خصوصیہندوستان

بدلتے حالات و اقدامات !

محمد آصف اقبال

انسان جن حالات سے دوچار ہوتا ہے اور جن سرگرمیوں میں اپنے شب و روز کے اوقات گزارتا ہے گمان ہوتا ہے کہ پس یہی وہ اہم ترین سرگرمیاں ہیں جنہیں انجام دینے کی اشد ضرورت ہے ۔برخلاف اس کے اہمیت کے اعتبار سے مسائل دوسرے تیسرے اور چوتھے زمرے میں آتے ہیں ۔لہذامسائل اور ان کے حل کے لیے شب و روز کے اوقات کو بھی اسی لحاظ سے ترتیب دینا چاہیے۔ٹھیک یہی معاملہ قوم و ملت او ر ان کے مسائل کا بھی ہے۔لیکن اس مرحلے میں قوم وملت کے مسائل اور حل پیش کرنے والے کسی ایک نکتہ پر متفق نہیں ہیں ۔جس کی بنا پر مختلف گروہ،انجمنیں ،تنظیمیں اور سرکردہ حضرات اپنے مخصوص نقطہ نظر ،جائزے اور تجزیہ کی روشنی پالیسی، پروگرام اورسرگرمیوں کے دائرہ و طریقہ کار طے کرتے ہیں ۔

فی الوقت وطن عزیز میں مسلمان اور کمزور طبقات جن مسائل سے دورچار ہیں ان کی روشنی میں احساس ہوتا ہے کہ وہ خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہیں افسوس ناک صورتحال یہ بھی ہے کہ ان کی رہنمائی کرنے والے نظر نہیں آتے نیز کوئی ایسا لائحہ عمل اب تک طے نہیں کیا جاسکا ہے جس کی روشنی میں اقدامات کیے جا سکیں ۔دوسری جانب متاثرہ افراد کا ایک بڑا طبقہ چھوٹے علاقوں اور گائوں دیہاتوں میں لاعلمی کی زندگی گزاررہا ہے جس کی بنا پر کسی بھی طرح کے حادثہ سے روبروہونے سے قبل ان کے سامنے حادثہ سے نہ صورتحال واضح ہوتی ہے،نہ مسئلہ کی حقیقت سے وہ روشناس ہوتے ہیں اور نہ ہی اس سے بچنے کا خیال ان کے ذہن میں آتا ہے۔برخلاف اس کے مسائل پیدا کرنے والے خصوصاً اُنہیں علاقوں میں زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں جہاں لاعلمی اوربے شعوری کی کیفیت میں لوگ مبتلا ہیں ویسے عموماً وہ ہر جگہ اور ہر مقام پر مختلف طریقوں سے سرگرم عمل ہیں ۔

 موجودہ صورتحال سے جس طرح اقلیتیں اور کمزور طبقات روبرو ہیں اور جن حالات سے وہ گزر رہے ہیں ان کی کیفیت ،پریشانی اور تشویش کو سمجھنے کی بجائے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے نظر انداز کررہے ہیں اور اسے مصنوعی کہ رہے ہیں ۔اس سلسلے کا تازہ بیان تو اقلیتی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی کا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے چند واقعات ہونے کے باوجود ان میں خوف یا کوئی ڈر نہیں ہے۔انہوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ حال ہی میں تشدد کے کچھ واقعات ہیں جنہیں کسی بھی طرح جائز نہیں کہا جا سکتاہے۔ٹھیک یہی موقف ملک کے وزیر اعظم کا بھی ہے اور انہوں نے بھی ان لوگوں کو خبر دار کیا ہے جو ان مسائل کا ذریعہ بن رہے ہیں کہ وہ باز آئیں نہیں تو ان پر کاروائی کی جائے گی۔اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ خوف حد درجہ موجود ہے اور وہ اپنے کرتوتوں سے باز بھی نہیں آرہے ہیں ۔جس وقت ملک کے وزیر اعظم گائے کو بچانے کے لیے انسانوں کا قتل ناقابل قبول ہے کہتے سنے گئے اور گئو رکشکوں کے ذریعہ وحشیانہ حملوں کی مذمت کر تے نظر آئے اس کے چند گھنٹوں کے اندر ہی جھارکھنڈ میں بیف کے الزام میں ایک اور مسلمان کا بیچ سڑک پر بہیمانہ قتل کر دیا جا تا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک طرف تو اقلیتی امور کے مرکزی وزیر خوف کو سرے سے ماننے ہی کو تیار نہیں تو دوسری طرف وزیر اعظم کی مذمت اور وارننگ کے باوجود تشدد پھیلانے والے ،خوف و ہراس میں مبتلا کرنے والے افراد دہشت گردی سے باز آنے کو تیار نہیں ہیں ۔اس سب کے باوجود افسوس ناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ ملت کے سوچنے سمجھنے والے افراد خوف کے ماحول کو تسلیم نہ کریں یا اسے مصنوعی بتائیں ۔سوال کرنے والا سوال کرسکتا ہے اور اس کا اسے حق بھی پہنچتا ہے کہ وہ سوال کرے کہ کون ان حالات کو مصنوعی بتارہا ہے؟جواب یہ ہے کہ جس طرح عملی اقدامات کے سلسلے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آرہا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں بے چینی کا اظہار ہو رہا ہے اس کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایک بڑا طبقہ اسے مصنوعی مان کر اطمینان کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

