خصوصیشخصیات

بھیگے ہوئے پروں سے بھی پرواز کر کے دیکھ

حالات کتنے بھی ناگفتبہ ہوں، ہمارے بال و پر کتنے بھی  زخمی ہوں،  پرواز جاری رکھنا چاہئے۔

ڈاکٹر شکیل احمد خان

کیا آپ یقین کرینگے کہ دنیا کی امیر ترین خاتون کبھی ایک غریب ترین لڑکی رہ چکی ہے جس کا گزارہ  بیروزگار اور مفلس لوگوں کو ملنے والی معمولی سرکاری اعانت پر ہوتا تھا؟اگر نہیں تو آیئے اس برطانوی ادیبہ سے ملتے ہیں جس کے ناول ملین کی تعداد میں ساری دنیا میں فروخت ہوتے ہیں، جنھیں دنیا کی پہلی ارب پتی مصنفہ ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ دولت کا بڑا حصہ رفاہی کاموں میں عطیہ دینے کے باوجود  وہ دنیا کی امیر ترین ہستیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی کتابوں کی فروخت کا اندازہ  ۲۳۸  ملین ہے۔ ۲۰۱۰  میں انھیں ’’برطانیہ کی سب سے بااثر خاتون‘‘ کا نام دیا۔ ۲۰۱۶ میں Sunday Times Rich List   نے ان کی دولت کا اندازہ  ۶۰۰  ملین پاونڈ لگایا تھا۔ ۲۰۱۷  میں مشہور فوربس میگزین نے انھیں دنیا میں سب سے زیادہ  رقم حاصل کرنے والی Highly paid )  (ادیبہ قرار دیا جس کا تخمینہ تقریبا  ۹۵  ملین امریکی ڈالر سالانہ ہے۔ دنیا کی تقریبا تمام اہم زبانوں میں انکے ناولوں کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ ان پر ٹی وی سیریلس اور مقبول ترین فلمیں بن چکی ہیں۔ اگر آپ نے انھیں نہیں پڑھا ہے تو بھی اپنے بچوں سے ان کے مشہور کردار کا نام ضرور سنا ہوگا۔ جی ہاں،  ہیری پورٹر کو کون نہیں جانتا !  ان کا پہلا ناول تھا     Harry Poter and the Philosopher’s Stone   جس کی اب تک  پانچ سو ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ ۱۹۹۵ میں شائع  اس ناول کی سیریز کے مزید چھ ناولس منظرِعام پر آ چکے ہیں۔  ہیری پورٹرکی خالق اس گمنام لڑکی کو آج دنیا جے کے رولنگ کے نام سے جانتی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جے  کے  رولنگ نہ تو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی تھی اور نہ ہی کسی مشہور ادیب و شاعر کی بیٹی، بیوی یا بہو تھی۔ بلکہ کامیابی کی اس اونچی چوٹی پر  پہونچے کے لیے انھیں مایوسیوں، ناکامیابیوں اور دشواریوں کی تاریک گھاٹیوں سے گزرنا پڑا۔ ۱۹۶۵میں انگلینڈ میں پیدا ہوئی رولنگ کا لڑکپن بقول خود کافی ناخوشگوار گزرا۔ ماں کی خوفناک بیماری اور باپ سے کشیدہ تعلقات کے با عث گھریلو زندگی پیچیدگیوں سے مامور تھی۔ ۱۹۸۲ میں آکسفورڈ یونیورسٹی نے انھیں ایڈمیشن دینے سے انکار کر دیا۔ ۱۹۸۶ میں Exeter   یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد لندن میں مترجم سیکریٹری کے طور پر کام کرنے لگی۔

