خصوصیہندوستان

آئینِ ہند سے کھیلتی سیاسی جماعتیں

راحت علی صدیقی قاسمی

ہندوستان کی تاریخ شاہد ہے کہ مغلوں کا دورِ حکومت غیر مسلموں کے لئے باعثِ اذیت نہیں تھا، وہ اُن سے محبت و عقیدت رکھتے تھے، ان کو اپنے مذہبی امور پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کرتے تھے، ان کے تجارتی کاموں میں روڑے نہیں اٹکاتے تھے، جس نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے، وہ اِن حقائق کو تاریخ کے صفحات میں دیکھ چکا ہے اور جو تاریخی حقائق کو نہیں جانتا، وہ بھی چاہے تو حقیقت کو پہچان سکتا ہے، تقریباً ایک ہزار سال محکومی کی زندگی گذارنے والے افراد کی صورتِ حال سے اندازہ لگاسکتا ہے۔ اگر مغلوں نے غیر مسلموں پر ظلم و زیادتی کو روا رکھا ہوتا، تو وہ ایک ہزار سال کے ظلم و زیادتی کی تاب نہ لا پاتے، ٹوٹ کر بکھر جاتے اور انہیں اپنے وجود کو سمیٹنے میں عرصئہ دراز درکار ہوتا، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے، جب کے ہندوستانی انگریزوں کے ڈیڑھ سو سالہ ظلم و ستم سے پوری طرح آج بھی نہیں اُبھر پائے ہیں، ہمارے ملک کے باشندوں میں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت و تعصب کے جذبات پیدا کئے گئے ہیں، جو لوگوں کے قلوب میں مسلمانوں کے خلاف لاوے کی شکل اختیار کر لے اور اسی گرمی سے سیاسی رہنما اپنا مقصد حاصل کرتے رہیں، آئے دن انتخابات میں اس طرح کے جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جو میرے دعوے کو حقیقت ثابت کرتے ہیں۔

جنگ آزادی میں مسلمانوں اور ہندؤں نے جس طرح اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا تھا، اس کے بعد یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ملک اس طرح کی صورت حال سے دو چار ہوگا، مسلمانوں نے ہندوستان سے محبت کا ثبوت دیا، اسے اپنا وطن سمجھا، یہیں بسے،چشتی و اجمیری اور نانک کی مٹی سے جدا ہونا گوارا نہیں کیا،آئین میں بھی اس بات کا لحاظ کیا گیا کہ ملک میں بسنے والے تمام افراد قانون کی پاسداری کریں گے، اور قانونی اعتبار سے ہر شخص کو مکمل طور پر آزادی ہے، اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی شریعت پر عمل پیرا رہیں، اپنے عقیدہ کے پابند ہوں، ہر ہندوستانی کو مکمل طور پر آزادی دی گئی، جس پر تمام ہندوستانی عمل کررہے تھے، اور اس خوفناک صورت حال سے بے خبر تھے، جو مستقبل میں پوشیدہ تھی، وقت گذرتا رہا، قوانین کو نافذ ہوئے پچاس سال کا عرصہ بھی نہیں گذرا تھا کہ ایسا واقعہ پیش آیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، ایودھیا میں موجود بابری مسجد کو منہدم کردیا گیا، حالانکہ مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں تھا اور فریقین مسجد و مندر کے تعلق سے دلائل فراہم کر رہے تھے، عدالت عظمی نے اُس جگہ کو توڑنے اور اُس پر قبضہ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا،حفاظتی انتظامات کے ہوتے ہوئے بابری مسجد کو دیکھتے ہی دیکھتے منہدم کردیا گیا، ملک جس صورت حال کا شکار ہوا، آزاد ہندوستان میں اس طرح کا واقعہ رونما ہوگا، خواب میں بھی کسی نے نہیں دیکھا ہوگا، بہرحال ایسا ہوا، اور اس کے بعد یہ بہت سی سیاسی جماعتوں کا پسندیدہ مدعا قرار پایا، کوئی بابری مسجد کی حمایت کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا اور کوئی رام مندر کی تعمیر کا دعوی کرکے غیر مسلموں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا، اس طرح سے سیاست عدلیہ کے مقابل کھڑی ہوگئی، اور آئین سے کھلواڑ کرنے کے نعرے بلند کرنے لگی۔