خوف کی کیفیت کیا ہے اس کی ایک تازہ مثال انجینئر نجم الحسن ہے۔یہ نوجوان برقع پہن کر سفر کر رہا تھا۔جب اس نوجوان کو علی گڑھ ریلوے پولیس کو سونپا گیا تووہ تھر تھر کانپ رہا تھا اور خوف کی وجہ سے رورہا تھا۔روتے ہوئے اس نے کہا کہ مجھے جنید کے قتل نے بری طرح ڈرا دیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تفتیش میں نوجوان نے اپنا نام نجم الحسن ولد عبدالحسن رہائشی سلطان گڑھ پٹنہ بہار بتایا ہے۔بیالیس سالہ انجینئر نجم الحسن نے بتایا کہ برقع پہن کر وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتا تھا،مسلمانوں کو بھیڑ کی طرف سے پیٹ پیٹ کر کیے جارہے قتل کی خبروں سے ڈرا ہوا تھا۔اس نے بتایا کہ گزشتہ ہفتہ علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ہی اس کی ایک شخص کے ساتھ دھکامکی ہوگئی تھی اور دوسرے شخص نے مذہب کو بنیاد بنا کر اس کی توہین کی تھی۔ساتھ ہی دھمکی بھی دی تھی کہ وہ اس کا شہر میں رہنا مشکل کر دے گا۔ایس ایس پی راجیش پانڈے نے بتایا کہ حسن کے دعوے کی تحقیقات کی گئی اور فی الحال اس کے دعوے میں کچھ غلط نہیں پایا گیا ہے۔یہ ہے وہ خوف کا ماحول جومسلم نوجوانوں میں گھر کرتا جا رہا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ان حالات سے صرف وہی لوگ واقف ہیں جو روزانہ اپنے گھر سے کسی نہ کسی غرض سے سفر کرتے ہیں ۔سفر کے نتیجہ میں ایک جانب وہ خود تو دوسری جانب ان کے اہل خانہ اور ماں باپ اس وقت تک فکر مند رہتے ہیں جب تک کہ وہ صحیح سلامت گھر واپس نہیں آجاتے۔

 موجودہ صورتحال کے پیش نظر مسائل کے حل کے لیے چند تجاویز درج کی جا رہی ہیں جن پر عمل آوری کے نتیجہ میں مسائل سے کسی حد تک نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔سفر بلا وجہ نہ کیا جائے،ایسے سفر سے کچھ وقت کے لیے پرہیز کیا جائے جو غیر ضروری ہوں ۔اسلام نے سفر کے آداب سکھائے ہیں ان آداب میں سفر کا ایک امیر مقرر کیا جاتا ہے،اس کا لحاظ رکھتے ہوئے جن مقامات سے روزانہ کچھ لوگ سفر کرتے ہیں ،ممکن ہو تو اپنا امیر مقرر کر لیں اور ایک دوسرے سے تعلقات استوار کرکے چلیں ۔خوف و ہراس سے نکلنے کے لیے اس بات کو دل و دماغ میں اچھی طرح پیوست کر لیا جائے کہ موت کا ایک وقت اللہ کی جانب سے مقرر ہے ،کسی بھی ذی روح کی موت اس کے طے شدہ وقت سے پہلے آنے والی نہیں ہے۔

حادثات سے بچنے کی تدابیر میں پہلی تدبیر یہ ہے کہ بلاوجہ سفر میں کسی سے الجھا نہ جائے،ممکن ہو تو دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے سفر کیا جائے۔اسلامی شناخت چھائی نہ جائے کیونکہ جو لوگ خوف کا ماحول پروان چڑھانے والے ہیں ان کے خواہش بھی یہی ہے کہ پہلے مسلمان خوف میں مبتلا ہوں، اس کے بعد اپنی شناخت کو ختم کریں اوراس طرح وہ اسلام سے دور ہوتے جائیں ساتھ ہی ان کے منصوبے کا وہ حصہ بنتے جائیں ۔لہذا ضرورت ہے کہ خصوصاًموجودہ صورتحال میں اور عموماً زندگی کے مختلف ادوار میں اپنی شناخت برقرار رکھی جائے اور زندگی کے شب و روز کے معاملات اسی شناخت کے ساتھ انجام دیے جائیں ۔اس کے لیے ضروری ہوگا کہ مسلمان اسلامی تعلیمات سے جس قدر ممکن ہو واقف ہوں اور اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں ۔فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں اللہ کی کبرائی کا احساس ہوگا،زندگی کے ہر معاملہ میں ہم اس کی طے شدہ حدود کے پابند ہوں گے نیز اس کی رحمتیں اور نصرتیں ہمارے ساتھ ہوں گی۔

ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ اسلام پر خود بھی مکمل عمل کیا جائے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جائے۔نیزمحلہ اور علاقہ کی سطح امن پسند افراد کو ساتھ لیا جائے اور ان کے حلقہ قائم کیے جائیں ۔ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی محلہ اور علاقہ کی سطح پر متحد ہونا چاہیے تاکہ جو لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں یا کسی حادثہ کا شکار ہیں ان کی ہر ممکن مدد کی جاسکے اور وہ اپنے آپ کو اکیلا نہ محسوس کریں ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ منظم و منصوبہ بند کوششیں انجام دی جائیں ۔درج شدہ عملی اقدامات کے نتیجہ میں مسائل حل ہوں اور ان متشدد لوگوں پر بھی لگام کسے جو آج کھلے عام تشدد میں مبتلا ہیں !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close