خصوصیسیاست

اَدھ جل گگری چھلکت جائے

ڈاکٹر سلیم خان

ہماچل پردیش بی جے پی کے  صدر ستپال سنگھ ستی نے  ۱۳ اپریل ۲۰۱۹ ؁  کو ایک ریلی سے خطاب کے دوران  کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے خلاف نازیبا الفاظ  استعمال کرتے ہوئے انہیں ماں کی  گالی دے دی۔ اس پر الیکشن کمیشن نے ان کی تشہیر پر ۴۸ گھنٹوں کی پابندی عائد کر دی۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ ٔ اخلاق کی سزا  نے  ستپال کی بےخوفی  میں کس طرح اضافہ کیا یہ جاننے کے لیے پابندی اٹھنے کے بعد ستپال کا  خطاب دیکھیں۔ اس نے  کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی  کی جانب جو  انگلی اٹھائے گا ہم اس کا ہاتھ کاٹ کر پھینک دیں گے۔ ویسے جس وزیراعظم کی عشق میں ستپال ہاتھ پیر کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں وہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔ انہوں نے   اترپردیش کے اندراپنی ایک انتخابی تقریر میں  آنجہانی  سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے تعلق سے راہل گاندھی کو مخاطب کرکے  کہہ دیاکہ ’’آپ کے والد کو بھلے ہی لوگ مسٹر کلین کہتے ہوں لیکن ان کا انتقال بدعنوان نمبر ایک طور پر ہوا ‘‘۔

 اس کو کہتے ہیں ’ اَدھ جل گگری چھلکت جائے‘۔ یہ ہندی کا محاورہ ہے جس مطلب لغت میں یوں درج ہے’کم ظرف اور کمینہ آدمی تھوڑی سی عزت مل جانے پر اترانے لگتا ہے‘۔وزیر اعظم نے اس بیان سے اپنے  عہدے کا وقار  تار تار کردیا لیکن  یہی تو سنگھ کے سنسکار ہیں جس کی تربیت بچپن سے دی جاتی ہے  اور پھر گگری کے اندر سے وہی تو چھلکے جو اس کے اندر موجود ہوگا۔ اس میں اگر گنگا جل کے بجائے گئو موتر بھرا ہو تو وہی  اچھل کرباہر آئے گا۔  مودی جی کے اس گھٹیا  طنز کا سب سے تیکھا جواب  راجیو گاندھی کی خوددار بیٹی پرینکا  نے دیا۔ انہوں  کہا ہے کہ ’’شہیدوں کے نام پر ووٹ مانگ کر ان کی شہادت کی بے عزتی کرنے والے وزیر اعظم نے کل اپنی بے لگام سنک میں ایک نیک اور پاک انسان کی شہادت کی بے عزتی کی ہے۔ جواب امیٹھی کے عوام دیں گے جن کے لئے راجیو گاندھی نے اپنی جان دی تھی۔ ہاں،  مودی جی یہ ملک دھوکہ بازوں کو کبھی معاف نہیں کرتا‘‘۔

سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئےپوچھا  ’’ کیا وزیر اعظم نے یہ قدیم کہاوت سنی ہے ؟  کہ مرنے والے شخص کے بارے میں کبھی برا نہ نہ کہا جائے۔ کیا کوئی مذہب بعد از مرگ  کسی  شخص کی بے عزتی کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟‘‘۔ چدامبرم نے یاد دلایا کہ وزیراعظم جس بدعنوانی کا ذکر کررہے ہیں اس کو دہلی کی ہائی کورٹ نے مسترد کردیا اور خود بی جے پی نے   اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ گجرات کے معروف صحافی سلیل ترپاٹھی نے اپنے غم و غصے کا اظہار اس طرح کیا کہ ’’یہ شخص (مودی) اس حد تک گرتا جا رہا ہے جہاں تک کسی نے اس سے قبل تصور بھی نہیں کیا ہو گا‘‘۔ جو لوگ وزیراعظم کے مزاج  سے واقف ہیں ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،   بس فرق یہ ہے کہ ان کے صبر کا باندھ اب ٹوٹنے لگا اور بلی  بار بار اچھل کر تھیلے سے باہر آنے لگی ہے۔

