خصوصی

اور حکومت نے بین لگادیا

 عزیر احمد

کیا آپ کو کوئی اسلام لانےکے لئے مجبور کر رہا ہے, کیا آپ پہ کوئی دباؤ ڈال رہا ہے, کیا آپ کو کسی قسم کا لالچ دیا جارہا ہے, نہیں بالکل نہیں, ایسی کوئی بات نہیں, میں خود سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں, ٹھیک ہے, اب آپ میرے ساتھ دہرائیے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”, ادھر زبان سے یہ کلمات ادا ہوئے, ادھر فضاؤں میں داد و تحسین اور مبروک کی صدائیں گونجنے لگیں۔

یہ منظر جہاں ایک طرف مسلمانوں کے لئے خوشی اور مسرت کا سبب تھا, وہیں دوسری طرف دیگر لوگوں کے لئے تکلیف اور دکھ کی بات تھی, یہ منظر دیکھ کے ان کے چہرے سرخ ہوجاتے, ان کے نتھنے پھولنے پچکنے لگتے, آنکھوں سے شعلے برسنے لگتے, دل میں آتا کہ کسی طرح اس بندے کو بولنے سے روک دیں, اس کے پروگراموں پہ پابندی لگوا دیں, مگر کچھ نہیں کرپاتے, کیونکہ یہ اس کا حق تھا, ہندوستانی قانون نے اسے اجازت دی تھی کہ وہ اپنا مذہب پہ کاربند رہے, اس کی دعوت و تبلیغ کرے, لوگوں میں اس کی اشاعت کرے چاہے ٹی.وی. کے ذریعہ ہو, یا سوشل میڈیا کے ذریعہ, چینلوں کے ذریعہ یا پروگراموں کے ذریعہ, اسے کوئی روک نہیں سکتا, اور نہ ہی اس کی بات سے متاثر ہوکر اس کے مذہب کو قبول کرنے والے کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی.

وہ جلتے بھنتے رہے, اپنے غصے کو اندر ہی اندر دبائے سلگتے رہے, اور ساتھ ہی ساتھ موقع کی تلاش بھی کرتے رہے, یہاں تک کہ مرکز میں ان کی حکومت بھی آگئی, انہیں لگا کہ اب وہ کچھ کر سکتے ہیں, انہوں نے لکڑیاں جمع کرنا شروع کردیں, اچانک ڈھاکہ سے ایک چنگاری اٹھی اور ان کی لکڑیوں میں آگ لگا گئی, پورے ملک میں اس تن تنہا بندے کے خلاف لہر دوڑنے لگی, چینلوں پہ بحث و مباحثے ہونے شروع ہوئے, دریش دروہی, غدار, دہشت گرد جیسے القاب سے نوازا جانے لگا, اسی درمیان کچھ مسلمان نما لوگ بھی اس کے خلاف تال ٹھوک کے میدان میں آگئے, داڑھی, ٹوپی, کرتا میں ملبوس, ارے وہ سلفی اسلام کا پیروکار ہے, مسلمانوں کو غیر مسلموں کے خلاف بھڑکاتا ہے, نوجوانوں کو جہاد کرنے پہ ابھارتا ہے, صوفی اسلام کا مخالف ہے, حکومت سے ہم پابندی لگانے کی درخواست کرتے ہیں.

ان مسلمان نما لوگوں کی مخالفت سے ہوا اور تیز ہوگئی, حکومت (بی.جے.پی) بھی جلی بھنی تھی, فورا انکوائری بٹھادی, ان کے تقریروں کی جانچ شروع ہوئی, اس کے بیانات ٹٹولے گئے, ان کے اور دہشت گردی کے درمیان لنک تلاش کرنے کی کوشش کی گئی, آخر کار ان کے فاؤنڈیشن آئی.آر.ایف پہ Unlawful Activities Prevention Act کے تحت پانچ سالوں کے لئے مندرجہ ذیل پوائنٹس کی بنیاد پہ بین عائد کردی.
1: ان کے خلاف کرمنل کیس ہیں.
2: وہ بھڑکاؤ تقریریں کرتے ہیں, اور دہشت گردی کو بڑھاوا دیتے ہیں.
3: ہندوستان میں پابندی شدہ چینل پیس ٹی.وی کے ساتھ ان کا تعلق ہے, اور وہ اس چینل کی فنڈنگ اپنے فاؤنڈیشن کے ذریعہ کرتے ہیں.

