خصوصی

بیٹے کی تلاش میں ایک ماں

راحت علی صدیقی قاسمی

گذشتہ چند ایام سے ہمارے وزیر اعظم مسلم خواتین کے تعلق سے بہت ہی حساس نظر آئے ،ان کی زبان پر یہی بول تھے کہ مسلم خواتین کے ساتھ ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا،وہ اس معاشرہ اور سماج کا حصہ ہیں، کوئی ان پر ظلم کرے اور برداشت کیا جائے کیسے ممکن ہے؟ ان کے ساتھ الگ طرح کا برتاو کیا جائے ،ان کی سوچ و فکر کو مضمحل کرنے کی کوشش کی جائے، ان کی آزادی کو چھینا جائے اور ملک کے افراد خاموش رہیں یہ تو ان پر ظلم ہے اور افراد وطن کو بھی یہ زیبا نہیں دیتا کہ وہ اس ظلم و ستم کو کھلی آنکھوں دیکھتے رہیں اور اس کے ازالہ کی کوئی تدبیر نہ کریں ،طلاق کے نام پر انہیں خوف زدہ کیا جائے اور ملک خاموش رہے یہ کیسا انصاف ہے ؟میں مسلم خواتین پر ظلم نہیں ہونے دوںگا ،ان کے حقوق مکمل طور پر ادا کراؤںگا،اس طرح کے جملے چند دنوں سے ہمارے وزیر اعظم خوب استعمال کررہے تھے ،ملک کا ہر باشعور فرد سمجھ رہا تھا کہ ان جملوں کے پس پردہ کیا سیاست کار فرما ہے،مگر ان کے ان جملوں نے چند موقع پرست، لالچی خواتین کو میدان میں لا کھڑا کیا اور وہ اسلامی قوانین میں تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے لگیں۔ قرآن و حدیث میں اپنی رائے کو معتبر گرداننے لگیں اور کتاب اللہ میں اپنی منشاء و آرزو کے مطابق تشریح و تفسیر کرنے لگیں،اسی دوران علم وادب کے گہوارہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ایک دل دوز واقعہ پیش آیا۔ ایک طالب علم مشتبہ حالت میں لاپتہ ہوگیا ،شک کی سوئی گھوم رہی تھی، ان طلبہ پر جن کا تعلق اے بی وی پی سے ہے ،اس کے بعد کمزور بے بس لاچار ماں اپنے لخت جگر کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے لگی۔ بدحواس ،آنکھوں سے بہتے آنسو درد و غم کی تصویر بنی دہلی کی سڑکوں پر اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے میں رات دن کا چین گنوا بیٹھی۔ بھوک پیاس کی شدت کا بھی اسے احساس نہیں ہے ،ہم سب کسی نہ کسی ماں کی اولاد ہیں اور ہم اندازہ لگا سکتے ہیں ،بیٹے کے تئیں ماں کی محبت کا عالم کیا ہوتا ہے ،اگر اسے کانٹا بھی چبھ جائے تو ماں درد و کرب سے بلبلا اٹھتی ہے،یہاں ایک ماں نے عرصہ سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا ہے ،اس کے تعلق سے کوئی خوش کن خبر نہیں سنی، حسرت و یاس اور امید بیم کے درمیان ہر لمحہ گذر رہا ہے ،آنے والی گھڑی نہ جانے کیا خبر لائے ،جب اس ماں کی شدت غم میں سمندر کی لہروں کی مانند اچھال آیا اور صبر کا باندھ ٹوٹ گیا ،تو زمانے نے ایسا منظر دیکھا جو تاریخ کا تاریک ترین حصہ بن کر محفوظ ہوگیا ۔ایک عورت جس کے بیٹے کی تلاش میں پولیس مجرموں کو کھینچ کر لاتی ان کو سزا دلاتی، گنہگاروں کا سراغ لگاتی اور نجیب کو واپس لاتی یا پھر اپنی کوتاہی پر افسوس کرتی اور وقت کا مطالبہ کرتی، مہلت طلب کرتی ،ندامت وشرمندگی کا احساس ہوتا ،مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ،بلکہ اسی ماں کو جو اپنے بیٹے کی جدائی کے غم سے نڈھال ہے مجرموں کی طرح کھینچا گھسیٹا گیا، گرفتار کیا گیا،مسلم عورتوں کے حقوق کی حفاظت کے دعوے محض دعوے ثابت ہوئے حقیقت سے خالی ،جو ایک منشاء و مقصد کی تکمیل کی خاطر ادا کئے گئے ،نہیںتو کیا نجیب کی والدہ مسلمان نہیں ؟کیا اس کے بیٹے کی واپسی اس کا حق نہیں؟کیا اسے گرفتار کرنے والوں کی سرزنش ہونا، مسلم عورتوں کے حقوق کا باعث نہیں ؟کیا یہ حقوق نجیب کی ماں کو حاصل ہوئے ؟کیا اس سلسلے میں ہمارے وزیر اعظم کی زبان سے کوئی جملہ نکلا ؟جواب ہر ہندوستانی جانتا ہے،چودھویں کے چاند کی طرح ہر شخص کو نظر آگیا حقیقت کیا ہے ؟ہمارے وزیر عظم کی زبان سے وہ پاکیزہ جملے کیوں نہیں ادا ہوئے ،دو دو چار کی طرح واضح ہوگیا ؟