خصوصیہندوستان

تبریز انصاری کی ویڈیو مہنگی پڑ گئی

ہجومی تشدد کے مجرموں کو قرار واقعی سزا ہی اس مسئلہ کا حل ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

عدل و انصاف کے بغیر کسی تہذیب یافتہ سماج  کا تصور ممکن نہیں ہے۔ جہاں  ظلم و جور  کا بازار گرم ہو اس کو جنگل راج کہا جاتاہے  لیکن اگر وحشی درندے  ہمارے اخبارات میں جرائم کا صفحہ دیکھ لیں تو انسانی سماج سے پناہ مانگیں گے۔ آج کل وہ ذرائع ابلاغ میں آئے دن  وہ سفاکی دیکھنے کو ملتی ہے جس کا تصور بھی جنگل کے جانور نہیں کرسکتے۔  اس طرح کی وارداتیں شہر و گاوں اورشمال و جنوب ہر جگہ وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر اتر پردیش کے جموئی گاوں میں وقوع پذیر ہونے والی  حالیہ وارادت جس میں ایک  تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بلائی جانے والی پنچایت ہی قتل و خون سے لالہ زار ہوگئی۔ ایک فریق کے نوجوان کا گولی مار کرہلاک کیا گیا تو اس کے جواب میں دوسرے فریق کے ایک نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ یہ دو قتل کسی بڑے مسئلہ کو لے کر نہیں بلکہ مونگ پھلی کے سبب ہوئے جس میں سونو اور مایا پرکاش تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سونو کے چچا  نےمایا پرکاش گپتا کے خلاف  ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت پولیس تھانے میں معاملہ درج کرایا تھا اور اس کو سلجھانے کے لیے بلائی جانے والی پنچایت میں سونو کو گولی ماردی گئی۔ اس کے جواب میں گپتا کوڈنڈوں سے  پیٹ پیٹ کر زخمی کردیا  گیا اور اسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔ اس طرح گویا حساب برابر کردیا گیا۔

اس معاملے میں نہ تو کسی سے کوئی نعرہ لگوایا  گیا اور نہ کسی نے ویڈیو بنا کر پھیلائی۔ اس کے برخلاف جھارکھنڈ کے کھارساون ضلع میں بھیڑ نے چوری کے شک میں ایک مسلم نوجوان تبریز انصاری  کی بےرحمی سے پٹائی کرنے کے بعد پولیس کو سونپ دیا چار دن بعد  اسپتال میں اس کا انتقال ہوگیا۔ اس قتل کے الزام میں سب سے پہلے پپو منڈل کو اور پھر کمل مہتو نامی اصل مجرم  سمیت دس لوگوں  کو حراست میں لیا گیا۔ اس معاملے میں کئی ایسی باتیں ہیں جو اول الذکر واقعہ سے مختلف ہیں۔ اس میں دوفریقوں کا تنازعہ نہیں بلکہ ایک فرد پر چوری کا  مبینہ الزام تھا جس کا اس کے اہل خانہ انکار کرتے ہیں۔ تبریز کا جو اقبالیہ بیان پولس  پیش کررہی ہے اس کے مطابق چور بھاگ گئے اور وہ پکڑا گیا۔ حقیقت کا پتہ چلانے کے لیے ملزم کو پولس کے حوالے کرنے کے بجائے کھمبے سے باندھ کر اس کی  پٹائی کی گئی۔ ہندوستانی سماج اکثر وبیشتر  چوری کے ملزمین کے ساتھ یہ سلوک شرمناک ہے۔ پولس نے حیرت انگیز طور پر تبریز کے مذکورہ  بیان سے زدو کوب کو غائب کردیا  حالانکہ  اس کے جسم پر زخموں کے نشانات  چیخ چیخ کر اس کی گواہی دے رہے  تھے۔

