خصوصی

اے ایم یو  سے جی این یو  تک آتنک ہی آتنک

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے لوگ جو  ہنگامہ آرائی سڑکوں  پر کر رہے ہیں اس کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی  پسماندہ طبقات کو تعلیم سے محروم رکھنے کی اور اساتذہ کے طبقے میں ان کی نمائندگی کم کرنے کی منصوبہ بند کوششیں  جاری ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں ہندو واہنی کے غنڈوں کی دہشت گردی  اور خاموش تماشائی بنے رہنے والی پولس کا الٹا پر امن طلباء پر  قابلِ مذمت لاٹھی چارج جواہر لال یونیورسٹی میں گذشتہ   کئی ماہ سے جاری پر تشدد سلسلے کی  ایک کڑی ہے ۔  سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر حامد انصاری کی نشست کو درہم برہم کرنے کی یہ کوشش کامیاب رہی اور اس کے ذریعہ ہندو یوا واہنی والے بی جے پی کے وزیر  سوامی پرساد موریہ کے ذریعہ کی جانے والی قائد اعظم محمد علی جناح کی تعریف سے توجہ ہٹانے میں بھی  کامیاب ہوگئے۔ اپنی سیاسی زندگی کا ایک طویل عرصہ بی ایس پی کے اندر گذار نے بعد  گذشتہ صوبائی انتخاب سے قبل سوامی پرساد موریہ  بی جے پی میں شامل ہوئے  اور وزیر بنادیئے گئے۔ انتخاب سے قبل  دلتوں کو رجھانے کے لیے ان کا بھرپور استعمال کیا گیا لیکن اب بی جے پی کو اس کی ضرورت نہیں ہے اس لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔  بی جے پی مارگ درشک منڈل کے سربراہ لال کرشن  اڈوانی بھی محمدعلی جناح کے مزار پر لکھ آئے تھے کہ وہ  تاریخ ساز سیکولر رہنما تھے ۔انہوں نے تسلیم کیا تھا تقسیم ہند ایک ناقابلِ موخر حقیقت تھی۔  اڈوانی کو ؁۲۰۰۵ کے اس بیان کی پاداش میں  عارضی طور پر ہٹایا گیا لیکن پھر ؁۲۰۰۹ میں انہیں  وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنایا گیا ۔

سوامی پرساد موریہ نے اگر یہ کہا کہ ’’ چاہے ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمان یا اسمبلی  کیوں نہ ہوں  ،ایسی بیان بازی کرنے والوں کو وہ گھٹیا قسم کا مانتے ہیں ۔ کیونکہ دیش کے بنٹوارے سے پہلے جناح کا بھی یوگ دان رہا ہے‘‘  تو کیا غلط کہا؟  اس ملک میں ہندوستان کو غلام بنانے والے  انگریزوں کے بے شمار مجسمہ اور تصاویر ہیں۔ صدر مملکت کی رہائش گاہ راشٹرپتی بھون  بھی انگریزوں کی تعمیر کردہ ہے ۔ ایوان پارلیمان میں جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کرنے والے وکرم  ساورکر کا مجسمہ نسب کیا جاچکا ہے ایسے میں آزادی سے قبل  ؁۱۹۳۸ سے لگی ہوئی  محمد علی جناح کی تصویر پر اعتراض کیا معنیٰ ؟ یہ وہی نفسیات ہے کہ جب بی جے پی والوں کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی ہے تو انہیں پاکستان اور جناح کی یاد ستانے لگتی ہے۔ موریہ کی  مخالفت کرکےراجیہ سبھا کے  نئے رکن چھٹ بھیا ہرنام سنگھ یادو کو اپنی دیش بھکتی بگھارنے کا موقع مل گیا ۔انہوں نے  قومی و صوبائی صدر سمیت وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ موریہ فوراً معافی مانگیں یا انہیں ہٹا دیا جائے۔

