خصوصیسیاست

بی جے پی کا فرسٹریشن

ڈاکٹر عابد الرحمن

آج کل بی جے پی نام تبدیلی کے بخار میں مبتلا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں مرکزی حکومت نے کم از کم پچیس شہروں اور دیہاتوں کے نام بدلنے کو منظوری دی ہے، جن میں خاص طور سے مغل سرائے کو پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر، ا لہٰ آباد کو پریاگراج اور فیض آباد کو ایودھیا کردیا گیا۔ پارٹی نے یہ بھی اعلان کردیا کہ احمد آباد کو کرناوتی کردیا جائیگا، تلنگانہ بی جے پی کے ایک لیڈر ے یہ وعدہ یا اعلان بھی کیا کہ اگر وہ اسمبلی انتخاب جیت گیا تو حیدرآباد کو بھاگیہ نگر کردے گا، یہی نہیں اب جی جے پی کے اتحادیوں اور حواریوں کی طرف سے بھی اسی طرح کی مانگیں شروع ہو چکی ہیں، جن میں خاص طور سے ہندو مہا سبھا نے میرٹھ کو مہاتما گاندھی کے ثابت شدہ اور سزا یافتہ قاتل ناتھو رام گوڈسے کے نام سے گوڈسے نگر کر نے کی مانگ کی ہے۔

ناموں کی یہ تبدیلی بی جے پی کی شکست خوردہ ذہنیت،کم ظرفی اور سیاسی کج روی کی عکاس ہے۔ بی جے پی ہندو تاریخ بلکہ سورن ہندو تاریخ کی مالا جپتی ہے، اس کا ماننا ہے کہ انڈیا کا سنہری دور یہاں مسلمانوں کی آمد ے پہلے تھا، مسلمان حمل آور تھے لٹیرے تھے جنہوں نے اسے برباد کرڈالا اور یہاں کے ہندوؤں کو غلام بنا کر ان پر راج کیا۔ مودی جی نے لوک سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں اسی ایک ہزار سالا دور غلامی سے آزادی کی بات کی تھی۔ بی جے پی اور سنگھ اپنی اس بات کو منوانے کے لئے کسی نہ کسی طرح تاریخ کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، سو انہوں نے پہلے اس پر سوال اٹھائے، تنازعے کھڑے کئے، اسے مسخ کر نے کی کوشش کی اور جب کبھی اقتدار میں آئے تاریخی مقامات کے نام تبدیل کئے، لیکن کیا ایسا کرنے سے کہیں تاریخ بدل جایا کرتی ہے ؟اور ویسے بھی ملک میں جو عمارتیں اور مقامات نشان عظمت ہیں اور جن سے ملک جانا پہچانا جاتا ہے ان میں سے زیادہ تر مسلم حکمرانوں کی اور اسلامی تہذیب ہی کی نشانیاں ہیں اور اگر بی جے پی اور سنگھ اپنی کوتاہ ذہنی کے چلتے ان تمام نشانیوں کو زمین دوز کر کے وہاں ہندو تہذیب بنام ہندوستانی تہذیب کی نشانیاں قائم کر دے تو اس سے بھی تاریخ نہیں بدل سکتی۔

