2014ء میں ہوئے انتخابات میں ایک ایسے شخص وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہو گئے جنہیں اس سے قبل ’’دنیا کے دس ظالموں اور قاتلوں‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ جنہوں نے گجرات فسادات میں خون خرابہ کاماحول پیدا کر دیا تھا، جس میں سینکڑوں مسلمانوں کی جانیں تلف ہو گئیں۔ ’’ہندو راشٹر‘‘ کا دم بھرنے والے اس ’’صاحبِ براجمان‘‘ نے آر ایس ایس کے رنگ میں پورے بھارت دیس کو رنگنے کا ایک ایسا پروگرام مرتب کیا ہوا ہے کہ پورا بھارت جو جمہوریت اور سیکولرازم کا دم بھرتا ہے ، کا جنازہ ہی نکلا جا رہا ہے۔ آج اسی صورت حال کا اکثر وبیشتر ممالک پرسامنا ہے۔ یہ بات کسی نے بہت ہی اچھی کہی ہے کہ ’’آج جو دنیا میں طاقتور قومیں کمزوروں کو نگل لیتی ہیں اور جو بڑے اور وسیع و عریض رقبہ رکھنے والے ملک چھوٹے اور محدود وسائل والے ملکوں کو اپنا غلام اور باجگذار بنالیتے ہیں۔ یہ سب وطنیت ۔۔۔قومیت ۔۔۔جمہوریت اور سیکولرازم کے زہریلے ثمرات ہیں اور اسی کے نتیجے میں دنیا کے گوشے گوشے میں خون خرابہ بھی ہے اور جنگیں بھی ہورہی ہیں۔‘‘ چنانچہ جس ذہنیت کے لوگ آج کل لوگوں پر بحیثیت حکمران وغیرہ چنے جا رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والے ایام کے لیے ایک ایسے ماحول تیار ہو رہا ہے جس میں انسانیت کی بھلائی سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس کا عالمی تناظر میں آج مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ ہر جانب انسانیت کا خون بہہ رہا ہے، ہر ملک اور ہر قوم اپنے ہی ہاتھوں یا اپنے ہی لوگوں سے پٹ رہے ہیں۔ ’’جب ہماری ذہنیت اس انداز کی ہو جائے کہ خوب سے خوب تر کے بجائے ہم ناخوب کو ہی پسند کرنے لگیں تو یاد رکھنا چاہیے کہ ’’ناخوب‘‘ سے تباہی آتی ہے نہ کہ بھلائی۔‘‘ اس لحاظ سے اس مجموعی صورت حال کا مشاہدہ کر کے انسانوں کی ان بستیوں میں ذی حس وذی شعور لوگوں کا غور کرنا چاہیے کہ ہم کس جانب جا رہے ہیں۔
بہر حال اس مجموعی صورت حال کے بیچ میں ایک ایسا ’’معطرفضا‘‘ بھی تیار ہو رہی ہے جس کے متعلق منفی اظہارِ خیال کر کے عالمی طا قتیں مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔ تاریخ کا غائر مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ ایسی فضا ہے جسے غیروں نے نہ کبھی برداشت کیا ہے اور نہ ہی برداشت کیا جائے گا۔ یہ فضا اور اس سے ظاہر ہونے والے ثمرات کا تعلق اس ذاتِ یکتا سے ہے جس کے مقابلے میں عام انسان ہی نہیں بلکہ خاص الخاص بھی کچھ نہیں۔ یہ ماحول اور فضا روئے زمین کے چپے چپے پر عام ہو رہا ہے۔ اگرچہ رفتار ابھی اس قدر نہیں کہ بگاڑ کی اس موجودہ صورت حال کو بناؤ میں تبدیل کیا جائے، تاہم ایسے آثار نمایاں ہو رہے ہیں کہ شاید وہ وقت قریب ہے، جب اس آسمانِ دنیا کے نیچے اس زمین پر وہ فضا کا ماحول چھا جائے جس کے عموماً لوگ متمنی ہیں۔
یہ بات ذہین نشین رہے کہ آج عام انسانیت بدامنی کے اس بھنور سے نکلنا چاہتی ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہے کہ دنیا جہنم میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ایک عام انسان کو اپنے ضمیر کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ایک ایسا نظام ملنا چاہے جس میں ہر ایک انسان کے لیے امن ہو۔ ’’دنیا کا ہر انسان آزادی اور امن کا متمنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ یہ انسان کی فطرت کی آواز ہے اور فطرت کی آواز کو زور زبردستی سے دبایا اور مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔‘‘
