تعلیم و تربیتخصوصی

برقی ادب اورمطبوعہ ادب:ایک تقابلی جائزہ

نایاب حسن

  اکیسویں صدی کے آغاز سے کچھ دنوں پہلے ادب و تخلیق کی ایک نئی صورت ظہور پذیر ہوئی،جسے ڈیجیٹل ادب،الیکٹرانک ادب یابرقی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے،قبل اس کے اس کی حقیقت و ماہیت اور نوعیت و حیثیت پر گفتگو کے دروازے کھولے جاتے ،دنیا نے دیکھا کہ اس نے نئی نسل کے ایک بڑے حصے کو اپنے آغوش میں لے لیا،نئی نسل ہی نہیں ،پرانی نسل کے تیز طراربندے بھی اس سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکے اور انھوں نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے برملا اظہار کے لیے برقی لہروں کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ جب کمپیوٹراور اس کے بعد انٹر نیٹ کا ظہور ہوا،تب لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ ان ایجادات کا دخل انسانی زندگی کے مختلف علمی وادبی شعبوں کواتنا زیادہ محیط ہوگا،جتنا کہ اب ہم اپنی چشمِ سر سے دیکھ رہے ہیں ،اسی کا نتیجہ ہے کہ مطبوعہ تخلیقات، کتابوں اور تصانیف کے قارئین روز بروز گھٹتے جارہے ہیں ،جبکہ ڈیجیٹل سپیس میں آداب و تخلیقات کی رسائی مختلف تنوعات اور خصوصیات کے ساتھ ہورہی ہے۔

انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبے میں دن بدن رونما ہونے والی ترقیات اور دانش مند طبقوں میں اس کی مقبولیت کی وجہ سے اب باقاعدہ ڈیجیٹل ادب اور کتابی (مطبوعہ) ادب پرتحقیق،مباحثے اور مطالعات ہورہے ہیں ،حتی کہ اب قاری بھی دودھڑوں میں منقسم ہوچکے ہیں، ایک وہ جو مطبوعہ ادب پڑھتا ہے اور دوسرا وہ،جو برقی ادب پڑھتاہے۔اِس وقت عالمی سطح پرگوگل اورفیس بک،واٹس ایپ، ٹوئٹر، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ وغیرہ جیسی سماجی رابطوں کی سائٹس کے ذریعے نشر کی جانے والی تحریروں پر نہ صرف بحث مباحثے ہورہے ہیں ؛بلکہ بعض ممالک (جیسے ہندوپاک)میں انہی تحریروں کی بنیاد پر بہت سے حکومتی و غیر حکومتی فیصلے اور اقدامات بھی عمل میں آرہے ہیں ،شاید اسی اہمیت کے پیش نظر ہندوستان کی ممتازتعلیم گاہ دہلی یونیورسٹی نے انگلش آنرس میں ایک مضمون کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیاہے،جس میں سوشل میڈیاکو برتنے کے اصول و ضوابط سے آگاہ کیاجائے گا،یونیورسٹی اس سلسلے میں سنجیدہ ہے اورانتظامیہ نے ڈی یوکے زیرِ اہتمام چلنے والے تمام کالجزکے نام اعلامیہ جاری کرکے یکم مئی تک اس منصوبے پر حتمی رائیں طلب کی تھیں ،ڈی یوانگلش ڈپارٹمنٹ کی ایک سینئرذمے دارکا کہناہے کہ’’لکھنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ انسان بھاری بھرکم نان فکشن تحریریں یاڈرامائی افسانے لکھے ،لکھنے کا مطلب بس لکھناہے اوراس میں خطوط،بلاگس اور فیس بک پوسٹ سبھی چیزیں شامل ہیں ‘‘۔(روزنامہ دی ہندو،26؍اپریل)

 ڈیجیٹل ادب کے عام رواج اور سوشل میڈیاکے ذریعے اس کی رسائی کے بڑھتے ہوئے دائرے کے پیش نظراب باعدہ ڈیجیٹل ادب اور مطبوعہ ادب کے مابین موازنہ و مقارنہ کا عمل بھی شروع ہوچکاہے اور اہلِ ادب میں دو ایسے گروہ بن چکے ہیں جن میں سے ایک کا موقف یہ ہے کہ ڈیجیٹل ادب اپنے دائرۂ اثر،رسائی اور افادیت کے اعتبار سے مطبوعہ ادب پر فوقیت رکھتا ہے،جبکہ ایک دوسرا گروہ مطبوعہ ادب کی افادیت ومعنویت پر مصر ہے؛حالاں کہ ایک تیسرا طبقہ بھی ہے،جس کا مانناہے کہ دونوں طرح کی تخلیقات کو ایک دوسرے کا حریف اور مدِ مقابل سمجھنے کی بجاے ادب کے پھیلاؤ اور ترسیل واشاعت میں معاون کے طورپر دیکھنا چاہیے،اس سے فی نفسہ ادب کی ترویج اوراسے نئی نسل تک پہنچانے میں سہولت بھی ہوگی اورادب کو اس سے فائدہ بھی ہوگا۔البتہ اس موضوع پرتقابلی بحث کے محوری نکات کا مطالعہ کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔

ڈیجیٹل ادب:خصوصیات کیا ہیں ؟

 اگر کوئی شخص تحریری شکل میں اپنی تخلیقات اور خیالات و افکار کو لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے،تواس کے لیے کئی چیزیں ضروری ہیں ،مثلاً یہ کہ اسے کوئی ایسا اشاعتی ادارہ میسر آجائے جواس کی کتاب ؍تحریر؍مضمون؍افسانوی یا غیر افسانوی تخلیق کی اشاعت کابار اٹھانے کی ذمے داری لے لے،کسی رسالے یا اخبار میں اسے ایڈیٹری یا لکھنے کا موقع مل جائے،پھر اسے ایسے نقاد میسرآجائیں ،جواس کی تحریروں کی صحیح قدر و قیمت کا ادراک کرسکیں اور قارئین کوان کے مطالعے کی ترغیب دے سکیں ؛آج کے دور میں ان مراحل کا طے ہونا کتنا مشکل کام ہے ،اس سے ہر وہ شخص واقف ہوگا ،جو اس شعبے سے آگاہ ہے یا اسے ان مرحلوں سے گزرنا پڑا ہے۔آج کل کسی نئے یا نسبتاً گم نام مصنف کو کوئی اچھا اشاعتی ادارہ مل جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے؛کیوں کہ اب کام نہیں برانڈاور ٹھپوں کا دور ہے،کتنے ہی ایسے لوگ بڑے قابلِ قدر مصنفین میں شمار ہوتے ہیں ،جن کی کتابیں گوشۂ گمنامی میں رہتے ہوئے کوئی دوسرا شخص لکھتا ہے ،ان بے چاروں کو توبہت سے الفاظ کے صحیح تلفظ تک کاعلم نہیں ہوتا،مگر کیا کیجیے کہ ایسے ہی لوگ دانش وروں اوراربابِ علم کی پہلی صفوں میں براجمان ہوتے ہیں اور جو واقعتاً صاحبِ علم و دانش ہوتا ہے،اسے آخری صف میں بھی بمشکل ہی جگہ مل پاتی ہے،پھریہ کہ اگر آپ کی کتاب چھپ بھی گئی ،تو اسے کہاں تک پہنچاسکتے ہیں ،مثال کے طورپرچند شہروں میں یا پورے ملک کے ہزار دوہزاریاکچھ اورزیادہ لوگوں تک؛لیکن اس کے بر عکس ڈیجیٹل سپیس پر ہمہ وقت صلاے عام کی سی کیفیت ہوتی ہے،کوئی بھی شخص ،جو اپنے خیالات رکھتا ہے اور ان خیالات کے اظہار کی بھی خواہش رکھتا ہے،وہ بلا کسی روک ٹوک کے گوگل،فیس بک،ٹوئٹر،واٹس ایپ،انسٹاگرام وغیرہ جیسی پچاسوں سائٹوں کووسیلۂ اظہار بنا سکتا ہے،نہ اسے کسی اشاعتی ادارے کی ضرورت ہوگی،نہ بہت زیادہ پیسوں کی،نہ کسی نقاد کی اور نہ اپنی تعریف کے لیے لوگوں سے منت سماجت کرنے کی،یہاں تو بغیر کہے اور درخواست کیے ہوئے ہی اس کی تخلیقات بہ یک وقت سیکڑوں ؛بلکہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں اور ان پر اظہارِ خیال بھی دھڑادھڑ ہوسکتا ہے،لوگ اُسے بھلے ہی نہ جانتے ہوں ؛لیکن اگر اس کی تخلیق میں بقاونموکے عناصر پائے جاتے ہیں ،اگر اس کی فکر میں روشنی اور خیال میں اچھوتاپن ہے، تو خود بہ خود اس کی پذیرائی ہوگی،لوگ اسے پڑھیں گے بھی،پسند بھی کریں گے اور آگے بھی بڑھاتے جائیں گے.

اسی طرح اس کے خیال و فکر میں اگر کوئی خامی ہے،تواس پر بھی بے دریغ اور برملا ردِعمل سامنے آئے گا اور اس کی روشنی میں تخلیق کار اپنی تخلیق کے معیارکو بلند کرنے کی تگ و دوکرسکتا ہے۔خاص طورسے نئے تخلیق کاروں کا مطبوعہ ادبی حلقے میں بار پانا بڑا مشکل ہوتا ہے،انھیں اشاعتی ادارہ تو دور،کوئی ایسا بڑا فن کار تک بمشکل میسرآتاہے،جو اس کے ذوقِ ادب و تحقیق کومہمیزہی کرنے میں دلچسپی لے،الٹاوہ اس کی حوصلہ شکنی کے بہانے تراشتا رہتاہے،ایسے نئے لکھاریوں کے لیے ڈیجیٹل دنیاایک کھلے اور کشادہ جولان گاہ کاکام کرتی ہے،وہ اپنی تحریریں ،اپنے افکاروخیالات مکمل شرح و بسط کے ساتھ نہ صرف پھیلاسکتاہے؛بلکہ جہاں چاہے ، وہاں پہنچا بھی سکتاہے اور اسے اس کے بہترنتائج بھی حاصل ہوں گے،ہمارے عہد میں بے شمارایسے مردوخواتین شاعرونثرنگارپیدا ہوچکے ہیں ،جن کا تخلیقی سفر سوشل میڈیا سے شروع ہوا،وہیں سے ان کو شہرت ملی ،پھراشاعتی اداروں نے خود ان کی تخلیقات چھاپنا شروع کردیں اور اب وہ کامیاب تخلیق کاروں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔

ڈیجیٹل ادب کے مؤیدین:

جولوگ ڈیجیٹل ادب کی تاییدکرتے ہیں ،ان کی اپنی دلیلیں ہیں ،مثلاً:

1.کتاب پڑھنے والا انسان ناشر،مصنف،مؤلف اور کتاب کے تابع ہوتا ہے۔اگروہ مطالعے کا شوقین ہے؛لیکن اس کے پاس ایک ہی کتاب ہے، جواس کے ذوق و پسند سے میل نہیں رکھتی،تو بھی وقت گزاری کے لیے ہی سہی،اسے وہی ناپسندیدہ کتاب پڑھنا پڑے گی،جبکہ اس کے برخلاف ڈیجیٹل ادب کا قاری خودمختاروآزاد ہوتا ہے،اس نے مثلاً ایک تخلیق کار کی تحریر پڑھنا شروع کی،دو چار سطریں پڑھنے کے بعد اگراسے محسوس ہوکہ تحریر مزے دار نہیں ہے،تو وہ فوراً آگے بڑھ سکتا ہے،سیکنڈوں میں اس کے سامنے کسی دوسرے رائٹرکی تحریر موجود ہوگی،جسے وہ بآسانی پڑھ سکتا ہے،پھر اسے پڑھنے کی کسی ایک شکل کا پابندبھی ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی،چاہے توای بک کھول کر کمپیوٹر،لیپ ٹاپ یا موبائل وغیرہ کی سکرین پرپڑھے اوراگر اسے دیکھ کر پڑھنے میں کچھ پرابلم ہے، تو آڈیوبک کی سہولت بھی ہم دست ہے اور وہ اپنے پسندیدہ مصنف کی کتاب یاتحریر بیٹھے بیٹھے،لیٹے لیٹے یا چلتے پھرتے بآسانی سن سکتا ہے۔انگریزی اور دیگر کئی زبانوں میں آڈیوبکس باقاعدگی کے ساتھ رواج پاچکی ہیں ،اردو میں بھی بعض ادارے اور افراد اس سلسلے میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کئی مشہور ادباکی مشہور تحریریں اور ان کی تصانیف آڈیو بکس میں منتقل کی جاچکی ہیں ۔

2.اسی طرح اگر آپ کتاب پڑھ رہے ہیں تو آپ کو بعض مخصوص ہیئتوں کا پابند ہونا پڑے گا، یاتو بیٹھ کر پڑھیے یا لیٹ کر بھی پڑھناہے،تواس طرح لیٹیے کہ کتاب آپ کی آنکھوں کے سامنے رہے،پھر اس وقت آپ کو باربار کروٹیں بدلنا پڑیں گی،سیدھے لیٹ کر بھی زیادہ دیر تک نہیں پڑھ سکتے،پھرجلد ہی تھکاوٹ کا بھی احساس پیدا ہوگا اورپچاس، سو صفحات پڑھنے کے بعد ہی آپ نیند کی آغوش میں ہوں گے،اس کے برخلاف ڈیجیٹل تحریر پڑھنے میں کسی مخصوص وضع کی ضرورت ہی نہیں ہے،آپ جیسے اور جس طرح سے چاہیں بلا تکلف پڑھ سکتے ہیں ۔

