خصوصی

بھارت ماتا کی فاقہ کش بیٹیاں

ڈاکٹر سلیم خان

مغربی اقوام نے جب مذہب کو اجتماعی زندگی سے نکالا تو خدا پرستی جگہ قوم پرستی کو براجمان کر دیا۔ اس گمراہی کے بطن سے ۱۹۱۴ ؁ میں جنگ عظیم اول  نے جنم لیا۔ یہ  اس وقت تک  کی سب سے  تباہ کن لڑائی تھی جو نام نہاد ترقہ پذیر ممالک کے درمیان میں ہوئی تھی۔ اس جنگ میں تقریباً ایک کروڑ۳۰  لاکھ لوگ  لقمہ اجل بنے، اور اس سے دگنی تعداد میں زخمی ہوئے۔ یہ اپنے آپ کو مہذب اور مسلمانوں کو وحشی قرار دینے والے قوموں کا کارنامہ تھا۔ اس جنگ کی ایک ستم ظریقی یہ بھی تھی  ہندوستانیوں کو غلام بنانے والے انگریزوں کی فوج میں ۲۳ لاکھ ہندوستانی فوجی شامل تھے۔ اسی عظیم تباہی و بربادی کا عملی  مشاہدہ کرنے کے بعدحکیم الامت علامہ اقبال نے وطن پرستی کی بابت  فرمایا تھا ؎

اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے   

تسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سے

خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے       

کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے

اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے            

قومیّتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

اس خطرناک صورتحال سے گزرنے کے بعد یوروپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا  اور انہوں جمیعت الاقوام(لیگ آف نیشنز)  قائم کی  لیکن وہ بھی امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی۔بالآخر دوسری جنگ عظیم نے عالم انسانیت کو دبوچ لیا جس میں ۵ کروڈ لوگوں نے اپنی جان گنوائی  مگر قوم پرستی کا جنون بڑھتا گیا۔ ان دو عظیم  جنگوں کے درمیانی وقفہ میں  ہندوستان کے اندر قوم پرستی کی آگ بھڑکانے کے لیے آرایس ایس قائم ہوئی۔  اس کا مقصد ہندو سماج کو وطن پرستی کے نام پر منظم کرنا تھا لیکن اس کے بانی مبانی  ڈاکٹر ہیڈگیوار  چونکہ کانگریس سیوا دل سے نکل کر  آئے تھے اس لیےنام راشٹرسوینک  سیوک سنگھ   رکھا گیا۔  اس وقت حکومت کی مدد کے بغیر رضا کارانہ خدمت پیش نظر تھی  اس  سویک سے قبل سوینک کا لاحقہ  لگایا گیا۔

آزادی کے بعد آرایس ایس کو احساس ہوا کہ اقتدار کے بغیر سیواممکن نہیں  ہے تو اس نے ہندو مہاسبھا کے شیاما پرشاد مکرجی کی قیادت میں  جن سنگھ بنائی۔ ایمرجنسی کا سنگھ پریوار پر دوہرا اثر ہوا۔ ایک تو وہ لوگ ڈر گئے دوسرے جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے امکانات روشن ہوگئے  اس لیے جن سنگھ کو جنتا پارٹی میں ضم کردیا اور سرکار کے بھاگیدار بن گئے۔ اٹل جی کو وزیر خارجہ اور اڈوانی جی ذرائع ابلاغ کے وزیر بنائےگئے۔ جنتا پارٹی کے اندر نظریاتی اختلافات کے سبب ان لوگوں کو نکلنا پڑا اور پھر اٹل جی کی قیادت میں بی جے پی قائم کی گئی۔ جب وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری توجارج فرنانڈیس اور ممتا بنرجی  جیسے  سیکولر لوگوں کی مدد حکومت بنائی۔ بقول سنگھ باہری دباو کی وجہ سے  اس وقت راشٹر کی سیوا نہیں ہوسکی لیکن اب کی بار سب کا ساتھ سب کا وکاس کرنے کے لیے مودی جی سامنے آئے تو بی جے پی کو اپنے بل بوتے پر اکثریت مل گئی  اور ملک کو پردھان سیوک میسر آگیا۔

امید تو یہ تھی اب صحیح معنیٰ میں راشٹر کی سیوا ہوگی اور عوام کے اچھے دن آجائیں گے لیکن ۵۰ ماہ کا طویل عرصہ گذر جانے کے بعد دارالخلافہ  دہلی میں ایک ایسا شرمناک واقعہ سامنے آیا کہ ساری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔ یہ سانحہ تین معصوم بچیوں کی فاقہ کشی سے موت تھی۔ بھارت ماتا کی یہ تین بیٹیاں ۸ دنوں تک بھوک کی صعوبت برداشت کرنے کے بعد موت کی آغوش میں چلی گئیں۔ ان میں سب سے چھوٹی دو سال کی تھی مگر سب سے بڑی ۸ برس کی تھی۔ ان بدنصیب بیٹیوں کے باپ کا رکشا چوری ہوگیا اور وہ اس کی تلاش میں گیا تو خود کھو گیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شرابی تھا  اولاد کو مارتا پیٹتا تھا۔ اس دوران ان مظلومین کے تعاون کا خیال  نہ کسی سیوک  کو آیا  اور نہ  کسی سنگھ پریوار نے  اس پر توجہ دی۔

