خصوصیسیاست

ایشوز کے بجائے جملوں پر ہوگا الیکشن

ڈاکٹر مظفرحسین غزالی

قومی سیاست میں نعروں کی اپنی اہمیت ہے۔ ان کے ذریعہ پارٹیاں اپنے ارادے اور منصوبے عوام تک پہنچاتے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد چونکہ غیر تعلیم یافتہ ہے،اس لئے وہ خوش کرنے والے نعروں سے متاثر ہوجاتے ہیں اوروہ کسی پارٹی کی نیت اورارادوں کاصحیح طورپر اندازہ لگاپانے کی بجائے نعروں کی ہوا میں بہہ کرووٹنگ میں حصہ لے لیاکرتے ہیں۔ نعروں کو ہی وہ پارٹی کا وعدہ تصور کرتے ہیں۔ وعدے پورے نہ ہوں تو وہ انتخابی جملہ کہلاتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو گزشتہ پانچ سال جملہ بازی کی نذر ہو گئے۔ عوام پانچ سال پہلے جہاں کھڑے تھے، آج وہ اس سے خراب حالت میں ہیں۔ 2014 میں بی جے پی نے اپنی انتخابی تشہیر بنیادی سوالوں مثلاً’ بہت ہوا بھرشٹاچار، بہت ہوا ناری پر وار، بہت ہوئی مہنگائی کی مار، بہت ہوا روزگار کا انتظار، بہت ہوا کسانوں پر اتیاچار، بہت ہوا گھوٹالوں کا ویاپار، بہت ہوئی جنتا پر پیٹرول ڈیژل کی مار، نہ غنڈہ راج نہ بھرشٹاچار، اب کی بار مودی سرکار۔ بدلاؤ لائیں گے ،کمل کھلائیں گے وغیرہ کے ارد گرد رکھی۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘کے نعرے اور بلیک منی کو واپس لانے کے وعدے نے سماج کے ہر طبقہ کو متاثر کیا۔ اس کی وجہ سے بھاجپا کو تاریخی کامیابی ملی۔

2014میں ’وکاس‘ بویاگیا تھا،وہ 2019 میں جملہ نکلا۔ بی جے پی کے نعرے اور وعدے پوسٹر، بینر سے نکل کر زمینی حقیقت نہیں بن سکے۔ کم حکومت اور زیادہ حکمرانی کا دعویٰ بھی ہوا ہو گیا۔ بی جے پی کے لوگوں نے آٹھ سو سال کی مسلم غلامی کے بعد نریندرمودی کی سرکار کو پہلی ہندو حکومت بتایاتھا۔ اس سے ہندو وادیوں کا حوصلہ بلند ہواتھا۔ بی جے پی کے تمام وعدے فرقہ وارانہ نفرت، مذہب، ذات، صنف، طبقہ، علاقہ کے بہانے تشدّد، لوجہاد، گھر واپسی، گائے، مندر اور مسجد جیسے معاملوں کی گونج میں پیچھے چھوٹ گئے۔ دلت، مسلمان، کسان اور آدی واسی مستقل نشانہ بنائے گئے۔ کئی دلت اور مسلمان ہجومی تشدد کا شکار ہوئے۔ ملک کی آبادی میں موجود 14 فیصد مسلم،16 فیصد دلت طبقہ اپنے آپ کو محروم اور غیر محفوظ محسوس کر رہاہے۔ ان پر حملے لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔ دلتوں کو ملنے والے ریزرویشن کو بھی طرح طرح کے نئے قوانین بنا کر کمزور کیا جا رہا ہے۔ سرکاری شعبوں میں ٹھیکہ پر ملازمین کی بحالی کی جا رہی ہے۔ ان ٹھیکوں میں ریزرویشن کا کوئی نظم نہیں ہے۔

