خصوصیسیاستہندوستان

اپوزیشن کا اتحاد اور انتخابات

جو بھی ہو لیکن اپوزیشن کو تو اکٹھا ہونا ہی ہوگا۔ بغیر ساتھ آئے سیمی فائنل یا پھر فائنل میں وہ نفرت اور جھوٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کا دھیان راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور میزورم جیسی ریاستوں پر لگا تھا، جہاں لوک سبھا سے پہلے انتخابات ہونے ہیں۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے اسمبلی تحلیل کرکے سب کو چونکا دیا۔ قانوناً چھ ماہ کے اندر وہاں انتخاب ہونا ضروری ہے، تو چار صوبوں کے سیمی فائنل میں ایک اور ریاست کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اپوزیشن نے تلنگانہ میں آئے انتخابی چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے مہا گٹھ بندھن کا اعلان کر دیا۔ اس میں کانگریس، تیلگو دیشم اور سی پی آئی شامل ہے۔ اپوزیشن یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوا ہے کہ وہ آنے والے انتخابی چیلنج کا مقابلہ کرنے کو لے کر سنجیدہ ہے۔ حالانکہ عام انتخابات ابھی دور ہیں اور تب تک سیاست میں بہت سارے کھیل تماشہ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ لیکن اس اتحاد کے کچھ معنیٰ ہیں خاص طور پر تیلگو دیشم اور کانگریس کے ساتھ آنے کے، جو ایک دوسرے کے شدید مخالفت رہے ہیں۔

پیٹرول، ڈیزل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خلاف بھارت بند میں اپوزيشن کا یہی اتحاد نظر آیا۔ جس نے بھاجپا میں بے چینی پیدا کر دی۔ خود مودی اور شاہ کے بیانوں سے اس کا احساس ہوتا ہے۔ سرکار کے ذریعہ مالیہ کو بھگانے میں مدد کرنے کے کانگریس کے الزام کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ کانگریس آج آئی سی یو میں ہے، اسے بچانے کے لئے مختلف پارٹیوں کے سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔ مودی نے مہا گٹھ بندھن کو گانٹھوں کے بندھن کے بجائے اپنی کمزوری چھپانے کے لئے کچھ موقع پرستوں کا گٹھ جوڑ بتایا۔ وہ بھاجپا کارکنان سے ‘نریندرمودی ایپ’ کے ذریعہ بات کر رہے تھے  انہوں نے کہا کہ آج گٹھ بندھن کی جو بات ہو رہی ہے، وہ بھاجپا اور بھاجپا کارکنان کی طاقت کو بتانے والا ہے۔ کانگریس آج کچھ سیاسی جماعتوں کی حمایت جٹانے میں لگی ہوئی ہے جبکہ مدھیہ پردیش کے اپنے اجلاس میں اس نے کہا تھا کہ وہ کسی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اب اس کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ مہا گٹھ بندھن کے تصور پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا "وہ پارٹیوں کو جوڑ رہے ہیں اور ہم سوا سو کروڑ دلوں کو جوڑ رہے ہیں۔ اس اتحاد کی نیتی غیر واضح ہے، قیادت میں شک وشبہ اور نیت میں خرابی ہے۔ ” انہوں نے کہا مدعوں پر لڑنے کے بجائے اپوزیشن جھوٹ کی بنیاد پر لڑائی لڑنے میں لگا ہے۔ کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ” وہ نام دار ہیں، ہم کام دار ہیں۔ ان کا مقصد ایک خاندان کی بھلائی ہے، ہمارا ہدف ملک کی تعمیر ہے۔ پہلے کتنے گھروں میں بجلی کنکشن پہنچنا باقی ہے، اس کو لے کر سنجیدگی نہیں تھی لیکن اب پوچھا جاتا ہے کہ کتنے گھر بجلی کنکشن سے بچے رہ گئے ہیں۔ ہمارے پاس بتانے کو کافی کچھ ہے اور بھاجپا کارکن حقائق کی بنیاد پر عوام کے بیچ جائیں۔ ” (ان پٹ بھاشا)

