خصوصیمعاشرہ اور ثقافت

بچپن کی شادی کے رواج کا خاتمہ، روشن مستقبل کا ضامن ہے!

ہری ونش نارائن سنگھ

  (صاحب مضمون ایوان بالایا راجیہ سبھا  کے ڈپٹی چیئرمین ہیں)

انڈیا میں روشن خیال سماجی، مذہبی رہنمائوں اور مصلحین  نیز عام لوگوں کی پہل پر شروع کی گئی سماجی اصلاحات کی تحریکوں کی ایک طویل روایت چلی آرہی ہے۔ راجا رام موہن رائے، دیانند سرسوتی اور مہاتما گاندھی جیسے رہنمائوں نے ستی، کمسنی کی شادی، جنین کشی، جہیز، منشیات کی لت، چھوت چھات  وغیرہ جیسی ظالمانہ رسموں اور سماجی برائیوں کے خلاف سماج کے تمام طبقات کوبیدار اور تیار کیا۔ ان رہنمائوں نے  ا  نڈٖیا کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور طاقتور ملک بنانے کا جو خواب دیکھا تھا اس میں ان سماجی برائیوں کا خاتمہ ایک ناگزیر  حصہ تھا۔ آزادی کے بعد آنے والی دہائیوں میں انڈیا نے ترقی کے میدان میں جو پیش رفت کی ہے  اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ان سماجی برائیوں کو ختم کرنے کی منظم کوششیں کی گئی ہیں۔ ملک کی معیشت سات فی صد کی شرح نمو کے ساتھ بڑھی ہے۔ لڑکیوں کو آج اپنی مائوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر تعلیم مل رہی ہے، نیز زچہ بچہ کی شرح اموات اور شرح پیدائش میں بھی قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح کمسنی کی شادیوں کی تعداد میں بھی ڈرامائی انداز میں کمی آئی ہے۔ 1970 کی دہائی میں چار میں سے تین لڑکیوں کی 18 سال عمر سے پہلے شادی ہوجاتی تھی آج یہ تناسب چار میں ایک ہے۔ تاہم متعدد مثبت تبدیلیوں کے باوجود  بدقسمتی سے طاقتور فرد یا عوامی بنیاد پر اٹھائی گئی سماجی تحریکیں اپنا اثر اور اپیل کھوچکی ہیں۔ وہیں سماجی برائیاں اب بھی پائی جاتی ہیں جو لاکھوں کمزور افراد بالخصوص عورتوں اور بچوں کے حال اور مستقبل کو نقصان  پہنچا رہی ہیں۔ آج بھی ہر سال  پندرہ لاکھ لڑکیوں کی بچپن میں شادی کر دی جاتی ہے، جنسی تشدد، زنا بالجبر  کے واقعات  عام ہیں، خواتین کو عوامی مقامات پر ہراساں اور پریشان کئے جانے کے واقعات بھی عام ہیں جس کے نتیجہ میں ان کی نقل و حرکت  اور مواقع  متاثر ہورہے ہیں۔ 60   لاکھ  بچے اسکول نہیں جاتے ہیں، اسی طرح ملک میں زچگی کے دوران  32,000 مائیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں جو عالمی اموات کا  11 فی صد ہے۔ بڑی تنخواہوں کی ملازمتوں میں خواتین کا تناسب کم ہورہا ہے۔ ان امور و مسائل اور سماجی خرابیوں کو  دور کرنے  کے لئے سماجی تحریکوں کا فقدان ہے۔ چنانچہ ان مسائل، ضرر رساں اعتقادات اور برائیوں کو دور کرنے کے لئے ہماری حکومتوں کو آگے آکر اس خلاء کو پر کرنا چاہیے۔ ا ن برائیوں کے سد باب  کے لئے اب تک بہت کچھ کیا گیا ہے لیکن ہم  میں سے ہر فرد کو مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا اثر وسیع پیمانے پر اور معاشرے میں ایک  بڑی سماجی تبدیلی نظر آئے۔