مارپیٹ کا معاملہ واردات کی ویڈیو کے بعد   منظر عام پر آیا اور یہ عقدہ بھی کھلا کہ قانون کو پامال کرنے والوں نے تبریز سے جئے شری رام اور جئے ہنومان جیسے نعرے بھی لگوائے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جرائم و تشدد میں یہ بھیانک اضافہ ہوا ہے۔ہندو  جرائم پیشہ لوگوں کو جب کسی مسلمان  پر تعذیب کرنی  ہوتی  ہے تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ وہ  اس کی ویڈیو بنا کر  پھیلاتے ہیں کیونکہ   اس سے ان لوگوں کو پولس اور سماج  کا تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔ انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ اس مرتبہ  دوپولس افسران کو معطل کیا گیا اورتفتیش  کیلئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی لیکن  یہ کافی نہیں ہے۔ معطل شدہ اہلکاروں  کولاپرواہی برتنے، شواہد چھپانے اور قاتلوں کا تعاون کرنے کے الزام میں  مجرمین  کے ساتھ جیل بھیج دیا جائے اور کڑی سزا دی جائے تو  حالات بدل سکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت سے اس کی توقع محال ہے۔

تشدد کی ویڈیو بنانا اور نعرے لگانا کی روایت داعش نے شام میں  شروع کی  تھی۔ ان امریکی ایجنٹوں کو امید تھی کہ ایسا کرنے امت مسلمہ دھوکہ کھا کر ان کی حمایت کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ عالمی سطح پر بالعموم ملت نے اس کو مسترد کردیا لیکن افسوس کے اسی حکمت عملی کو وطن عزیز کے اندر ہندو فرقہ پرستوں نے استعمال کیا تو ملک کا اکثریتی فرقہ اس کا ہمنوا بن گیا۔ جئے شری رام جیسے  نعرے جب لگائے یا  لگوائے جاتے ہیں تو انہیں سن کر  ہندو انتہا پسند تنظیمیں ان مجرموں کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آتی ہیں۔ عدالتوں میں ہنگامہ مچاتی ہیں۔ قانونی امداد مہیا کرواتی ہیں  اور سیاسی دباو بناتی ہیں۔  بی جے پی کے رہنما اس طرح کی وارادتوں کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جھارکھنڈ ہی میں سابق مرکزی وزیر جینت سنہا بذاتِ خود ضمانت لاتیہار ہجومی تشدد میں عمر قید کی سزا پانے والے  مجرمین  کی ضمانت ملنے پر  پذیرائی کرچکے ہیں۔ ماب لنچنگ کا کاتمہ کرنے کے لیے  سیاسی سرپرستی کا خاتمہ لازمی  ہے۔

عام طور پر ہجومی تشدد کی ویڈیو کا فائدہ اٹھا کر ہندو احیاء پرست مسلمانوں کو خوفزدہ کرکے ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ مسلمان اسے پھیلاکر دشمنوں کے نادانستہ  آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ لیکن اس بار یہ داوں الٹا پڑا۔ تبریز انصاری کی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جس قدر مظاہرے  دہلی اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہوئے اس کا موازنہ صرف محمداخلاق والے معاملے سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ احمقانہ حرکت اگر ہندو احیاء پرستوں  سے سرزد  نہیں ہوتی   تو ممکن ہے معاملہ اندر ہی اندر رفع دفع ہوجاتا۔ پہلے تو اس کو میڈیا نے غیر معمولی اہمیت دی۔ اس کے یونائیٹیڈ اگینسٹ نے ملک کے ۵۰ شہروں میں احتجاج کا اعلان کیا اور دیگر مسلم تنظیموں نے بھی اپنے طور سے کئی مقامات پر غم و غصے کا اظہار کیا۔مسلمانوں  کے ساتھ کچھ مقامات پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی تنظیمیں بھی شریک کار ہوئیں۔ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین اور عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے اعلان  کیا  کہ ‘‘جھارکھنڈ کے ہجومی تشدد میں مارے  جانے  والے تبریز انصاری کی بیوی کو دہلی وقف بورڈ۵ لاکھ روپے دے گا۔ وقف بورڈ انھیں ملازمت بھی دے گا اور ساتھ ہی  قانونی سہولیات مہیا کرے گا’’۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تبریز کی ویڈیو بناکر اسے وائرل نہیں کیا جاتا تو امانت اللہ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ جھارکھنڈ کے کسی دیہات میں تبریز انصاری کو اس بے رحمی سے قتل کردیا گیا اور اس کی بے سہارا بیوی کا کوئی سرپرست نہیں ہے۔