کسی بھی ملک کے وزیراعظم کا بیان بہت اہم ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرف درپیش مسائل سے نبٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا ذکر ہوتا ہے تو دوسری طرف عوام کے لئے ہدایات۔ عوامی راحت کی اسکیموں کا اعلان یا پھر نفاذ کا بیان۔ اس لحاظ سے مودی جی کی باتوں پر غور کیا جائے تو ان کی پارٹی کے نمائندوں، کارکنوں کا عمل الٹا دکھائی دیتا ہے۔ وہ بار بار گڈگورننس کی بات کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ انہوں نے دلوں کو جوڑنے کی بات کہی جو بہت اہم ہے۔ ملک میں نفرت اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کی جو آندھی چل رہی ہے اس میں وہ دل کیسے جوڑ رہے ہیں انہوں نے یہ نہیں بتایا۔ کانگریس پر ایک خاندان کو فائدہ پہنچانے کا طنز ہو سکتا ہے ٹھیک ہو لیکن سنگھ پریوار کے لئے کام کرنے کے الزام سے وہ بھی نہیں بچ سکتے۔ وہ ملک کی تعمیر کن خطوط پر کرنا چاہتے ہیں اس کی وضاحت درکار ہے۔ موقع پرستوں کے گٹھ جوڑ کی بات تب زیادہ بہ معنٰی ہوتی جب یہ بتایا جاتا کہ سیاسی جماعتوں میں کون سی پارٹی ہے جو موقع پرست نہیں ہے۔ موقع پر چوکا مارنے کا نام ہی آج سیاست ہے۔ رہا سوال ہر گھر تک بجلی پہنچانے کا تو اس کی رفتار اتنی دھیمی ہے کہ اگلے پانچ سال میں بھی یہ کام مکمل نہیں ہو پائے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کے امکانی اتحاد سے بھاجپا کو اپنی مشکلیں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس لئے مدعوں پر بات کرنے کے بجائے ذاتیات پر بات ہو رہی ہے۔ بی جے پی یہ بتانے کو تیار نہیں ہے کہ ہر سال ایک کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کے واعدے کا کیا ہوا۔ کتنی کالی دولت ملک واپس آئی۔ وزیراعظم کے بیرونی دوروں کے نتیجہ میں ملک میں کتنی سرمایہ کاری ہوئی۔ پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے بڑھ رہی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا کیا منصوبہ ہے۔ ملک میں تیل کی جو پیداوار ہو رہی ہے وہ عوام کو کس قیمت پر دستیاب کرایا جا رہا ہے۔ للت مودی، نیرو مودی، میہول چوکسی اور مالیہ جیسے لوگ ملک سے باہر کیسے چلے گئے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی کی وجہ سے کتنے لوگوں کا روزگار گیا وغیرہ۔ ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے بی جے پی کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ سیٹیں لے کر کامیاب ہوگی۔ امت شاہ نے جے پور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اخلاق کا قتل ہوا تب بھی جیتے تھے، ایوارڈ واپسی ہوئی تب بھی جیتے تھے اور اب کچھ کریں گے تب بھی جیتیں گے۔ بی جے پی کے کارکنان فتح کے لئے تیار رہیں۔ واضح رہے راجستھان میں موب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

آنے والے انتخابات میں بی جے پی کی حکمت عملی دو رخی ہوگی۔ حکومت زمینی سطح پر نظر نہ آنے والی کامیابیوں کا بکھان کرے گی تو بھکت مذہب اور ذات کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کا کام۔ ساتھ ہی انتخابی مقابلہ کو تین یا چار رخی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی میں اپوزیشن اور اس کے اتحاد کا امتحان ہوگا کہ وہ مدعوں کی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کرائے نہ کہ مذہب یا ذات کی بنیاد پر۔ اپوزیشن کو آپسی کھینچ تان کے بجائے سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سابق کی طرح اپوزیشن پارٹیوں کے ذمہ دار سیٹوں کو لے کر آپس میں الجھے اور کسی وجہ سے اکیلے الیکشن لڑا تو اس بات کا امکان ہے کہ ان کا وجود بھی باقی نہ رہے۔ اتحاد کو توڑنے کی کوششیں تو آخر تک ہوتی ہی رہیں گی۔

بھارت میں اپوزیشن کی اتحاد ی سرکاروں کا کوئی مستقبل نہیں رہا۔ جنتا پارٹی، لوک دل اور جنتا دل کی حکومتیں اس کی مثال ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یو پی اے اور این ڈی اے کی گٹھ بندھن سرکاروں نے کامیابی کے ساتھ اپنی میقات پوری کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک ٹو پارٹی سسٹم کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ صوبائی پارٹیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے ریاستی پارٹیوں کو از سر نو منصوبہ سازی اور آنے والے دنوں میں زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ بی جے پی تو پہلے سے ہی ریاستی دلوں کو کمزور کرکے رکھنا چاہتی ہے۔ کیونکہ یہ سنگھ کے ایجنڈے کو لاگو کرنے میں روکاوٹ بن رہے ہیں۔

ملک کے مجموعی حالات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو آنے والے انتخابات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اپوزیشن کسی ایک بینر کے نیچے اکٹھا ہو۔ یہ گٹھ بندھن ریاستی سطح پر بھی ہو سکتے ہیں۔ اور ملکی سطح پر سیٹوں کے لحاظ سے ذمہ داریاں طے ہو سکتی ہیں۔ جو بھی ہو لیکن اپوزیشن کو تو اکٹھا ہونا ہی ہوگا۔ بغیر ساتھ آئے سیمی فائنل یا پھر فائنل میں وہ نفرت اور جھوٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ملک کے حق میں بھی یہی ہے اور یہی وقت کا تقاضا ہے۔ جمہوریت رہے گی تبھی سیاسی جماعتیں الکشن میں حصہ لیں گی۔ امت شاہ تو کہہ ہی چکے ہیں کہ 2019 میں بھاجپا جیتی تو پچاس سال تک اسے کوئی ہرا نہیں پائیگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close