ہرنام سنگھ یادو کے بیان پر ہنوز کسی نے توجہ نہیں دی لیکن   ان کے سیاسی مقاصد طشت ازبام ہوگئے ۔  ہرنام نے انکشاف کیا  کہ  پارٹی سے   موریہ موہ بھنگ ہوچکا  ہے اور وہ نئے ٹھکانے کی تلاش کررہے ہیں ۔ اسی لیے انہوں نے  مایا وتی کی حکومت کو ادیتیہ ناتھ کے اقتدار سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مایا کے راج میں بدعنوانی پر لگام کسی رہتی تھی۔ اس  حقیقت کا اعتراف بچہ بچہ کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس قدر قلیل عرصہ میں سوامی پرساد موریہ کا بی جے پی سے  موہ بھنگ کیوں ہوگیا ؟ اس کی وجہ ملک میں اور اترپردیش کے اندر ٹھاکروں کے ذریعہ دلتوں پر ہونے والے مظالم کی گرم بازاری  ہیں۔  ایسی صورتحال میں اگر دلت رائے دہندگان ہی بی جے پی کو خیرباد کہہ دیں گے تو دلت رہنما وہاں رہ کر کیا کرے گا؟

دلتوں پر مظالم یہ محض بہتان تراشی نہیں ہے۔ ۲۳ اپریل ؁۲۰۱۸ کو بدایوں ضلع میں  اعظم پور گاؤں کے سیتارام والمیکی کو راجپوت سماج  وجے سنگھ، پنکو، وکرم سنگھ اور سومپال عرف کلو  نے کھیت کٹائی سے انکار پر زدو کوب کیا۔ وہ بیچارہ بیماری  کے سبب معذرت کررہا تھا لیکن یہ بدمعاش کہہ رہے تھے ’ان کا کون ہے ہماری سرکار ہے‘ ۔ سیتارام کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے اس کو پیڑ سے باندھ کر  ماراپیٹا گیا۔ اس کی  مونچھ  اکھاڑی گئی  اور جوتے میں پیشاب پلایا گیا ۔ کیا اس ذلت آمیز سلوک کے باوجود کسی دلت رہنما کو بی جے پی میں رہنا چاہیے ۔ بی جے پی چونکہ ہنوز دلتوں کے ووٹ سے پر امید ہے اس لیے  نہ صرف اس  الزام میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا بلکہ  لاپروائی برتنے کے الزام میں  تھانہ انچارج راجیش کشیپ کو معطل کر دیا گیا ۔  اس کے برعکس علی گڑھ  میں حملہ آوروں کی طرفداری کرنے والے طلباء  کا ناحق خون بہانے والی پولس پر  تادمِ تحریر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ ہے زعفرانی مساوات جس کا درس پردھان سیوک نے اپنے من کی بات میں دیا تھا۔

اے ایم یو کے اس واقعہ سے ایک دن قبل جے این یو میں  اے بی وی پی کے ۵۰ یا ۶۰ غنڈوں نے موہت پانڈے کی گاڑی پر حملہ کردیا ۔ موہت پانڈے کا جرم یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی مخالفت کرتا ہے ۔ پہلو خان ، علیم الدین اور نجیب وغیرہ  کےحق میں  آواز اٹھاتا ہے۔ اس حملے وہ ۹ طلباء پیش پیش تھے جو نجیب  کے معاملے میں ماخوذ تھے اور یہ نعرے لگارہے تھے کہ اسے بھی نجیب کے پاس پہنچا دو ۔  وہ تو خیر پردیپ نروال،وسیم، تھلپلی اور دلیپ  جائے واردات پر موجود تھے ورنہ  بعید نہیں کہ یہ بدمعاش اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجاتے۔ اس کے بعد جب یہ قافلہ   اپنی شکایت درج کرانے وسنت کنج پولس تھانے میں  پہنچا تو اے بی وی پی والے اپنی شکایت لکھوا چکے تھے جس میں موہت پانڈے کو حملہ آور بتایا گیا تھا۔ بات یہیں نہیں رکی بلکہ کچھ طالبات کو بھی وہاں پہنچا دیا گیا جنہوں نے موہت پر چھیڑ خانی کا جھوٹا الزام لگا دیا ۔  اس طرح کی اندھیر نگری اور چوپٹ راج اگر  دارالخلافہ دہلی کے اندر ہو تو یوگی راج میں کیا توقع کی جائے جس کا آئین  کی پاسداری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

