خصوصیسیاست

آرایس ایس کی تبدیلی: مسلمان چوکناّ رہیں!

ڈاکٹر عابد الرحمن

آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت خبروں میں ہیں، لیکن اس بار ملک کے کے آئین قانون، سماجی اور سیاسی حالت، دلت، ریزرویشن گھر واپسی اور مسلمانوں کے متعلق متنازعہ اور منفی بیان کی وجہ سے نہیں بلکہ ملک کے آئین بشمول اس میں موجود سیکولرازم کی شق کی عزت کی دعویداری کے بیان کی وجہ سے اوران کے مجوزہ’ ہندوراشٹر‘ میں مسلمانوں کی شمولیت کے بیان کی وجہ سے۔ پچھلے دنوں دہلی میں لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے شاید آرایس ایس کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے آئین کو اسکی تمام شقوں اور اعلانوں بشمول سیکولرازم کے ساتھ قبول اور اس کی عزت کر نے کا دعویٰ کیا اوراپنی اصطلاح ’ہندوتوا‘ کی بالکل نئی تعریف بتاتے ہوئے اپنے مجوزہ ہندو راشٹر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وودھتا میں ایکتا وہ وچار دینے والی ہماری چلتی آئی ہوئی وچار دھاراہے جسکو دنیا ہندوتوا کہتی ہے اسلئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ہندو راشٹر ہے، ہندو راشٹر ہے اسکا مطلب اس میں مسلمان نہیں چاہئے ایسا بالکل نہیں ہوتا جس دن یہ کہا جائیگا کہ یہاں مسلمان نہیں چاہئے اس دن وہ ہندوتوا نہیں رہے گا‘‘۔

 ابھی تک آرایس ایس کی تاریخ یہ رہی ہے کہ اس نے ملک کے آئین کو کبھی بھی خوشدلی سے قبول نہیں کیا بلکہ اسکا خیال تھا کہ آئین ملک کی ہندو اقدار کے مطابق نہیں ہے اور اس کی مکمل نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ’ہندوتوا‘ کا بھی معاملہ ہے کہ وی ڈی ساورکر نے ’ہندوتوا‘ کی جو اصطلاح بنائی تھی اس میں صرف وہ لوگ شامل کئے گئے تھے جو تہذیبی اور مذہبی لحاظ سے انڈیا سے متعلق ہیں نیز جن کے مقدس مقامات بھی انڈیا ہی میں ہیں یا جن کے مذہب میں انڈیا سے باہر کے کسی مقام کوتقدیسی اہمیت حاصل نہیں یعنی جب ہندوتوا کی اصطلاح بنائی گئی تھی اس وقت بھی اور اس کے بعد سے ابھی تک جب جب بھی یہ لفظ بولا جاتا رہا اسکا بین السطور یہی رہا ہے کہ اس میں خاص طور سے مسلمان اور عیسائی شامل نہیں۔ اور جب بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا انڈیا سے کوئی لینا دینا نہیں وہ انڈیا کے لئے اجنبی ہیں اور آزادی کے بعد (انہیں پاکستان دے دئے جانے کے بعد) تو غیر ملکی اور ملک مخالف بھی ہوگئے ہیں۔ لیکن اب بھاگوت جی جو بول رہے ہیں وہ ان ساری باتوں سے یکسر الٹ ہے، تو کیا آرایس ایس اپنی بنیاد سے پھر گئی ہے؟اور اگر واقعی ایسا ہے، جو کچھ سر سنگھ چالک بول رہے ہیں وہ سنگھ کانظریاتی بدلاؤ ہے تو یہ ایک صحت مند تبدیلی ہو گی جسکا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ لیکن صرف بھاگوت جی کے کہہ دینے سے اور ان کے چیلوں کے شور مچادینے سے کچھ نہیں ہو نے والا، سنگھ کی یہ نظریاتی تبدیلی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں ہو سکتی جب تک سنگھ کی مختلف شاکھائیں اور تنظیمیں اور اس سے منسلک اور متعلق سیاسی اور سماجی پارٹیاں دل اور سینائیں اور شعلہ بیان اور بد زبان لیڈران اور اسکی سب سے بڑی سیاسی جماعت بی جے پی کی حکومتیں اپنے منھ اور عمل سے بھاگوت جی کی اس نظریاتی تبدیلی کا اظہار نہیں کرتے۔

سنگھ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک اس نے اپنے کیڈرس کی تربیت اور ذہن سازی جس نظریہ کی بنیاد پر کی ہے اس کے لئے یہ حالیہ تبدیلی بالکل الٹ بلکہ یو ٹرن کے مترداف ہوگی۔ مسلم دشمنی اور آئین سے نفرت کی بنیاد پر اس نے جو اذہان اپنے حق میں ہموار کئے تھے انہیں تو سیکولرازم سے ازحد الرجی ہے اور وہ سیکولر کوـ سکولر Sickular)) شیخولر (Shaikhular) اور نہ جانے کیا کیا کہتے آئے ہیں، دیکھنے والی بات ہوگی کہ کیا اب بھاگوت جی بھی ان کی نظر میں سکولر اور شیخولر ہوجائیں گے؟اسی طرح بھاگوت جی مسلمانوں کے بغیر ہندوراشٹر کے قیام کو ناممکن بتا رہے ہیں لیکن ان کے چیلے چپاٹے تو ابھی تک مسلمانوں کے لئے پاکستان یا قبرستان کا نعرہ لگاتے آئے ہیں ایسے میں اب دیکھنا ہوگا کہ بھاگوت جی اور سنگھ کی یہ تبدیلی اس کے اپنے کیڈرس اور حمایتیوں کو کس طرح ہضم ہوتی ہے، ہضم ہوتی بھی ہے کہ نہیں یا قئے کی صورت خود انہی کے منھ پر الٹ پڑتی ہے۔