اس سانحہ کی گونج ایوان پارلیمان تک پہنچ گئی اور  غلام نبی آزاد نے ایوان بالا میں  جھارکھنڈ کو تشدد کی فیکٹری قرار دیتے ہوئے  پرانے دن لوٹا نے کا مطالبہ کردیا  جس  میں نفرت اور ہجومی تشدد نہیں تھا۔  راہل گاندھی اس واقعہ  کو انسانیت کی پیشانی پر چسپاں انمٹ بدنما داغ بتایا تو بی جے پی کو شرم آئی۔ مختار عباس نقوی کو اسے گھناونا جرم قرار دینے کے بعد سخت کارروائی کا یقین دلانا پڑا نیز وزیراعظم کو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے ماب لنچنگ کے واقعہ پرافسوس جتانے پر مجبور ہونا پڑا۔ پی  ایم مودی نے ایوان پارلیمان  کے اندر پہلی بار کسی مسلمان  کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں  نے ایوان سے خطاب کے دوران کہا کہ مجھے نوجوان کی موت کا دکھ ہے۔یقیناً قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے۔ مودی کا کہناتھا کہ  جرائم ہونے پرقانون کے ذریعہ انصاف حاصل کیاجاناچاہیے۔ تشدد کہیں بھی ہو قانون ایک ہونا چاہیے۔ ملک کے ہرشہری کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کاش کہ مرکزی  و صوبائی حکومت کے اندر اپنے  اس  راج دھرم کے پالن  کا احساس پیدا ہو اور  یہ یقین دہانی ایک سیاسی جملہ بننے کے بجائے حقیقت بن جائے۔

سیاست سے قطع نظر ہجومی تشدد کا شکار ہونے والے تبریز انصاری کے خاندان کا اولین  مطالبہ انصاف کا ہے۔ تبریز کے چچا مقصود اور اہلیہ شائستہ پروین  کا کہنا ہے کہ  اسے مسلمان ہونے کی بنیاد پرہی ہجوم نے نشانہ بنایاہے اور قتل کردیا۔ اہل خانہ کے مطابق اس معاملےپولس کا  قصور قاتلوں سے کم نہیں ہے۔ وہ  اگر وقت پرپہنچ کرکارروائی کرتی تو تبریز انصاری کی جان بچ سکتی تھی۔ اسی طرح صدر اسپتال کے وہ ڈاکٹر بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے اس کاعلاج کرنے کے بجائے عدالتی حراست کی اجازت دی۔ تبریز کے رشتے دار ملاقات کے لیے پولس تھانے گئے تو انہیں ڈرا دھمکا کر بھگا دیا گیا اور۴ دن بعد  جب  دوبارہ  اسپتال لے جایا گیا تو  بہت دیر   ہوچکی تھی۔ تبریز کی نوبیاہتہ  اہلیہ کی دیکھ بھال کے لیے معاوضہ کے ساتھ  سرکاری نوکری کا مطالبہ  بھی کیا جارہا ہے کیونکہ تبریز کے گھر میں کوئی نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے  ضلع انتظامیہ نے اس کوبیوہ  پنشن فارم بھرنے کامشورہ دیا ہے تاکہ وہ  جاری ہوسکے۔وزیراعظم آواس یوجنا کے تحت امداد کی بات تو ہورہی ہے لیکن  تادمِ تحریرایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

