خصوصی

بتا اے پیر میخانہ کہ میخانوں پہ کیا گذری

حفیظ نعمانی
صرف ایک مہینے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا سیاسی وزن اتنا کم ہوگیا کہ اپوزیشن جماعتیں انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دے رہی ہیں۔ ہم نہ ممبر پارلیمنٹ ہیں نہ سیاست ہماری روزی روٹی ہے۔ لیکن لکھنے کی بیماری وجہ سے دوپہر کا زیادہ وقت صرف ٹی وی کے سامنے اس لیے گذرتا ہے کہ پارلیمنٹ کی کاروائی چلے نہ چلے اس کی تفصیل پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اس پورے عرصہ میں ہم نے دیکھا کہ ابتدا میں ہر دن وزیر اعظم کو بلانے کا مطالبہ دونوں ایوانوں میں ہوتا رہا۔ دو ہفتے کے بعد انھوں نے کفر توڑا لیکن لوک سبھا کے ایک کنارے کی کرسی پر آکر ایسے بیٹھ گئے جیسے روٹھی ہوئی ساس بیٹے کے بلانے پر آجاتی ہے اور دروازہ کے پاس پڑی پیڑھی پر آکر بیٹھ جاتی ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کی دونوں ایوانوں میں جگہ مخصوص ہے۔
لال بہادر شاستری کے زمانہ میں ایک بار انھوں نے راجیہ سبھا میں اپنی جگہ پر کھڑے ہونے کے بجائے دوسری جگہ کھڑے ہو کر بھوپیش گپتا پر کوئی اعتراض کردیا۔ مشہور کمیونسٹ لیڈر بھوپیش گپتانے اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر کہا کہ وزیر اعظم کو اگر کچھ کہنا ہے تو اپنی جگہ پر آکر کہیں۔اس ہاؤس میں نہرو جب آیا تھا تو وہ 55 فٹ کا تھا ہم نے گھس گھس کر اسے ۶فٹ کا بنادیا تھا۔ آپ تو آئے ہی ۵ فٹ کے ہیں ہم اگر آپ کو گھسیں گے تو آپ بچیں گے نہیں؟وزیر اعظم مودی دو تین با ر لوک سبھا میں دیکھے گئے لیکن وہ اس طرح نہیں آئے کہ وہ سنیں گے اور جواب دیں گے۔ راجیہ سبھا میں ایک دن 40 منٹ بیٹھے دو چار ممبروں کو سنا پھر لنچ کا وقفہ ہوا تو سب کے ساتھ وہ بھی گئے لیکن پھر واپس نہیں آئے۔
اس کے بعد گجرات جا کر رونا ان سے بہت کمزور وزیروں کا بھی شیوہ نہیں تھا نہ کہ گجرات کا وہ وزیر اعلیٰ جس نے گجرات میں اس طرح12 سال حکومت کی کہ اپوزیشن کو پورے سیشن کے لیے اسمبلی سے باہر کردیا اور اپنا ہر بل بغیر کسی بحث کے پاس کرالیا۔ وہی گجرات میں عورتوں کی طرح رورہا ہے۔اور کہہ رہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن پارٹیوں نے مجھے بولنے نہیں دیا اور کوئی گجراتی نہیں کہتا کہ 300 ممبرو ں کی حمایت والا وزیر اعظم اگر ۴۵ ممبروں والی کانگریس یا چھوٹی چھوٹی گڑیوں جیسی پارٹیوں سے بھی ڈر رہا ہے تو اسے حکومت چھوڑ کر گجرات آجانا چاہیے؟
حقیقت یہ ہے کہ وہ 300 جو پارلیمنٹ میں مودی کی حمایت میں ووٹ دے سکتے ہیں اس نوٹ بندی کی مار کی وجہ سے ضروری نہیں کہ ووٹ دے دیں اور ہمیشہ کے لیے سابق ہوجائیں۔ مودی جی کو خطرہ ہے اور وہ غلط نہیں ہے کہ اگر بحث کے بعد رائے شماری کرائی جائے تو ہوسکتا ہے کہ سو ممبر یا زیادہ بی جے پی کے ٹوٹ کر الگ ہوجائیں اور دوسری پارٹی بنالیں اور پھر ان میں سے ہی کوئی اپوزیشن کی حمایت سے وزیر اعظم بن کر حکومت بنالے اور مودی جی کو نوٹ بندی کے فیصلہ سے ملک کو بیس سال پیچھے کردینے کے الزام میں جیل بھیج دے جس کا اندازہ گجرات کی ریلی میں مودی کے رونے سے اور زیادہ کھل کر ہوگیا۔
