خصوصی

انگریزوں کے بنائے ہوئے ظالمانہ قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت: اے ایم یو بحران کے تناظر میں

اصولی طور پر پولیس کو سب سے پہلے ان لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے جو چپکے سے یونیورسٹی کے احاطے میں داخل ہوئے اور اے ایم یو کے طلبا کو مشتعل کیا۔

ڈاکٹر فیضان مصطفی

مترجم: ڈاکٹر ابو معاذ ترابی

چند روز قبل جب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے علی گڈھ  مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)  سے  وجہ دریافت کی تھی کہ محمد علی جناح  کی تصویر یونیورسٹی کے  کیمپس میں آویزاں کیوں  ہے؟  تبھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے تھی کہ  ٹکراؤ کا  ماحول تیار کیا جاراہا ہے کیوں کہ تصویر تو طلبا کے یونین ہال میں 1938  سے ہی  آویزاں ہے۔

واضح معلوم ہوتا ہے کہ  دائیں بازو کی تنظیموں نے اشارہ پا کر اس مسئلہ کو اٹھانا شروع کیا  اور جمعرات کو صورتِ حال بگڑ  گئی  اور جھڑپ شروع ہو گئی  جس میں درجنوں طلبا زخمی ہو گئے۔

اور اب تو بالکل واضح ہوگیا ہے کہ پولیس نے جناح کی تصویر پر غیر ضروری تنازعہ کے دوران انتہائی جانب دارانہ  کردار ادا کیا ہے۔ شاید اس وجہ سے کہ وہ  اپنے سیاسی  آقاؤں کے نظریات سے مکمل طور پر واقف ہیں۔ وزیر اعلی اور دیگر وزراء نے اس تنازعہ پر  گفتگو کی ہے،  لیکن انہوں نے ان کارکنوں  کی مذمت نہیں کی جنہوں نے اس بحران کو کھڑا کیا۔

پولیس نے ہندو یوا واہنی  کے کارکنوں  کو یونی ورسٹی میں داخل ہونے کی اجازت کیوں دی؟ پولیس نے شرپسندوں کو  اتنی جلدی رہا کیوں کردیا؟ کیوں پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے والے طلبا پر لاٹھی چارج کی گئی؟

تھوڑی دیر  کے لیے سیاست کو چھوڑیے،  اے ایم یو  کے حالیہ واقعہ نے ہمیں موقع فراہم کیا ہے کہ  بھیڑ پرقابو پانے کے متعلق موجودہ  قوانین پر نظر ثانی کی  جائے۔ کیونکہ بھیڑ پر قابو پانے کے لیے آج بھی ہم انگریزوں کے بنائے ہوئے  ان  ظالمانہ قوانین کا استعمال کررہے  ہیں، جس کو برطانوی حکومت نے اپنی رعایا پر  نافذ کرنے کے لیے بنایا تھا۔ جمہوریت کے قیام اور شہریوں کو مظاہرہ کرنے کے حق دیے جانے کے بعد  یہ قوانین  فرسودہ ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ حکومت کا کوئی بھی قانون  کسی سرکاری ملازم کو بھی کسی مظاہرہ میں حصہ لینے سے روک نہیں سکتا۔ آئین کے آرٹیکل 19 (1) (b) کے تحت بغیر اسلحہ کے پر امن طریقے سے جمع ہونا  شہریوں کے بنیادی حق میں شامل ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دو قسم کی بھیڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک منظم دوسری غیر منظم۔ منظم بھیڑ مظاہرہ  وغیرہ کرنے کے لیے نہی آتی ہے  بلکہ  یہ میلوں، تہواروں، ثقافتی سرگرمیوں، کھیلوں کی تقریبات اور سماجی، سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لیے تفریح کرنے آتی ہے۔  کچھ مظاہروں کو بھی پر امن اور منظم کہا جاسکتا ہے  جیسے خاموشی سے موم بتیوں کے مارچ وغیرہ۔  ایسا بھی ہوتا ہے کہ  ایک غیر منظم بھیڑ جائز مقصد کے لیے جمع ہوئی ہو اور اچانک  ایک جارح بھیڑ کی شکل اختیار  کر لے۔