تبریزجھارکھنڈ میں ہجومی تشدد کا پہلا شکار نہیں ہے بلکہ اسی سال  نفرت کی بنیاد پر  جرم کے ارتکاب کا یہ  گیارہواں معاملہ ہےجن میں  چار افراد کی موت ہوئی  اور 22 لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی  کا جائزہ لیا جائے تو ملک بھرمیں جرائم پر مبنی نفرت کے 297معاملے سامنے آئے جن میں 98 لوگوں کی موت ہوئی اور 722 لوگ زخمی ہوئے۔ اس طرح کے واقعات بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پہلےبھی رونما ہوتے تھے مثلاً2012 سے 2014 کی  6 وارداتیں مگر سال 2015 کے بعد سے ان میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران  گئوکشی اور چوری کے سبب ہجومی تشدد کے 121 واقعات ہوئے۔ 2009 سے 2019 کے درمیان اعدادو شمار  کا جائزہ بتاتا ہے کہ ان مہلوکین میں 59 مسلمان  تھے اور صرف 28 فیصد واقعات میں  مبینہ مویشی چوری یا ذبیحہ سے متعلق تھے۔ ان کے پیچھے کارفرما سیاسی پشت پناہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 66 فیصد واقعات  جن ریاستوں میں ہوئے وہاں بی جے پی برسرِ اقتدار تھی  اور کانگریس حکمرا نی والی  ریاستوں میں صرف 16 فیصد وارداتیں ہوئیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس دوران  شمالی ہندوستان کے سارے بڑے صوبوں پرجہاں یہ تشدد پنپتا ہے  بی جےپی کی حکمرانی میں  تھے۔

اس تناظر میں جب امریکی محکمۂ خارجہ  کی رپورٹ ہندوستان میں گئو کشی کے نام پر ہندو انتہا پسند گروپوں کے ذریعے اقلیتی  فرقوں بالخصوص  مسلمانوں،  کے خلاف حملوں کا حوالہ دے کر تنقید کرتا ہے تو ہماری حکومت چراغ پا ہوکر اسے مسترد کردیتی ہے۔   یہ رپورٹ ۲۰۱۸؁ کے اعدادو شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں نومبر  تک ۱۸ ہجومی تشدد کی وارداتوں میں ۸ لوگوں کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس  رپورٹ  کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہےکہ  جن  افسروں کی ذمہ داری ظلم و جور کو روکنے کی تھی انہوں نے مجرموں کو بچا نے کا گھناونا کام کیا ہے۔ امریکی رپورٹ میں مذہب کو بنیاد پر قتل، حملوں،  فسادات، عدم مساوات،  غارت گری، اور اقلیتوں کے مذہبی امور میں رکاوٹ پہنچانے کی تفصیل درج ہے۔

 ایوان پارلیمان میں  وزارت داخلہ کے ذریعے پیش کردہ  اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی جانے والی  اس رپورٹ  کے مطابق ۲۰۱۵ ؁ سے ۲۰۱۷ ؁ کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد میں ۹ فیصدی اضافہ کا اعتراف خود حکومت نے کیا ہے۔ یہ رپورٹ برملا کہتی ہے کہ،  ‘ حکومت گئورکشکوں کے ذریعے کئے گئے حملوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے’۔ اس کے جواب میں  وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا دعویٰ  کہ ہندوستان کو اپنی مذہبی غیرجانبداری کا  یقین، سب سے بڑی جمہوریت اور لمبے عرصے سے چلی آ رہی رواداری اور مشترکہ سماج پر فخر ہے وغیرہ آئے دن ہونے والی تشدد کی وارداتوں کے چلتےبے معنیٰ  لگتا ہے۔ دستوری تحفطات کے  نفاذ  میں کوتاہی برتنے والی  سرکار  اس طرح کی رسوائی سے نہیں  بچ سکتی۔ ہجومی تشدد کے مجرموں کو قرار واقعی سزا ہی اس مسئلہ کا حل ہے۔ اس کے لیے عدالتی اور عوامی سطح پر جدوجہد کرنا تمام انصاف  پسند باشندگان وطن کی ذمہ داری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close