خصوصیسیاست

این آر سی کا مسئلہ مہاراشٹر میں نہیں تو ہریانہ میں کیوں؟

معاشی بدحالی سے دھیان ہٹانے کی خاطر پہلے تو کشمیر  کا مسئلہ چھیڑ اٹھایا گیا ہے اورجب  وہ بھی الجھ گیا تو اس کی جانب سے  توجہ ہٹانے کے لیے این آرسی کا ہنگامہ کھڑا کیا جارہا  ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

ہریانہ اور مہاراشٹر میں ریاستی انتخاب کا بگل بج چکا ہے۔ بی جے پی کے دونوں وزرائے اعلیٰ عوامی رابطے کی ایک بڑی  مہم سر کرچکے  ہیں۔ ایسے میں مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس  تو  ہنستے کھیلتے اپنی حامی ہندوتوادی جماعت شیوسینا پر تیشہ زنی کررہے ہیں لیکن    ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے اپنی ہی جماعت کے ایک کارکن کو گردن  کاٹنے کی دھمکی دے ڈالی۔ اس سے ان کی ذہنی کیفیت کا  بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا  ہے۔ اس کے علاوہ کھٹر نے یہ  اعلان کرکے سب کو چونکا دیا  کہ ان کی ریاست میں بھی  آسام کی طرز پر نیشنل سٹیزن رجسٹر کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں  نےپنکچولہ میں جسٹس ( ریٹائرڈ ) ایچ ایس بھلا اور بحریہ کے سابق سربراہ سنیل لامبا سے ملاقات کے بعد کہاریٹائرڈ جج جسٹس بھلا این آر سی پر کام کررہے ہیں اور بہت جلد آسام جائیں گے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مہاراشٹر کے  بی جے پی وزیراعلیٰ این سی آر نافذ کرنے کی بات کیوں نہیں کرتے اور  اسی پارٹی کے ہریانوی وزیراعلیٰ کیوں کرتے ہیں؟

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کی سیاسی حالت بے حد مستحکم ہے اس لیے  انہیں اس تماشے کی چنداں ضرورت نہیں۔ حزب اختلاف کے خیمے سے آئے دن ایک نہ ایک این سی پی یا  کانگریس کا ایک بڑا رہنما  اپنی پارٹی چھوڑ بی جے پی یا شیوسینا میں گھس پیٹھ کررہا ہے۔ اس پر زعفرانی خیمہ  خوشی مناتا ہے اور حزب اختلاف میں  مایوسی چھا جاتی ہے۔ بی جے پی کی حلیف شیوسینا بھی اب  مایوسی کا شکار ہونے لگی  ہے اور کل تک  الحاق تو ڑنے کی دھمکی دینے  والا چیتا  ہاتھ پیر جوڑ کر دوستی کی بھیک مانگ رہا۔ اس کے برعکس  ہریانہ میں انڈین نیشنل لوک دل کے بڑے لیڈروں میں شمار ہونے والے اسمبلی کے سابق اسپیکر اشوک اروڑہ سمیت پانچ رہنما  انتخابات سے پہلے کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ اشوک اروڑہ تین مرتبہ رکن  پارلیمان رہ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ  آزاد ایم ایل اے جے پرکاش، سابق کابینی وزیر سبھاش گوئل اور سابق ایم ایل اے پردیپ چودھری نے بھی کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ جے پرکاش تین مرتبہ رکن پارلیمان  رہ چکے ہیں اور چندر شیکھر نے ان کو مرکزی وزیر بھی بنایا تھا۔

اس موقع پر ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمان کماری شیلجہ نے دعوی کردیا کہ ریاستی بی جےپی سرکار  کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس کی بدنظمی سے بیزار ہوچکے ہیں۔ انہوں  نے الزام لگایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ہریانہ میں ترقی کا کوئی بھی کام نہیں ہوا ہے۔ فرید آباد کو پنڈت نہرو نے آباد اور بی جے پی نے برباد کردیاکیونکہ  تقریباً تین سو صنعتی اکائیاں بند ہوجانے  کی وجہ سے بے روزگاری میں زبردست  اضافہ ہوگیا ہے۔کانگریس کے رہنما  بھوپیندر ہڈا نےکانگریس  پھر سے اقتدار میں آنےپر پنجاب کے سرکاری ملازمین  کے برابر تنخواہ، غریبوں کو پلاٹ اور درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کی اسکالرشپ میں بھی اضافہ کاوعدہ کیا۔ سرکار پر الزامات عائد کرنا حزب اختلاف کی مجبوری  ہوتی ہے اور انتخابی مہم کے دوران اس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