ہندوستان کے اندر سنگھ پریوار کی طلباء تنظیم اچھی خاصی مقبول ہوچکی تھی اور کئی  طلباء یونین پر اس نے قبضہ جمالیا تھا ۔ بی جے پی کی صوبائی اور مرکزی حکومت کے قائم ہوجانے کے بعد اس کو یہ نادر موقع ملا کہ حکومتی وسائل کا طلباء کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرکے اپنے اثر و رسوخ اضافہ کرتی لیکن ان کی  رعونت آڑے آ گئی ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو طلباء کا خادم کے بجائے مالک سمجھنے لگے۔ ان کی عدم رواداری میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا اور انہوں نے اپنے مخالفین کو جبرو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ روہت ویمولا اس  کا پہلا شکار تھا جس نے طویل احتجاج کے بعد مجبوراً خودکشی کرلی ۔ بی جے پی کے رہنماوں کا دماغ اگر درست ہوتا تو وہ اپنے طلباء کو غنڈہ گردی سے باز رہنے کی تلقین کرتے لیکن ان لوگوں نے ایک تو ان کو ترغیب دی اور دوسرے انہیں  قانون کے شکنجے سے محفوظ رکھا ۔ اس پشت پناہی نے ان کا دماغ اور بھی خراب کردیااور ان کی غنڈہ گردی ملک کی مختلف تعلیم گاہوں  میں پیر پھیلانے لگی۔  اس کا دوسرا شکار آئی آئی ٹی چنئی تھا، پھر جے این یو ،  ڈی یو ، بی ایچ یو، الہ باد یونیورسٹی سے ہوتا ہوا  یہ آسیب بالآخر علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے باب سرسید پر دستک دینے لگا۔