        ہم بحیثیت ایک ملک، انڈیا کی سماجی، اقتصادی اور انسانی ترقی کی راہ میں منفی رویوں کو  د ر آنے نہ دیں یا ان کی ترویج نہ کریں۔ ان برائیوں میں بچپن کی شادی شامل ہے جس کی جڑیں کافی گہری ہیں اور یہ برائی جنسی عدم مساوات کی ایک کھلی مثال ہے جو بڑے پیمانے پر عام ہے جس میں لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم حیثیت سمجھا جاتاہے۔

      مختلف تخمینوں کے بموجب  دنیا میں کمسن دلہنوں کی سب سے بڑی تعداد انڈیا میں ہے  ( تقریباً    223 ملین لڑکیاں 18 سال ہونے سے پہلے دلہن بن جاتی ہیں ) جو دنیا کی  منجملہ کم سن دلہنوں کی تعداد کا ایک تہائی ہیں۔ انڈیا میں کمسن دلہنوں کی اکثریت کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے۔ وہ معمولی پڑھی لکھی ہوتی ہیں اور زیادہ تر دیہاتوں میں رہتی ہیں اور سن بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی ماں بن جاتی ہیں۔ بچوں اور نوخیز لڑکیوں کے حقوق اور خوشیوں کی حفاظت کے سلسلہ میں  کمسنی کی شادی کو ختم کرنا  انتہائی اہم قدم ہے چونکہ ہر بچہ کا ایک بچپن ہوتا ہے۔ 2006 سے  2016 کے درمیان  بچپن کی شادی کے معاملوں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے جو 47 فی صد سے کم ہوکر  27 فی صد رہ گئے  ہیں  اور یہ  اس بات کا مظہر ہے کہ ایک نسل کے اند ر تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

 سماجی تبدیلی کے اس سفر میں نوجوان لڑکے لڑکیاں دراصل خود  تبدیلی  لانے کا  ایک اہم ایجنٹ بنی ہیں اور انہوں نے اپنے مستقبل کو بنانے کا بیڑا خو د اٹھایا ہے۔ ہمیں ان مثبت تبدیلیوں کاا  عتراف اور ان بہادر لوگوں کی کاوشوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے جو انڈیا کو ایک بہترجگہ بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہیں ہماری بلا شرط مدد اور حمایت کی ضرورت ہے تاکہ وہ  اپنی کاوشوں میں مزید  اضافہ کر سکیں۔  بچپن کی شادی پر توجہ کیوں دینی چاہیے؟ اس برائی کے خاتمہ کے باعث  لڑکا اور لڑکی کی زندگی کے دوسرے دہے میں پائی جانے والی  متعدد محرومیوں کو دور کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ بچپن کی شادی سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں زچہ ِ بچہ کی موت کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ کم عمر مائوں سے پیدا ہونے والے بچوں میں افزائش نہ ہونے( ٹھٹھرنے) کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسے بچے موروثی اور جسمانی نقص  کے ساتھ پیدا  ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہماری نئی نسل کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی۔  دیہی علاقوں کی تقریباً 56 فی صد لڑکیوں کی شادی  18سال سے پہلے کردی جاتی ہے جن کا تعلق غریب ترین خاندانوں سے ہے اور وہ تعلیم سے بے بہرہ ہوتی ہیں۔ پڑھی لکھی لڑکیوں کا معاملہ ہے  اس کے برعکس جو دیہی علاقوں کے غریب ترین خاندانوں ہی سے تعلق رکھتی ہیں مگر   اس کے باوجود ان میں سے صرف نو  فی صد لڑکیوں کی شادی  18سال سے پہلے ہوتی ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں اور نوخیز لڑکوں کی استعداد اور صلاحیتوں میں اضافہ کے خاطر بچپن کی شادی کی حوصلہ شکنی کرنا،، مکمل تعلیم دینا، ہنرسکھانا اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے عوامی سرگرمیوں میں حصہ لینے دینا  وغیرہ عوامل انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی ترقی کے بارے میں پروگرام پائیدار ترقی کے اہداف یا ایس ڈی جی  کے تحت  2030  تک بچپن کی شادی کے رواج کو ختم کرنے کے لئے گزشتہ دہائی کی پیش رفت کے مقابلے میں چار گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال پوری دنیا   حقوق اطفال کے وثیقہ  یا کنونشن (Convention on the Rights of the Child) کو اقوام متحدہ میں منظور کئے جانے کے 30سال مکمل ہونے کا جشن منارہی ہے۔ تاہم حقوق اطفال کے تحفظ کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب حکومتیں، تمام سیاسی رہنما  اور باشندے  بچوں کے حقوق سے متعلق اپنی  ذمہ داریوں کو اداکریں گے۔

