خصوصی

بہت دور تک رات ہی رات ہوگی

حفیظ نعمانی
وزیر اعظم کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انھوں نے اپنے نادر شاہی فیصلوں کے بارے میں عوام کی رائے جاننا چاہی اور سوالوں کے ذریعہ معلوم کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ ٹی وی چینل کا تعلق بے شک صحافت سے ہے لیکن اپنے اشتہارات کی آمدنی کی وجہ سے وہ حکومت کے اشاروں پر دم ہلادیتے ہیں۔یہی رائے کے جواب میں ہوا کہ اخباروں نے تو سوال چھاپ دیے لیکن جواب شاید نہ آئے اور نہ چھپے۔ البتہ ٹی وی کے ہر چینل میں وزیر اعظم کو خوش کرنے کے لیے جوابات کا اعلان اس طرح کیا گیا جیسے ان کے ہر فیصلہ کو عوام نے پسند کیا ہے اور اکثریت ان کی ہے جو اپنے پیارے وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جیسے سیلاب اور زلزلہ کی تباہی کا اندازہ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر پر وزیر اعظم آسمان میں اڑتے ہیں ویسے ہی اڑتے اور ہر شہر، ہر تحصیل اور ہر گاؤں میں ننگوں بھوکوں کی لائنوں ا ور ڈنڈے برساتی پولیس کو دیکھتے ۔اور اگر خدا توفیق دیتا تو کہیں اتر کر یہ دیکھتے کہ جوان لڑکیوں کے باپ جب کوئی نہیں ملتا تو ٹی وی کے رپورٹروں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں اور آنسوؤں سے رورو کر اپنا درد بیان کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ڈھائی لاکھ روپے لینے آئے تھے یہ دو ہزار روپے ملے ہیں جن سے بارات کا پان بھی نہیں ہوسکتا۔
ڈھائی لاکھ کے اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ میرج ہال کی رسید وغیرہ وغیرہ ،مسلمان خاص طور پر لکھنؤ کے مسلمان عیدگاہ میں اس لیے تقریب کرنا چاہتے ہیں کہ عیدگاہ کی برکت بھی ملے گی مگر وہاں کا امام ایک لاکھ روپیہ پہلے ہی لے لیتا ہے تو ڈیڑھ لاکھ میں کھانا، مولوی کو نکاح کی فیس، لڑکی کے کپڑے، زیور، زندگی کا ضروری سامان کیا سب ہوجائے گا؟
وزیر اعظم کو عوام کے بجائے ان سے رائے لینا چاہیے جو عوام کے نمائندے ہیں اور برسوں سے ان کے ساتھ ہیں۔ پارلیمنٹ کا ہر نمائندہ پندرہ لاکھ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ وہ بتائے گا کہ اس کے حلقہ کے لوگوں پر کیا گذررہی ہے؟ انھوں نے اپنے گھسے پٹے نائیڈو نقوی کو یا رام دیو کو اپنا معتمد بنا رکھا ہے۔ ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے۔ یہ عقل کے اعتبار سے کورا کاغذ ہیں۔ یہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کو کیا پسند ہے؟ وینکیا نائیڈو نے ایک جملہ کہا ہے کہ فیصلہ واپس لینا مودی کے خون میں نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تعریف نہیں یہ ان کی کمزوری ہے۔ سوا سو کروڑ آبادی کے ملک کے سربراہ کی نہ ذات دیکھی جاتی ہے نہ مذہب، نہ فطرت اور نہ خون۔ یہ بادشاہوں اور راجاؤں کے زمانہ میں ہوتا ہوگا۔ نائیڈو ان لوگوں میں ہیں جو آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے ہیں اور کانوں میں روئی بھر لیتے ہیں۔ ورنہ وہ دیکھتے کہ ۸؍ نومبر کے فیصلہ کے بعد وینکیا نائیڈو کے آقا نے ایک درجن سے زیادہ فیصلے واپس لیے ہیں، جنھیں تھوک کر چاٹنا کہا جاتا ہے۔