اے بی وی پی کی اس بددماغی کو دور کرنے لیے طلباء نے اسے یونین انتخابات میں پے درپے شکست فاش سے دوچار کیا  ۔ جے این یو میں پچھلی مرتبہ جو ایک  سیٹ تھی وہ بھی ہاتھ سے جاتی رہی ۔ دہلی یونیورسٹی میں بھی  جہاں ارون جیٹلی کے زمانے سے اس کا  ڈنکا بجتا تھا  منہ  کی کھانی پڑی  ۔ اس کے بعد پنجاب ،گجرات ،  جئے پور، حیدرآباد اور الہ باد ہر جگہ زعفرانیوں کو طلباء نے دھوبی پچھاڑ دیا لیکن ہنوز ان کا خمار نہیں اترا۔  علی گڈھ میں اول تو آرایس ایس کے نام نہاد کارکن محمد امیر رشید نے  مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کو مکتوب لکھ کر کیمپس میں ’شاکھا‘ قائم کرنے کی منظوری مانگی تاکہ اقلیتی طلبہ میں دائیں بازوتنظیم کے متعلق پائی جانے والی’’ بدگمانیوں‘‘ کو دور کیاجاسکے۔  اس پہلے کہ یہ درخواست قبول ہوتی اور سنگھ کے دانشور اپنی کوششوں سے  طلباء کو گمراہ کرتے ہندو یوا وہنی کے غنڈوں نے ساری غلط فہمی دور کردی  اور ساری دنیا کے ان کے ناپاک عزائم سے روشناس کرادیا۔ مذکورہ  خط میں کہا گیا تھا کہ تنظیم کے حقیقی نظریہ سے طلبہ کو واقف کرانابہت ضروری ہے۔ حقیقت تو  یہ ہے کہ کسی بھی تحریک کے حقیقی  نظریہ کی نمائندگی الفاظ نہیں بلکہ عمل کرتا ہے ۔  یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر جن کے لیے کلیان سنگھ کی قربت کے سبب  انکار مشکل تھا اس سانحہ نے آسانی کردی ۔ اب وہ کہہ سکتے ہیں ساری بدگمانیاں دور ہوچکی ہیں اس لیے شاکھا کی چنداں ضرورت نہیں۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے لوگ جو  ہنگامہ آرائی سڑکوں  پر کر رہے ہیں اس کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی  پسماندہ طبقات کو تعلیم سے محروم رکھنے کی اور اساتذہ کے طبقے میں ان کی نمائندگی کم کرنے کی منصوبہ بند کوششیں  جاری ہیں۔ موجودہ  حکومت  کےاقتدار میں آتے ہی  دو ماہ  کے اندر جولائی ؁۲۰۱۴ میں اس کی جانب سے دیا جانے والا  جواب سنگھی ذہنیت  کا غماز ہے ۔ اس وقت یو جی سی نے دہلی یونیورسٹی  سے  درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے اساتذہ کی بحالی کے متعلق استفسار کیا تو صاف کہہ   دیا  گیا اس مسئلے پر اس کی ایک نہیں سنی جائے گی  ۔ اس وقت ریزرویشن کوٹہ کے تحت چار ہزار اساتذہ کی بحالی موخر تھی۔  دہلی یونیورسٹی نے دہلی ہائی کورٹ میں اپنے  حلف نامہ میں کہا تھاکہ وہ آزاد ادارہ ہے اور حکومت ہند کا قانون نافذ کرنے کے لیے مجبور نہیں ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ  جو حکومت جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر اعتراض کرتی ہے وہی دہلی یونیورسٹی کی آزادی پر اصرار کرتی دکھائی دیتی  ہے۔  اس وقت  یو جی سی کی ڈپٹی سکریٹری ڈاکٹر ارچنا ٹھاکر نے  دہلی یونیورسٹی کو صاف صاف ہدایت دی کہ وہ یونیورسٹی میں ریزرو درجہ کی ۴ ہزار اسا میوں کو سیٹوں پر اساتذہ کی فوراً بحالی کریں۔ ان چار سالوں کے اندر ایسے افسران کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ  بھکتوں سے پر کرلی گئی ہے۔  یہ  اول تو اعتراض نہیں کرتے اور سرکار ی  جواب سے مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔

بی ایچ یو ایشیا کی سب سے بڑی رہائشی یونیورسٹی ہے  اورکھینچ تان کر اس  کا شمار ملک کی  دس بہترین تعلیم گاہوں میں کردیا گیا ہے۔  حکومت نے پسماندہ  اساتذہ کو ان  کے جائز حق سے محروم کرنے کے لیے یو جی سی کی ہدایات میں ایک معمولی سی تبدیلی کردی جس سے بنارس ہندو یونیورسٹی کے اندر پسماندہ ذاتو ں کے اساتذہ  کی تعداد  کا ریزرویشن نصف  اور دیگر قبائل  کی ۸۰ فیصدکم  ہوگیا۔ اس کے علاوہ ی دیگر پسماندہ ذاتوں کی تعداد میں ۷۰ فیصد  کی کمی واقع ہوگئی ۔   سرکاری اعداوشمار کے مطابق  نئی ہدایات سے قبل جملہ ۱۹۳۰ اساتذہ میں سے ۲۸۹ شیڈولڈ کاسٹ کے لیے، ۱۴۳ شیڈولڈ ٹرائبس  اور ۳۱۰ او بی سی کے لیے مختص تھیں ۔ اس وقت  مجموعی تعداد کی بنیاد پر فیصد کا حساب لگایا جاتا تھا لیکن اب یو جی سی کا کہنا ہے کہ شعبہ جات کی سطح پر ریزویشن کی تعداد متعین کی  جائے۔ اس نئے نصاب کے مطابق  اب  پسماندہ ذاتوں کی تعداد گھٹ کر ۱۱۹ ، قبائل کی ۲۹ اور دیگر پسماندہ ذاتوں کے لیے صرف ۲۲۰  کا اختصاص بچ گیا ہے۔   یہ ہدایت گزشتہ سال ستمبر میں جاری کی گئی اور الہ باد ہائی کورٹ نے اس کی توثیق کرتے ہوئے عملدرآمد کا حکم دے دیا۔  اپنے رائے دہندگان کو بے وقوف بنانے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ تو کیا ہے لیکن اگر یوجی سی کی ہدایات کو نہیں بدلا جاتا تو ہر عدالت یہی فیصلہ سنائے گی ۔ یوجی سی کی  ہدایت کو بدلنا ضروری  ہے لیکن اس سے گریز کیا جارہا ہے۔

