تاریخ ہندخصوصیہندوستان

ایمرجنسی: کل اور آج؟

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو ۴۲ سال مکمل ہو چکے۔ ۲۵ جون ۱۹۷۵ کو اندرا گاندھی نے ملک کا آئین کالعدم قرار دیتے ہوئے عوام کے شہری حقوق ختم کردئے تھے، مخالفین کو جیل بھجوا دیا تھا اور پریس پر پہرہ لگا دیا تھا

ڈاکٹرعابد الرحمن

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو ۴۲ سال مکمل ہو چکے۔ ۲۵ جون ۱۹۷۵ کو اندرا گاندھی نے ملک کا آئین کالعدم قرار دیتے ہوئے عوام کے شہری حقوق ختم کردئے تھے، مخالفین کو جیل بھجوا دیا تھا اور پریس پر پہرہ لگا دیا تھا، معیشت کے سدھار غربت اور ناخواندگی سے لڑنے کے لئے اندرا گاندھی نے ایک بیس نکاتی پروگرام شروع کیا تھا جس کے دوران انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیاں ہوئی تھیں جس میں لوگوں کی جبری نس بندیاں بھی شامل ہیں۔

 وزیر اعظم مودی جی نے ایمرجنسی کی۴۳ ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بہت صحیح کہا کہ ایمرجنسی ہماری جمہوریت پر ایک سیاہ داغ ہے انہوں نے اسے کانگریس اور گاندھی خاندان کا گناہ قرار دیا انہوں یہ بھی کہا کہ ایمرجنسی دراصل ایک خاندان (گاندھی خاندان) کے مفاد کے لئے آئین کا غلط استعمال تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایمرجنسی کی برسی منانے کا مقصد کانگریس پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ہماری موجودہ اور مستقبل نسلوں کو یہ بتانا بھی ہے کہ اس دوران کیا ہوا تھا۔ تو آئیے ہم بھی ماضی میں جھانک کر دیکھیں کہ ایمرجنسی کا پس منظر کیا تھا وہ کیسے لگی تھی اور اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی اور آج کے وزیر اعظم نریندر مودی میں کتنی مشابہت نظر آتی ہے۔ دراصل اس وقت اندرا گاندھی ملک کی انتہائی مضبوط لیڈر تھیں انہوں نے کانگریس پارٹی پر اسی طرح مکمل طور پر غلبہ حاصل کرلیا تھاجس وقت ان دنوں مودی جی بھی بی جے پی پر پوری طرح غالب آگئے ہیں۔

 اس وقت اندرا گاندھی نے کانگریس پارٹی کے تمام سینیر لیڈروں کو کنارے لگا دیا تھا یہاں تک کہ پارٹی تقسیم ہو گئی تھی ان لیڈروں نے اندرا سے الگ ہوکر اپنی کانگریس بنا لی تھی اور اندرا نے اپنی لیکن ان لو گوں کی تعداد کم تھی، کانگریس پارٹی اور اس کے ممبران پارلمنٹ کی اکثریت اندرا گاندھی کے ساتھ تھی یہی حالت بی جے پی کی بھی ہے مودی جی نے اپنے انتخاب سے پہلے ہی پارٹی کے تمام سینیر لیڈران کو کنارے لگاکر اور وزیر اعظم بننے کے بعد ان سب کو’ مارگ درشک منڈل‘ کی جیل میں بند کر گویا پارٹی کی کسی بھی فیصلہ کن اکائی میں نہیں رہنے دیا گویا وہ پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی سے باہر ہوگئے اور امت شاہ کی صدارت میں بی جے پی دراصل مودی پی ہوگئی۔ اندرا کے عروج کے وقت یہ تک کہا جانے لگا تھا کہ اندرا ہی انڈیا ہے اور انڈیا ہی اندرا ہے۔

ابھی مودی جی کے متعلق یہ تو نہیں کہا گیا لیکن مودی کو ہی انڈیا اور انکی مخالفت کو انڈیا کی مخالفت قرار دینے کی کوششیں ضرور ہو رہی ہیں۔ مودی جی نے خود کہا کہ کانگریس مودی کی مخالفت کر کے دراصل انڈیا کی مخالفت کر رہی ہے، ان کے مخالفین کو پاکستان چلے جانے کو کہا جاچکا ہے۔ اسی طرح ان کی پالسیوں اور اقدامات کی مخالفت کر نے والوں کو انٹی نیشنل بھی کہا گیا ہے۔ایمر جنسی سے پہلے اندرا گاندھی کے پاس پارلمنٹ میں واضح ترین اکثریت تھی اور انہوں نے حکومت کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے تھے یہاں بھی وہی عالم نظر آتا ہے کہ مودی جی وزیر اعظم تو ہیں ہی وزیر خارجہ بھی نظر آتے ہیں بلکہ ہر ہر کام اس انداز سے کرتے ہیں کہ جیسے تمام وزارتیں یاتو انہی کے پاس ہیں یاان کے سامنے متعلقہ وزراء کی کوئی اوقات ہی نہیں۔