کیا ہمارے وزیر اعظم جذباتی نہیں ہیں ؟کیا ان کی خوشی اور غم چہرے پرظاہر نہیں ہوتی ؟کیا وہ ہنستے اور روتے نہیں ؟جواب پر غور کیجئے ،واقعات کہتے ہیں ان کی مسکراہٹ، ان کے آنسو محض سیاسی موقعوں کے لحاظ سے ہوتے ہیں،ان میں قوم و ملت کا کوئی خیال نہیں ہوتا ،حالات و واقعات ان دعووں کو پختگی بخشتے ہیں ۔روہت وومیلا کی خودکشی پر وزیراعظم کے آنسو بہے ،کب جب انہیں لگا کہ ان کی مذمت ہورہی ہے ،چاروں طرف سے لوگوں نے انہیں گھیر لیا ہے اور دلت سماج ہی ہے جس نے اسمبلی انتخاب میں ان کی کامیابی کا معیار اتنا بلند کیا ۔ملک و میڈیا ان کے خلاف ہورہا تھا تبھی ان کی آنکھوں سے آنسو بہے اور کرنسی تبدیلی کے فیصلہ سے یقینا جعلی نوٹوں پر قدغن لگا ہے ،مگر عام آدمی پریشان ہے، تکلیف میں مبتلا ہے ،بینکوں کے دروازوں پر لگی لمبی لمبی قطاریں اس دعوی کی دلیل ہیں اور یوپی انتخاب سر پر ہے ،وزیر اعظم نے عوام کی بے چینی کو محسوس کیا اور ایسی تقریر کی جو ہر باشعور فرد کی نظر میں محض جذبات سے کھلواڑ ہے ،ان کے آنسو بہے گھر چھوڑنے کا دکھ ظاہر ہوا،کیا نجیب کی ماں کو یہ دکھ نہیں ہے ،اس کا بیٹا گھر سے باہر نہیں ہے ،کیا آپ کاغم بڑا ہے یا اس کا ،فیصلہ غلط ہے یا صحیح ماہر معاشیات اپنی آراء پیش کررہے ہیں، مگر یہ عیاں ہوگیا کہ وزیر اعظم اسی وقت روتے ہیں ،جب کرسی ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے،ورنہ نجیب کی گمشدگی پر ان کے آنسو کیوں نہیں ہے؟ فوجیوں کی شہادت پر ان کے سر تن سے جدا ہونے پر، ان کے آنسو کیوں نہیں بہے؟یہ کیفیت ہر شخص کے لئے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے، کہاں ہیں وہ مسلم عورتوں کے حقوق کے مدعیان؟ کہاں ہیں انہیں انصاف دلانے والے؟ کہاں ہیں ان کی تکالیف کا خاتمہ کرنے والے ؟کہاں ہیں وہ مسلم لباس میں ملبوس عورتیں جو قرآن و حدیث کے سارے علوم کی ٹھیکیدار اور مسلم عورتوں کی ہمدرد بنی ہوئیں تھیں ؟اب کیوں ان کی زبانوں پر تالے پڑ گئے ؟کیوں نجیب کی والدہ کے حق میں ان کی زبان سے کوئی جملہ نہیں نکل رہا ہے؟ اب کیوں وہ نیوز چینل پر آکر قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بیان نہیں کررہی ہیں ،علم کی تمام کنجیاں تو انہیں کے پاس ہیں، اب آخر انہیں کیا ہوگیا ہے؟کیا نجیب کی ماں مظلوم نہیں ہے ؟کیا وہ عورت نہیں ہے،شریعت کا کون سا حصہ ہے جو اس کے مقصد کی تکمیل سے روک رہا ہے ؟بتائیں یہ حق پرست افراد اور مظلوموں کے مسیحا ،کیا عذر ہے ؟کیوں یہ نجیب کی والدہ کے غم میں شریک نہیں ہیں؟ سارا کھیل محض سیاسی نظر آرہا ہے۔ عام انسان اگر حالات و واقعات پر غور کرے تو نتیجہ اخذ کرنا اس کے لئے کوئی مشکل امر نہیں ہے، یہ تو ان لوگوں کا حال جن سے پورا ہندوستان توقعات وابستہ کرتا ہے اور وہ ملک و ملت کے افراد کو خوبصورت و خوشنما خواب دکھاتے ہیں۔دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو ہمارا اپنا ہے،ہمارے وہ ملی قائدین اور راہنما جو مستقبل کی حفاظت کی یقین دہانی کراتے ہیں،ان کی خاموشی نے دل چھلنی کردیا ہے ،کیا وہ نجیب کی موت کا انتظار کررہے ہیں ؟پھر کاروائیاں بھی ہوںگی آنسو بھی بہیں گے، مگر اب تو کوئی خیال نہیں، علماء جب چاہے مجمع اکٹھا کرسکتے ہیں تو نجیب کے لئے آواز کیوں نہیں؟اگر اس میں کوئی تکلیف تھی تو ہم اپنے مقاصد کی لئے وفود کی شکل میں ملتے ہیں مگر نجیب کے لئے کوئی وفد کسی لیڈر سے کیوں نہیں ملا ؟کیا ہر طرف مفاد پرستی غالب آگئی؟ اگر یہ حقیقت ہے ،تو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ہی نہیں تمام افراد کے لئے مشکل حالات آئیں گے جس کا انہیں خیال و احساس بھی نہیں ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close