منو سمرتی کے مطابق تعلیم کے حصول کا حق صرف  صرف نام نہاد اعلیٰ ذات کے طبقات کو حاصل  ہے  ۔  اس لیے اگر کوئی ایک لویہ جیسا ہونہار طالبعلم اپنی محنت و مشقت سے بھی تیر اندازی سیکھ لیتا تھا تو عقیدتمندی کےبہانے گرو دکشنا کے طور  پر اس کا انگوٹھا کاٹ لیا جاتا تھا ۔ کوئی شودر ویدوں کے اشلوک سن لے تو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جاتا تھا اور خواتین کو مذہبی صحیفے چھونے تک کی آزادی نہیں تھی۔   مسلمانوں کی آمد سے اس صورتحال میں تبدیلی کا آغاز ہوا۔ مسلم حکمرانوں نے تعلیم  گاہوں کو سب کے لیے کھول دیا۔ انگریزوں نے شودروں کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا ۔ آزادی کے بعد آئین کے اند ر ریزرویشن رکھ کر انہیں آگے بڑھانے کی شعوری کوشش کی گئی لیکن اب پھر چور دروازے سے اندر ہی اندر  گلا گھونٹنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

اپنے ارادوں  کے حصول کی خاطر  کہیں پر ریزرویشن کے ذریعہ داخلہ  لینے  والے طلباء کو ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے جیسے کہ روہت ویمولا کے معاملے میں ہوا۔ کہیں ان کو قوم دشمن قرار دے دیا جاتا ہے جیسا کہ جے این یو میں کیا گیا ۔ نجیب جیسے ہونہار اور دلیر طالبعلم کو  ڈرا دھمکا کر غائب کردیا جاتا ہے۔ بی ایچ یو میں  طالبات کے ساتھ بدسلوکی کرکے وائس چانسلر کے ذریعہ تائید کرائی جاتی ہے تاکہ انہیں بلاواسطہ   علم کی دولت محروم کردیا جائے اور کبھی علی گڈھ یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی کرکے اپنی سیاسی روٹیاں سینکی جاتی ہیں ۔ ان مذموم حرکات کی قیمت طلباء برادری کو ادا کرنی پڑتی ہے کوئی جان سے جاتا ہے کسی کو جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔ کوئی  طالبہ رسوا کی جاتی ہے اور کوئی نوجوان  زخمی حالت میں  اسپتال  پہنچا دیا جاتا ہے ۔ جومنو بھکت  یہ  گمان کرتے ہیں  کہ اس طرح عوام کو ان کے حق سے محروم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔ جیسے جیسے قومی  انتخاب قریب تر  ہوتا جارہاہے عوام کا حوصلہ بلند ہورہا ہے۔  بقول سہیل ثاقب ؎

ابھی   منظر  بدلنے  میں ‌ ذرا  سی  دیر  باقی  ہے      

 مجھے گر کر سنبھلنے میں‌‌ ذرا سی دیر باقی ہے

ابھی پوری طرح جاگا نہیں میں خواب غفلت سے       

  ہوا کا رخ بدلنے میں ذرا سی دیر باقی ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close