خصوصیملی مسائل

آندھرا پردیش میں مسجد  کی شہادت کا الم ناک قضیہ

ڈاکٹر سلیم خان

آندھر پردیش میں ایک  مسجد کے ڈھائے جانے  کا افسوسناک واقعہ پیش آیا لیکن اس کے بعد سماجی رابطے کے ذرائع میں ایک لامتناہی   لایعنی  بحث چھڑ گئی۔ اس بحث میں مسجد کی شہادت کے قابل مذمت ہونے پر سب کا اتفاق  تھا سوائے چند لوگوں کے جو کہہ رہے تھے وہاں جمیعت کی جانب سے نئی مسجد تعمیر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس طرح کسی تعمیر مسجد سے تو غیر مسلم بھی نہیں روکتے۔ اس لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ  مسجد کو ڈھانے کی مذموم حرکت کس نے کی؟  اس بابت دو جوابات سامنے آئے۔ اول تو یہ کہ تبلیغی جماعت کے لوگوں نے جمیعت اہلحدیث کے زیراہتمام مسجد کو ڈھا دیا دوسرے یہ کہ خود جمیعت کے لوگوں نے شہرت کے لیے یہ حرکت کی۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہوسکتیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی تیسری حقیقت موجود ہو۔ اس کی تحقیق دونوں جماعتوں کی ایک مشترکہ کمیٹی کو کرنا چاہیے لیکن اس سے قبل مندرجہ ذیل باتیں  ذہن  نشین رہیں کہ کوئی جماعت فرشتوں کی نہیں ہے۔ ہر جماعت میں کچھ کچے پکے لوگ ہوتے ہیں  اس لیےکسی جماعت کا کوئی فرد  یا چندافرادغلطی کریں  تو ان  کی حرکت کے لیے پوری جماعت کو موردِ الزام ٹھہرا کر بدنام کرنا درست نہیں ہے۔

غیر جانبدارانہ تحقیق کے بعد مشترکہ کمیٹی اگر اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ تبلیغی جماعت کے کسی فرد نے یہ حرکت کی تو ذمہ دارانِ  تبلیغ اس پر تادیبی کارروائی  کریں یعنی اس کو  نہ صرف جماعت سے نکال دیا جائے بلکہ پولس سے سزا دلوائی جائے۔ دونوں صورتوں میں تبلیغی جماعت کے لوگ مسجد کے نقصان کی بھرپائی کریں اور مسجد کی تعمیر کا خرچ برداشت کریں۔ ایسا کرنے سے شرارت پسند لوگوں کو یہ پیغام جائے گا کہ اس طرح کی حرکت سے ان کا اپنا نقصان اور دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ باز رہیں گے۔ یہ کام تبلیغی جماعت کے ذمہ دار کریں تاکہ باہمی منافرت کی فضا نہ بنے۔ ارشاد ربانی ہے’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

مذکورہ کمیٹی اگراس نتیجے  پر پہنچتی ہے  کہ جمیعت  کے مقامی لوگوں نے اوچھی شہرت کے لیے خود  اپنی مسجد کو ڈھا کر اس کی ویڈیو بنائی اوربہتان تراشی کی نیز تبلیغی  جماعت کے ساتھ ساتھ پوری ملت کو بدنام کیا  تو ان افراد خلاف کارروائی کی جائے۔ جمیعت ان کو اپنی صفوں سے نکالے اور پولس کے حوالے کرے تاکہ انہیں قرار واقعی سزا ملے۔ ایسا کرنے مستقبل میں ایسی حرکت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اس طرح کا مذموم  سانحہ نہیں پیش آئے گا۔ ہم اگر یہ نہیں کرسکتے تو اس معاملے تو انتظامیہ پر چھوڑ دیں  اور اس کے صحیح یا غلط فیصلے پر راضی ہوجائیں اس لیے کہ اگر اپنے تنازعات  درون خانہ طے کرنے کے بجائے غیروں سے کروائے جائیں گے تب تو یہ خطرہ رہے گا لیکن خدارا آپس میں بحث مباحثہ کرکے جوتم پیزار نہ کریں۔ اس ایک مسجد کی آڑ میں ہم لوگوں کی بے فائدہ بحث سے نہ جانے کتنوں کے دل شکنی کی۔ امت فی زمانہ سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ تحفظ ِ جان و مال اور عزت و آبرو کے علاوہ دین و شریعت پر بھی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ گروگرام میں نماز اور دہلی میں  طلاق  ثلاثہ کی آڑ میں مسلمانوں اور اسلام کو نیست و نابود کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنی توانائی کو یکجا کرکے آپسی سر پھٹول کے بجائے  دشمنوں سے لوہا لینے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس بابت جمیعتہ العلماء ہندکی جانب سے مسجد کو تعمیر کرنے کی پہل قابل صد ستائش ہے۔  ایسے میں  قرآنی ہدایت یہی ہے  کہ ؎

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہوتو فولاد ہے مومن

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. بزعم خوداہل حدیث کہلوانےوالےمنافق ہیں۔ان کی مسجدیں،مسجدضرارہیں۔مسجدضرارکوڈھادینابہترہے۔

متعلقہ

Close