خصوصیسیاست

بہار کا کشن گنج انتخابی حلقہ: مسلمانوں کی حکمت و تدبر کا امتحان

مرشد کمال

بہار کے شمال مشرقی علاقہ سیمانچل کا کشن گنج پارلیمانی حلقہ زندگی کی انتہائی بنیادی سہولتوں سے محروم ایک ایسا حلقہ ہے جہاں مسلمانوں کی  آبادی کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ بنگال کی سرحد کے قریب واقع یہ خطہ آزادی کے بعدسے ہی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی نا انصافی اور غیر برابری کا شکار رہا ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، حکومت کی غیرمساویانہ پالیسی اور بنیادی سہولتوں کے شدید فقدان نے یہاں کی ایک بڑی آبادی کو تعلیم اور معاش کی غرض سے ہجرت پر مجبور کررکھا ہے۔ بیماری، غربت اور تنگدستی  یہاں خلق خدا کے حلیے اور چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔  اور ان سب کے لیے جہاں ایک طرف حکومت کی اس علاقے سے لاتعلقی اور افسران کا متعصبانہ رویہ ذمہ دار ہے وہیں منتحب عوامی نمائندوں نے بھی بڑی حد تک عوام کو مایوس کیا ہے۔ اور اس کیلیے جتنی کانگریس کی مرکزی  اور ریاستی حکومتیں ذمہ دار ہیں اُتنی ہی ذمہ داری سیکولرزم اور سماجی انصاف کا نعرہ بُلندکرنے والی ریاستی حکومتوں کی بھی ہے جنھیں مسلم ووٹوں کے علاوہ اس  علاقے سے اور کوئی سروکار نہ رہا۔

2019 کا عام انتخاب کشن گنج کی عوام کے لیے تاریخ  رقم کرنے اور اپنے مستقبل کی تعمیر کا ایک سنہری موقع ہے۔یہ آپ کی  حکمت اور تدبر کا امتحان بھی ہے اور آزما ئش کی سخت گھڑی سے سُرخرو  ہوکر نکلنے کا موقع بھی۔ کیونکہ ایک طرف پھر وہی خوشنما نعرے ہیں  اور وہی  روائیتی سیاسی جماعتوں کے حاشیہ بردار مسلم نمائندے ہیں جنھیں آپ برسو ں سے آزماتے آئے ہیں اور جن  کے لیے اپنے سیاسی آقاوؤں کی مرضی کے بغیر لب کشائی بھی ممکن نہیں تو دوسری جانب کشن گنج کی تاریخ میں پہلی بارپارلیامنٹ میں حقیقی مسلم نمائندگی کی اُمیدوں کی شمع روشن ہوئی ہے۔

بہار میں ایم آئی ایم کے صدر اور مقبول ترین سیاسی شخصیت اخترالایمان کو  مودی کی اتحادی جماعت جنتا دل یو کے ایک صوفی منُش  با ریش مسلم اُمیدوار سے مقابلے کا سامنا ہے۔ کشن گنج سے کانگریس کے ممبر پارلیامنٹ اور معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی کی چند ماہ قبل رحلت کے سبب کشن گنج کے کانگریسی حلقوں میں جو خلاء پیدا ہوا ہے کانگریس اُسے پُر کرنے میں ناکام رہی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے اُمیدوار اس بار کے الیکشن میں مقابلے سے باہر دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسے میں اصل مقابلہ ایم آئی ایم اور این ڈی اے کے اُمیدوار کے درمیان ہی ہونے کے آثار ہیں ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر مسلمان ووٹروں نے فہم وفراست سے کام نہ لیا تو مقابلہ سہ رُخی بھی ہو سکتا ہے اور ایسے میں کچھ عجیب نہیں کہ ووٹوں کی تقسیم کے نتیجے  این ڈی اے کشن گنج جیسی مسلم اکثریتی سیٹ جیتنے میں کامیا ب ہوسکتی ہے، جس کا اندیشہ اے بی پی نیوز کے ایک حالیہ سروے سے ظاہر بھی ہوتا ہے۔ ا س لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کشن گنج کے ووٹرس کسی مخمصے اور مصلحت کا شکا ر ہوئے بغیر ایم آئی ایم کے اُمیدوار اخترالایمان کے حق میں متحد ہوکر اپنے ووٹ ڈالیں ۔ اخترالایمان کی امیدواری نہ صرف کشن گنج کے مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے بہار اور ہندستان کے مسلمانوں کے لیے اپنی ایماندار قیادت کو پارلیامنٹ میں بھیجنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف کشن گنج میں ایمانداری سے ترقیاتی منصوبوں پر عملددرآمد ہوگا اور حیدرآباد کی طرز پر اسکولوں ، کالجوں اور ہسپتالوں کا قیام عمل میں آئے گا وہیں پارلیامنٹ میں بہار کے مسلمانوں کی ایک آزاد اور موثر آواز ہوگی۔