موجودہ حکومت میں کسانوں کو لے کر خوب بحث ہوئی۔ فصل بیمہ، فصل کو سیدھے منڈیوں میں فروخت کرنے کی سہولت اور چھوٹے کسانوں کو چھ ہزار روپے سالانہ دینے جیسی اسکیمیں متعارف ہوئیں۔ لیکن کسان اپنی جائز مانگ لے کر سڑکوں پر اترے تو ان پر لاٹھیاں اور گولیاں بھی برسائی گئیں۔ ان کی خودکشی اب بھی نہیں رک رہی۔ گزشتہ پانچ سال کسان آندولن کیلئے بھی یاد کئے جائیں گے۔ سردار پٹیل کی مورتی لگانے کیلئے آدی واسیوں کو کھدیڑااورانہیں زمینوں سے بے دخل بھی کیا گیا۔ پانچ سالوں کے دوران سب سے زیادہ فائدہ کارپوریٹس کو پہنچایا گیا۔ انہیں ٹیکس میں چھوٹ دی گئی، ان کے قرضے معاف کئے گئے، جنگی جہازوں کے سودے میں کارپوریٹ کو فائدہ پہنچانے اور بینکوں کو دھوکہ دینے والے کاروباریوں کو ملک سے باہر جانے دینے کا بھی بی جے پی پر الزام ہے۔ جبکہ عام آدمی کو بنک کی ہر سہولت کیلئے قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

اس وقت سیاسی رہنما جس طرح کی بیان بازی کر رہے ہیں ، اس سے لگتا ہے کہ آنے والا انتخاب پالیسی، پروگرام اور مدوں کے بجائے جملوں پر لڑا جائے گا۔ کیونکہ بی جے پی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وہیں دوسری طرف اپوزیشن کے پاس کوئی واضح پروگرام پالیسی نہیں ہے۔ وہ محض نریندرمودی کی مخالفت کے ذریعہ اقتدار تک پہنچنے کی کوشش میں ہے۔ سوشل آڈٹ سے پتا چلتا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اقتدار میں آنے والی جماعت اسے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ البتہ بدعنوانی سے پردہ اٹھانے والے اداروں اور قوانین کو ضرور کمزور کیا گیا۔ جس کی وجہ سے بدعنوانی کی خبریں باہر نہیں آ پا رہی ہیں۔ آر ٹی آئی ان میں سے ایک ہے۔ ’ نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘ کا نعرہ لگانے والے نریندرمودی پرخود رافیل معاملہ میں بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے۔ زمینی سطح پر بدعنوانی پہلے کی ہی طرح موجود ہے۔ بدعنوانی کو لے کر نوجوانوں میں غصہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے انہیں اسکلڈ انڈیا، میک ان انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا جیسی اسکیموں کا فائدہ لوگوں کونہیں مل پا رہا جو ملنا چاہئے تھا۔

خواتین کے تحفظ، انہیں با اختیار بنا کر سماج میں عزت دلانے کی طرف ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ مہم کے تحت پہل کی گئی، لیکن واجپئی کے زمانے سے التوا میں پڑے خواتین ریزرویشن بل کو پاس نہیں کرایا گیا۔ لڑکیوں و خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ ان واقعات میں اضافہ کے پیچھے کہیں نہ کہیں برسر اقتدار پارٹی کے افراد کی شہ بھی شامل ہے۔ کانپور وکٹھوعہ میں عصمت دری کے ملزمان کی بی جے پی کے ذریعہ حمایت اس کی مثال ہے۔ اب تو خواتین کے خلاف افسوسناک حد تک غیر مہذب زبان استعمال ہو رہی ہے۔ اس کی زد سے مایاوتی، ممتا بنرجی، پرینکا گاندھی اور سیتارمن جیسی خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔ جبکہ بھارت میں لڑکیوں کو دیوی کی شکل میں پوجا کی جاتی ہے۔