3. ایک اہم ؛بلکہ اہم ترین بات یہ ہے کہ اگر آپ کتاب پڑھنے کے شوقین ہیں ،تواس وقت آپ کو بڑی کوفت اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے،جب آپ کے کسی پسندیدہ مصنف کی کوئی کتاب چھپی ہو؛لیکن وہ آپ کی دسترس سے باہرہو،مثلاً آپ کے ملک میں دستیاب نہ ہو،توآج کے تیزرفتاردور میں بھی عام انسان کے لیے ایسی کتاب کا حصول کتنا دشوار ہے،یہ ہم آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔خاص طورپرانڈیااورپاکستان والے تواس دردکو بری طرح جھیلتے ہیں آپ اگر ہندوستانی ہیں اورکسی پاکستانی مصنف کو پڑھنا چاہتے ہیں ،توپاکستان سے کتاب منگوانا نہایت مشکل ہے، یہی حال بے چارے پاکستانیوں کاہے کہ وہ بہت سے ہندوستانی مصنفین کو پڑھنا چاہتے ہیں ،مگر کتاب حاصل کریں تو کیسے کریں ،سیاست نے دونوں ملکوں کے عوام اور علم دوست طبقوں کی ایسی تیسی کررکھی ہے۔ہمارے یہاں دہلی میں عالمی کتاب میلے کے دوران جو دوایک پاکستانی بک اسٹال لگتے ہیں ،وہاں اگر آپ کتاب خریدنے کی نیت سے چلے جائیں ،تو قیمت سن کرحیران وششدررہ جائیں گے،دو سو صفحے کی کتاب چارسوروپے کی اور چار سو صفحے کی کتاب سیدھے ہزار روپے کی،ٹھیک یہی حال اُن ہندوستانی کتابوں کی قیمتوں کابھی ہوتا ہے،جو پاکستان کے کتاب میلوں میں پہنچتی ہیں ،پتا نہیں ایسا کیوں کیا جاتاہے،حالاں کہ وہی کتابیں اندورونِ ملک عام طورپر کم اور مناسب قیمتوں میں دستیاب ہوتی ہیں ،شاید نقل و حمل اور کسٹم وغیرہ پر خرچ ہونے والے پیسوں کا حساب بھی ان اضافی قیمتوں کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے۔ایسی سنگین اور ناگفتہ بہ صورتِ حال کے بالمقابل آپ انٹرنیٹ پر آئیے،تویہاں ایسی سیکڑوں سائٹس ملیں گی، جہاں بڑی چھوٹی لائبریریوں کی ایک لمبی فہرست ہوگی،یہاں اپنی پسند کی تمام کتابوں کے علاوہ متنوع موضوعات پر مشتمل رسائل،ان کے خصوصی شمارے بھی دستیاب ہوں گے،آپ پڑھیے اور استفادہ کیجیے،اتنا ہی نہیں انٹرنیٹ اور ’’علامہ ‘‘گوگل کے یہاں توبسااوقات بعض ایسی کتابیں بھی مل جائیں گی،جن کے مطبوعہ نسخے ختم ہوچکے ہیں اور کہیں دستیاب نہیں ہیں ۔

4.اسی طرح اگر آپ عام قاری ہیں اور کسی مصنف کی کتاب آپ کے سامنے ہے،پڑھنا شروع کیا ،کچھ ایسی باتیں نظرآئیں جو آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں یا ان سے آپ کو اختلاف ہے،تو آپ فوری طورپر اپنے اختلاف کا اظہار صاحبِ کتاب سے نہیں کر سکتے،نہ ان سے توضیح طلب کرسکتے ہیں اور نہ  متعلقہ موضوع پر اسے آپ اپنی رائے سے باخبر کر سکتے ہیں ،اس کے برخلاف مثال کے طورپر فیس بک کے کسی پیج پرآپ نے کسی کی کوئی تحریر دیکھی، پڑھی اور اچھی لگی، تو آپ اپنے کلماتِ تحسین کمنٹ بکس میں لکھ سکتے ہیں ،کچھ وضاحتیں مطلوب ہیں ،تووہ بھی طلب کر سکتے ہیں ،جبکہ اگراس کے کسی حصے پر آپ کوکوئی اعتراض ہے،تووہیں کمنٹ بکس میں آپ اپنے اعتراضـ کابھی اظہار کرسکتے ہیں ،کوئی روک بھی نہیں سکتا،خود لکھنے والا بھی نہیں ۔

5.مطبوعہ ادب اور ڈیجیٹل ادب کے مابین ایک اوراہم فرق یہ بھی ہے کہ کتاب جب ایک بار چھپ گئی،تو دوبارہ اس میں حذف و اضافہ یا ترمیم و تعدیل کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی،پروف ریڈنگ کے دوران اگر کوئی بڑی غلطی بھی رہ گئی،تواس غلطی سمیت ہی اس کتاب کوعام کرنا ہوگا ،اس کو دورکرنے کی عموماً کوئی شکل نہیں ہوتی،جتنی تصحیح یا ترمیم کرنی ہے،وہ آپ کتاب یا تخلیق کے چھپنے سے پہلے پہلے تک ہی کر سکتے ہیں ،چھپ جانے کے بعد دوسرے ایڈیشن تک کسی ترمیم کی کوئی گنجایش نہیں ۔اس کے برخلاف ڈیجیٹل ادب(تحریر،تخلیق،تصنیف)میں یہ گنجایش ہمہ دم موجود رہتی ہے ، اگر آپ کواپنی کسی تحریرمیں کہیں کوئی جھول نظرآرہا ہے،توآپ فوراً اسے دور کرسکتے ہیں ،کچھ اضافہ کرنا ہے تواس کی بھی سہولت موجوداور اگر کسی کوتاہی کو دورکرنا ہے،تواس کا بھی امکان سوفیصدہم دست۔