 جب ہم لوگ  جیسے سیاسی رہنما، شہری، اساتذہ اور والدین  وغیرہ بچوں کی خواہشات اورمطالبات کو نہیں سنتے ہیں تو ہمیں  اس  بے اعتنائی کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ  اس  ناراض اور بدظنی کا شکار نسل میں یہ احسا س  پیدا ہوجائے کہ وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

  آج دنیا کے کئی ملکوں میں مایوس نسل کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام پر مضر اثرات  پڑ رہے ہیں جس سے ہم باخبر ہیں۔ اس لئے ہمارے سامنے یہ سوال کھڑاہے کہ ہم انڈیا کی زبردست معاشی ترقی کے ثمرات میں ان نوخیز لڑکے اور لڑکیوں کو کس طرح شامل کرسکتے ہیں ؟ اس سلسلہ میں ہم کیا کرسکتے ہیں۔

اول: بحیثیت  سیاسی رہنما ۔ ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ ہمیں اپنے حلقے انتخاب پر نظر ڈالنی چاہیے اور کمسنی کی شادی کے خاتمہ کا عزم مصمم کرنا چاہیے۔ ہم یہ باور کر لیتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے صوبہ میں موجود نہیں ہے اور اس کا تعلق دوسروں سے ہے۔ حالانکہ ایسے صوبے جن کے سماجی اور معاشی حالات بہت اچھے ہیں ان میں بھی کئی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں کمسنی کی شادی اور چھوٹی عمر میں حاملہ بن جانے کے معاملے پیش آرہے ہیں۔  ہمیں کمسنی کی شادی ختم کرنے کے سلسلہ میں واضح سیاسی عزم کا اظہار کرنا چاہیے اور مناسب وسائل کی فراہمی بشمول لڑکیوں کو براہ راست  پیسہ فراہم کرکے انہیں اسکول میں تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔

 ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سن بلوغت کو پہنچی لڑکیوں اور لڑکوں کے تحفظ کے لئے تشکیل دیئے گئے ریاست، ضلع اور طبقاتی  سطح کے نگراں ادارے کام کر رہے ہیں۔ چائلڈ میریج پروہیبیشن افسران(Prohibition Officers)، چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں، کمیونٹی  ویجلینس کمیٹیاں، سیلف ہیلپ گروپ  اور  حقوق اطفال کے دیگر ادارے اور تنظیمیں  بیداری لانے اور اس کے سد باب  میں اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔

    اس سلسلہ میں ہمیں مختلف سرکاری اسکیموں جیسے  بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو، نوخیز لڑکیوں کی اسکیم  نیز صوبہ سے متعلق مخصوص کیش ٹرانسفراسکیم  وغیرہ کے درمیان اشتراک کرنے کی ضرورت ہے  جس سے نہ صرف لڑکیوں کو تعلیم کا  سلسلہ جاری رکھنے کا حوصلہ ملے گا بلکہ اس سے  انہیں ایک ایسا ماحول ملے گا کہ جس میں خواتین اور لڑکیاں خود کو محفوظ تصور کریں گی ۔

 دوم :  ہمیں اس بات پر خصوصی توجہ دینا چاہیے کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم، تربیت، اور ہنر سیکھنے کا سلسلہ کس طرح جاری رکھ سکتے ہیں۔ انڈیا کی مختلف ریاستوں میں کام کرنے کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک کامیاب بالغ فرد  بننے کے لئے سکنڈری اسکول کی تعلیم کی تکمیل، بازار کی مہارت حاصل کرنا  اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیناضروری ہے۔ اس جہت میں صرف اسکولوں  یا ہنر سکھانے کے پروگرام فراہم کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں ان مسائل اور پریشانیوں کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے جو لڑکیوں کے حصول تعلیم کی راہ میں سدراہ بنتے ہیں جیسے صفائی اور حوائج ضروریہ کے لئے معقول سہولیات خاص طور رسے ایام ماہواری میں، معلومات تک رسائی، چلنے پھرنے  میں لڑکیاں خود کو محفوظ سمجھے۔ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ معاملہ یہ ہے کہ بعض والدین  لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں سے کم توقعات رکھتے ہیں۔ اس  تباہ کن اور منفی سوچ کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