 اندرا گاندھی نے قوانین بنانے کے لئے پارلمنٹ میں بحث و مباحثہ کی بجائے آڑڈٰننس کا راستہ اپنایا تھا تو مودی جی نے بھی وہی کیا اور اتنا کیا کہ ان کی سرکار کو آرڈیننس راج بھی کہا گیا دراصل اندرا اور مودی کے اقتدار میں یہ فرق ہے کہ اندرا کے پاس لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اکثریت تھی لیکن مودی جی کے پاس راجیہ سبھا نہیں ہے اس لئے جو قوانین وہ راجیہ سبھا میں پاس نہیں کرواسکے انہیں آرڈیننس کے ذریعہ پاس کروا لیا بلکہ بیرونی سرمایہ کاری (FDI ) کے آرڈیننس کے بعد تو یہ تک کہہ دیا گیا تھا کہ یہ آرڈیننس دنیا کو بتاتا ہے کہ یہ ملک پارلمنٹ کے ایک ایوان (راجیہ سبھا) کی سستی کی وجہ سے قانون بنانے میں انتطار( دیر) نہیں کر سکتا۔ مودی جی نے اپنی مذکورہ تقریر میں کانگریس کی ایمر جنسی والی ذہنیت کو نشانہ بنانتے ہوئے کہا کہ تین طلاق کے معاملہ میں ہم نے قانون اس لئے لایا کہ آئین تمام بہنوں کو مساوی حقوق دیتا ہے لیکن کانگریس کو جمہوریت سے زیادہ ووٹ بنک پسند ہے لیکن مودی جی یہ بھول گئے کہ ابھی پچھلے دنوں یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ تین طلاق بل راجیہ سبھا میں پاس نہ کرواسکنے کے بعد حکومت اس معاملہ میں بھی آرڈیننس کا سہارا لینا چاہ رہی تھی خیر سے ابھی تک ایسا نہیں ہوا اور اگر ہوا تو یہ بھی ایمرجنسی کی طرح جمہوریت کا قتل ہی ہوگا۔

ان دنوں اندرا گاندھی اور عدلیہ میں بھی کا فی ان بن رہی تھی یہاں بھی وہی منظر دکھائی دیتا ہے اندرا گاندھی نے سپریم کورٹ میں آئینی ترمیم کا کیس ہارا تھا جس میں سپریم کورٹ کی بینچ نے ۶ کے مقابلہ ۷ کی اکثریت سے اندرا کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اس کے بعد اندرا گاندھی نے اپنے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں میں موجود تین سینیر ترین ججوں کو بائی پاس کر کے ان کے فیصلہ کی مخالفت کر نے والے ججوں میں سے ایک کو چیف جسٹس آف انڈیا بنا دیا تھایہاں بھی یہی ہو چکا ہے کہ جب سپریم کورٹ کالیجیم (Collegium)نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوسیف کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی تو حکومت نے اسے مسترد کر دیا، کیوں؟ وجہ تو نہیں معلوم لیکن یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ اس سے پہلے جسٹس کے ایم جوسیف نے اتراکھنڈ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ لگائے گئے صدر راج کو کالعدم قرار دیا تھا جس سے کانگریس کی ہریش راوت حکومت واپس اقتدار میں آگئی تھی۔ یعنی معاملہ ایک ہی ہے۔

اندرا گاندھی کا یہ عمل پارٹی اور ملکی سیاست میں ان کے نئے نئے عروج کے دور کا ہے انہوں ایمرجنسی اس وقت لگائی جب الہ آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے انہیں الیکشن کے دوران سرکاری مشنری کے استعمال کا مجرم قرار دے کر ان کی لوک سبھا رکنیت ختم کردی اور آئندہ چھ سال تک الیکشن لڑنے پر پابندی لگادی حالانکہ سپریم کورٹ نے انہیں وزیر اعظم بنے رہنے کی اجازت دی تھی لیکن مخا لفین کے احتجاج اور اتحاد کو اندرونی بغاوت کا نام دے کر انہوں نے ایمرجنسی لگادی اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت بھی اندرا حکومت کے نقش قدم پر ہی نظر آرہی ہے۔ خود بی جے پی کے سینیر لیڈر یشونت سنہا اور راجستھان بی جے پی کے ایک لیڈر نے ملک میں غیر اعلان شدہ ایمرجنسی لاگو ہونے کا الزام لگایا ہے اڈوانی جی تو ۲۰۱۵ میں ہی کہہ چکے ہیں کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ملک میں دوبارہ ایمرجنسی نہیں ہو سکتی۔

میڈیا کی موجودہ حالت کے متعلق بھی با خبر لوگوں کا خیال ہے کہ اسکی حالت وہی ہے جو ایمر جنسی کے زمانے میں ہو گئی تھی فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت حکومت نے بزور قوت اسکو دبایا تھا اب یہ ہورہا ہے کہ انٹی نیشنل غدار پاکستانی حامی کا جو شور ہو رہا ہے صحافیوں کو دھمکیاں ان پر حملے اور مقدمات کے جو معاملات ہوئے ہیں ان کے چلتے میڈیا نے خود ہی اپنے اوپر سینسر لگا لیا ہے، مین اسٹریم میڈیا کا بڑا حصہ حکومت کی ہاں میں ہاں کرتا دکھائی دے رہا ہے، اقتدار کی اہم شخصیات کے متعلق خبروں کو دبایا جا رہا ہے یا پھر سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی بجائے ان پر مزید سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح حکومت بھی ملک میں کام کر نے والی منتخب کاؤنسلوں کو ختم کر کے وہاں اپنے ذریعہ نامزد افراد کو بٹھانا چاہ رہی ہے۔ اس سب کیباوجود ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایمر جنسی نہیں ہے لیکن جمہوریت کی نفی ضرور ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اس ملک کو ایمرجنسی کی تاریکی سے محفوظ رکھے۔

مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close