6.ایک اور خصوصیت ڈیجیٹل ادب کی یہ بتائی جاتی ہے کہ کتاب یامطبوعہ ادب میں انشانگاری یا تحریروتعبیر کے ایک ہی قسم کے اصول و ضوابط برتے جاتے ہیں ،ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی،نہ تنوع کی گنجایش ہوتی ہے،جبکہ اس کے برخلاف ڈیجیٹل ادب بہ یک وقت مطبوعہ ادب جیسابھی ہے کہ کمپیوٹریا موبائل اور ٹیب کی سکرین پر کتاب کی طرح ہی کھولا اور بند کیا جاسکتاہے،وہ آڈیوکی شکل میں بھی موجودہے،جسے بآسانی سناجاسکتاہے،وہ تصویر بھی ہے اور اس کے اندرسنیمائی کرداروں جیسا تحرک بھی ہے کہ آپ اپنی انگلی کے سہارے صفحات و حروف کواِدھرسے اُدھر منتقل کرسکتے ہیں ،پھرآپ پین ڈرائیویاسی ڈی میں موجود کتاب کوکسی بھی کمپیوٹریا لیپ ٹاپ میں ڈال سکتے ہیں ،وہاں سے موبائل میں ڈال سکتے ہیں ،پھراگر آپ انٹرنیٹ کے صارف ہیں ،تواس کتاب کوگوگل پربھی اپلوڈ سکتے ہیں ،اپنی خاص ویب سائٹ بناکر اس پر کتابیں اپلوڈ کرسکتے ہیں ،جسے چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی خطے کاانسان پڑھ اور دیکھ سکتا ہے؛یہ خصوصیات ایک چھپی ہوئی کتاب میں کہاں پائی جاتی ہیں !الغرض ڈیجیٹل ادب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مشہور و غیر مشہور ہر قسم کے لکھاریوں کے لیے میدان کشادہ اور وسیع و عریض ہے،کسی کے لیے کوئی ریزرویشن نہیں ،ڈیجیٹل ادب آج کی نسل (جوانٹرنیٹ، کمپیوٹر،لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ پراچھاخاصا وقت صرف کرتی ہے )کی بھرپور نمایندگی کرتاہے،ڈیجیٹل ادب عصرِ حاضر کی تمام تر تیز رفتاریوں سے قدم ملاکر چل رہا ہے؛ چنانچہ اس کے قاری کے لیے کسی بھی قسم کی معلومات کا حصول بس چندکلکس کے ذریعے ممکن ہے،جبکہ وہی معلومات اگر مطبوعہ کتابوں سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے،تو خاصا وقت صرف ہوگااوردسیوں کتابوں کی ورق گردانی کرنا ہوگی۔

7.ڈیجیٹل ادب نے قاری اور تخلیق کاردونوں کواِس معنی میں برابر کا درجہ دیاہے کہ قاری براہِ راست اور بروقت کسی بھی تخلیق پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرسکتاہے،اسے کوئی روک نہیں سکتا،جبکہ اس کے برخلاف مطبوعہ کتاب پڑھنے والے کے لیے یہ ممکن نہیں ؛کیوں کہ کتابی ادب میں ساری اہمیت مصنف اور تخلیق کار کو دی جاتی ہے،تنقید کی اَساس بھی تصنیف یا صاحبِ تصنیف کے گرد ہی قائم ہوتی ہے،قاری کا ذکریا تونہیں ہوتاہے یا محض اضافی ذکر ہوتا ہے۔

8.ڈیجیٹل ادب میں مطبوعہ ادب کے بالمقابل ایک گونہ زیادہ آزادی و حرکیت پائی جاتی ہے؛کیوں کہ بعض حالات میں کتاب یامجلات ورسائل کے بہت سے مواد کے سنسرہونے کا اندیشہ ہوتاہے،جبکہ برقی ادب میں آپ اپنے تمام خیالات کو من و عن شائع کرسکتے ہیں ۔

9.ڈیجیٹل کتابوں کو بسہولت جہاں چاہیں لے جاسکتے ہیں ،آپ کوکسی قسم کا بوجھ محسوس نہیں ہوگا،جبکہ مطبوعہ کتابوں کو ساتھ میں لیے لیے پھرنا بہت مشکل ہے۔انہی اسباب کی بناپر آج مطبوعہ ادب کے قارئین روزبروزکم ہورہے ہیں ،جبکہ ڈیجیٹل ادب کے قارئین میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،حتی کہ اب بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ مطبوعہ ادب کا دور ختم ہوا چاہتاہے اور آنے والے دس بیس سالوں میں ڈیجیٹل ادب کا ہی بول بالا ہوگا،بتدریج مطبوعہ کتابوں کا دورختم ہوجائے گا اوران کی جگہ ای بکس کا چلن عام ہوجائے گا۔

ڈیجیٹل ادب کے مخالفین :

جولوگ ادب کے ڈیجیٹلائزیشن کے خلاف ہیں ،ان کی دلیلیں بھی مضبوط،خاصی دلچسپ اور واقعات و حقائق سے ہم آہنگ ہیں :

1.سب سے پہلی بات تویہ ہے کہ ڈیجیٹل ادب پر جو معلومات پیش کی جاتی ہیں یا جومعلومات موجود ہیں ،وہ پوری اور مکمل نہیں ہیں ،یاتووہاں ادھوری معلومات پیش کی جاتی ہیں یاوہ مخصوص قسم کی ہوتی ہیں ،جومتعلقہ موضوع پر مکمل رہنمائی نہیں کرتیں ،جبکہ دوسری طرف ابھی بھی ٹھوس،مکمل اور بھرپورمعلومات کا زیادہ تر ذخیرہ مطبوعہ کتابوں کی شکل میں موجودہے اور وہ ایسی معلومات ہیں ،جواب تک ڈیجیٹلائزڈنہیں ہوئی ہیں ؛کیوں کہ ابھی بھی قومی یا عالمی سطح پرایک بہت بڑا علمی طبقہ جدید ٹکنالوجی سے اس حد تک نہیں جڑا ہے کہ وہ نوشت و خواند کے لیے اس پر انحصار کرسکے،پس ان سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے خواہی نخواہی مطبوعہ کتابوں کی قراء ت لازمی ہے۔