۱۹۹۰ میں مانچیسٹر سے لندن سفر کے دوران چار گھنٹے لیٹ ہوچکی ریل میں بیٹھے اچانک ایک بچہ کی کہانی (جو جادوگری کے اسکول میں داخلہ لیتا ہے)  ان کے ذہن میں آئی۔ جیسے ہی وہ اپنے فلیٹ پر پہونچی، انھوں نے فورا  اسے لکھنا شروع کردیا۔ ڈسمبر میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس دوران وہ ناول لکھتی رہی تھی اور کبھی ماں سے اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ انھیں ہمیشہ افسوس رہا کہ وہ ماں کو اپنا شائع شدہ ناول نہیں دکھا سکیں۔ بعد ازاں وہ پرتیگال منتقل ہوئی جہان وہ رات کو انگریزی پڑھایا کرتی اور دن میں لکھا کرتی۔ یہی ان کی ملاقات ٹی وی صحافی جارج ایرانٹس سے ہوئی، جس سے ۱۹۹۲ میں انکی شادی ہوئی اور ۱۹۹۳ میں پہلی بیٹی جیسیکا پیدا ہوئی۔ لیکن چند مہینوں بعد ہی اس جوڑے میں علیحدگی ہوگئی۔ انکے سوانح نگاروں کے مطابق انھیں گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ڈسمبر ۱۹۹۳ میں اپنی بہن سے قریب رہنے کے لئے وہ اپنی شیر خوار بچی کے ساتھ  اسکاٹ لینڈ چلی آئی۔ سوٹ کیس میں اس کتاب کے ہاتھ سے لکھے ہوئے صرف تین باب موجود تھے جو بعد ازاں ہیری پوٹر کے نام سے منظرِ عام پر آئی۔ یہ ان کی زندگی کا نہایت اہم لیکن سب سے تکلیف دہ دورتھا۔ یونیورسٹی سے گریجویشن کر کے سات سال گزر چکے تھے، شادی ناکام ہوچکی تھی، والدہ کے انتقال کا صدمہ تازہ تھا، والد سے بات چیت بھی بند تھی اور وہ خود بیروزگار اور ہر لحاظ سے غیرمستحکم تھی۔

مزید براں ایک شیر خوار بچی کی پرورش بھی تنہا سرپرست  (Single Parent)کے طور پر ان کے کاندھوں پر تھی۔ وہ خود کو ناکام اور بے یارو مددگار محسوس کرنے لگیں تھی اور انھیں سرکار سے مفلسوں کو ملنے والی اعانت کے لئے درخواست کرنا پڑا۔ وہ شدید ڈپریشن کا شکار بھی ہوئی اورخودکشی کا خیال بھی ان کے ذہن میں آیا۔ علحیدہ  ہو چکے شوہر سے تعالقات کی پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہوتے ہو ئے  ۱۹۹۴ میں طلاق کا مقدمہ دائر کردیا۔ اس دوران وہ مختلف چائے خانوں (Cafe)   میں بیٹھ کر لکھنے کا کام کیا کرتی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اپنی تنگ کو ٹھڑی میں ہیٹنگ سسٹم نہ ہونے کے باعث سردی سے بچنے کے لئے وہ کیفوں میں بیٹھ کر لکھا کرتی۔ لیکن بقول خود انکے، اس طرح باہرگھمانے لیجانے پر بچی جلد سو جایا کرتی اور پھر وہ لکھنے کا کام کر پاتی۔ اس طرح ایک تنگ و سرد کوٹھڑی میں (جس کا کرایہ بھی وہ ایک دوست کی اعانت سے بھر پائی) انھوں نے اپنا پہلا ناول مکمل کیا۔ ابتدہ میں  ۱۲  پبلیشرس نے اسے چھاپنے سے انکار کر دیا۔ اگلے سال لندن کے Bloomsburry    نے اسے قبول کیا لیکن ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دے ڈالا کیآپ دوسرا کام بھی تلاش کرتی ریں کیونکہ لکھنے سے آپ کو خاطر خواہ آمدنی کی امید نہیں ہے۔ لیکن اگلے سال ہی اسکاٹش اکادمی نے انھیں لکھتے رہنے کے لئے ۸۰۰۰ پاونڈ کی گرانٹ منطور کی۔ اور پھر جو ہوا وہ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں۔