ہاں تاریخ بدلنے کے لئے ایک ہی راستہ ہوسکتا ہے کہ مقابل تاریخ سے اچھی تاریخ بنائی جائے حالانکہ اس سے بھی تاریخ نہیں بدلتی لیکن پچھلی تاریخ کے مقابل فخر کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے پاس تاریخی طور پر ایسا کچھ نہیں ہے کہ جسے مسلمانوں کی تاریخ کے مقابل پیش کیا جاسکے، اس وقت بھی نہیں تھا جب مسلمان یہاں آئے تھے اور آزادی کے بعد سے بھی انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جسے مسلم دور حکمرانی کی تاریخ کے مقابل پیش کیا جا سکے، سو ان کے پاس لے دے کے یہی بچا ہے کہ الٹی سیدھی تفہیم و تعبیر کے ذریعہ تاریخی حقائق کو مسخ کر یں پچھلی تاریخ رچنے والوں کوطعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں اور ان کے دئے ہوئے ناموں کو تبدیل کر کے اپنی کم ظرفی کی تسکین کا سامان کریں۔ الہٰ آباد اور فیض آباد تاریخی طور پر نئے بسائے گئے شہر ہیں، جو پرانے شہروں میں یا ان کے قریب بسائے گئے تھے یعنی یہ کوئی پرانے شہر نہیں ہیں کہ اکبر اور نواب سعادت علی خاں نے محض ان کا نام بدل دیا ہو۔ الہٰ آباد کا نام تو خاص طور سے اکبر ہندوستانی تہذیب اور اس کے لئے خود اپنے بنائے ہوئے نئے مذہب ’دین الٰہی‘ کے مطابق رکھا تھا لیکن یہ لوگ دراصل ہندوستان کی مشترکہ تۃذیب کے امین نہیں بلکہ اس پر اپنی مخصوص سماجی و سیاسی فکر تھوپنے کی کوشش کر نے والے ہیں۔ خیر! پریاگ اور ایودھیا کی جو کچھ تاریخ رہی ہوگی وہ اپنی جگہ لیکن تاریخی طور پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہندوؤں کے ان مقدس شہروں کو توڑ کرہی الہٰ آباد اور فیض آباد بسائے گئے تھے۔ لیکن ان کا نام تبدیل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ہندوؤں ان مقدس مقامات کو اپنا نام دے دیا تھا اور اب یوگی جی اور بی جے پی نے انہیں مسلمانوں سے آزاد کروالیا ہے۔ ناموں کی تبدیلی کی یہ لہر بی جے پی اور سنگھ کا ایجنڈا تو ہے لیکن اس میں قریب آتے لوک سبھا چناؤ کا پیش منظر بھی پوشیدہ ہے۔ اور یہی بی جے پی کا فرسٹریشن پوائنٹ ہے۔ دراصل ترقی کی جو جھوٹی نیا اس نے لوگوں کے سامنے پیش کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ اس کے ذریعہ انہیں کانگریس کے ساٹھ سالہ دور اقتدار کے ہر ہر طوفان سے نکال لے جائیگی اب دوسرا الیکشن آنے تک بھی وہ اس قابل نہیں ہو سکتی تھی نہ ہوئی کہ اس میں موجود چھید بھر سکے۔

اب اس کے پاس ایک ہی مدا بچا ہے اور ہے’ ہندوتوا ‘اور وہ بھی اب پرانا ہو چکا ہے اور اس میں بھی عملی کار کردگی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی، سوائے اس طرح ناموں کی تبدیلی، مسلم مخالف اشتال انگیزی اور الیکشن کے قریب تر وقت میں فسادات کروانے کے۔ اس سیاست کا اہم ترین اور ہاٹ اشو بابری مسجد رام مندر تنازعہ بھی اب اتنا گرم نہیں رہا کہ صرف اسی پر سیاسی روٹیاں سینکی جاسکے۔ فی الحال ا لیکشنس سے پہلے بی جے پی رام مندرنہیں بنوا سکتی،اور نہ ہی اس ضمن میں قانون سازی کرنا اتنا آسان ہے۔ ویسے بھی رام مندر بنوا کر سنگھ اور بی جے پی اپنے پیر پر کلہاڑی نہیں مار ے گی۔ کیونکہ یہی تو ایک اشو ہے جس سے وہ اپنے روایتی ہندو ووٹ بنک کو بے وقوف بنا سکتی ہے اور مسلمانوں کو مشتعل کر کے نیا ہندو ووٹ بنک تیار کرسکتی ہے۔ اس اشو کو ختم کرنا اسکی سیاسی موت ہے وہ چاہے گی کہ یہ اشو ہمیشہ زندہ اور متنازعہ رہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی ساری کوششیں بھی اسی کی ہیں۔

 ایسے میں بی جے پی مخالف سیاسی پارٹیاں اس کے اس فرسٹریشن کا کس طرح فائدہ اٹھاتی ہیں یہ وہ جانیں، لیکن ہم مسلمانوں کا کام صرف اتنا ہونا چاہئے کہ ہم اس کی اس اسٹریٹیجی سے مشتعل نہ ہوں، اور بی جے پی مخالف یا کسی خاص پارٹی کی حمایت میں سیاسی راگ نہ الاپیں۔ اس کی مخالفت میں سڑ کوں پر نہ نکلیں، سوشل میڈیا میں اس کے خلاف اول فول نہ بکیں ہاں اس کی مخالفت کریں تو تہذیب اور قانون کے دائرے میں سنجید گی سے کریں۔ نا دانستہ طور پر بھی دوسری سیاسی پارٹیوں یا دلالوں کے آلائے کار نہ بن جائیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ان کا کام آسان ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close