2.جوادب جدیدٹکنالوجی کی بدولت معرضِ وجود میں آرہاہے،وہ اس حد تک محفوظ نہیں ہے،جتنا کہ مطبوعہ ادب محفوظ ہے۔یہ بات بالکل درست ہے؛ کیوں کہ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ دوسروں کی چیزیں پوری بے باکی کے ساتھ ہتھیالیتے ہیں ،مثلاً کسی نے فیس بک یاواٹس ایپ وغیرہ پر کوئی مضمون یاتحریر پوسٹ کی ،پھر کچھ ہی دیر بعد وہی پوسٹ کہیں اور،کسی اور شخص کے نام سے نظر آجاتی ہے،اتنا ہی نہیں ،اب تو مختلف بلاگنگ سائٹس پر پائی جانے والی بعض تحریروں کو کچھ لوگ روزنامہ اخبارات میں بھی اپنے یااپنے والدکے ناموں سے چھپوانے لگے ہیں ،اس کی مثالیں آئے دن ہمیں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں ۔ایک بار تو مجھے شدید حیرانی ہوئی؛بلکہ سخت غصہ آیا،جب میں نے ادب و شعر سے مخصوص ایک واٹس ایپ گروپ پرمعروف شاعر جون ایلیا کی ایک غزل ہندوستان کے سابق معروف صحافی عزیزبرنی کے نام سے دیکھی،اتناہی نہیں ،اب تو بہت سے جیالے اقبال و غالب کے نام سے بھی بہت سے بے تکے اشعار منسوب کرکے واہ واہیاں بٹورتے نظر آتے ہیں ،جو کچھ زیادہ تیزطرارہیں ،وہ ان کے کلام کو ہی غصب کرکے اپنے نام سے چپکادیتے ہیں ،یہ حرکتیں چھوٹے لوگ تو کرتے ہی ہیں ،مگر میرے علم کے مطابق کئی ’’بڑے‘‘قسم کے لوگ بھی اس چابک دستی کا مظاہرہ کرنے میں پیچھے نہیں ہیں ؛چنانچہ آج جہاں معروف دانش گاہوں میں پی ایچ ڈی تک کے مقالے کاپی پیسٹ کی مددسے تحریر کیے جارہے اورتخلیق وتنقید کے نام پرتکرارِ حروف و نقوش کے نمونے پیش کیے جارہے ہیں ،وہیں کئی بڑے اور نامور صحافی اپنی تہہ نگاری وحقائق نویسی کا چراغ مانگے کے اجالوں سے روشن کیے ہوئے ہیں ،سال ڈیڑھ سال پہلے ہندوستان کے ایک مشہور اردو اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرپنامہ لیکس پر لکھتے ہوئے پڑوسی ملک کے کسی کالم نگارکی تفتیش و تحقیق پر ہاتھ صاف کرتے پائے گئے، جب پکڑ دھکڑہوئی ،تو یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ ابھی تو میں قسط وار لکھ رہاتھا،مضمون کے اخیر میں حوالہ دینے ہی والا تھا،جبکہ کچھ ہی دنوں پہلے ایک اور ایوارڈیافتہ ’’بڑے‘‘صحافی ایک فیس بک پیج پر لکھے گئے ایک تمثیلی واقعے کو بغیر کسی حوالہ کے نقل کرگئے،یہ واقعہ ان کے پورے کالم کاکم ازکم ایک تہائی حصہ تو تھاہی،انھوں نے صرف اصل واقعے میں مذکور مقامات ،شہروں اور افرادکے نام اور تشخص کو بدلنے کی زحمت کی تھی،ایک اور مشرَّع قسم کے اردو صحافی (جو اکثر وبیشتر ٹی وی چینلوں پر بھی ہندوستانی مسلمانوں کی ترجمانی کرتے پائے جاتے ہیں )کے خلاف ایک علیگ صاحب نے فیس بک پر ہی عدالت لگادی، ان کا الزام تھا کہ ان کے نام سے فلاں اخبار میں جو مضمون چھپاہے،وہ دراصل میرا ہے اوراپنا مضمون بھی انھوں نے فیس بکی عدالت میں بطورشہادت پیش کردیا،مضمون کسی وقتی سیاسی موضوع پر تھا۔الغرض اگر تحقیق کرنے لگ جائیے تو ایسی سیکڑوں مثالیں ملیں گی ،جن سے ثابت ہوتا ہے کہ برقی ادب و ذرائعِ ابلاغ کی تیز رفتاری نے تحریروں کے حقوقِ اشاعت کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔

3.ایک اور بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل ادب کے قارئین کا طبقہ ہر قسم کے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے،وہ لوگ بھی اسے پڑھتے ہیں ،جو ذرا شعوراور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں ،جبکہ ایسے لوگ بھی ان تحریروں کو پڑھتے ہیں ،جن کا علمی مبلغ بہت محدود ہوتاہے؛لیکن برقی دنیا،بطورِخاص سوشل میڈیاکامعاملہ یہ ہے کہ یہاں عام طورپرکوئی بھی شخص کسی بھی تحریر یا تخلیق پر اپنی رائے دینے سے نہیں چوکتا،پس اگر تخلیق کار ہرایرے غیرے کی رائے پر توجہ دینے لگے،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود تخلیق کار کا فنی ،فکری و تخلیقی شعورابھی ناپختہ ہے اوراس کے ذریعے سے جو تخلیق وجود میں آرہی ہے،وہ بہت زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہے،اس کے برخلاف ورقی ادب یا مطبوعہ ادب کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں اولاً توکسی کی کوئی تخلیق یاتحریرتبھی مطبوعہ شکل میں اشاعت پذیرہوتی ہے ،جب وہ اس لائق ہو، پھرہر شخص اُسی موضوع کو پڑھنے کی زحمت کرے گا،جس سے اس کی وابستگی ہے یا جو موضوع اس کے دائرۂ فہم میں آتا ہے۔اس طرح کسی کتاب یا تخلیق پر اس کی رائے قابلِ قبول بھی ہوگی اور اس پر بحث کی بھی گنجایش ہوگی۔

4.چوتھی بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل تخلیقات میں عموماً ٹیکنالوجی کے ماہرانہ استعمال اور چیزوں کو پھیلانے پر زور دیا جاتا ہے،نفسِ مضمون کی ظاہری شکل و صورت پر بھی کچھ توجہ دی جاتی ہے؛لیکن اس کی معنویت اور انسانی شعور و احساس سے قریب کرنے یا اس کی ترجمانی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی،پس جو ادب جدیدٹیکنالوجی کے ذریعے تخلیق ہو رہاہے،وہ سپاٹ ہے،اس میں احساسات کی کی نرمی و گرمی کی کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔جبکہ اس کے برخلاف کاغذپر لکھے جانے والے ادب میں تخلیق کار جتنا زور عبارتوں کوبنانے سنوارنے پر دیتا ہے،اتنا ہی زورتحریر کی معنویت اور اس کی مقصدیت کوثابت کرنے پر بھی دیتا ہے۔

5.مطبوعہ ادب قاری کو مختلف موضوعات پرغوروفکر کرنے کا موقع دیتا ہے اور کتاب بینی کی وجہ سے جسمانی عوارض کابھی عموماً کوئی اندیشہ نہیں ہوتا،جبکہ ڈیجیٹل ادب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس نگاہ حروف و نقوش پرسے چھچھلتی جارہی ہے،قاری کو کچھ سوچنے اور غور کرنے کا موقع نہیں ہوتا،مزید یہ کہ اگر آپ ایک متعین وقت سے زیادہ کمپیوٹریا موبائل سکرین پر نگاہیں گاڑے رہتے ہیں ،تواس کے سخت نقصان دہ نتائج مرتب ہوسکتے ہیں ،آنکھوں کی بینائی پر منفی اثر پڑ سکتاہے۔

-6ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل ادب کی بقاکی کوئی ضمانت نہیں ہے،بہت ممکن ہے کہ پانچ دس سال بعد آپ کی لکھی ہوئی چیز یں غائب ہوجائیں ،یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے،کئی لوگوں کی تخلیقات ضائع ہوچکی ہیں ۔اس کے برخلاف جوچیز ایک بار مطبوعہ شکل میں عام ہوگئی وہ محفوظ ہوجاتی ہے ،ایک کتاب کے پہلے ایڈیشن کے بعد دوسرااور تیسرا ۔۔۔۔۔۔۔اس طرح ایک سلسلہ چلتا رہتاہے ۔

