خصوصی

بابری مسجد کی شہادت کے بعد مستقبل کا سوال

حفیظ نعمانی

ہر سال کی طرح اس سال بھی 6؍ دسمبر کو بابری مسجد کی برسی منائی گئی اور وہ سب ہوا جو ہر سال ہوتا تھا۔جوش،ولولہ،جذبہ، دھرنا، جلسے، جلوس، قرآن خوانی اور انصاف کے انتظارمیں 24؍برس انتظار اور جو مجرم ہیں ان کو بڑے بڑے عہدے۔یہ سب کرنے والے وہ ہیں جو ہر سال فیشن کے طور پر یہ سب کرتے ہیں اور ان میں کوئی نہیں ہے جس نے یہ اعلان کیا ہو یا عمل کیا ہو کہ 25 ٹرک سنگ مرمر، سیکڑوں بورے سیمنٹ، پتھری اور مورنگ کا ذخیرہ کردیا ہے اور اعلان کردیا ہوتا کہ جیسے ہی سپریم کورٹ فیصلہ کرے گا کہ جہاں میر باقر نے بابری مسجد بنائی تھی وہاں کوئی مندر نہیں تھا اور اس لیے نہیں تھا کہ ہندوستان نام کے پورے ملک میں دراوڑ رہتے تھے اور آرین 3 ہزار برس سے کچھ زیادہ پہلے ایران سے آئے اور انھوں نے دراوڑوں کو مار کر بھگا یا اور ملک پر قبضہ کرلیا اور دراوڑوں نے لنکا کے قریب جنوبی ہند کو اپنا ملک بنایا یا پورے ملک میں جس طرف بھی پہاڑ نظر آئے ان کے دامن میں آباد ہوگئے۔
ہم نے بار بار اپنی کم علمی کا اعتراف کیا ہے اور تاریخ سے تو بالکل ہی مناسبت نہیں رہی۔ یہ بات مؤرخوں نے لکھی یا نہیں لکھی کہ جب تین یا چار ہزار سال پہلے ہندو آرین ہندوستان یا بھارت میں تھے ہی نہیں تو لاکھوں برس پہلے ایودھیا میں رام چندر جی نے کیسے جنم لیا اور سیتاجی نے کیسے رسوئی بنائی اور کیا لاکھوں برس پہلے انسان کھانا پکانے کے لیے رسوئی بنا کر اسکے استعمال سے واقف ہوچکا تھا؟ ہم یہ تمام باتیں صرف سمجھنا چاہتے ہیں جو ہندو مؤرخوں نے ضرور لکھی ہوں گی۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد سب کو یاد ہوگا کہ عظیم الشان رام مندر بنانے کے لیے سنگ مر مر اتنا آچکا ہے جس سے بڑے سے بڑا مندر بن سکتا ہے۔ مسلسل سنتے رہے ہیں کہ مندر کے ستون تیار ہورہے ہیں، دیواروں اور فرش کے لیے الگ الگ رنگ کے پتھر گھسے جارہے ہیں اور پتھر میں استعمال ہونے والا پورا سامان موجود ہے بس فیصلہ آتے ہی دو مہینے میں دنیا کا سب سے شاندار رام مندر بن کر تیارہوجائے گا۔
لیکن یہ صرف ایک طرف کی بات ہے۔ اور جب ہر مسلمان کو یقین ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی اور اس لیے یقین ہے کہ اسلام تو اس کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ کسی خالی پڑی ہوئی زمین پر اس کے مالک کی اجازت کے بغیر یا اسے خریدے بغیر مسجد بنائی جائے تو میر باقر ایک نئے ملک میں وہاں کی آبادی کی عبادت گاہ کو گرانے کی غلطی کیسے کرسکتے تھے؟ اور وقف بورڈ کے علاوہ ہندوستان کے ہر مسلک کے عالموں پر مشتمل مسلم پرسنل لا بورڈ بابری مسجد کا مقدمہ اپنے ہاتھ میں کیسے لینے کی ہمت کرتا اور جب مسلم پرسنل لا بورڈ نے اسے ہاتھ میں لے لیا تو کیوں یقین نہ کیا جائے کہ ا نشاء اللہ مقدمہ مسجد کے حق میں ہوگا؟
جب بات اتنے یقین کی ہو تب بھی تیاری نہ کرنا اور یہ جانتے ہوئے تیاری نہ کرنا کہ مخالف فریق کو اگر شکست کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ہر وہ حرکت کرے گا کہ اس زمین پر کچھ بھی بن جائے مسجد نہ بن پائے اور یہ بھی معلوم ہے کہ رفتہ رفتہ ایودھیا کا وہ حصہ مسلمانوں سے پوری طرح خالی ہوگیا ہے جہاں مسجد تھی اور ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ صرف دو چار مسلمان مالی بچے ہیں جو مندروں میں پوجا کرنے کے لیے آنے والے پجاریوں کے لیے گیندے کے پھول پیدا کرتے ہیں اور یہی ان کی روزی روٹی ہے۔ اب وہ تنظیمیں بتائیں کہ اگر مسجد کے حق میں فیصلہ ہوا اور انشاء اللہ ہوگا تو ملک بھر میں مہینوں چندہ ہوگا۔ پھر اس کا نقشہ بنے گا اور اس کے بعد سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ہوگی اس کے بعدتعمیر شروع کی جائے گی تو کیا وہ تمام پرجوش مسلمان جنھوں نے 24ویں برسی دھوم دھام سے منائی ہے اور حکومت کو للکارا ہے وہ ہر کام چھوڑ کر لاٹھی بلم تلواریں اور اسلحہ لے کر ایودھیا میں آکر ڈیرہ ڈالیں گے؟ اور کیا انہیں ایسے مستری اور مزدور مل جائیں گے جو لاکھوں مخالفوں کی مخالفت کے باوجود مسجد تعمیر کرتے رہیں اور کیا ان جوشیلے مسلمانوں کویہ یقین ہے کہ جو پولیس انگریزوں کی نگرانی میں بنی تھی جب 1948میں وہ مسجد سے مورتی نکال کر نہ پھینک سکی جس پولیس میں 40 فیصدی مسلمان تھے تو آج کی وہ پولیس جو اتنی مستحکم مسجد کی حفاظت نہ کرسکی اور اس کے گرنے کا تماشہ دیکھتی رہی وہ اپنے سامنے اس کی تعمیر ہونے دے گی؟ اور اگر وہ سب ہوگیا جس کا خواب ہمارے بے عقل جذباتی پیشہ ور اور موقع پرست مسلمان دیکھ رہے ہیں تو کیا ایک لاکھ مسلمان اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ صرف بابری مسجد میں نماز پڑھنے اور اسے آباد رکھنے کے لیے ایودھیا میں جا کر آباد ہوجائیں گے؟ یا قرب و جوار میں آباد ہو کر ہر نماز کے وقت مسجدمیں آجایا کریں گے؟ اور کوئی امام اس کی ہمت کرے گا کہ وہ زبردست حفاظتی انتظام کے بغیر مسجد میں مقیم رہے اور یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جیسے مسجد کی شہادت کے بعد بی جے پی میں نئی جان آگئی تھی۔ مقدمہ میں شکست کے بعد کیا پورے ملک کا ہندو اسے 20 کروڑ مسلمانوں کے مقابلہ میں سو کروڑ ہندوؤں کی ذلت سمجھ کر پھر ایک پلیٹ فارم پر نہیں آئے گا؟ اور آگیا تو کیا اترپردیش میں کوئی حکومت ایسی رہ پائے گی جو مسجد کی شان و شوکت اور آبادی کو برداشت کرسکے اور اس کی حفاظت کرے؟ جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی مخالفت چھوٹی چھوٹی ٹولیاں کرتی رہتی ہیں۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے اکابر اور وقف بورڈ کے ذمہ دار جو سپریم کورٹ میں مقدمے کا لاکھوں کا خرچ برداشت کررہے ہیں وہ اگر مقدمے کے فیصلے سے پہلے ہی اس مسئلہ میں اپنی واضح پالیسی کا اعلان کردیں تو کیا یہ مناسب نہ ہوگا؟ اسی ملک میں جس میں بابری مسجد تھی نہ جانے کتنی مسجدیں ایسی ہیں جن میں غیر مسلم آباد ہیں۔ مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں برسوں پہلے ایک13ویں کی تقریب میں ہم نے بھی شرکت کی تھی۔ وہ جس گورودوارہ میں تھی وہ ایک بہت بڑی اور عالی شان مسجد رہی ہوگی جس کے مینار گرادئے گئے تھے اور گنبد بدستور تھا۔ اس میں وضو کے لیے ٹوٹیاں بھی لگی تھیں او ر گرم پانی کرنے کے لیے سقایہ بھی تھا جو مغربی ہندوستان کی مسجدوں میں ہوا کرتا تھا اور نہ جانے کتنی مساجد دہلی میں ہیں جن پر آثار قدیمہ کا قبضہ ہے اور مسلمانوں کو نماز کی اجازت نہیں ہے۔ ہندوستان کے مسلمان جب 1948میں بابری مسجد میں مورتی رکھنے سے نہ روک سکے اور اس میں سرکاری تالا بھی باقی نہ رکھ سکے تو اب مسجد تعمیر کرنے کی باتیں کس منہ سے کررہے ہیں؟ اچھا تو یہ ہے کہ وقف بورڈ اور پرسنل لا بورڈ مستقبل کے منصوبہ سے ملک کے مسلمانوں کو آگاہ کردیں۔ بعد میں یہ نہ ہو کہ نشانہ حکومت کے بجائے یہ دونوں بورڈ بن جائیں اور پوری ملت مذاق کا نشانہ بن جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close