دوسری طرف غیر منظم بھیڑ عموماً جارحانہ رجحان رکھتی ہے اور  ہمہ وقت قانون کو  نظر انداز کرنے پر مائل رہتی ہے۔ غیر منظم بھیڑ خاص  مقصد  کے تحت  اکٹھا کی جاتی ہے۔ اسکا  مقصد معاشرے میں اختلافات پیدا کرکے معاشرے کو غیر مستحکم بنانا ہوتاہے۔ غیر منظم بھیڑ  دو ہی  طرح کی ہوتی ہے یا تو  وہ غیر قانونی   طور پر  جمع ہوئی ہو گی یا  پھر  فساد برپا کرنے کے لیے۔ ہندو یوا واہنی کے کارکنان  جو اے ایم ایو  میں داخل ہوئے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے، وہ یقینی طور پر ایک غیر منظم جارحانہ بھیڑ تھی۔ انہیں روکنا  پولیس کی ذمہ داری تھی  لیکن  وہ بھی اپنی ذمہ داری نبھانے  میں ناکام رہی۔

تعزیرات ہند کے تحت بھیڑ کو قابو کرنا

تعزیرات ہند کی دفعہ 141، 1860 کے مطابق غیر قانونی  مجمع  کی تعریف مندرجہ ذیل ہے:

پانچ یا اس سے زیادہ افراد  پر مشتمل  مجمع غیر قانونی مجمع مانا جاتا ہے۔ اگر ان  افراد کا مشترکہ مقصد:

1۔ مرکزی یا کسی بھی ریاستی حکومت یا پارلیمنٹ یا کسی بھی ریاست کے قانون ساز یا کسی بھی سرکاری ملازم کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے اپنے جائز  اختیارات کے استعمال کو مجرمانہ قوت سے  اثر انداز کرنا  یا  مجرمانہ قوت  دکھانا ہو۔ یا

2۔ کسی بھی قانون یا کسی بھی قانونی کارروائی کو نافذ ہونے سے روکنے کے لئے ہو یا

3۔ کسی طرح کی شرارت کرنا یا   زیادتی کرنا یا  کسی اور جرم کا ارتکاب کرنا ہو یا

4۔ کسی بھی شخص کو مجرمانہ قوت کے ذریعے یا مجرمانہ قوت کو دکھا کر اس کی ملکیت پر قبضہ کرنا  ہو  یا کسی شخص کو راستے کے حق سے یا پانی یا کوئی غیرمادی  حق جو اس کے  قبضہ میں ہو  یا استعمال کررہا ہو   اس سے محروم کرنا ہو  یا کسی  حق یا مبینہ حق کو  نافذ کرنے کے لیے  یا

5۔ طاقت و  قوت کے ذریعے یا  ڈرا دھمکا کر کر  کسی شخص سے زبردستی وہ کام کرانا  جس کے کرنے کا قانونی طور پر وہ پابند نہیں ہے یا اسے اس کام  کو کرنے  سے روکنا   جس کے کرنے کا وہ پابند ہے۔

وضاحت: ایک  مجمع جب اکٹھا ہوا تھا وہ غیر قانونی نہیں تھا ممکن ہے کچھ دیر بعد  وہ ایک  غیر قانونی  مجمع ہو جائے۔

جرم کا جوہر  مجمع کے  افراد کے "مشترک مقاصد ” پر منحصر ہے۔

محض  مجمع میں موجودگی کسی شخص کو کسی غیر قانونی  مجمع کا رکن  اس وقت تک نہی  بنا سکتی جب تک   یہ واضح نہ ہو جائے کہ  اس  شخص  نےکچھ ایسا کیا ہے  یا کرنے  والا ہے  جو اس کو  ایک غیر قانونی  مجمع کا  رکن بنا دے۔

اے ایم یو کے مظاہرین تو پولیس سے صرف  ان لوگوں کے خلاف جو مبینہ طور پر  یونیورسٹی میں غیر قانونی طریقے سے  داخل ہوئے تھے  ایف آ ئی آر کو رجسٹر کرنے کی اور انھیں گرفتار کرنے   کی مانگ کررہے تھے۔

تعزیرات ہند  کی دفعہ 146 میں ‘فساد’ کی اصطلاح کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے:

"جب بھی غیر قانونی طور پر اکٹھا  بھیڑ  یا  اس کے  کسی رکن کے  ذریعے  بھیڑ کے مقصد کو نافذ کرنے کے لیے  طاقت یا تشدد کا استعمال ہوتا ہے   تو اس  بھیڑ میں موجود ہر شخص  فساد کے جرم کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے”۔