        صوبائی حکومتوں کو سائیکل اسکیم، اور بس سفر کا  پاس دینے جیسی اسکیموں پر عمل کو یقینی بنانا چاہیے اس کے علاوہ اسکولوں میں ماہواری پیڈ اور حفظان صحت کے بارے میں معلومات فراہم کرنی  چاہیے۔ لڑکے اور لڑکیوں کو ووکیشنل ٹریننگ ( حرفت کی تربیت) کے مراکز دستیاب ہونے چاہیے تاکہ وہ اکیسویں صدی کے ہنر مندی کے تقاضوں کو پورا کرسکیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں  سماجی برائیوں جیسے کمسنی کی شادی  وغیرہ کے سدباب  کے لئے اچھی اسکیموں پر عمل کر رہی ہیں تاکہ انہیں  مین اسٹریم میں لایا جائے۔ تاہم اس پر بہتر عمل آوری اور اسے قومی سطح کی مہم بنانے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تعاون اور اشتراک کی ضرورت ہے۔

 سوم:  ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے اور نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ابتداء سب سے پہلے اپنی ذات سے ہونی چاہیے۔ لڑکیوں کی  18 اور لڑکوں کی 21  سال سے کم عمر میں شادی کو غیر قانونی قرار دینے  اور انہیں ہر طرح کی سماجی زیادتی سے تحفظ کے لئے شاندار قانون موجود ہے لیکن صرف قانون سازی سے اس برائی کو ختم نہیں کیا جاسکتاہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں لڑکیوں اور لڑکوں سے، ان کے والدین بالخصوص والد سے، بزرگوں اور رہنمائوں سے ان سماجی رسومات پر بات کرنے کی چاہیے ہے جو لڑکیوں کو اپنی مرضی و اختیار استعمال کرنے اورا ن کی حیثیت بیان کرنے سے روکتی ہیں۔ اس کے علاوہ  صنف نازک کے بارے میں ایک گھسی پٹی جو تصویر بنائی گئی ہے اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔  لڑکوں اور لڑکیوں کومواقع دیئے جانے چاہیے تاکہ وہ اپنی مرضی سے ان کا انتخاب کر سکیں۔

         میں نے لڑکیوں کے والدین کو یہ کہتے سنا ہے کہ اگر انکی بیٹیاں اسکول جائیں گی تو انہیں راستہ میں جسنی تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے یا وہ گھر چھوڑکر بھاگ جائیں گی۔ اپنی لڑکیوں کی شادی کردینا  یا انہیں سکنڈری اسکول میں نہیں پڑھنے دینا  ایک طرح کا حفاظتی قدم سمجھا جاتا ہے جس کا تعلق خاندان کی عزت و ناموس سے ہوتاہے۔ جبکہ دوسرے والدین کے نزدیک  جہیز  کے تمام لوازمات  کے ساتھ ’’میرج مارکیٹ ‘‘  ایک اہم پیمانہ ہوتا ہے۔ کئی والدین اپنی بیٹیوں کے لئے بہتر اور متبادل رشتوں سے واقف نہیں ہوتے ہیں یا وہ تلاش نہیں کرپاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ  ہم والدین، اثر انداز ہونیوالے افراد، اور طبقات سے بغیر کسی حجاب کے بات کریں اور انہیں بہتر متبادل رشتوں کے بارے میں بتائیں۔ میں اس خیال کا حامی ہوں کہ ایک ہی نسل کے دوران کمسنی کی شادی کے  رواج کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ فریضہ تمام شہریوں کو انجام دینا چاہیے جو اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ترقی یافتہ ملک اپنے بچوں  بالخصوص لڑکیوں کو پسماندگی کا شکار ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close