  خیر! جو کچھ بھی ہے اس میں ایک سوال بہت اہم ہے کہ سنگھ کو اپنی بنیاد سے پھرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی ؟ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور سنگھ کا نقطہء عروج ہے، اس سے پہلے ہی وہ درپردہ طور پر اپنا ’ہندو راشٹر ‘ قائم کر نے میں کامیاب ہو چکی ہے ملک میں سماجی سیاسی اور قانونی طور پر زیادہ تر تو وہی ہورہا ہے جو سنگھ کی آئیڈیالوجی ہے بس یہی باقی ہے کہ ’ہندو راشٹر ‘ کے قیام کا باقائدہ اعلان یا نفاذ ہو۔ مرکز میں اسکی مضبوط ترین حکومت ہے ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں بھی اسی کی حکومتیں ہیں ملکی اکثریت کی اکثریت بھی دیوانگی کی حد تک اسی کی حامی ہے، رہے مسلمان تو مسلمانوں میں بھی اس نے اپنے کئی ایجنٹ چمچے حمایتی اور دلال چھوڑ رکھے ہیں جو مسلمانوں کو بھی سنگھ کے دام فریب میں پھنسانے کی، انہیں دین بیزار کر نے کی، انہیں اپنی قیادت سے اپنی ملی اور سماجی تنظیموں سے برگشتہ کر نے کی، اور ’بھارتیہ زندگی‘ گزارنے کے لئے مصلحت اندیشی کے ساتھ اکثریت( آر ایس ایس) سے کچھ سمجھوتوں کے لئے ترغیب دینے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔

اس کے علاوہ اب تک کی تاریخ اور اپنے نظریات کے ضمن میں سنگھ کی محنت اور مودی سرکار میں اسکے لئے سازگار ہوئے حالات سے ایسا تو نہیں لگتا کہ یہ تبدیلی اس کی کوئی مجبوری ہے، لیکن ایسا ضرور لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی خاص وجہ یا سیاسی و سماجی مستقبل کی کوئی تشویش ہے جس نے اسے اس تبدیلی کے لئے مجبور کردیا ہے۔

اس کی گہری چھان پھٹک ہونی چاہئے کہ دال میں وہ کیا کالا ہے جس نے سنگھ کو اس یو ٹرن کے لئے مجبور کیا۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ سب اپنا سیاسی اقتدار بچانے کے لئے کیا جارہا ہے کہ سنگھ اب تک اپنی نظریاتی بنیاد پر قائم رہتے ہوئے یا صرف اسی کے ذریعہ اقتدار کے حصول میں ناکام رہا ہے، واجپائی جی کو بھی سیاسی اتحادی اس وقت ملے تھے جب سنگھ اور بی جے پی کچھ نظریاتی معاملات میں نرم ہوئی تھی اور اس بار بھی مودی سرکار کے نام اسے جو مضبوط ترین اقتدار ملا ہے وہ صرف اسی لئے ممکن ہوسکا ہے کہ مودی جی سنگھ کے ’ہندوتوا‘ کو ترقی کا تڑکا دینے میں کامیاب ہوگئے لیکن اس اقتدار میں ترقی کہیں دکھائی نہیں دے رہی عملاً جو کچھ دکھائی دے رہا ہے وہ صرف ’ ہندوتوا‘ ہے اور وہ بھی پوری شدت کے ساتھ، شاید اسی لئے سنگھ کو یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ مودی جی کے ترقیاتی تڑکے کی وجہ سے اسکے اپنے روایتی ’ہندوتوا ووٹ بنک ‘کے علاوہ اسکی طرف آیا لبرل ترقی پسند ووٹ کہیں اس بار کھسک نہ جائے۔

شاید اسی ووٹ بنک کو بچائے رکھنے کے لئے انہوں اس نظریاتی تبدیلی کا پیغام دیا ہے۔ ویسے بھی انہوں اپنے ایک لیکچر میں ’اسلام کے آکرمن(حملہ) کے الفاظ استعمال کرکے اپنی نیت کی کھوٹ خود ہی آشکارا کردی ہے اسی طرح آئین کی عزت کا دعویٰ توکیالیکن وہیں ملک کو ہندو راشٹر بھی قرار دے دیا جبکہ آئین تو اسے ہندوراشٹر نہیں کہتا سوشلسٹ اور سیکولر جمہوریت قرار دیتا ہے یعنی انہوں نے جو کچھ کہا ارادی یا غیر ارادی طورپرخود ہی اس کی نفی بھی کردی، شاید بڑی چالاکی سے جسے جو پیغام دینا تھا، دے دیا۔

خیر! جو کچھ ہے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سنگھ کی اس پلٹ چال اور اس کے زر خرید ایجنٹوں، چاپلوس حمایتیوں، سادہ لوح مرعوبوں اور مکار دلالوں کے چکر میں آکر خوش ہونے کے بجائے چوکنا ہوجائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close