جب بار بار عام انسانیت کو پست اخلاقیت سے سابقہ پیش آتا ہے اور پست اخلاق سے متصف لوگ محض اپنی جہالت اور خود غرضی وتنگ نظری کی بنا پر انسانیت کی خیر خواہانہ مساعی کو روکنے کے لیے گھٹیا درجہ کی چال بازیوں سے کام لیتے ہیں تو فطرتاً اس کا دل ہی دُکھتا ہے۔ اس لحاظ سے آج دنیا میں بسنے والے عام انسان جب انسانیت کی دھجیاں اڑتے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ ہر طرف خون خرابہ اور ظلم وستم کا بازار کا نظارہ کر رہے ہیں۔۔۔ عادل وانصاف پسند حکمرانوں کے بجائے ’’ناپسندیدہ اور ظالم وقاتل حکمران‘‘ اپنی چودھراہٹ قائم کئے جا رہے ہیں تو انسانیت بحیثیت انسان جس میں ضمیر نام کی ایک چیز بھی ہوتی ہے کراہ کراہ کر آواز دے رہی ہے کہ کاش وہ فضا اور ماحول قائم ہو جائے جس میں عام انسانیت کے لیے امن وانصاف ہو۔ آج بظاہر پوری دنیا میں بسنے والے مخالف اور ظالم نظر آرہے ہیں لیکن حقیقت اس سے بعید ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام انسان انسانیت اور عدل وانصاف کا متمنی ہے۔ اسے اس بات کا پورا پورا احساس ہے کہ ہمارے ہاتھوں جو فی الوقت ہو رہا ہے وہ صحیح نہیں ہو رہاہے، اسے ظالم اور ظلم کے مقابلے میں عادل وعدل کا انتظار ہے۔ اسے انصاف کے علم برداروں کی تلاش ہے۔ اسے ایسی فضا اور ماحول کی تلاش ہے جس میں اس کے لیے امن اور آشتی ہو۔
یہی وہ فضا ہے جس کی کرنیں آہستہ آہستہ نمودار ہو رہی ہیں، مختلف ممالک میں کام کرنے والے ایسے پاکباز لوگ جو اس فضا کے نہ صرف متمنی ہیں بلکہ اس کے قیام کے لیے قربانیاں بھی دے رہے ہیں، ان کے مکمل کام کا اندازہ کرنا آج پوری طرح سے اگرچہ ناممکن ہے لیکن ایک سرسری جائزے کے طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کام میں وسعت ،گہرائی اور اثرات ہے لیکن ابھی پوری طرح سے ظاہر نہیں ہو پا رہے ہیں، اور جہاں کہیں اس فضا کے نمودار ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں تو مخالف جانب سے اس کی روکتھام کے لیے انتھک کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن کامیابی بہرحال اسی کی نصیب ہوتی ہے جس کے پاس ’’بناؤ‘‘ ہو نہ کہ’’ بگاڑ‘‘۔
یہ ’’فضا جس کی کرنیں نمودار ہو رہی ہیں‘‘ اسلام کا نظامِ عدل کے سوا کچھ اور نہیں۔ آج اگر کوئی قوم اور مذہب اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارے پاس انسانیت کے لیے فلاح وکامرانی، امن اور انصاف پر مبنی ہے تو انہیں اپنے اُن نظاموں کو اپنے اپنے ملک میں قائم کر کے عام انسانیت کے سامنے رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے ، تاکہ دنیا دیکھے کہ حقیقی انسانیت کسے کہتے ہیں۔۔۔ حقیقی امن کیا ہے۔۔۔ انصاف اور عدل کس عظیم شئی کو کہتے ہیں۔ مگر بہرحال ان تمام مذاہب سے وابستہ لوگوں کو موقع دینے کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی یہ موقعہ فراہم کیا جانا چاہیے ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام ایک ایسا نظام عدل وانصاف ہے جس میں ہر ایک کے لیے عدل ہے، ہر ایک کے لیے انصاف ہے، ہر ایک کے اپنے اپنے حقوق ہیں،بلکہ یہ ایسا دعویٰ ہے جس کا ثبوت تاریخ کے سنہرے اوراق میں موجود ہے، کس طرح سے پورے عالم کے لیے یہ دین امن وآشتی ہے ،اس کا نظارہ دنیا دیکھ چکی ہے۔
تاریخ کے اوراق سنہرے الفاظ سے بھرے پڑے ہیں کہ کس طرح اسلام عالم انسانیت کا دین ہے۔۔۔ عالم انسانیت کی بھلائی کا خواہاں ہے۔۔۔ کس طرح اسلام نے امن اور انسانیت کو فروغ دیا۔ یہ نظام نہ صرف اس کے ماننے والوں کے لیے نظامِ عدل قرار پایا بلکہ پوری بنی نوع انسانیت کے لیے اس میں عدل وانصاف ہے۔
بہرحال انسانیت انتظار میں ہے لیکن ان کے اِس انتظار کا جواب اگر اسلام کے پاس ہے تو پورے عالم میں بسنے اور رہنے والے مسلمانوں کو اپنا وہ بنیادی فریضہ ادا کرنا چاہیے تاکہ امن اور انسانیت سے مذین نظام کا لوگ خود مشاہدہ کریں ۔ لیکن وائے افسوس۔۔۔ بقول ایک عالم دین کے کہ:
’’عصر حاضر میں پورے انسانی معاشرے میں جو ہمہ جہتی بگاڑ اور فساد پیدا ہو گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ اُمت مسلمہ کا اپنے فرائض منصبی سے شعوری اور غیر شعوری غفلت اور لاپرواہی ہے۔ اس امت کے بگاڑ اور فساد نے پوری انسانی برادری کو فساد اور بگاڑ کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close