رگھوناتھ ونایک دھولیکر  بمقابلہ شہنشاہ کے مقدمہ میں، ہندوؤں کا ایک جلوس ایک مسجد کے سامنے سے گزرنے والا تھا  جس سےفساد  برپا ہونے کا امکان تھے۔ ایک پولیس افسر  نے  انکی مزاحمت کی اور   ان کو موسیقی بند کرکے   منتشر ہونے کا حکم دیا۔ تاہم، جلوس کے رہنما نے حکم کی تعمیل نہیں کی وہ ڈھول بجاتے ہوئے تھوڑا  آگے بڑھا تو پولیس نے بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور فوراً جلوس میں شامل افراد  اپنے موسیقی کے آلات پھیک کرمنتشر ہو گئے اور جلوس کے رہنماؤوں کو مجرم قرار دیا گیا۔

دفع  153 میں ایسے فرد کی سزا  کا ذکر ہے  جو بدمعاشی سے یا  لا پرواہی سے کسی  مشتعل کرنے  والے غیر قانونی کام  کرے جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کی اس کے  اس طرح مشتعل کرنے  سے دوسرے افراد مشتعل ہوکرفساد  برپا کردیں گے۔   غلام کدار  بمقابلہ  اسٹیٹ اے آئی  آر  1928 بامبے  156 کے مقدمہ کے مطابق  کچھ مسلمانوں نے ایک جلوس  نکالا  اور پولیس آفیسر کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے  ایک خاص راستہ پر نکل پڑے  جس پر ان کا ٹکڑاؤ   ہندوؤں کے ایک جلوس سے ہوا، وہ  اس دفعہ کے تحت ایک جرم کے ارتکاب  کے مجرم ٹھہرائے گئے اور یہاں واضح طور پر اے  ایم یو کے طلبا کو ہندو یوا واہنی کے کارکنان نے  مشتعل کیا ہے۔

دفعہ 153A میں ایسی سرگرمیوں کے  ارتکاب پر سزا  کا  ذکر ہے جس سے مختلف گروہوں کے درمیان مذہب، نسل، زبان، ذات وغیرہ کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ  ملتا ہو۔ مختلف طبقات کے درمیان دشمنی یا نفرت کے جذبات کو فروغ دینے کا ارادہ کرنا ہی  جرم ہے۔

سیکشن 153- B  میں (1972 میں داخل  کیا گیا) تین طرح کے فرقہ وارانہ پروپیگنڈا کی سزا متعین کی گئی ہے:

1۔ کسی طبقہ کے افراد پر اس بنیاد پر الزام لگانا کہ وہ کسی خاص مذہب، نسل، زبان یا علاقائی گروہ یا برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ انکا آئین پر ایمان ہو اور اس سے وفاداری رکھتے ہوں انکا ہندوستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یقین بھی ہو۔

2۔ کسی طبقہ کے افراد کے متعلق دعوی کرنا کہ انکو  کسی خاص  مذہب، نسل، زبان یا علاقائی گروہ یا برادری سے ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے شہری ہونے کے حقوق سے محروم کردیا گیا۔

3۔ کسی مذہب، نسل، زبان یا علاقائی گروہ یا برادری کے ممبران کے متعلق کوئی دعوی ، مشورہ ، درخواست یا اپیل کرنا جس کی وجہ سے ان ممبران یا افراد کے درمیان انتشار یا دشمنی یا نفرت کا احساس پیدا ہو یا پیدا ہونے کے امکانات ہوں۔

 سیکشن 159 میں ایسی جھڑپ  پر سزا متعین کی گئی  ہے جب کسی عوامی جگہ  پر دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان جھڑپ بھیڑ کے درمیان  تشدد میں بدل جائے۔

امید ہے کہ حریف انتہاپسند گروپ  جو  جناح کی تصویر کو زبردستی ہٹانے کے لئے یونیورسٹی میں داخل ہونے کی علی الاعلان دھمکی دے رہے ہیں، اے ایم یو  کے پرامن مظاہرین پر دوبارہ  حملہ نہیں کریں گے۔