مودی جی کا ایک اور نعرہ تھا ’بہت ہوئی مہنگائی کی مار،اب کی بار مودی سرکار ‘ لیکن یہ نعرہ بھی پانچ سالوں کے درمیان جملہ ہی ثابت ہوا ہے۔ مہنگائی ڈبل ڈیجٹ سے نیچے نہیں آئی، مہنگائی میں لگاتار اضافہ ہوا خاص طور پر وہاں جہاں حکومت کا دخل ہے یا جہاں سرکار کے ذریعہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مثلاً میٹرو کا کرایہ اتنا بڑھا دیا کہ سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد ہی کم ہو گئی۔ ریل کے کرایہ میں بے تحاشا اضافہ ہوا لیکن پورا ریل محکمہ ہی دھیما پڑ گیا۔ اس کی وجہ سے ریل حادثہ بڑھ گئے، ریل گاڑیاں جتنی لیٹ چل رہی ہیں ، اتنی شاید ہی پچھلے 25 سال میں لیٹ چلی ہوں۔ پیٹرول، ڈیڑل، کوکنگ گیس اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی پالیسیوں کا مرہونِ منت ہے۔

پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں نے روزگار کے سوال پر ہی بی جے پی کو چنا تھا۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے ہر سال دو کروڑ نئے روزگار پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نوٹ بندی پھر جی ایس ٹی نے نوجوانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ امریکی پالیسی کی وجہ سے آٹی سیکٹر کمزور ہوا۔ انجینئرنگ، ایم بی اے کرنے کے بعد بھی روزگار نہیں مل رہا۔ انجینئرنگ ومینجمینٹ کالج بند ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں موجود روزگار بھی کم ہو گئے۔ بے روزگاری کی شرح 45 سالوں میں 17۔ 2018 کے دوران سب سے نچلی سطح پر رہی۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بدانتظامی کی حد تک خراب قانون انتظامیہ، بے سمت تعلیم اور بد حال صحت سہولیات جیسے تمام ایسے ایشوز ہیں جن پر انتخابات میں بحث ہونی چاہئے۔ یہ سارے مسائل پورے سیاسی نظام اور رہنماؤں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی جماعتوں کی بدلتی ترجیحات نے حالات کو اور سنگین بنا دیا ہے۔

پورا ملک پلوامہ میں فوجیوں کی شہادت سے دکھی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب حکومت کی ناکامی عوام کے درمیان بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ سرکار کو جواب دینا بھاری پڑ رہا تھا۔ اس واقعہ کے ردعمل کے طورپرہندوستانی فضائیہ کا پاکستانی حدود میں داخلہ اور بالاکوٹ میں کی گئی جوابی کارروائی کیلئے جہاں فضائیہ کے جوان مبارک باد کی مستحق ہے، وہیں دوسری جانب جوابی کارروائی کے فوراًبعدبہ طور’ ہیرو ‘میڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ سازی کی وجہ سے حکومت پر اٹھ رہے سارے سوالات پیچھے چلے گئے ہیں۔ چاہے فوجیوں کی حفاظت میں ہوئی کوتاہی کا سوال ہو یا پھر بی جے پی کے وزراء ، ممبران کی فوجیوں کے جنازہ میں ہنستے ہوئے ہاتھ ہلانے والی(جیسے چناوی حلقہ میں روڈ شو کرنے کی) تصویریں ہوں۔ پلوامہ کے بہانے اپنے حق میں چناوی ماحول بنانے کا بی جے پی پر اپوزیشن کا الزام ہو۔ بالاکوٹ کی کاروائی نے سارے الزامات کو دھو دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر چل رہی مہم کے دوران’جو پلوامہ کا بدلہ لے سکے میرا ووٹ اسے، میرا ووٹ بھاجپا کو‘ جیسے نعروں کی گونج سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے سیاسی فائدوں کے حصول کی کوشش کس اندازمیں ہورہی ہے۔ جذبات کو بھنانے کا جو ہنر مودی جی میں ہے وہ کسی دوسرے میں نظر نہیں آتا۔ اس سے محسوس ہو رہا ہے کہ 2019 میں سیاسی اور انتخابی بحث ایشوز کے بجائے جملوں پر ہوگی۔ جو بالغ جمہوریت کیلئے اچھی علامت نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close