خصوصی

این ڈی ٹی وی پر پابندی کے پیچھے پوشیدہ سازش کیا ہے ؟

ڈاکٹراسلم جاوید

حکومت ہند نے نیوزچینل این ڈی ٹی وی انڈیا کو پٹھان کوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کی کوریج کی بنا پر سزا دیتے ہوئے ایک دن کی اپنی نشریات بند رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک سینئرعہدیدار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مذکورہ ٹی وی چینل کے خلاف دہشت گردانہ حملے کی کوریج کے دوران قومی سلامتی کے لئے خطرناک حساس معلومات کو اجاگر کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2جنوری2016کو انجام دی جانے والی اس دہشت گردانہ واردات کے سلسلے میں این ڈی ٹی وی کے ذریعہ دکھائے گئے پروگرام پر پورے دس ماہ گزرنے یعنی 31اکتوبر2016کوانجام دیے گئے بھوپال ’’فیک انکاؤ نٹر‘‘کے بعدایکشن لینے کی ضرورت کیوں درپیش آ ئی؟
حکومت ہند کے اس قدم کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے ملک میں ’’ایمرجنسی ‘‘کی تاریخ دوہرانے والی سازش قرار دیا ہے۔4نومبر2016کو ’’بھوپال انکاؤنٹر‘‘کی خبر میڈیا میں آ تے ہی ہندوستان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سنسنی دوڑ گئی ۔اسی دن مدیروں کی باوقار تنظیم ایڈیٹر س گلڈ نے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔غور طلب ہے کہ وزارت کی ایک کمیٹی نے 2 جنوری کو پٹھان کوٹ حملے کی نشریات کے تجزیے کے بعد این ڈی ٹی وی کے ہندی چینل پر 9 نومبر کو ایک دن کی نشریات پر پابندی عائد کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ چینل نے حملے کے دوران فضائی اڈے سے متعلق انتہائی اہم عسکری معلومات نشر کیں، جن سے حملہ آوروں کو مدد مل سکتی تھی۔قابل ذکر ہے کہ آ زادی کے بعد حکومت کی جانب سے کسی نیوز چینل پر پابندی لگانے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔این ڈی ٹی وی نے ایک بیان میں وزارت اطلاعات کے فیصلے کو ’شاکنگ ‘ قرار دیا ہے۔ چینل نے وزارتی کمیٹی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کی کوریج پوری طرح متوازن تھی اور وہ انہیں معلومات کو نشر کر رہا تھا جو دوسرے چینل اور اخبارات بتا رہے تھے۔ یہ سبھی معلومات پہلے سے موجود تھیں۔ایڈیٹرز گلڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چینل کی نشریات پر ایک دن کی پابندی لگانا میڈیا کی آزادی اور اس کے ذریعے عوام کی آزادی کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’ اپنی نوعیت کے اس انفرادی فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومت نے میڈیا کے کام میں دخل دینے اور ان سے اتفاق نہ کرنے پر انہیں سزائیں دینے کا اختیار حاصل کر لیا ہے۔
ایڈیٹر گلڈ کے اس مطالبے کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ مودی نے گجرات سے دہلی کا رخ کرنے سے پہلے ہی میڈیا کے منہ پر لگام ڈالنے کیلئے اپنے کارپوریٹ ایکسپو زروں کو تجارتی فا ئدہ حاصل کرنے کیلئیپورے میڈیا اداروںکو خرید لینے پر آ مادہ کرلیاتھا۔آج اگر ملک کے میڈیا سیکٹر میں ریلا ئنس یا اڈانی جیسے ’’دھنا سیٹھوں ‘‘کی80فیصد اجارہ داری ہے تو اس کے پیچھے وہی منصوبہ بندی کار فرما ںہے جس کے تانے بانے سنگھ اور کارپوریٹ گھرانوں نے مودی کے ساتھ مل کرتیار کئے ہیں۔یہ بات کئی مرتبہ ذرائع ابلاغ کی سرخی بن چکی ہے کہ 2014میںبی جے پی کو اقتدار میں لانے میں اس میڈیا کا اہم رول ہے جو آج سے چار پانچ سال پہلے ہی اس کارپوریٹ گھرانوں کی تجوری میں گروی رکھا جاچکا تھا اورجس کی دلی مرادیہی تھی کہ کسی طرح نریندر بھائی دامودر داس مودی ہندوستان کے وزیر اعظم بن جائیں تاکہ انہیں پورے ملک کو غلام بنا لینے کا بھرپور موقع مل سکے۔ چناں چہ عام انتخابات 2014کے نتائج کے بعد سیاسی تجزیہ نگاروں نے انتہا ئی مستحکم انداز میں یہ باتیں کہی تھیں کہ مودی کی اصل طاقت عوامی حمایت سے کہیں زیادہ سرمایہ دار طبقے اورجرائم پیشہ افراد کی کارستانی ہے،جن کا کارپوریٹ میڈیا پر تسلط ہو چکا ہے۔9مبر 2013کو ملک کے 100بڑے سرمایہ داروں میں سے 72نے مودی کو ہی وزیر اعظم کے امید وار کے طور پر پسند کیا تھا۔یہ بھی ظاہر ہے کہ عام انتخاب 2014ہندوستانی تاریخ کا سب مہنگا الیکشن تھا ، انہی سرمایہ داروں نے 2014 کے عام الیکشن میں میڈیا گھرانے کو ہائی جیک کرکے عوام کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا،اسی لیے میڈیا مالکان نے ایک کرشماتی رہنماکے طور پر مودی کا تشخص ابھارنے میں اہم کردار اداکیا،جن چینلوں پر مذکورہ 72سرمایہ کاروں کا قبضہ ہے ان میں سے بیشتر نیوز چینل پرآ ج بھی ’’مودی نامہ ‘‘ہی پیش کیا جارہا ہے۔ اب ہم اسسوال کی جانب لوٹتے ہیں جو ہم نے مضمون کے ابتدا میں اٹھائے ہیں کہ’آخر پٹھان کوٹ‘‘ دہشت گردانہ حملہ کے11ماہ بعد یعنی 4نومبرکوبھوپال میں ’’سیمی‘‘کارکنوں کو مشتبہ انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے کے بعد ہی این ڈی ٹی وی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ۔اس کا آ سان سا جواب این ڈی ٹی کے عالمی شہرت یافتہ اینکرروش کمار کے ذ ر یعہ ’’پرائم ٹائم‘‘ میں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بھوپندرسنگھ سے پوچھے گئے سوال سے مل سکتا ہے۔جس میں انہوں نے کہاتھا کہ جیل سے فرار ہونے والے سبھی قیدی اسلحوں سے لیس تھے،مگران کے جواب پر’’ کاؤنٹر کوئشچن‘‘ کرتے ہوئے روش نے کہاتھا کہ بھوپندر جی آپ ذرا سوچ کر جواب دیجئے،اس لئے کہ بھو پا ل اے ٹی ایس چیف نے پی ٹی آ ئی سے بتا یا ہے کہ جیل سے فرار ہونے والے کسی بھی قیدی کے پاس اسلحے نہیں تھے۔روش کمار کے اس کراس کوئشچن نے مدھیہ پردیش کی پوری بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔اگر این ڈی ٹی وی انڈیا کی اس بیباک صحافت پر توجہ دی جائے تو یہ شبہ ظا ہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے این ڈی ٹی وی کے ذریعہ بی جے پی کے اصل چہرہ کو سامنے لانے کی پاداش میں ہی پریس کی آ زا دی کوسلب کر لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ این ڈی ٹی وی پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے مغربی بنگال کی و ز یر اعلیٰ ممتا بنرجی،بہار کے وز یر اعلیٰ نتیش کمار اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرشاد یادوسمیت کانگریس پارٹی کے قدآور لیڈر دگوجئے سنگھ نے بھی بی جے پی پر یہی الزام عائد کیا ہے۔در اصل بھو پال انکاؤ نٹر کے بعد ریاست کی چوہان سرکار پوری طرح ننگی ہوچکی ہے اور اس کی اہم وجہ این ڈی ٹی وی کا ’’پرا ئم ٹا ئم‘‘ ہے، جس نے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ کو لاجواب کردیا تھا۔
این ڈی ٹی وی پر پابندی عا ئد کرنے کا آ مرانہ فیصلہ کرنے والی بی جے پی حکومت کو اس سے پہلے ملک کے سامنے اس تشویش کا بھی ازالہ کرنا چاہئے کہ’اگر چینل کی کوریج سے ملک کومزید نقصان اٹھا نا پڑسکتا تھا تو حکومت ہند نے پاکستا ن کے تفتیشی وفد کو پٹھان کوٹ ایئر بیس کی سیر کیوں کرائی۔ جس تک پہنچنے کی سازش اب ہمارا روایتی دشمن ملک پاکستان اپنے دیرینہ حلیف چین سے مل کر بآ سانی تیار کرسکتا ہے۔آج نہیں تو کل بی جے پی سے ملک کے عوام یہ سوال ضرور پوچھیں گے۔جس کا جواب یقینا مودی حکومت پاس نہیں ہوگا اور وہ ملک کے سامنے مدھیہ پر دیش کی ریاستی حکومت کی طرح لاجواب ہوجائیگی۔ دریں اثنا مدیروں کی انجمن نے چینل پرلگائی گئی پابندی فورا ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ غیر ذمے دارانہ کوریج کے خلاف کاروائی کے کئی قانونی راستے ہیں۔ بغیر قانونی قدم اٹھائے ہوئے اس طرح کی من مانی پابندی لگانا انصاف اور آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔جبکہ این ڈی ٹی وی انڈیا نے حکومت کے حکم کو حیرت انگیز قراردیتے ہوئے خود حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پابندی کے لئے صرف اس کو ہی چنا گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سبھی متبادل راستوں پر غور کررہا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس قسم کے اقدامات ایمرجنسی کے دور کی یاد دلا رہے ہیں ۔اسی دوران چینل کے اینکر روش کمار نے دو خاموش فنکاروں کے ساتھ جمعہ کو پرائم ٹائم شو کیا۔شو کے آن ایئر ہونے کے فوراًبعد’’ شو‘‘ میں کہی گئی’باغوں میں بہار ہے‘ والی لائن سوشل میڈیا پروائرل ہونے لگی۔زی نیوز سے وابستہ روہت سردانا نے ٹویٹ کیا’’ ہر اخبار میں چار کالم کے مضامین ہیں، جن میں لکھا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی لگ گئی ہے، اظہار رائے کی آزادی چھین لی گئی ہے‘‘۔یشونت دیشمکھ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے:’’ بھکت جنو!اس ٹی وی کوگندی گالی بول کر آ پ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔آپ گالی بول کر خود اپنا مذا ق بنوا رہے ہیں۔ ملک میں پریس کی آ زا دی کو آپ کی ہی حکومت زبردستی شہید کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close