سیاست دانوں کی طرح صنعت کار عام طور پر اوٹ پٹانگ بیانات سے گریز کرتے ہیں اس لیے ان کی باتوں کو زیادہ توجہ سے سنا جاتا ہے۔  اس بابت ہریانہ کے گروگرام میں موجود  ملک کی سب سے بڑی کار بنانے والی کمپنی ماروتی سوزوکے چیئر مین آرسی بھارگو  کا بیان  قابلِ توجہ  ہے۔ انہوں نے  تین ہزار سے زیادہ عارضی ملازمین‎کو نوکری سے نکالنے کی  کی  تصدیق کرتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ کاروبار میں مانگ بڑھنے پرکنٹراکٹ لیبر‎کی بھرتی کی جاتی ہے اور گھٹنے کی صورت میں کٹوتی کردی جاتی ہے۔اس طرح گاڑیوں کی کھپت میں کمی  کو تسلیم کرلیا گیا۔ گاڑیوں کی فروخت میں گراو ٹ سے  نہ صرف کارخانوں میں کام کرنے والے ملازم متاثر ہوتے ہیں بلکہ دیگر  خدمات جیسے شوروم کے مالک یا ایجنٹ،  بیمہ، لائسنس، مالی امداد، ڈرائیور، پیٹرول پمپ، نقل وحمل سے جڑے شعبہ جات پر بھی منفی اثرات پڑتے  ہیں۔ ماروتی کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی اسکوٹربنانے والی ہیرو موٹوکارپ نے 15 سے 18 اگست تک کمپنی کے کارخانہ بند رکھنے کا اعلان کردیا کیونکہ  جولائی میں گاڑیوں کی  فروخت 19 سال کے اندر  سب سے بڑی یعنی 18.71 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔

فی الحال ملک شدید معاشی کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے  اور گزشتہ  چند مہینوں میں لاکھوں نوجوان بیروزگار ہو چکے ہیں لیکن بی جے پی کو ان سے   کوئی ہمدردی نہیں ہے ورنہ  مرکزی وزیر برائے محنت اور روزگار سنتوش گنگواراپنی حکومت کے 100 دنوں کی تکمیل  پر بیروزگار نوجوانوں کے زخمیوں پر یہ نمک پاشی کرتے ہوئےیہ نہیں کہتے کہ، ‘‘ملک میں ملازمتوں کی کمی نہیں ہے، شمالی ہندوستان میں باصلاحیت لوگوں کا فقدان  ہے۔ ملازمت کے لئے بھرتی کرنے والے افسران بکے مطابق عہدو ں  کے لحاط سے  اہلیت رکھنے والے لوگ نہیں ملتے۔ ایسے میں عوام سے ووٹ لینے کے این آر سی جیسے مسائل کو چھیڑنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے؟

 سوال یہ ہے کہ این آر سی نہ لوگوں کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرسکتاہے۔ ایسے میں اگر ان بے روزگار نوجوانوں پر قوم دشمنی کا الزام لگا کر جیل بھیج دیا جائے یا انہیں ضروری کاغذات کی عدم موجودگی کا بہانہ بناکر عقوبت خانوں میں روانہ کردیا جائے تو نہ رہے گا بیروزگار اور نہ بیروزگاری کا مسئلہ؟ بس غیر ملکی در انداز رہ جائیں گے جنہیں وزیرداخلہ دیمک قرار دیتے ہیں یا قوم کے غدار پائے جائیں گے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں سے ملک کو خطرہ ہےاور ان کو برسرِ روزگار کرنا سرکار کی ذمہ داری نہیں ہے۔ معاشی بدحالی سے دھیان ہٹانے کی خاطر پہلے تو کشمیر  کا مسئلہ چھیڑ اٹھایا گیا ہے اورجب  وہ بھی الجھ گیا تو اس کی جانب سے  توجہ ہٹانے کے لیے این آرسی کا ہنگامہ کھڑا کیا جارہا  ہے۔ اس طرح  ملک کےمسائل  دن بہ دن  پیچیدہ ہوتے چلےجارہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Back to top button
Close