سی آر پی سی کے تحت بھیڑکو  کنٹرول کرنا

سی آر پی سی (Cr۔PC) مشینری کو بنیادی قانون کے نفاذ کے لیے مؤثر انتظامیہ فراہم کرتا ہے۔ Cr۔Pc کے سیکشن 129 انتظامی مجسٹریٹ یا پولیس افسران کو اختیار دیا گیا ہے کہ  وہ  غیر قانونی مجمع یا پانچ یا پانچ سے زائد افراد پر مشتمل مجمع کو جس سے امن عام کو خطرہ لاحق ہو ان کو منتشر ہونے کا حکم دے۔ کرن سنگھ بمقابلہ ہردیال سنگھ کے مقدمہ میں  پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ  نے فیصلہ  سنایا تھا  کہ کسی غیر قانونی مجمع کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے لیے تین شرائط کا ہونا لازمی ہے۔

  • مجمع غیر قانونی ہو، اسکا مقصد تشدد برپا کرنا ہو، پانچ یا پانچ سے زائد افراد پر مشتمل مجمع  ہو اور اس سے امن عام کو خطرہ لاحق ہو۔
  • اس طرح کے مجمع کو منتشر ہونے کا حکم دیا جائے گا
  • حکم کے بعد بھی اگر مجمع منتشر نہ ہو رہا ہو

دستیاب ویڈیو فوٹیج سے ایسا لگتا ہے کہ طلبا تشدد پیدا کرنے کے لئے جمع نہیں ہوئےتھے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اے ایم یو کے طلبا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ان ہدایات پر کتنا عمل کیا۔ اگر طلبا واقعی تشدد میں ملوث ہوئے تھے تو پولیس کے پاس مقدمہ کا جواز ہے۔ پھر بھی  پولیس نے پانی کے گیلنوں کا استعمال کیوں نہیں کیا وضاحت طلب ہے۔ تا ہم پولیس دوسری یونیورسٹیوں میں بھی طلبا کو قابو میں کرنے کے نام پر ان پر ظالمانہ برتاؤ کرچکی ہے۔ 2017  میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں تو طالبات کو بھی نہیں بخشا تھا۔ اسی طرح جے این یو کے مظاہرہ  کررہے  طلبا  پر  30 مارچ کو لاٹھی چارج کیا تھا۔ 2017 ہی میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبا پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا۔ اس سال 30 مارچ کو سی بی ایس سی اور ایس ایس سی کے طلبا پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔اس طرح، اے ایم یو کے معاملہ میں پولیس پر فرقہ واریت کا الزام نہی لگانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ  بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے ہماری پولیس کی ٹریننگ بہت خراب ہوئی ہے۔

بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے متعلق قانون بہت واضح ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے کم سے کم قوت کا استعمال ہونا چاہیے۔ اگر کوئی بھیڑ جس کا منتشر ہو نا ناگزیر ہو اور وہ منتشر نہ ہورہی ہو اور امن عام کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کو منتشر کیا جا ئے،  موقع پر موجود اعلی رتبہ والے انتظامی افسر کو سیکشن 130 کے تحت اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ مسلح طاقت کے ذریعہ بھیڑ کو منتشر کیا جاسکتا ہے۔

عموما بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے  سب سے اہم سیکشن 144  کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اچانک سے حالت بے قابو ہوجائے یا خطرے کا اندیشہ ہو تو صورتحال پر قابو پانے کے لیے  یہ سیکشن حکم جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

حکم دیا جا سکتا ہے:

  1. کسی بھی شخص کو کسی مخصوص فعل سے رکنے کے لئے، یا
  2. خاص ملکیت کے متعلق جو اس کے قبضہ میں ہو یا اس کے انتظام کے ماتحت ہو۔

حکم جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم  مجسٹریٹ کو امید ہو کہ یہ حکم  رکاوٹ کو دور کرسکتا ہے یا ر کاوٹ کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا (b) غصہ کو  یا قانونی طور پر متعین  ملازم کو چوٹ سے محفوظ رکھنے، یا (D)  انسان کی زندگی، صحت اور سلامتی کے لئے یا (e) عوام میں سکون کے استحکام کے لیے ایک مصیبت، یا (f) نہیں یا (g) لڑائی سے بچنے کے لیے۔

دیکھتے ہی گولی مارنے کی ممانعت

سیکشن 144 کے تحت ایک حکم  بالکل واضح اور بالضبط ہونا چاہئے۔ ریاستی حکومت کے جاری کردہ جہت نافذہ سے متعلق "اہم اعلان” کے مطابق اگر عوام میں سے  کسی شخص  سے خطرہ  محسوس ہو  اور کرفیو توڑنے والے شخص کو صرف کرفیو توڑنے پر گولی مار دی جائے، اس حکم کو گجرات ہائی کورٹ نے  اختیار سے خارج رکھا ہے  اس طرح کا حکم  اور  ریاستی حکومت کے ایگزیکٹو اختیارات سے بھی خارج ہے اور اسے سی آر پی سی کے سیکشن 144 اور تعزیرات ہند کے سیکشن 188 اور آئین کے آرٹیکل 21 کے اختیارات سے  بھی باہر رکھا گیا ہے (مقدمہ :جیانتی لال بمقابلہ ایریک رینشن)

بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کا قانون

1861 کے پولیس ایکٹ نے بھیڑ کی دشواری سے نمٹنے کے لیے پولیس کو مختلف اختیارات عطا کیے ہیں۔  وہ عوامی جلوسوں اور مظاہروں کو قانون کے دائرہ میں لے سکتے ہیں جس کے لیے وہ لائسنس حاصل کرنے کی شرط بھی لگا سکتے ہیں۔  پولیس ایکٹ کے سیکشن 30 میں پولیس کو مظاہرے پر کنٹرول رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بعض مخصوص حالات میں پولیس کو اختیار ہے کہ وہ لوگوں سے کہے کہ مظاہرہ کرنے کی اجازت لینے کے لیے درخواست دیں۔ اس اختیار کا مقصد یہ ہے کہ بھیڑ پر کنٹرول رکھنے کے لیے کے لیے وقت پر مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔ سیکشن 30 کی شق (3) میں پولیس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مظاہرہ کرنے کے لیے پہلے ہی شرائط کی وضاحت کردے۔ اس کے بعد ایک بھی شرط کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سیکشن 32 کے تحت یہ جرم قابل سزا ہوگا۔ اسی طرح، اگر اجازت کے لئے درخواست دینے میں ناکام ہوا تو، سیکشن 30 کے تحت جاری کردہ حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب تصور کیا جائے گا۔ لیکن پولیس کو جلوس نکالنے کی اجازت نہ دینے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ یہاں کنٹرول کرنے کے اختیار میں منع کرنے کا اختیار شامل نہی ہے۔

پولیس ایکٹ کے سیکشن 30 (a) کسی بھی مجسٹریٹ یا ضلع سپریٹینڈنٹ یا اسسٹنٹ سپریٹینڈنٹ پولیس یا کسی بھی پولیس افسر کو جو کسی اسٹیشن کا انچارج ہو ایسے  مظاہرہ کو روکنے کی اجازت دیتا ہے جو لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہو ہے اور ان کو منتشر ہونے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص مظاہرہ سے نکلنے سے انکار کرے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا خواہ اسے  لائسنس کی شرائط کا علم ہو یا نہ ہو۔ ایسی صورت میں جرم کا مرتکب وہ شخص ہوگا جو مظاہرہ چھوڑ کر جانے  سے لاپرواہی برتے  یا انکار کرے   اسے غیر قانونی جلوس کا رکن سمجھا جائے گا جو تعزیرات ہند کی دفعہ 143 کے تحت سزا کا مستحق ہوگا۔

اس طرح اس قانون نے پولیس کو مظاہروں اور  جلوسوں کو کنٹرول کرنے کے لئے بہت اختیارات فراہم کیا ہے۔ مگر ان سے یہ امید بھی ہے کہ وہ ان اختیارات کا غلط  استعمال نہی کریں گے اور بلا وجہ انفرادی آزادی سے لوگوں کو محروم نہی  کریں گے  جو کہ کامیاب جمہوریت کے لئے بہت  ضروری ہے۔

اگر اے ایم یو کے طلبا کو محسوس ہوا کہ پولیس نے ہندو یوا واہنی کے ساتھ جانب داری برتتے ہوئے ان سے  نرمی سے پیش آئی ہے اور ان سے سختی کی  ہے تو اے ایم یو کے طلبا پولیس  کے اس امتیازی رویے کے خلاف  قانون کے دائرے میں رہتے ہوئےپرامن طریقے سے احتجاج کر سکتے ہیں۔