 ۲۰۱۴ ؁ کی انتخابی مہم کے دوران  مودی جی   ’شہزادے‘ کہہ کر راہل گاندھی کا تمسخر اڑاتے تھے۔ مودی  بھکت  بابا رام دیو نے سونیا گاندھی کو ’غیر ملکی لٹیری بہو‘ کہہ کر  ان کا موازنہ ایک تمثیلی دیوی سے کیا  تھا جو سب کو نگل جاتی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کا عہدے پر فائز ہونے کے بعد بھی  مودی کی فطرت نہیں بدلی۔ نوٹ بندی کی حماقت پر جب  ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اسے منظم  سرکار ی لوٹ  قرار دیا تو نریندرمودی نے انہیں  تقریباًاحمق  قرار دیتے ہوئے کہہ دیا تھاکہ ’رین کوٹ پہن کر باتھ روم میں نہانے کا فن ڈاکٹر منموہن سنگھ بخوبی جانتے ہیں‘۔نوبل انعام یافتہ   امرتیہ سین جیسے لوگوں  کی تعلیم کامذاق اڑاتے ہوئے مودی جی خود ستائی کرتے ہوئے  کہا تھا کہ ایک طرف ہاورڈ یونیورسٹی میں پڑھے لوگ ہیں دوسری طرف میں (نریندرمودی) ہارڈورکرہوں۔میں نے اپنے ہارڈ ورک سےہاورڈ کو بھی سبق سکھا دیا   حالانکہ  قومی معیشت اب بھی اس حماقت کی سزا بھگت رہی ہے اور مودی جی خود بھی اپنی کسی انتخابی تقریر میں بھول کر بھی اس کا حوالہ نہیں دیتے۔

 سنگھ پریوار کے افراد ضبط نفس نام کی چڑیا سے واقف نہیں ہیں۔ ان کے اندر اپنوں کی  تنقید سننے کا بھی مادہّ نہیں ہے۔ مسلسل سا ت بار ملک کا بجٹ پیش کرنے والے یشونت سنہا نے ملک کی معاشی بدحالی پر تشویش کا اظہار کیا تو  وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے  کہہ دیا  کہ اسّی سال کی عمر میں یشونت سنہا کام تلاش کر رہے ہیں۔یہ جھوٹا الزام بھی لگا دیا کہ  وزیرخزانہ کی حیثیت سےسنہا کی  ناکامی پر اٹل بہاری واجپئی نےانہیں برخواست کر دیا تھاحالانکہ وہ تو وزیر خارجہ کے اہم  عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ جیٹلی کی اصلاح کے لیے آر ایس ایس کے گرومورتی، سبرامنیم سوامی اور ڈی ایچ چندیکر جیسےماہرین  معاشیات کو میدان میں آنا پڑا۔  ارون شوری نے نوٹ بندی کی مخالفت کی  تومودی بھکتوں نے ان کے بیمار بیٹے کا حوالہ دے کر   کہا وہ بھی  اپنے  اپاہج بیٹے کی طرح اپاہج ہو کرمرے گا۔ اپنی بددعا سے ہیمنت کرکرے کو مارنے والی سادھوی پرگیہ اکیلی نہیں ہیں بلکہ اس زعفرانی جماعت کے مرد بھی اسی کی طرح  خود اپنے سابقہ وزراء کو بھی شراپ دیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اڈوانی کا   غیر اعلانیہ شراپ امیت شاہ پر کیا اثر دکھاتا ہے۔

فلم دیوار میں ہیرو کے ہاتھ پر’میرا باپ چور ہے‘ایک گالی کے طور پر لکھ دیا جاتا ہے ۔ وزیراعظم بھی فی الحال  یہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انسان گالی کب دیتا ہے؟ اگر کسی کمزور بچے کو کوئی تگڑا بچہ زناٹے دار  طمانچہ جڑدے  اور وہ اس کو لوٹا نہ سکے تو وہ مجبور ہوکر  گالی دے دیتا ہے۔ یہ دراصل ایک کمزور انسان کے لاچاری کا اظہار ہے۔    گالی،  کیوں  دی جاتی ہے ؟ گالی  گلوچ کا رویہ  دراصل بداخلاقی،  خراب تربی اور کمزوری علامت  ہے۔ آخری بات،  گالی کیسے دی جاتی ہے؟ یہ سب جانتے ہیں کہ اگر کسی کہا جائے تو چور ہے تو وہ  جواب میں کہتا ہے ’تو چور، تیرا باپ چور اور تیرا پورا خاندان چور ہے‘۔ مودی جی کو جب راہل گاندھی نے ’چور چوکیدار‘ کے لقب سے نوازہ تو مودی جی  سیدھے گاندھی پریوار پر ٹوٹ پڑے اور درپردہ  موتی لال نہرو سے لے جواہرلال نہرواور اندرا گاندھی تک کو لپیٹنے کی کوشش کی   لیکن اب کی بار تو بالواسطہ  راجیو گاندھی کو نشانہ بنادیا۔ اس پر راہل کا جواب ان کے پختگی  کا ترجمان ہے۔ انہوں نے لکھا’’مودی جی،  لڑائی ختم ہو چکی ہے،  آپ کے اعمال آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اپنے بارے میں آپ کا جو خیال ہے وہ آپ بھلے ہی میرے والد پر تھوپیں لیکن یہ بھی آپ کو نہیں بچا پائے گا۔ آپ کے لئے، میری ساری محبت اور بڑا سا معانقہ   ‘‘۔ راہل گاندھی کی اس اعلیٰ ظرفی پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب        

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close