وہ ہر دن اپنے فیصلہ کے پیڑ کی ایک ٹہنی کاٹ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں کہ انھیں کوئی اتنا بڑا فیصلہ کرنا پڑے گا کہ نائیڈو جیسے ان کے مصاحب منہ نہ دکھا سکیں گے۔ اوریہ ہردن نئے نئے اعلان ہی ہیں کہ ملک میں غدر نہیں مچا۔ اگر ۸؍ نومبر کے فیصلہ پر ہی مودی قائم رہے ہوتے تو بازار میں کوئی دکان نہ بچتی اور ہر جگہ لوٹ مار شروع ہوجاتی۔
اب تک ۷۴ آدمیوں کی موت ہوچکی ہے ان میں کئی وہ ہیں جنھوں نے خودکشی کرلی۔ خودکشی کے بعد برسوں عدالتوں میں اس پر بحث ہوتی ہے کہ کس نے خودکشی پر مجبور کیا۔ یا کس نے ایسے حالات بنائے کہ انسان کو اپنی سب سے قیمتی چیز جان قربان کرنا پڑ گئی۔ خود کشی کرنے والے ہر انسان نے اس لیے خودکشی کی کہ مودی نے اسے محتاج بنادیا۔ اس کا حلال کا روپیہ جس کا ٹیکس بھی وہ دے چکا تھا وہ بھی اسے اس کی ضرورت کے وقت نہیں ملا اور اس بات کو صرف وہ سمجھ سکتا ہے جس کے سامنے ایک جوان بیٹی ہر وقت رہتی ہے اور باپ کا فرض ہے کہ اب اسے وہاں پہنچا دے جہاں اس کے پروردگار نے اس کا دانہ پانی مقرر کردیا ہے۔ اور اس بات کو وہ آدمی کیا سمجھے گا جو صرف زبان سے ہر تقریر میں بار بار سستانے کے لیے بھائیو بہنو کہتا ہے۔ اور اس کا نہ کوئی بھائی ،ہو نہ بہن ہو، نہ بیٹی ہو، نہ نواسی اور نہ پوتی۔ اگر مودی کہیں کہ میں سمجھتا ہوں تو یہ سفید جھوٹ ہوگا۔ اب ایسے تمام خودکشی پر مجبور کرنے الے کی طرف سے نریندر مودی پر مقدمے چلنے چاہئیں اور اس لیے چلنے چاہئیں کہ بات ملک اور ملک کے مفاد کی نہیں، مودی کی فطرت اور خون کی ہے۔ اور یہ ملک ان کے باپ نے انہیں نہیں دیا ہے بلکہ صرف ان بھولے آدمیوں نے دیا ہے جنھوں نے صرف یہ غلطی کی کہ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ کوئی وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کا امیدوار بھی اتنا جھوٹ بول سکتا ہے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ دو برس سے جو بابا سنیاسی اور یوگا کے ماہر کی حیثیت سے پورے ملک کی خدمت کررہا ہے وہ اس جھوٹے کا برابر کا شریک ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ مودی حکومت کررہے ہیں اور بابا اربوں کھربوں کماکر مودی کا حق ادا کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جو نوٹ بندی کا مخالف ہے وہ ملک کا دشمن ہے۔
اگر کوئی سروے کرائے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اگر بابا رام دیو یا دو مودی جی پر اپنا بھروسہ نہ دکھاتا اور بار بار یہ نہ کہتا کہ مودی کے جورو نہ جاتا وہ 80 لاکھ کروڑ کالے دھن کا کیا کرے گا؟ وہ سب تم سب کو دے دیگا۔ اور یہ نہ کہا ہوتا کہ اپنا روپیہ پونڈکی برابر ہوجائے گا اور ملک میں کوئی بھوکا ڈھونڈے نہیں ملے گا۔ ہم دوسروں کے بارے میں کیا کہیں خود ہم کو یہ امید ہوگئی تھی کہ ملک سے غریبی ختم ہوجائے گی۔آج اگر کسی کو دیکھنا ہو تو وہ دیکھ لے کہ جو لاکھوں مکان بن رہے تھے ان کو بنانے والے لاکھوں بلاسپوری، جھارکھنڈی اور غریب مزدور کام چھوڑ کر اپنے وطن چلے گئے۔ جس کے ذمہ دار صرف دو آدمی ہیں ایک مودی، دوسرا بابایاجو ہر چیز بنا رہا ہے اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ جڑی بوٹی کے نسخہ میں کتنا فریب ہے اور یہ تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ جو کروڑوں روپے ٹی وی ک یاشتہاروں پر خرچ کرے گا وہ کتنا نفع کماتا ہوگا؟
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close