جو لوگ مودی کی اتحادی جماعت جنتا دل یو کے مسلم اُمیدوار کے تعلق سے تذبذب  اور کنفیوژن کا شکا ر ہیں اُنھیں یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ کس سیاسی سازش کا شکار بنائے جارہے ہیں ۔ دراصل سیمانچل کے مسلم اکثریتی علاقوں سے بی جے پی کے اتحادی جماعتوں کی اُمیدواری دراصل سنگھ پریوار کے اُس وسیع سیاسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ یا تو مسلم ووٹوں کو بے اثر کردیا جائے یا اپنی اتحادی جماعتوں کی نام نہاد سیکولر شبیہ کے نام پر اُسے جیتنے کی کوشش کی جائے۔ چونکہ ۲۰۱۴ کے عام انتخابات میں مودی لہر کے باوجود بی جے پی سیمانچل کی مسلم اکثریتی نشستیں جیتنے میں ناکام رہی تھی اس لیے  ایک خطرناک منصوبہ بندی  کے ذریعہ سیمانچل کی تقریباً تمام مسلم اثر رکھنے والی سیٹیں جے ڈی یو کے حصے میں دیکر نتیش کمار کی نام نہاد سیکولر شبیہ اور ‘سُشاسن’ کے  نام پرہڑپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یعنی  مسلمانوں کے وہ  ووٹ جو بی جے پی کو براہِ راست حاصل نہیں ہوسکتے تھے  بالواسطہ  بی جے پی کی  اتحادی جماعتوں کے ذریعہ حاصل کر لیے جائیں جو بالآخر مرکز میں مودی کی قیادت میں حکومت تشکیل دینے کے کام آئے۔ اس لیے مکرو فریب کے کسی  خوشنما چہروں  اور حُلیوں کے دام میں مت آئیے  اور یہ یاد رکھیے کہ نتیش، پاسوان  اور بی جے پی کی کسی بھی اتحادی جماعت کو آپ کا ہر ایک ووٹ  پارلیامنٹ کی ایک سیٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے اور پارلیامنٹ کی ہر ایک نشست  مودی کو وزیرآعظم بنانے میں معاونت کر سکتی ہے۔ اور اس طرح جب مرکز میں مودی کی قیادت میں حکومت کی تشکیل ہوگی  اور پھر ملک کا آئین تبدیل کرنے کی باری آئے گی ،اور گولوالکر اور ساورکر کے فاشسٹ نظریئے کی بنیاد پر ہندو  راشٹر کا نرمان ہوگا، جہاں آپ کو کھانے، پینے اور پہننے اوڑھنے کی آزادی نہیں ہوگی تو پھر اُس کے ذمہ دار بھی آپ خود  ہی ہونگے۔

اس لیے وقت رہتے اپنی صفوں کو درست کیجئے ۔ وسوسوں سے باہر نکلیے۔ ذہن کو سیاسی غلامی آزاد سے کیجئے۔ اپنی جمہوری طاقت کا ادراک کیجئے۔ سیمانچل کی زرخیز سیاسی زمین کو بنجر و بیابان صحرا  میں تبدیل مت ہونے دیجئے۔ یہ زمین آپ کے خوابوں اور اُمنگوں کی تعبیر بن سکتی ہے جہاں سے نہ صرف بہار بلکہ پورے ہندستان کے مسلمانوں کے سیاسی امپاورمنٹ کی راہیں نکل سکتی ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مرشد کمال

مضمون نگار معروف قلم کار، ماہر سیاسیات، تجزیہ نگار اور جامعہ طلباء یونین کے سابق لیڈر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close