خصوصیسیاست

اپوزیشن عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں نا کام کیوں رہی؟

عارف عزیز

(بھوپال )

ہندوستان میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی غیر کانگریسی حکومت نے پارلیمانی الیکشن میں دوبارہ اکثریت حاصل کی ہو، تمام اندازوں اور تخمینوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری مرتبہ اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے جا رہی ہے، حالانکہ ووٹنگ کے بعد تجزیوں میں بی جے پی اور اُس کی حلیف پارٹیوں کو تین سو سے چار سو کے درمیان سیٹیں حاصل ہونے کے اشارے تھے ، لیکن کافی تعداد میں عوام اِسے صحیح ماننے کو تیار نہیں ہوئے، اِس کی بنیاد صرف یہ تھی کہ اُنہیں یہ یقین نہیں آرہا تھا بی جے پی اپنا سابق ووٹ فیصد قائم رکھ سکے گی کیونکہ۲۰۱۴ء کے عام الیکشن میں اُسے اقتدار مخالف لہر کا فائدہ ملا تھا۔ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت سے ووٹر ناراض تھے، اس الیکشن میں ویسی کوئی لہر نہیں تھی بلکہ اقتدار کے حق میں ریزرویشن لہر چل رہی تھی ، جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے فیصلوں کے اثرات پانچ ماہ قبل کے اسمبلی الیکشن میں ضرور نظر آئے تھے لیکن اب عوا م اُنہیں دوسرے قومی موضوعات کے مقابلہ میں فراموش کر چکے تھے۔

دوسری طرف اپوزیشن نے اِس الیکشن میں متحد ہونے کا نعرہ لگا کر خودکو اُتا را تھا ، اِسی لئے کانگریس کے ساتھ علاقائی پارٹیوں کو بڑا چیلینج سمجھا جارہا تھا، دوسری طرف اُن ریاستوں میں بی جے پی کو نقصان کا یقین تھا ، جہاں پچھلے الیکشن میں اُس نے تمام سیٹوں یا بیشتر سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی بالخصوص اتر پردیش ، مدھیہ پردیش، راجستھان ، چھتیس گڑھ میں بڑے نقصان کا قیاس اِس تبدیلی کے ساتھ لگا یا جا رہا تھا کہ اس کی بھر پائی کسی حد تک مغربی بنگال اور اُڑیسہ سے ہو سکتی ہے، پھر بھی بحیثیت مجموعی کا نگریس اور اُس کی حلیف پا رٹیوں کو اچھا فائدہ ملنے کی امید تھی، مگر الیکشن نتیجوں نے مذکورہ تمام تخمینوں پر پانی پھیر دیا۔

بی جے پی کی یہ کامیابی نہ صرف اس معنی میں اہمیت کی حاصل ہے کہ اُس نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ سیٹیں بھی حاصل کی ہیں ، اِس ماحول میں کہ اُس کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے دعوے کئے جا رہے تھے بڑی بات یہ ہے کہ اُس نے اپنی حیثیت بر قرار رکھی ہے، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے حال میں ہوئے اسمبلی الیکشن میں شکست کھا کر اُس نے لوک سبھا الیکشن میں اپنی کامیابی کا پرچم لہرایا ہے ، اس کے ساتھ مغربی بنگال ، اڑیسہ کے علاوہ کر ناٹک میں اُس کی کا میابی حیران کن رہی ہے۔ اسی طرح اتر پردیش ، گجرات ، مہاراشٹر میں بھی اُسے کسی بڑے چیلینج کا سامنا نہیں کرنا پڑا یعنی جنوب کی دو ریاستوں کو چھوڑ دیں تو پورے ملک میں بر سر اقتدار پارٹی کو عوام کی خاطر خواہ حمایت ملی ہے۔ حالانکہ اپوزیشن کی طرف سے بی جے پی کے کام کرنے کے طریقے ، اقتصادیات کی کمزور حالت، روزگار اور ملازمت کے محاذ پر اُس کی ناکامی کو گنایا جاتا رہاہے ، کئی علاقائی اور ذات برادری کے گٹھ جوڑ بھی کھڑے کئے گئے لیکن اپوزیشن کو مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا۔

اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پانچ سال سے حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر دھواں دھار تنقید تو ضرور کر تی رہی لیکن مودی حکومت کے مستحکم متبادل کی حیثیت سے خود کو پیش کرنے میں ناکام رہی ، اپوزیشن کے باہمی تضادات بھی اِتنے زیادہ تھے اُنہوں نے ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے نہیں دیا۔ جہاں تک اقلیتوں اور مسلمانوں کا تعلق ہے تو اُن کے مسائل و مشکلات پر زبان کھولنے کی کسی کوبھی توفیق نہیں ہوئی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close