یو.اے.پی.اے (UAPA) کو ان پوائنٹس کی بنیاد پہ عائد کرنے کا فیصلہ کتنا غلط ہے, اور بذات خود یہ پوائنٹس کتنے بودے ہیں, ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا ہے, حکومت کہہ رہی ہے, ان کے خلاف کرمنل کیسز ہیں, چلو مان لیا, مگر پہلے ان کیسز کو ثابت تو ہونے دو, جو کیسز عدالت میں زیر بحث ہوں, حکومت اس کو بنیاد بنا کے کوئی بھی فیصلہ نہیں لے سکتی ہے, اور اگر ثابت بھی ہوجائے تو اس سے UAPA لازم نہیں آتا ہے, ہندوستان کے تقریبا اسی فیصد نیتاؤں پہ مار پیٹ, قتل, چوری, ڈکیتی کرپشن جیسے کرمنل کیسز کے الزامات عائد ہیں, تو آخر ان سب پہ پابندی عائد کیوں نہیں کی جاتی.

رہی بات بھڑکاؤ تقریریں کرنے کی, یہ تو ہفوات اور بکواس ہیں, ہندوستان میں, آر.ایس.ایس, توگڑیا, سادھوی پراچی, اشوک سنگھل, یوگی آدتیہ ناتھ, یا ان جیسے دیگر لوگوں سے زیادہ بھڑکاؤ تقریریں کون کرتا ہے, سر عام مسلمانوں کی مارنے کی باتیں کرتے ہیں, بلکہ مارتے بھی ہیں, کبھی گجرات کی سڑکوں پہ مارتے ہیں, کبھی مظفر نگر کی گلیوں کو لالہ زار بناتے ہیں, کبھی دادری میں قتل کرتے ہیں, کبھی یونیورسٹی سے بچے کو غائب کرتے ہیں, مگر ان سب پہ پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے, عائد کی جاتی ہے تو اس بندے پہ جو قانون کے دائرے میں رہ کے اپنا کام کرتا ہے, امن و امان اور شانتی کی راہ پہ چلنے کی ترغیب دیتا ہے, ایک ہاتھ میں قران تو دوسرے ہاتھ میں سائنس رکھتا ہے, ہر بات کو سائنٹفک طریقے سے بیان کرتا ہے, کسی پہ زور زبردستی نہیں کرتا, لالچ یا دباؤ میں آکر اسلام قبول کرنے سے منع کرتا ہے, القاعدہ, طالبان, داعش اور اس جیسی دیگر تنظیموں کو اسلام سے بھٹکا ہوا, اور خارجی تصور کرتا ہے, دہشت گردی کی چاہے وہ کسی بھی شکل میں کیوں نہ ہو مذمت کرتا ہے, اس کے باوجود بھی اسے دہشت گردی کا ہمدرد قرار دیکر اس کے فاؤنڈیشن پہ پابندی عائد کردی جاتی ہے, اس کے بولنے پہ سوالیہ نشان کھڑا کیا جاتا ہے, اسے پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے.

آئی.آر.ایف پہ پابندی سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ یہ ملک دھیرے دھیرے فاسشٹ ملک میں تبدیل ہوتا جارہا ہے, اب بولنا جرم ہوگیا ہے, اور اپنے مذہب کی تبلیغ بھڑکاؤ عمل.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Close