اب ہمارے لیے دلچسپ اور سبق آموز بات یہ ہے کہ رولنگ اپنی اس بے مثال کامیابی کا سہرا اپنی ناکامیابیوں کے سر باندھتی ہیں۔ ہاورڈ یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ناکامیابی کے فوائد  Benifits of Failure  کو اپنے تجربات کی روشنی میں  واضخ کیا۔ پہلے ناول کی تحریر کے دوران وہ پوری طرح ٹوٹ چکی تھیں۔ ہر محاز پر ناکام ہو چکی تھیں۔ اب کھونے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہ گیا تھا۔ لہذا ان سب باتوں سے لا تعلق اور بے فکر ہو کر انھوں نے اس ایک چیز پر اپنی توجہ مرکوز کر دی جو وہ کر سکتی تھی، جو ان کا فطری میلان تھا۔ جب ہر راستہ بند ہو جاتاہے تو انسان اس چھوٹی سی دراڈ پر توجہ مرکوز کر دیتا ہے جہاں سے باہر نکلنے کاموہوم امکان ہوتا ہے۔ اور اکثر یہ دارڑ ہی باہر نکلنے کا صحیح راستہ ہوتا ہے۔ دیگر راستہ کسی حد تک کھلے ہوں توانسان مطمئن ہو کر ان سے گزر کر کچھ دور چل پڑتا ہے اور صحیح راستے و منزل سے دور ہو جاتا ہے۔ رولنگ کی زندگی اس کی مثال ہے۔ تقریر میں انھوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ دیگر کسی محاز  (ملازمت، شادی، کریر، گھریلو زندگی، معاشی حالات وغیرہ)  پر وہ کسی حد تک کامیاب رہتی تو پھر شائد اتنی دلجمعی اور توجہ و انہماک سے وہ لکھنے کا کام جاری نہ رکھتی اور نہ ہی کامیابی کی اس بلند چوٹی پر پہونچ پاتی۔ اکثر اوقات ناکامیابیاں ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر کامیابی کی صحیح راہ پر دھکیلنے کا کام کرتی ہیں۔ ٹرمپ کے الفاظ میں:

’’کبھی کبھی ایک معرکہ ہار کر ہم  پوری جنگ جیتنے کا راستہ معلوم کر لیتے ہیں‘‘۔

مشہور اداکار شاہ رخ خان کے مطابق:

’’ کامیابی ایک عظیم استاد نہیں ہے (ہم ناکامیابی سے زیادہ سیکھتے ہیں) ‘‘۔

اسی بات کو بل گیٹس اس طرح کہتے ہیں کہ

’’کامیابیوں کا جشن منانا تو خیر ٹھیک ہے لیکن ناکامیابیوں سے ملنے والے سبق پر ذیادہ توجہ کرنا چاہیئے‘‘۔

اگر آج ہم من حیثیت القوم ہر طرف سے گھرا ہوا محسوس کررہے ہیں تو اس کا یہ مطلب بھی نکل سکتا ہے کہ قدرت ہمیں گھیر کر صراطِ مستقیم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ اب یہ ہمارے صوابِ دیدپر منحصر ہے کہ ہم  حالات کا تجزیہ کس طرح کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اپنے دائرے کار اور صلاحیت کو پہچان کرانہماک و استقلال سے سرگرم رہنا ہی کامیابی و ترقی کا ذریعہ ہے۔ جے کے رولنگ کی فرش سے عرش تک ترقی کا گراف یہی سیکھاتا ہے کہ حالات کتنے بھی ناگفتبہ ہوں، ہمارے بال و پر کتنے بھی  زخمی ہوں،  پرواز جاری رکھنا چاہئے۔ بقول ڈاکٹر نواز دیو بندی ؎

انجام اس کے ہاتھ ہے،  آغاز کر کے دیکھ

بھیگے ہوئے پروں سے بھی  پرواز کر کے دیکھ ِِ  

مزید دکھائیں

ڈاکٹر شکیل احمد خان

اسوسیٹ پروفیسر، شبعہ انگریزی، انکوش راو ٹوپے کالج، جالنہ۔ ۸۳۰۸۲۱۹۸۰۴

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close