انھوں نے 50 دن یہ کہہ کر نہیں مانگے تھے کہ اس کے بعد آہستہ آہستہ ملک اپنی اصلی حالت پر آجائے گا بلکہ یہ کہا تھا کہ وہ سونے کی طرح کندن بن کر نکلے گا اور اب انہیں اندازہ ہوگیا کہ بینکوں اور اے ٹی ایم کے سامنے لگنے والی لائنیں50 دن کے بعد بھی لگی رہیں گی۔ اس لیے کہ بے ایمانوں کی پوری فوج مودی کو ذلیل کرنے کے لیے جی جان سے جٹ گئی ہے اور جتنے نئے نوٹ صرف دس دنوں میں پکڑے گئے ہیں اتنے تو من موہن سرکار کے دس برس میں بھی سفید سے کالے نہیں کئے گئے۔ حد ہے کہ غسل خانوں میں نوٹ اور پیخانوں میں نوٹ۔ لڑکوں کے پاس گڈیاں اور گجرات کی حسین لڑکیوں کے پاس گڈیاں؟ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر بینک کا ایک دروازہ کالے دھن والوں کے لیے کھل گیا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ مودی جی سزا نہیں دیں گے اس لیے کہ مودی ہمارے ہیں۔
گجرات کی جو تقریر اخباروں میں چھپی ہے اس میں صرف دہشت گردی سے اپنی لڑائی کا مودی جی نے ذکر کیا ہے اور وہ بھرشٹاچار جس کی وجہ سے من موہن سرکار کے ٹکڑے عوام نے کردئے اس کا اور اس کالے دھن کا ذکر بھی نہیں کیا جس کی وجہ سے نوٹ بندی کی ہے اس کے بجائے اب اس پر اپنی کمر ٹھوک رہے ہیں کہ ان کی نوٹ بندی کی وجہ سے سو پچاس اور چھوٹے نوٹ باعزت ہوگئے اوریہ تسلیم کررہے ہیں کہ اب نوٹوں کا دور ختم ہوگیا اور چک کاٹنا بھی ختم ہوجائے گا۔ بس موبائل کے ذریعہ کیش لیس سماج بن جائے گا۔
وزیر اعظم جیسے ہی معاشیات میں پھوہڑ وزیر مالیات جیٹلی نے بھی کہہ دیا کہ کیش لیس سے 70کروڑ بھارتی فائدہ اٹھا پائیں گے اور 50 کروڑ نوٹ والی زندگی گذاردیں گے اس بات پر سر پیٹ لینا چاہیے کہ 70کروڑ حکومت کے سگے بچے ہیں اور 50کروڑ سوتیلے۔ لعنت ہے ایسی اسکیم پر جو ہر ہندوستان کو برابر کا فائدہ نہ پہنچا سکے۔ یہ بات کل کی ہے کہ میں نے ایک بچی کو ایک دوا لینے بھیجا۔ میرے اندازہ کے حساب سے وہ 15 منٹ دیر میں آئی۔ میں نے معلوکیاتو جواب دیا کہ کیش لیس کا تماشہ دیکھنے میں دیر ہوگئی۔ پھر اس نے بتایا کہ ایک لڑکی نے دوائیں نکلوائیں اور پیمنٹ کرنے کے لیے پرس سے کارڈ نکالا جسے ہر طرح گھسا۔ عاجز آکر کاؤنٹر کلرک کو دیا۔ پھر اس نے اپنے موبائل سے نمبر ملانا چاہے دس منٹ کے بعد اس نے کہا نٹ ورک کام نہیں کررہا ہے میں کل آکر دوا لے جاؤں گی۔ یہ لکھنؤ کے قیصر باغ کی ہومیوپیتھک کی دواؤں کی دکان کا واقعہ ہے اس وقت شاید 6 بجے تھے۔
مودی جی کی کل کی تقریر ایک ہارے ہوئے جواری کی تقریر جیسی تھی۔ انھوں نے گلا پھاڑنے اور دہاڑنے میں کمی نہیں کی ہاتھوں کو بھی چاروں طرف لہرا کر یہ ظاہر کیا کہ وہ کمزور نہیں ہیں۔ لیکن یہ کہہ کر لوک سبھا میں مجھے بولنے نہیں دیا جاتا تو میں نے عوامی جلوس میں بولنے کاراستہ چن لیا۔ موقع ملا تو لوک سبھا میں بھی ضرور سوا سو کروڑ عوام کو بات پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ بھی ہماری طرح حیران ہوں کہ کیا یہ وہی مودی بول رہا ہے جس نے پارلیمنٹ کی عمارت میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہونے سے پہلے اس کی سیڑھوں پر ماتا ٹیک کر سجدہ کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ لوک سبھا میں جتنے داغی ممبر ہیں ان سب کو ایک سال کے اندر جیل بھیجواؤں گا اور جو پاک صاف ہیں وہ لوک سبھا کی عزت بڑھائیں گے؟ اور آج وہی داغی ممبر ہیں جن کے ڈر سے مودی ووٹنگ سے بھاگ رہے ہیں اور اپنی فتح کی ہوئی لوک سبھا میں بولنے کی کوشش کرنے کی بات کررہے ہیں جبکہ نومبر سے پہلے وہ ان کے جوتے کے نیچے تھے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close