ہر ہندوستانی پر عدلیہ کے وقار اور اس کی عزت و آبرو کا تحفظ لازم ہے، عدلیہ ہمارے ملک کا سب سے اہم  شعبہ ہے،جس سے نکلا ہوا ہر ایک جملہ ہمارے لئے حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر کسی کی مرضی نہیں چلتی، وہ کسی کے جذبات و احساسات کا پابند نہیں ہے، وہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے،اور اس کا فیصلہ ماننا ہر شہری کے لئے ضروری ہے، مگر افسوس کہ وہ بابری مسجد جس کا فیصلہ عدلیہ کو کرنا تھا، اس کے فیصلے کا دعوی سیاسی جماعتیں کرنے لگیں اور ہر جماعت کے سیاسی منشور میں بابری مسجد کا تذکرہ بھی کسی نہ کسی نوعیت سے ہوتا رہا ہے، گذشتہ انتخابات جن میں وکاس اور اچھے دنوں کا بول بالا تھا اور پورا انتخاب ترقی کے نام پر لڑا جارہا تھا، اس میں بھی بی جے پی کے انتخابی منشور میں بابری مسجد کا تذکرہ تھا، حالانکہ وہ صفحہ نمبر 37 پر تھا، انتخابات ختم ہوگئے، لیکن بابری مسجد پر مختلف قسم کی آرا سنی گئیں، جن میں بابری مسجد اور رام مندر مسئلہ کا حل لوگ تلاش کر رہے تھے، حالانکہ مسئلہ ابھی عدالت میں تھا، مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلااور پھر سے انتخابات قریب آگئے، اور اس مرتبہ ایک نیا ڈرامہ نگاہوں کے سامنے ہے، شیو سینا بی جے پی کو گھیر رہی ہے، اور رام مندر تعمیر نہ ہونے کی وجہ دریافت کررہی ہے، غیر مسلموں کو اکسا رہی ہے، اور انہیں رام مندر تعمیر کے نام پر جوڑ رہی ہے، شیو سینا اور بی جے پی اب تک انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے ہمراہ ہوتے تھے، اس مرتبہ دونوں الگ الگ ہیں، اور ادھو ٹھاکرے نے ایودھیا میں ریلی کرکے اس مدعا کو کیش کرنے کا اعلان کردیا ہے، اور ان کے ساتھ وی ایچ پی بھی اس میدان میں ہے،ر اشٹریہ سہارا کے مدیر کے مطابق شیو سینا کے ارکان قانون سازی  بی جے پی کو چیلنج کر رہے ہیں، کہ وہ اگر مندر تعمیر نہیں کراسکتی تو واضح کردے، ہم نے سترہ منٹ میں مسجد کو منہدم کردیا تھا، اور ہم تعمیر کرنے پر بھی قادر ہے، پچھلے دو تین دنوں میں ایودھیا کے لوگوں نے جس صورت حال کا مشاہدہ کیا ہے، ان کو یقیناً 1992 کی صورت حال یاد آگئی ہے، لوگ سہمے ہوئے ہیں، اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حکومت بھی ووٹ بینک کو متاثر نہیں کرنا چاہتی ہے، اور اس بات کا واضح اندازہ وزیر آعظم کے اُس بیان سے ہوگیا، جو الور میں انہوں نے انتخابی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا، وزیراعظم نے شیو سینا کے حملہ سے بچتے ہوئے واضح کردیا کہ بابری مسجد کے معاملے میں تاخیر کے ذمہ دار وہ نہیں ہے، بلکہ کانگریس ہے، کانگریس کے وکیل عدلیہ میں کہتے ہیں کہ اس معاملے کو 2019 سے آگے لے جائیں، وزیر آعظم کے اِن جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اِس مدعا کی اہمیت کو جانتے ہیں، اور وہ بھی اپنے ووٹ بینک کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہتے، چونکہ اچھے دنوں اور وکاس کا مقبرہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اگر یہ مدعا بھی شیوسینا کیش کرلیتی ہے، تو پھر بی جے پی کے ہاتھ میں کیا رہ جائیگا، حالانکہ گذشتہ انتخابات سے عیاں ہوتا ہے کہ بی جے پی پر لوگوں کا اعتماد ابھی برقرار ہے، لیکن بی جے پی جانتی ہے، بابری مسجد رام مندر تعمیر کا معاملہ غیر مسلموں کے اعتماد کو کم کرسکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی یہ صورت حال واضح کر رہی ہے کہ عدلیہ کو سیاسی جماعتوں نے کھلونا بنا رکھا ہے، وہ عدلیہ پر جملے بھی کستے ہیں، اس کے وقار کا بھی خیال نہیں کرتے، جس سے ملک مشکل حالات کا شکار ہوتا ہے، آج غیر مسلموں نے ادھو ٹھاکرے کے اعلان پر کثیر تعداد میں شریک نا ہوکر ان کے خوابوں کو ضرور شرمندہ تعبیر ہونے سے روک لیا ہے، لیکن اس مدعا کی اہمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے واضح ہے، اور خاص طور پر بی جے پی و شیو سینا اس سلسلہ میں بہت زیادہ محتاط ہیں، لیکن انہیں عدلیہ کے وقار کو خیال رکھنا چاہیے، اور جو معاملہ  عدلیہ میں جاری ہے، اُس پر گفت و شنید سے پرہیز کرنا چاہیے، اور عوام کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ جو معاملات عدلیہ سے وابستہ ہیں، انہیں عدلیہ کو حل کرنے دیں، ان سے وابستہ گفتگو سے متاثر ہو کر انتخابات میں حصہ نہ لیں، بلکہ سیاسی جماعتوں کو احساس دلائیں کہ ترقی کے نام پر ہی ووٹ دیا جائے گا، اور ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے والی سیاسی جماعتوں کو ہی ووٹ دیا جائیگا، ملک میں موجود حساس مسائل کو نا اٹھایا جائے، ترقی کی فکر کی جائے، باہمی محبت کو برقرار رکھا جائے، جمہوریت پر اعتماد رکھا جائے، اس سے ملک ترقی کرے گا، اور ہندوستانیوں کا خوابِ ترقی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close