مظاہرین کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے احتجاج کو مکمل طور پر پرامن بنائے کر رکھیں۔ انہیں بلا وجہ سینئر ضلع انتظامیہ اور افسران پر حملہ کرنے سے احتراز کرنا چاہئے تھا۔ اسی طرح، غیر سرکاری اداکاروں کے کرتوت کی بنیاد پر حکومت پر تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے اور غیر سرکاری اداکاروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے شائستہ اور مہذب انداز میں حکومت پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ساتھ اگر کسی طالب علم نے قانون کو توڑا ہے تو اس کی مذمت بھی ضروری ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پولیس کے اہلکار بھی زخمی ہو ئےتھے، ممکن ہے جب پولیس نے لاٹھی چارج شروع کیا تو کچھ ناپسندیدہ عناصر (بیرونی لوگ یا سابق طلبا) نے بگڑی ہوئی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ایسا کیا ہو۔ ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ اصولی طور پر پولیس کو سب سے پہلے ان لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے جو نے بلاوجہ چپکے سے یونیورسٹی کے احاطے میں داخل ہوئے اور اے ایم یو کے طلبا کو مشتعل کیا۔

ہفتہ کے روز  امر اجالا اخبار میں ایک خبر چھپی تھی کہ مظاہرہ کرنے والے طلبا نے ایک آزاد فوٹوگرافر جس کا تعلق  مقامی بی جے پی سے تھا پر حملہ کیا جس کو اے ایم یو کی سیکورٹی نے بچایا، جس کے لیے سیکورٹی عملہ کو فائرنگ بھی کرنی پڑی۔ اس خبر کو پڑھ کر مصنف بہت حیران تھا کہ اس طرح کا رویہ تو اے ایم یو کی روایت کے خلاف ہے۔ تاہم، اس خبر کی صداقت کی تصدیق کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں کے سیکیورٹی عملہ کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں۔ یا  شاید اس الزام کا مقصد اے ایم یو کے طلبا کو بدنام کرنا ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے  اس واقعہ کی مجیسٹیریل جانچ  کا حکم دے دیا ہے، لہذا طلبا کو اپنی ہڑتال ختم کرکے پڑھائی پر توجہ مرکوز کردینی چاہیے۔ انہیں اپنے تعلیمی سال کو بچانا چاہیے۔ یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ، یونیورسٹی کے دیگر عملے، ان کے بڑے اور تمام ہندو لبرل اور انسانی حقوق کی دفاع کرنے والے ان کی طرف سے ضرور لڑیں گے۔ انہیں ملک کے قانونی نظام اور آئین پر پورا یقین ہونا چاہیے۔

بھیڑ کو قابو میں کرنے کے مسئلہ کو صرف امن وامان برقرار رکھنے کے مسئلہ کی حد تک دیکھنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے بہت سے سماجی، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی عناصر جڑے ہوتے ہیں۔ بھیڑ خواہ کھلے عام اکٹھا ہوئی ہو یا پوشیدہ طور پر ہر طرح  کی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے قانون نے پولیس کو بہت اختیارات دیے ہیں۔ تا ہم پولیس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھیڑ کے ساتھ اپنے اختیارات کا غلط  استعمال نہ کرے۔ پولیس کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے شہریوں کو آئین کے ذریعہ عطا کی گئی تقریر واحتجاج کرنے کی آزادی میں رکاوٹ پیدا کرے۔

اگر ہم توقع کرتے ہیں کہ پولیس قانون کی حفاظت کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرے تو ان کے پیشہ کو غیر قانونی مداخلت سے محفوظ رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا عدلیہ کا خودمختار ہونا۔ ہماری پولیس پر سیاسی کنٹرول بالکل نہی ہونا چاہیے۔ نچلے درجے کے پولیس افسران کے اندر بہتری پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انکی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے۔ قابل تعریف ہیں ہمارے پولیس کانسٹیبلس  جو گھنٹوں ڈیوٹیاں کرتے ہیں، انھیں اپنی نیند تک مکمل کرنے کا موقع نہی ملتا۔ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پولیس اہلکار بہت سخت اور مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ وہ بھی انسان ہیں اور ہماری طرح کم زور پڑ سکتے ہیں اور غلطیاں کرسکتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر فیضان مصطفی

ڈاکٹر فیضان مصطفی نلسار یونیورسٹی آف لا، حیدرآباد کے وائس چانسلر ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور قانون میں گریجویشن کیا، بعد ازاں اسی یونیورسٹی سے نمایاں نمبروں سے قانون میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے کاپی رائٹ قانون میں ڈاکٹریٹ اور بین الاقوامی و تقابلی قانون حقوق انسانی پر بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے حقوق انسانی سے ڈپلوما کیا۔ نلسار کے وائس چانسلر بننے سے قبل وہ نیشنل لا یونیورسٹی، اڑیسہ کے بانی وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close