 حقیقت کیاہے؟

 جوطبقہ الیکٹرانک ادب کی تایید کرتاہے ،وہ بھی عموماً انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتا ہے اور جوطبقہ کتابی یا مطبوعہ ادب کا حامی ہے،اس میں بھی اعتدال پسندی کا فقدان ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ الیکٹرانک ادب اور مطبوعہ ادب ایک دوسرے کاحریف نہیں ؛بلکہ ایک دوسرے کے لیے معاون اورانتشاروتوسیعِ ادب کے تسلسل کونئی منزلوں سے آشنا کروانے والا ہے،اس کو یوں سمجھنا آسان ہے کہ تعلیم و کتابت کا دور جب شروع ہوا،تب پتھروں اور درخت کے پتوں پر لکھا جاتا تھا،پھر ہڈیوں ،کھالوں ا ورتختیوں پر لکھا جانے لگا،پھر ترقی ہوئی اور کاغذایجاد ہونے کے بعد افکار و تخلیقات کاغذات پر ثبت کیے جانے لگے،اس کے بعد اب یہ ترقیاتی رفتار مزید آگے بڑھی، تو کمپیوٹر اور اس کے مشابہ نئی ٹیکنالوجی نے لے لی۔جس زمانے میں لوگ لکھنے کے لیے درخت کے پتے اور کھالیں استعمال کرتے تھے،اُس دور کے کسی انسان سے اگرکاغذ پر لکھنے پڑھنے کی بات کی جاتی ،تو کیا وہ مانتا؟یقیناًنہیں مانتا؛لیکن بہر حال بعد کے حقائق نے تو یہ ثابت کیانا کہ لکھنے کا سفردرخت کے پتوں سے گزرکر کاغذات تک کی منزلیں طے کر چکا ہے اور جس طرح انسانی نسلیں بدلیں ،اسی طرح اخذواکتساب اور نوشت و خواند کے ذرائع بھی بدلتے رہے ہیں اور بدل رہے ہیں ،اس سلسلے میں معروف فرنچ اہل قلم فلپ بوٹزکا یہ قول لائقِ استنادہے کہ’’یہاں یہ بات خاص طورپر یاد رکھنے کی ہے کہ مطبوعہ تخلیقات اور الیکٹرانک (ڈیجیٹل)تخلیقات میں کوئی فرق نہیں ہے؛بلکہ یہ ایک استمرارہے، جوادب کوآہستہ آہستہ آگے کی طرف لے جارہاہے‘‘۔

  پس معلوم ہوا کہ کوئی بھی نیا طرزِاظہاریا طریقۂ تعبیر یکلخت عدم سے وجودمیں نہیں آتااور نہ اس کی اَساس پرانے اسلوب و طریقۂ تعبیر کو یکسر مسترد کرنے پر ہوتی ہے؛بلکہ وہ پرانے اسلوب سے ہی نمو حاصل کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی چلتا رہتا ہے ،بایں طورکہ پہلے کودوسرے کا پس منظرکہاجائے اور دوسرے کوپہلے کی ترقی یافتہ صورت۔آج جہاں نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ الیکٹرانک کتابی دنیا سے وابستہ ہے،وہیں نئی اور پرانی نسل کا دوسرا اس سے زیادہ بڑا طبقہ کتابی اور مطبوعہ ادب سے وابستہ ہے،دوسرے یہ کہ فطری اور نفسیاتی طورپر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ چاہے کمپیوٹر،لیپ ٹاپ یا موبائل وغیرہ پرگھنٹوں وقت گزارتے ہوں ؛لیکن ان کے لیے الیکٹرانک کتابوں کا مطالعہ کرنا مشکل ہوتاہے ،وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر پاتے اور ایسے لوگ بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ،پس کتابی ادب کے اختتام کا مفروضہ بس مفروضہ ہے۔ٹھیک اسی طرح ایک اچھا خاصا طبقہ ان لوگوں کاہے اور بتدریج تیار ہورہاہے ، جوالیکٹرانک ادب کو کمپیوٹروغیرہ کی سکرین پر بھی بہ سہولت پڑھ سکتا ہے، پس دونوں قسم کے ادب کو ایک دوسرے کارفیق سمجھنا چاہیے ،نہ کہ فریق۔نئی انفارمیشن ٹکنالوجی کی اختراع اوراس کے مختلف مظاہر کے سامنے آنے سے ادب کے قارئین کا دائرہ بڑھابھی ہے؛ چنانچہ آج ہم فیس بک،واٹس ویپ وغیرہ پر ایسے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد پاتے ہیں ،جو وہاں لکھ بھی رہے ہیں اورایسے قارئین کا ایک حلقہ بھی بنارہے ہیں ،جو اپنا زیادہ تر وقت وہیں گزارتے ہیں ۔ایسے نوجوانوں سے اگر کہا جائے کہ مطبوعہ کتابیں پڑھو،تو وہ موجودہ دور کے عام مزاج کے زیر ِ اثر اس سے معذوری ظاہرکرتے ہیں ؛لیکن وہ انہی کتابوں ،تخلیقات ، تجزیوں ، تبصروں اور دیگرادبی اصناف کوفیس بک یا واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے پڑھ رہے ہیں ۔جہاں تک سرقہ یاالیکٹرانک تخلیق کے غیر محفوظ ہونے کا مسئلہ ہے،تواس سے علمی ومطالعاتی وسعت ،بیداری و مستعدی اور جرأتِ اظہارکے ذریعے بخوبی نمٹاجاسکتاہے۔

(اس مضمون کابنیادی خاکہ مراکش کی مولیٰ اسماعیل یونیورسٹی میں تقابلی ادب کے پروفیسراورنقادمحمد العنوزکے مقالہ’’الأدب الورقي والأدب الرقمي: دراسۃ مقارنۃ‘‘(ط:ماہنامہ الکلمۃ،جولائی2016، http://www.alkalimah.net /Articles/Read/8368) سے مستفاد ہے۔اس موضوع پر ان کی ایک تحقیقی وتنقیدی تصنیف بھی’’تفاعل الأدب والتکنولوجیا‘‘کے نام سے 2016میں طبع ہوئی ہے)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close