  تعمیرِ قوم  کی ابتداء فرد سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد خاندان بنتا ہے اور آگے چل کر مختلف خاندان ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ ہر سماج کا ایک سیاسی اور اقتصادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ مذکورہ چار نفری  خاندان میں تین لڑکیاں اور ایک باپ تھا۔ بچوں کی پرورش والد کی ذمہ داری تھی۔ اس شخص نے اپنا فرض منصبی ادا کرنے میں کوتاہی کی۔ ممکن ہے اپنا غم بھلانے کے لیے وہ شراب کی بوتل میں ڈوب گیا ہو لیکن اس راہِ  فرار کی قیمت اس کے معصوم بچوں کو چکانی پڑی۔ اس  لیے اولین  قصور تو خود خاندان کا سربراہ باپ ہے۔

یہ خاندان کالا ہانڈی جیسے کسی ویران جنگل میں نہیں  رہتا تھا کہ کوئی اس کے دکھ سکھ سے واقف نہ ہو بلکہ راجدھانی دہلی کی ایک گنجان آبادی کے اندر مقیم تھا  لیکن  افسوس کہ کسی کو اس کی حالت زار کا علم نہیں ہوا۔ ویسے اگر سماج کے لوگوں کو پتہ چلا ہو اس کے باوجود کسی کو ان پر رحم نہیں آیا تو یہ اور بھی افسوسناک بات ہے۔ کیا انسانوں سے اس سفاکی کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسا بے حس  معاشرہ انسانی سماج کہلانے کا حقدار ہے؟ آج کل گاوں دیہات کے  لوگوں کو آناً فاناً یہ پتہ چل جاتا ہے  نصف شب میں کہاں گائے کی  اسمگلنگ ہورہی ہے؟ کس مقام پر بچہ چرایا جارہا ہے؟ اور وہ لوگ وہاں پہنچ کر یہ تصدیق کیے بنا  بے قصور لوگوں کی جان لے لیتے ہیں کہ خبر سچی ہے یا افواہ ہے؟ لیکن ایسے سماج میں لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تین بچے بلک بلک کر دم توڑ رہے ہیں اور کوئی گئوماتا کا بھکت  ان بیٹیوں  کو بچانے کے لیے آگے نہیں آتا۔

ہمارے ملک میں عوام کی  جمہوریت ہے جو عوام کے ذریعہ قائم ہوتی ہے اور ان  کی فلاح وبہبود کا دم بھرتی ہے۔ دہلی کی مرکزی حکومت ’بیٹی بچاو،  بیٹی پڑھاو‘ کے نعرے کی تشہیر پر کروڈوں روپئے پھونک دیتی ہے۔ دہلی میں کیجریوال کی عآپ سرکار ہے جو دہلی سرکار کے مکمل صوبائی اختیارات  کی خاطر بھوک ہڑتال کرتی ہے لیکن نائب وزیر اعلیٰ کے حلقۂ انتخاب میں یہ سانحہ رونما ہوجاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بھوکے بچوں یا ان کے پڑوسیوں کو سسودیہ جی کے دربار میں حاضر ہونے کا خیال کیوں نہیں آتا ؟ کیا لوگوں کی سیاستدانوں سے ساری توقعات ختم ہوچکی ہیں ؟وہ پوری طرح مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں؟ سیاسی  رہنماوں کو  عوام کا خیال صرف انتخاب کے وقت آتا ہے۔ وہ ان میں روپیہ بھی تقسیم کرتے ہیں اور شراب بھی بانٹتے ہیں لیکن پھر پانچ سالوں تک انہیں  فراموش کرکے عیش و عشرت میں غرق  ہوجاتے ہیں۔ کسی زمانے میں جب کالاہانڈی کے اندر بھکمری کا واقعہ رونما ہوا تھا تو ذرائع ابلاغ نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا لیکن اب دہلی کے اندر یہ ہوجاتا ہے پھر بھی ٹی وی کیمرے آنکھ موند لیتے ہیں کوئی ایک آنسو نہیں بہاتا۔

ہندوستان کا شمار سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ ابھی حال میں وطن عزیز نے فٹبال کے ورلڈ چمپین فرانس  کومعاشی میدان میں چھٹے مقام سے کھدیڑ کر اپنا  قبضہ جمالیا۔ ماہرین اقتصادیات کا قیاس ہے کہ ۲۰۲۵ ؁ تک ہم لوگ امریکہ اور چین کے شانہ بشانہ صف اول میں کھڑے ہوں گے لیکن کیا اس معاشی ترقی میں عام لوگوں کی بھی کوئی حصے داری ہوگی ؟ کیا ترقی کی اس بلندی پر پہنچنے کے بعد بھی ہمارے ملک کے عوام  بھکمری کا شکار ہوکر جان گنوائیں گے؟  اگر ہاں تو ایسے پردھان سیوک  اور سنگھ پریوار کا کیا فائدہ؟علامہ اقبال نے صحیح کہا تھا ؎

جس ملک کے دہقاں کو میسر نہیں روزی 

اس ملک کے ہر خوشئے گندم کو جلادو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close